موت ایک اٹل حقیقت

imranhani's picture

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں جب اسکا وقت آجائے تو چاہے بادشاہ ہو یا غلام وزیر ہو یا حقیر، سفیر ہو یا مشیر کسی کو نہیں بخشتی چاہے زمین کی سات تہوں میں چھپ جائیں یاآسمان کی وسعتوں میں محفوظ ہوجائیں لیکن موت ہیکہ جب وقت آجائے آکر رہتی ہے یہ اپنے اسباب خود پیدا کردیتی ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ موت خود زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہوتی ہے کیونکہ جب تک موت نہیں آتی زندگی محفوظ رہتی ہے لیکن انسان بڑا بھلکڑہے اپنی حفاظت کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کرتا ہے لیکن موت کاشکنجہ ہیکہ جب کسنے کاٹائم آجائے تو سب انتظامات دھرے رہ جاتے ہیں اور ایک لمحہ لگتا ہے صرف ایک لمحہ اور سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ اگر حاکمیت ،بلٹ پروف جیکٹیں، بلٹ پروف گاڑیاں یا حفاظتی دستے موت سے بچاسکتے تو حکمرانوںاور پیسے والوں کو کبھی موت نہیں آتی لیکن اللہ کا قانون سب کے لئے یکساں ہے ہر نفس کو ایک دن موت کا زائقہ چکھنا ہے اور سب کو حساب دینا ہے جو کچھ دنیا میں انہوں نے کیا لیکن بنی نوع انسان سب سے زیادہ غفلت بھی موت سے برتتا ہے مرنے والوں کے جنازوں کو خود کاندھا بھی دیتا ہے اور منوں مٹی کے نیچے اپنے ہاتھوں سے دفن بھی کرتا ہے لیکن اسکے ذہن میں یہ خیال نہیں پیدا ہو تا کہ ایک دن مجھے بھی لوگ یونہی کاندھوں پہ رکھ کر اس شہرخموشاں میں منوں مٹی کے نیچے دفنا کر چلے جائینگے اس سب سے اٹل حقیقت سے انسان کی آنکھ اوجھل رہتی ہے وہ گھڑی جس نے ایک دن سب کو جاپکڑنا ہے انسان اس کے متعلق سوچنا بھی گوارا نہیں کرتا بڑے بڑے لوگ آئے جنکے ناموں سے رن کانپ جایا کرتا تھا ، بہت سے لوگ آئے جو زمین پر خدا بننے کی تمنا کی خواہش میں لوگوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ اسے سجدہ کریںبڑے بڑے صدور اور وزیر اعظم آئے جنکی حفاظت کے لئے سیکڑوں لوگ معمور تھے جنکی شہروں میں آمد پر ٹریفک معطل کردی جاتی تھی لیکن وقت کے ان خداؤں پر جب وقت اجل آیا تو ان کی حالت عبرت انگیز تھی کتنے ہی ایسے نام ہیں جو گنوائے جا سکتے ہیں لیکن ان کا اظہار بیکار ہے ہوا کو رک جانے اور سورج کو طلوع نہ ہونیکا حکم دینے والے تکبر اور گھمنڈ کے ان پیکروںپرجب موت سایۂ فگن ہوئی تو یہ عبرت کی ایسی تصویر بنے جنہیں دیکھ کر لوگوں نے اللہ کی پناہ مانگی لیکن کف افسوس ہمارے طبقۂ اقتدار کے لوگ جو حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں فاعتبرو یا اولی الابصار کا سبق سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے جب اللہ رب العزت انہیں اقتدار عطا فرماتا ہے تو یہ بھول جاتے ہیں کہ موت بھی آنی ہے اللہ تعالیٰ کو منہ بھی دکھانا ہے، قصر صدارت اور وزیر اعظم ہاؤس کی پر تعیش بالکونیاں وزیروںاور مشیروں کا جھرمٹ انہیں رعایا سے بے نیاز کربیٹھتا ہے اور یاد رکھئے جب حاکم اور رعایا کے درمیاں فاصلے پیدا ہوجائیں تو انصاف قتل ہوجایا کرتا ہے اور پھر ضرورت پڑتی ہے آرمرڈ اور بلٹ پروف گاڑیوں کی اور حفاظتی د ستوں کی لیکن لوگ بھول جایا کرتے ہیں کہ امریکی صدر کینیڈی کی تو عینکیں تک بلٹ پروف تھیں لیکن کیا ہوا موت آئی تو کچھ کام نہ آیا ۔