معنی کی زبان

hashims's picture

جستجو / حالاتِ حاضرہ

معنی کی زبان
محمد بن قاسم
eMail: justujumedia@gmail.com

معنی کا زبان نے گلا کاٹا ہے
حرفوں کی تجارت میں نرا گھاٹا ہے

افکار کے شہر میں ہے گہما گہمی
الفاظ کے میدان میں سنّاٹا ہے

اردو شاعری کی یہ بہت بڑی خصوصیت ہے کہ مختصر ترین لفظوں میں تہہ در تہہ معنی رکھنے والے موزوں جملے کہے جاسکتے ہیں، اور ان کی تشریح سمجھ دار سامعین اور قارئین اور نکتہ سنج خود ہی کرلیتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔ جوش ملیح آبادی (1982-1898) کے مندرجہ بالا قطعہ کے علاوہ، ذرا آپ اردو شاعری کا یہ شاندار ہیرا ملاحظہ فرمائیے، جسے جناب مومن خان مومن (1851-1800) نے ایسا تراشا کہ یہ اردو شعر و ادب کے جھومر کی ابدی زینت بن گیا:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

پیارے دوستو، پاکستانی سیاست دانوں نے بھی اپنی سیاسی شاعری کے مشاعرہ کا ایک میدان ِ کارزار گرم کر رکھا ہے۔ اس شاعری میں بھی اختصار و ایجاز، اور ذومعنی پن ایسا موجود ہے کہ عوام لاکھ اپنا سر پھوڑیں، کتنی ہی لغتیں دیکھیں، استادوں سے مشورہ کریں، یا جدید میڈیا پر حشرات الارض کی طرح نمودار ہوجانے والے نیم حکیم تجزیہ نگاروں کی الجھی الجھی تشریحات سنیں، گفتہ ءغالب کی طرح اس سیاسی شاعری سے محظوظ تو ہوتے رہیں گے، مگر اصل معنی سمجھنے میں دشواری پر وہ ہوٹنگ پر اترآئیں گے۔ آپ، پیارے سامعین ِ ءسیاسی مشاعرہ ،ہم سے متفق ہوں گے کہ یہ ہوٹنگ ، اور شور و غوغا آہستہ آہستہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ تمام تر جدید سیاسی شاعری بے معنی ہی ثابت ہورہی ہے۔ پاکستانی سیاسی شاعری کی لغت بڑی مختصر سی ہے، جس میں یہ اہم الفاظ اور محاورے درج ہیں:
” سیاست میں کوئی بھی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی (یعنی، جس حالت میں بھی اپنا فا ئدہ ہو، اسی پٹری پر چل پڑنا ہے)، ہم حکومت میں آکر عوام کے تمام مسائل حل کردیں گے ( نہ عوام رہیں گے، اور نہ ہی ان کے مسائل)، سابقہ حکومت نے ہر کام بگاڑ دیا (اور ہم کبھی بھی سابقہ ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، چاہے اس کے لیے جعلی الیکشن ہی کیوں نہ کرانا پڑیں)، ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ پلک جھپکتے تمام عوامی مسائل حل کردیں (آپ ہمیں ہمارے انتخابی وعدے نہ یاد دلائیں، ہم اپنے الیکشن کے اخراجات تو پورے کرلیں)، ہم جمہوریت کے علم بردار ہیں (جب تک یہ ہمارے خاندان تک محدود رہے)، پارلیمنٹ ہی سپریم پاور ہے ( مگر صرف اس وقت جب ہم اسے اشارہ کریں )“۔۔۔ وغیرہ ، وغیرہ۔ یہ ایک ایسا مرحلہ بہ مرحلہ بیانات کا سلسلہ ہوتا ہے، جسے آپ باآسانی شناخت کرسکتے ہیں، اور یہ جان سکتے ہیں کہ وہ کون سا مرحلہ ہے، جو اربابِ اقتدار کو ایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں سے باہر نکال پھینکتا ہے۔ عام طور پر یہ ”جمہوریت کے خلاف سازش‘ ‘ جیسے واویلا پر منتج ہوتاہے۔ اگر کوئی ایسی صورتِ حال رونما ہوتی ہے، جہاں کہ عام سیاسی کارکن اپنی اہمیت کا احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے، تو اقتدار کے نشہ میں چور لیڈران فرماتے ہیں:

محمود و ایاز ایک ہی صف میں تو کھڑے ہیں
لیکن نہ یہ بھولو کہ بڑے لوگ، بڑے ہیں
شمس زبیری

