معصوم بچے از فرخ نور

Farrukh Noor's picture

(وُہ معصوم معذور بچے جو عمر بھرخود سے چل نہ سکے، حرکت نہ کر سکے، بول نہ سکے، جو پیدائشی ذہنی یا جسمانی معذور ہوتے ہیں۔ جو بچے عمر بھر بستر پر ہی لیٹے رہتےہیں۔)

مجذوب پر خدا کی شریعت ساقط ہوجاتی ہے، قانون کی سزا معطل ہو جاتی ہے مگر ہماری بے رحم حدود عائد ہو جاتی ہے۔ معصوم بچےمجذوب ہو، مجنون ہو یا شکستہ پا وُہ معصوم ہوتے ہیں۔
اعجازِ معین یہی ہے کہ وُہ مبین ہے۔ مسکین ہوکہ بھی متین ہے۔ نہ غمگین ہے، نہ نمکین یہی تو ہے اُسکی تسکین ۔ جو خود ہو قابل تحسین، وُہ ہر سو حسین ۔ یہی ہے معین کا اعجاز کہ وُہ سنگین ہو کہ بھی متین ہے۔
یہ معصوم بچے والدین کے لیئے خدا کی جانب سے ایک بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ معاشرہ اِن کو ایک بوجھ سمجھتا ہے، اکثر معاشرہ کے چند افراد اِنکے لیئے بوجھ بن جاتے ہیں۔ بچہ خدا کی جانب سے انعام ہوتا ہے۔ انعام جیسا بھی ہو اُسکو قبول کر لینا چاہیے۔ جب کوئی تحفہ اللہ اپنے بندے کو عطاء کر دے تو ناپسندیدگی کی خطاء ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ معذور اِس دُنیا میں کوئی نہیں ہوا کرتا۔ معصوم سبھی ہوتے ہیں۔ معصوم رہتا کوئی نہیں۔ معذور سب ہو جاتے ہیں۔ یہی ہماری ذہنی صلاحیتوں کی معزولی ہے ہم دوسروں کو بوجھ سمجھ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں یہ بچےوالدین کی کسی غلطی سزا ہے۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ سزا تو ان بچوں کی موت کے بعد جُدائی کی صورت میں ہوتی ہے۔
والدین کی بیماری، بچوں کی پرورش ہماری تربیت کا ایک حصّہ ہے۔ ایک تربیت ہم کرتے ہیں، ایک تربیت ہماری خدا تربیت سے کرواتا ہے۔ اکثر ہم سمجھتے ہیں ہماری تربیت مکمل ہوگئی۔ حقیقت میں ہماری تربیت کا ایک نیا انداز شروع ہوتا ہے۔ پیدائش سے ہی اگر ہمارا بچہ معذور ہوجائے، مجذوب ہو، مجنون ہو یا شکستہ پا؛ وُہ ہماری اُولاد ہے۔ اللہ کی جانب سےمصلحت ہے۔ ہوسکتا ہے وُہ ہماری تربیت کیلیئے ہو۔ اِن خاص بچوں کو معمولی مت سمجھو۔ یہ خدا کی جانب سے ایک بڑا وسیلہ ہوتے ہیں۔ والدین ، رشتہ داروں اور معاشرہ کو اِن بچوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اِن کا خیال رکھنا چاہیے۔ اِنکو حقیر مت جانو۔ جو اِن کو حقیر جانتا ہے۔ وُہ خود حقیر ہوتا ہے۔ یہ فقیر کی فقیری ہے، حقیر سوچ حقیر ہی رہتی ہے۔