اقتدار کے نشے میں سرشار یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایک ذات ایسی ہے جسے ہر حرکت اور ہر آہٹ کی خبر رہتی ہے اور جب اسکی بے آواز لاٹھی حرکت میں آتی ہے تووقت گزرچکا ہوتا ہے ۔آج وطن عزیز پر غم کے بادل چھائے ہوئے ہیں سانحہ27دسمبر پر ہر زی شعور شخص افسردہ ہے اورکیوں افسردہ نہ ہو اسلام جیسے امن کے پیامبر دین کا ماننے والوں کے ملک میں قتل و غارت گری کا دور دورہ ہے وہ دین جسکا پیغام ہے کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا آج اس دین کے ما ننے والے آپس میں دست و گریباں ہیں محترمہ بینظیر بھٹو کی المناک موت بھی آج ہمیں سبق دے رہی ہیکہ یہ دنیا فانی ہے اور اس کا ٹھکانہ عارضی ہے چاہے امریکہ اور برطانیہ کتنی ہی آپکی تحفظ کی ضمانت دے لیں جب موت آتی ہے تو اپنے اسباب بھی خود بنالیتی ہے چاہے وہ خودکش حملہ ہو یا گولی کی صورت میں ، بلٹ پروف گاڑی کی سن روف کا لیور ہو یا کوئی اور وجہ نتیجہ صرف یہ ہی ہیکہ موت زندگی کو نگل جایا کرتی ہے کتنے ہی لوگ آئے اور گزر گئے پہلوی ، صدام ، ضیاء الحق، جمال عبد الناصر، انورسادات جیسے امریکہ نواز لوگ جنکی جنبش ابروء ان کے ملک کے قانون بن جایا کرتی تھی اور جو یہ سمجھاکرتے تھے کہ ان کی اقتدار میں موجودگی ملک و قوم کے لئے ناگزیر ہے لیکن وقت آیا تو لوگوں نے دیکھے اس دنیا کی بے ثباتی کے مناظر ، آج پھر وہی منظر ہے صرف وقت اور کردار
مختلف ہیںآج بھی اپنے اقتدار کو اس ملک کی بقاء کیلئے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے ، اپنے وجود کو ملک کی سلامتی کی علامت سمجھا جا رہا ہے شاید ایک بار پھر موت نے ارادے باندھ لئے ہیں اس موت نے جس کا زائقہ ہر نفس نے چکھنا ہے ۔(کل نفس زائقتہ الموت)القرآن۔
حضو ر آپ سے اک را ز عرض کرنا ہے
حضور آپ کو بھی اک روز مرنا ہے
ادھر توجہ عالی نہ جاسکی ہوگی
حضور کی بڑی مصروف زندگی ہوگی
کب آنے والی گھڑی سامنے رہی ہوگی
کسی نے کم ہی یہ بات آپ سے کہی ہوگی
وہی اجل جو رقصاں ہے جھونپڑوں کی طرف
اسی کو شیش محل سے بھی آگزرنا ہے
یہ چند زرے جو آپس میں میل رکھتے ہیں
ہوائے وقت کے ہاتھوں انہیں بکھرنا ہے
یہ چند سانسوں کی بازی کھیلتی ہے جو امید
ہزار جیت ہو ، آخر تو اس کو ہرنا ہے
تحفظات کے اندر گھر ی سر پردہ
یہیں سے ہاتھ قضا کا معا ابھرنا ہے
حضور آپ کو بھی ایک رو ز مرنا ہے
حضور آپ سے ایک راز عرض کرنا ہے
حضور آج جو کرنا ہے کل و ہ بھرنا ہے
خدا کے دین کی اطاعت کی آج مہلت ہے
خدا کے بندوں کی خدمت کی آج مہلت ہے
ضعیف طبقوں پہ شفقت کی آج مہلت ہے
ندابت او ر انابت کی آج مہلت ہے
حضور آپ سے ایک راز عرض کرنا ہے
حضورآپ کو بھی اک روز مر نا ہے۔
عمران رشید ۔
Email:imranhani@gmail.com

Share this
AttachmentSize
imran_rashed07jan08.gif126.69 KB
imran_rashed07jan08a.gif17.87 KB
No votes yet

Comments

Guest's picture

answer this topic

How can that be that you get a lot good fact about this good topic? Just only the experienced essay writers get know how to make such perfect thesis writing and dissertation writing service.

Guest's picture

respond this post

Plagiarism issues can be not hard to see if university students utilize unprofessional research writing services. I recommend not to get essays from academic custom papers writing firms ,which cannot provide any guarantees just about quality.