چنانچہ پیارے دوستو، فروری 2008 کے انتخابات کے نتیجہ میں برسر اقتدار آنے والے سیاسی، اور غیر سیاسی رہنما جو گنجلک زبان بول رہے ہیں، وہ عوام کے سروں پر سے گزر رہی ہے۔ ایک جانب تو وہ یہ کہتے ہیں کہ پارلیمان ہی عوامی طاقت کی نما ئندہ ہے، اور تمام فیصلے اب کسی آمر کے ڈنڈے کے زور پر نہیں، بلکہ پارلیمان کے اندر ہی کیے جائیں گے، اور تمام سیاسی قوتیں مل جل کر کام کریں گی، مگر دوسری جانب کئی سلگتے معاملات پر غیر نمائندہ اشخاص کی زیر صدارت بند کمروں میں ملاقاتیں ہو رہی ہیں، اور نشستند، گفتند، برخاستند سے آگے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ عوام روز ایک نیا خوش کن وعدہ سنتے اور پڑھتے ہیں، اور یہ ایسے وعدے ہیں کہ جو اس مرحلہ پر پہنچ رہے ہیں کہ ” ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔۔۔“۔ امین فہیم دبے لفظوں میں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ میرے پاس ایسے سلگتے راز ہیں ، کہ جن سے پردہ اٹھادوں تو آگ لگ جائے۔۔۔۔۔ بقول شخصے، کچھ تو ہے ، جس کی پردہ داری ہے۔۔ چنانچہ جناب پرویز مشرف صاحب، سابق صدرِ پاکستان، ریٹا ئرڈ جنرل، تو یہ کہتے ہوئے گھر چلے گئے:

فقیرانہ آئے، صدا کرچلے
میاں خوش رہو، ہم دعا کرچلے
میر تقی میر

وہ جاتے جاتے صاف لفظوں میں بتا گئے کہ وہ زمیندار نہیں، ایک عام سے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، شایداسی لیے وہ کچھ سازشوں کا بخوبی مقابلہ نہ کرسکے۔ تاہم، اب آہستہ، آہستہ کچھ ایسے راز بھی سامنے آتے جارہے ہیں، جو پہلے پوشیدہ تھے۔ مثلا یہ الزام کہ وہ اپنے اقتدار کے آخری دنوں اپنے ہی منتخب کردہ چیف آف آرمی اسٹاف، جناب اشفاق کیانی ، صاحب کو ان کے اس منصب سے ہٹانے کی در پردہ کئی ایسی کوششیں کرچکے تھے، جو ناکام ہوئیں (ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بودا سا الزام ہے)، اور اسی لیے ایوان صدر کے محافظ 111 بریگیڈ میں تبدیلی کردی گئی تھی۔ اور یہ خبر کہ ایک اہم سعودی شہزادہ نے حال ہی میں آکر نئی حکومت کو صاف صاف بتادیا کہ اگر جناب صدر مشرف کو تنگ کیا گیا تو حال ہی میں اعلان کردہ 5 ارب ڈالر کی تیل کی مد میں امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے، دوسری جانب برطانیہ اور امریکہ بھی ڈھکے چھپے جناب صدرِ سابق کو مکافات عمل اور حالات کے جبر سے پناہ دینے کے معاملات پر کام کرتے رہے۔ پیارے دوستو، ہم تو یہ تجزیہ آپ کی خدمت میں پیش کرچکے تھے کہ جناب صدر کا مواخذہ کسی بھی قیمت پر نہ ہوگا (اور نہ ہی کوئی مقدمات چلائے جائیں گے)۔ چنانچہ، اپنی سیاسی تنہائی کا ادراک کرکے ملک و قوم کو مزید کسی بحران سے دوچار کیے بغیر وہ ان حالات میں ہر ممکن حد تک باعزت طریقہ سے ایوانِ صدر سے رخصت ہوگئے۔ پیارے قارئین، ان کے جانے پر پاکستان کے بڑے شہروں میں اپنی اپنی مقدور بھر، اور حسبِ ذوق خوشیاں، اور غم منائے گئے۔ اس روز ہم نے کراچی میں 100 کلومیٹر سے زیادہ سفر کیا، اورمقامی عوامی ردعمل بغور دیکھا۔ کراچی کے باشعور باسی عمومی طور پر اس ڈرامہ سے لاتعلق سے رہے۔ البتہ جن گروہوں کو اس موقع پر خوشی اور مسرت ملی، انہوں نے ضرور اس کا اظہار کیا۔ اس میں سب سے دل چسپ مظاہرہ کراچی کے پس ماندہ علاقہ اور جرائم کے گڑھ لیاری میں ہوا۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق رحمان ڈکیت گروپ نے کھلے عام متعدد گاڑیوں پر مشتمل ایک جلوس نکالا، اور لیاری اور کلفٹن میں بلاول ہا ﺅ س کے باہر خوب ہوائی فائرنگ کی گئی۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے غٹر غوں کرتے، اور یہ سب دم سادھے دیکھتے رہے۔ واضح رہے کہ آج کل حکومتِ سندھ نے ان ہنگامہ پرست گروہوں کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے، اور عوام نے کسی حد تک سکھ کا سانس بھی لیاتھا۔
جناب مشرف صاحب، سابق صدرِ پاکستان کے جانے کے بعد تمام خبریں تفصیل سے آپ تک پہنچ رہی ہیں، ان میں سے کئی بڑی حیران کن بھی ہیں۔ مثلا ، جناب سابق صدر کے زیر ِ تعمیر مکان کے آرکیٹیکٹ انجینئیر حماد صاحب بھی اب ان سے نہیں ڈرتے، اور ان کے مکان کے بارے میں ایسی نجی تفصیلات بھی سرِ عام بیان کررہے ہیں جو ان کی ذمہ داری اور ماہرانہ صلاحیتوں اور امانت کے منافی ہے۔ اسی طرح وہاں کام کرنے والے مزدوروں کے بھی بلا دھڑک انٹرویو کیے جارہے اور نشر ہورہے ہیں۔ جناب سابق صدر کی سیکیوریٹی پر مامور افسران کو چاہیے کہ اس معاملہ کی تفتیش کریں، اور اس آرکی ٹیکٹ کے کان کھینچ کر اس کی فوری چھٹی کریں۔ دوسری جانب دنیا بھر کے تمام آزاد ممالک انہیں کھلی باہوں سے خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔ مگر وہ خود اپنے محبوب پاکستان کی مٹّی ہی میں رہنا بسنا، اور دفن ہونا چاہتے ہیں۔ جناب مشرف صاحب بھی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اب پاکستان کی حد تک تو ایک آزادانہ زندگی گزارنے کی کوشش میں خطرات سے گھرے رہیں گے، اورلال مسجد اور قبائلی علاقوں کے حالات ، واقعات، اور نتائج کے پس منظر میں ان کی اس وقت حیثیت کچھ ایسی ہی ہے جیسی کہ آن جہانی محترمہ اندرا گاندھی کی گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کے بعد تھی۔ اب جہاں تک ان کے مخالفین ، اور ہمارے ابھی تک نابالغ جدید میڈیا کا تعلق ہے، وہ ایسا پائیڈ پائپرPied Piper جیسا راگ الاپ رہا ہے جیسے کہ صدر کے ادارہ کی حیثیت سامری جادوگر جیسی ہے، اور ایک قابل اور نیا صدر تمام معاملات میں عوامی خواہشات کو پورا کردے گا۔ سادہ لوح عوام چینل در چینل اس قسم کی آراءکا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں کہ نیا صدر ایسا ہو جو مہنگائی ختم کردے، لاقانونیت ختم کردے، بے روزگاری ختم کردے، وغیرہ۔ ہمارے بے چارے لاعلم عوام یہ نہیں جانتے کہ پارلیمانی جمہوریت کے نظام میں، جیسا کہ ہمارے پاکستان میں رائج ہے، ایک صدر عوام کو کوئی سہولیات بہم نہیں پہنچاسکتا، اور وہ صرف ایک علامتی سربراہ ہی ہو ا کرتا ہے، ور جب تک پاکستانی آئین میں 58(2)B اکی حالیہ شق موجود ہے، جب اس کا دل کچھ ’ختم‘ کرنے کا چاہے تو وہ صرف منتخب اسمبلیوں کو ہی ختم کرسکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر قومی سلامتی کونسل اور 58(2) B ختم کردی گئی، تو 1970 اور 1990کی دہائیوں کی طرح جمہوریت کے نام پر ایک ایسی آمریت ابھر سکتی ہے جس کے شکنجہ سے نکلنا قوم کے لیے زندگی یا موت کی صورتِ حال میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ تمام قومی دانش وروں کو چاہیے کہ وہ ان خطرات سے ہمارے نئے نویلے راہنماﺅں کو آگاہ کریں، اور انہیں کھوکھلی پارلیمانی بالادستی کے نام پر ان سیفٹی والوز کو ختم کرنے سے باز رکھیں، اور اس بارے میں ایک باقاعدہ قومی تحریک چلائیں۔ ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات ایک ڈھونگ ہی ثابت ہوں، اور ایک مرتبہ پھرملکی یا غیر ملکی فوجی مداخلت ناگزیر ہوجائے اور ملکی سلامتی خدانخواستہ حقیقی خطرات میں پڑجائے۔
چلئے، اب میر تقی میر(1810-1722) کی وہ غزل سنئے، یا پڑھ ڈالیئے جو مشرف صاحب ، جناب سابق صدرِ پاکستان کے حالات و جذبات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے، اور اردو شاعری کے اس اعجاز کے بارے میں سر دُھنیے کہ لگ بھگ دو سو برس پہلے کہے گئے اشعار آج بھی کس قدر تازہ اور حسبِ حال ہیں:

فقیرانہ آئے صدا کرچلے
میاں ، خوش رہو ہم دعا کر چلے

جو تجھ بِن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے

وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے

کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منھ بھی چھپا کر چلے

بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حقِ بندگی ہم ادا کر چلے

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

نہ دیکھا غمِ دوستاں شکر ہے
ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے

گئی عمر در بندِ فکرِ غزل
سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے، کیا کر چلے!

پیارے قارئین، پھر ملیں گے، گر خدا لایا۔ ہم آپ کے خطوط اور آراءکے منتظر رہیں گے۔ اس وقت آپ سب کا بھی خدا ہی حافظ۔
٭
بدھ، 20 اگست 2008
(c) 2008 Justuju Media - All Rights Reserved
The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws -- The writer and the syndicating agency, Justuju Media, hereby grant a permission for printing and reproduction of this article under a "Fair usage" universal license

اس مضمون کو براہ راست ان پیج فارمیٹ میں حاصل کرنے کے لیے ای میل تحریر کیجیے

Share this
No votes yet