انجان لوگ اِن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ یہ خود محبت کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔ یہی اِنکی ممتازی ہے۔ لوگ صرف محبت وصول کرنے کا امتیاز رکھتے ہیں۔ اِنکا اعزاز یہ ہے کہ یہ روشن جسم کی طرح محبت وصول کر کے بانٹتے بھی ہیں۔ کتنے نصیب کی بات ہے کہ لوگ اِن سے محبت کر کے محبت کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ انسان کے اندر کے احساس کو نہ صرف جگاتے ہیں، احساس کے اندر کے احساس کو بھی بیدار رکھتے ہیں۔ دُنیا کا احساس کرنا سکھاتے ہیں۔ خود حساس ہوکر احساس دیتے ہیں۔ لوگ اِن پر توجہ دیتے ہیں۔ یہ لوگوں کو توجہ دیتے ہیں۔ یہ محبت کا حسین احساس عیاں کرتے ہیں۔ لوگوں میں الفت کو نمایاں کر دیتے ہیں۔ یہ معصوم بچے ہمیں محبت کرنا سِکھاتے ہیں۔ اِنکی محبت مفاد نہیں ہوتی۔ ہماری محبت جوالا مکھی (آتش فشاں اور لاوہ) کی مانند ہوتی ہے۔ اِنکی محبت سورج اور سورج مکھی (پھول) کی طرح ہوتی ہے۔ اِن سورج مکھی پھول نما بچوں کا سورج کبھی زوال نہیں ہوتا۔ یہ پائیدار محبت کا عملی نمونہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسے آئینہ کی مانند ہے جس میں حقیقت کا عکس بھی موجود ہے، محبت کا درس وجود سے بھرپور ہے۔ اِنکی ذات مثبت انداز کا منعکس ہونا ہے۔ آئینہ کےقریب آئیے صورت واضح ہوتی جائےگی۔ دور جائیے چہرہ دھندلا ہوتے ہوتے غائب ہو جائے گا۔
یہ بچے بڑے خاص بچے ہوتے ہیں، ہم انکو غریب تر سمجھتے ہیں۔ اپنی محفلوں، تقریبات اور تہواروں میں اِنکی شرکت کو باعث ہتک، دقت یا ذلت سمجھتے ہیں۔ افسوس! یہ ہمارے مصنوعی لبادوں کا ننگ پن ہے۔ وُہ بچے جنھیں توجہ دینا ہر فرد کا فرض ہے۔ اُنھیں ہم محروم رکھتے ہیں۔ دراصل یہ ہماری سوچ کی محرومی ہوتی ہے۔ نفاست انسان کی ترتیب سے ہوتی ہے۔ تہذیب یافتہ کہلانے سے نہیں۔ گھر معصوم بچے کےگند سےگندہ نہیں ہوتا۔ یہ انسان کی سوچ سے ہوتا ہے۔ سوچ محبت سے چندن ہوکر کندن ہو جاتی ہے۔ نفرت سے ذہن کُند ہو کر دھندلا ہی ہو جاتا ہے۔ ہمارے یہ معصوم بچہ، بچہ ہماری جان ہوتے ہیں۔ ہم اِنکی جان، یہ ہماری جان ہوتے ہیں۔ ہر وقت سب کے لیئے دعا گو رہتے ہیں۔ یہ گھر کی جان ہوتے ہیں۔ وُہ گھر، وُہ خاندان، وُہ والدین خوش قسمت ہیں جو اِن سے محبت کرتے ہیں۔ یہ محبت کی ڈوری میں سب کو پرئوے رکھتے ہیں۔ اُس دادی کو سلام! جو اپنے اس معصوم بچے کا خیال سب سے بڑھ کر رکھتی ہے۔ اُسکو ہر تقریب ہر تفریح، ہر سیر وسیاحت میں اپنے ساتھ لازمی جز رکھتی ہے۔ اُس خاندان پر رحمت ہو؛ جو اپنی ہر آسائش کو اِن بچوں پر قربان کرتا ہے۔ میں اُس گھر کا ممنون ہو۔ جس نےمجھے یہ سکھلایا کہ اگر تقریب کی دعوت میں اس معصوم بچےکی شرکت ممنوع ہے تو تمام خاندان بائیکاٹ کرے گا۔
