موٹر سایکل رکشوں پر پابندی

Submitted by kurdupk on Thu, 04/16/2009 - 05:47

میں آپکی توجہ اس خبر کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو چند روز قبل شائع ہوئی تھی اور جسمیں موٹر سایکل رکشوں پر پابندی لگای گئی تھی۔ اس سلسلے میں حکومت پنجاب سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے پابندی لگانے سے پہلے لوگوں کی تکالیف کا اندازہ لگایا تھا جو اس پابندی کے نتیجے میںپیدا ہونگی؟ پنجاب حکومت نے پہلے ہی ویگنوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے، بسوں کی تعداد بالکل قلیل ہے۔ یہ مانا کہ موٹر سائیکل رکشے خطرناک ہیں شور بھی ہوتا ہے اور دھواں بھی خوب دیتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر متبادل کے طور پر بسوں کی تعداد بڑھا دیتے۔ حکومت کے اعلٰی افسران کو کیا معلوم کہ غریب مسافروں کا کیا بنے گا؟ بسوں کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہے مثال کے طور پر 22 نمبر ، 33 نمبر اور 77 نمبر کے روٹ ہی دیکھ لیجیے بالکل نہ ہونے کے برابر خاص طور پر 33 / 77 روٹ نمبرز۔اب 22 نمبربس جلو ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی آتی ہے۔ دھرمپورہ اور میاں میر والوں کو لٹک کریا پھر بھیڑ بکریوں کی طرح سوار ہوکر جانے پڑتا ہے۔ اوپر سے کرایوں نے غریب کو مار ڈالا۔ اگر چیف منسٹر صاحب دو روپے کی روٹی دے سکتے ہیں تو کیا کرایوں میں سبسڈی نہیں دے سکتے۔ آجکل نوکریوں کا یہ حال ہے کہ پرائیویٹ ادارے کم سے کم تنخواہ دو تین ہزار دیتے ہیں، نصف سے زائد تو بسوں کے کرائے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اب گھر کا خرچ کس طرح چلے گا۔

اگر چیف صاحب عوام سے ہمدردی رکھتے ہیں تو فوراً بسوں کی تعداد بڑھائیں، ہر روٹ پر بسیں چلائیں اور اتنی تعداد میں چلائیں کہ ہر پانچ منٹ بعد دوسری بس آجایا کرے، کرایہ کم سے کم پانچ روپے اور زیادہ سے زیادہ دس روپے ہو۔ دوسرے ممالک میں ایسی سہولت عوام کے لیے دی گئی ہیں، یہاں تک کہ انڈیا میں نہ صرف بسوں کے بلکہ ریلوے کے کرائے بھی ہمارے نصف سے بھی کم ہیں۔ حکام سے گزارش ہے کہ فوری طور پر ہر روٹ پر بسیں چلائی جائیں۔ اگر بسوں کی تعداد کم ہے تو پھر ویگنیں چلائی جائیں اور ویگنوں پر سواری کی تعداد مقرر کی جائے۔ خلاف ورزی پر مالکان کو بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ کرائے فوری طور پر کم کیے جائیں جب تک متبادل انتظامات نہیں ہوجاتے موٹر سائیکل رکشوں پر پابندی نہ لگائی جائے۔

امید کرتا ہوں کہ چیف منسٹر صاحب جلد ہی عوام کیلیے سہولیات مہیا کریں گے۔

مورخہ: 15-04-2009
شیخ محمد فاروق
مکان نمبر 28 ، میاں میر روڈ لاہور۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......