جو خاندان اپنے معصوم بچےکا خصوصی خیال رکھتا ہے۔ تو گھر کا ہر فرد اِن سے منسلک رہتا ہے۔ آپس کے اختلافات اپنی جگہ مگر یہاں محبت قائم رہتی ہے۔ یہ بچےگھر کا مرکز ہوتے ہیں۔ جب یہ نہ رہے تو گھر ویران لگتے ہیں۔ برسوں یا شائید عمر بھر اِنکے وجود کا احساس ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ یہ دُنیا کے لیئے تو مر جاتے ہیں۔ مگر اِن کا احساس، اُنکی محبت بھری نگاہیں، اچانک کانوں میں پڑنےوالی پر خلوص آواز، وُہ باتیں ہمارے تصور کا حصہ ہوتی ہے۔ جن کے لیئے کوئی مصور نہیں۔ یہ اللہ کی جانب سے محبت کی صورت ہوتی ہے۔ جو کدورت سے پاک ہوتی ہے۔
موت کے وقت وُہ ہم انسانوں کی طرح موت سے بھاگتے نہیں۔ وُہ اللہ کے فیصلےکو بخوشی تسلیم کر لیتے ہیں۔ نزاع کی حالت میں بھی وُہ بڑے ہی معصومانہ انداز میں محبت بھری نظروں سے ہی ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کہ محبت بانٹتے بانٹتے سانس ٹوٹ جاتی ہے مگر محبت کا سلسلہ رُکتا نہیں۔
اِن بچوں کی موت کے بعد ہماری زندگی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جس میں ہم کبھی اپنے آپکو ادھورا سمجھتے ہیں۔ تو کبھی اِنکے وجود احساس سے اپنی ذات کی تکمیل کرتے ہیں۔ دراصل یہ بچے ہمیں محبت کرنے کا گُر سکھا جاتے ہیں۔ یہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرتے ہیں۔ یہ بے مقصد نہیں بامقصد جیتے ہیں۔
یہ معذور بچے ہماری تربیت کیلئیے آتے ہیں۔ ایسی تربیت جو ہم میں انسانیت کا، زندگی کا اور مقصد کا احساس جگا دیتی ہے۔ اِنکی موت پر ہماری training مکمل نہیں ہوتی۔ بلکہ اِنکی جدائی ہماری تربیت کے ایک نئے رُخ کا نیا انداز لاتی ہے۔ یہ بچے ہمیں زندگی کا مقصد عطاء کرتے ہیں۔ کہ کسطرح ہمیں دوسروں کے دُکھوں اور غموں میں شریک ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہت۔
یہ ہمیں لفظوں کے تعلق سے نہیں، احساس کے تعلق سے جوڑتے ہیں۔ یہ ہمیں سمجھا دیتے ہیں بات سمجھنے کے لیئے زبان کےلفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ ہمیں توجہ دینے اور لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ خود ہی بن جاتے ہیں۔ ادا بھی خود ہی ہوجاتے ہیں۔ اِنکی محبت ضرورت کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ محبت کیلیئے آتے ہیں۔ جو انسانیت کا درس دیتی ہے۔
اِن بچوں سے بے حسی اختیار کرنے والے دراصل اِن بچوں کو بے بس سمجھ لیتے ہیں۔ اِنکی اس ظاہری بے بسی کو بے بسی سمجھ لینے والےخود بے حس رہ جاتے ہیں۔ والدین اِن بے بس بچوں پر توجہ دیکر اِن کی حس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وُہ احساس نام کی حس کو جان لیتے ہیں۔ کیا خوب بات ہے! جن کو ہر کوئی بےحس سمجھتا ہے۔ اُنکے اندر ایک حِس فراہم کردینے والا؛ ایک لازوال احساس ِمحبت موجود ہے۔ یہ بچےمحبت کا پیکر ہوتے ہیں۔ اِنکی فکر ہمارے اندر موجود محبت کا وسیلہ ہوتی ہے۔ اِن بچوں کی وفات سے اُداسی پھیل جاتی ہے۔ وُہ بچہ جو کچھ نہیں کرسکتا۔ وُہ بھی اپنا وجود برقرار رکھتا ہے اور وُہ کچھ کر جاتا ہے۔ جو بڑے بڑے لوگ نہیں کر پاتے۔
یہ معاملہ بڑا ہی خوب سیرت ہے لوگ اِن سے کتراتے ہیں مگر یہ کتراتے نہیں۔ معاشرہ اِن بچوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جبکہ یہ معاشرہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جو نظر انداز کرتے ہیں۔ اُن کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ بُرا کرنے والوں کا بھی بھلا ہی چاہتے ہیں۔ چاہنے والوں کو بھی چاہتے ہیں۔ سوچئیے یہ بچے مثبت انداز کا عملی کردار ہے۔ یہ ہماری سوچ کو وسعت عطاء کرتے ہیں۔ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ اِنکے طوسل سے ہماری سمت کو خوبصورت راہ حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہمارے دکھوں، غموں، خوشیوں کے ہمراز ہوتے ہیں۔ ہمارے مخلص دوست ہوتے ہیں۔ اِن بچوں کے معاملہ کو اپنی سمت کی جانب سے دیکھنے کی بجائے دوسری جانب سے دیکھئیے تو کئی راز افشاں ہوگے۔
“یہ بچے معاشرے میں ایک بڑا ہی فعال کردار ادا کرتے ہیں ہم اِنکو بیکار سمجھتے ہیں، یہ بڑے ہی باکمال ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کے اندر کو حسن ِجمال کی جَلا بخشتے ہیں۔ یہ نگاہ کی بات ہوتی ہے جو ہر کوئی سمجھ نہیں سکتا۔ یہ وہی سمجھ سکتا ہے۔ جسکی نگاہ کو کچھ خاص عطاء ہو جائے۔ ہنسنے والےحقیقت کو نہیں جانتے۔ جن کے نزدیک کوئی قابل نہیں حقیقت میں وُہ ایک قیمتی جوہر ہوتا ہے۔ جس کی پہچان جوہری ہی جانتا ہے۔ کوئی عام فرد نہیں جان سکتا ۔ یوں ہی توجہ کے طالب خاص بچے ہمارے شہزادہ، شہزادی ہوتے ہیں۔ جب وُہ اپنا اختیار استعمال کریں گے تب دُنیا جان پائےگی۔ کہ یہ واقعی ہمارے سب سے قیمتی بچے ہوتے ہیں۔ اِن بچوں میں خاص بات یہ ہوتی ہے۔ کہ یہ بے مروت نہیں ہوتے۔ یہ ہم سے محبت کرتے ہیں۔ اور اس کا اقرار قیامت کے روز عمل کی صورت میں کریں گے۔ یہ ہماری آزمائش بنتے ہیں۔ اللہ آزمائش اپنےقریبی لوگوں سے ہی لیا کرتا ہے۔ جواللہ کو پسند ہو۔ یہ بچے ہمیں وُہ کچھ سکھا دیتے ہیں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیتے ہیں۔ یہ بچے جب آپکے لیئے کچھ کریں گے تب دُنیا والے بس دیکھ ہی سکیں گی۔ یہ بچے مجذوب ہوتے ہیں۔ درویش کہہ لو تو پھر ایسے بچوں کی دیکھ بھال کرنےوالوں کا خدا کے ہاں کیا مرتبہ و مقام ہوگا۔ ذرا ہم سب کو سوچنا چاہیے۔ وُہ تو ہمارے لیئے رحمت ہیں۔ صرف والدین کے لیئے نہیں ہر اُس کے لیئے جو اُن سے ملتا ہے۔ کتنی بڑی نعمت ہیں یہ بچے اگر ہم سمجھے تو۔ مگر یہ تمام احساس ہمیں اُنکی موت کے بعد ہی ہوتا ہی۔“
(فرخ)

Share this
No votes yet