معاہدہ کراچی کے نام پر گلگت بلتستان کا استحصال کب تک؟

Shams Paras's picture

قدرت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیکر دنیا میں اپنا نائب مقرر کر دیا تاکہ وہ دنیا میں نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھ سکے۔ انسان اپنے ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کرتا گیا اور مختلف قوموں اور گروہوں نے اپنی جداگانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے ریاستیں تشکیل دیں اور نظام ہستی چلانے کیلئے مختلف قوانین وضع کئے۔ ان ریاستوں اور قوموں کے مابین امن و آشتی اور جنگ و جدل کی روک تھام کیلئے بھی مختلف معاہدے ہوئے۔ ان میں سے کچھ معاہدے نیک نیتی اور برابری کی بنیاد پر تشکیل دئیے گئے اور بعض معاہدے ظلم و جبر اور اپنے سے چھوٹی قوموں کی آزادی و خود مختاری پر شب خون مارنے اور انکے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے مسلمہ جمہوری اور بین الاقوامی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ترتیب دئیے گئے۔ 28اپریل 1949ء کا معاہدہ کراچی بھی جابرانہ معاہدوں کی بدترین مثال ہے جب پاکستان کے قابض حکمرانوں اور آزاد جموں و کشمیر کے نام نہاد رہنماؤں نے کشمیر کے استصواب رائے کیلئے گلگت بلتستان کے محکوم و محروم عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح رکھنے کیلئے کراچی میں ایک معاہدہ کیا۔ تاکہ اگر کبھی رائے شماری کی نوبت آئے تو یہاں کے عوام پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ پاکستان کے وزیربے محکمہ مشتاق احمد گورمانی، مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری غلام عباس اور آزاد کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے صدر سردار ابراہیم نے ایک منظم سازش کے تحت 28ہزار مربع میل پر محیط خطے کے عوام کی قسمت کا فیصلہ کر لیا جبکہ حقیقت میں اس معاہدے کے بنیادی کر داروں کا گلگت بلتستان سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی وہ یہاں کے منتخب نمائندے تھے ۔ تقسیم ہند کے بعد گلگت بلتستان کا کشمیر سے تعلق ختم ہو گیا تھا لہٰذا آزاد کشمیر کی چار ہزار مربع میل پر قائم حکومت کے سربراہ کو اٹھائیس ہزار مربع میل پر مشتمل خطے کی نمائندگی کا حق حاصل تھا اور نہ ہی چوہدری غلام عباس کی مسلم کانفرنس نامی جماعت کا گلگت میں کوئی وجود تھا ،جب کسی معاہدے کی تشکیل کے سلسلے میں بنیادی طریقہ کار پر عمل درآمد نہ کیا جائے اور بنیادی فریقین کی موجودگی میں حقیقی اور قانونی لوازمات پورے نہ کئے جائیں تو ایسے معاہدے کی کوئی وقعت نہیں ہوتی ہے۔ یہ معاہدہ کشمیر کے بارے میں ا قوام متحدہ کی قرار دادوں کے منظور ہونے کے بعد افراتفری میں ،رات کے اندھیرے میں کیا گیا تاکہ مسلم کانفرنس ،حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے دائرہ اختیار کا تعین کیا جائے۔ اس معاہدے کے حصہ اول کی شق نمبر ۸ کے تحت گلگت بلتستان کے جملہ امور حکومت پاکستان کے سپرد کر دئیے گئے تھے۔
All Affairs of Gilgit Laddak under the control of political agent.
اس معاہدے کی روسے گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات پاکستانی پولٹیکل ایجنٹ کے دائرہ اختیار میں دیکر جہاں کشمیری رہنماؤں نے اس سر زمین سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا، وہاں پاکستان نے بھی UNCIPکے قراردادوں کے مطابق مقامی نمائندوں پر مشتمل حکومت تشکیل دینے کے بجائے نو آبادیاتی قوانین کا اطلاق کرکے اپنے پولٹیکل ایجنٹ کو خطے کا بے تاج بادشاہ بنا کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے ۔اقوام متحدہ نے اپنی 13اگست 1948ء کی قراداد میں حکومت پاکستان پر واضح کر دیا تھا کہ وہ سات ہفتوں میں اپنی فوج و سول بیورو کریسی کا خطے سے مکمل انخلاء کا بندو بست کرکے مقامی نمائندوں پر مشتمل حکومت کے قیام کو یقینی بنائے۔ اس معاہدے کی رو سے حکومت پاکستان نے دوسرے ممالک سے گلگت بلتستان کی سرحدوں کے تعین کے سلسلے میں معاہدے بھی کئے اور اقوام متحدہ کی ایک اور قراردا د جس میں گلگت بلتستان کی سا لمیت کو تحفظ دیا گیا،وہ بھی نظر انداز کرکے بدنیتی کا ثبوت دیا گیا ۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی حیثیت کیوجہ سے پاکستان نے اس خطہ کو براہ راست اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے۔ کیونکہ اس خطہ کی سرحدیں بھارت،چین ،افغانستان سمیت روسی تاجکستان سے بھی ملتی تھیں ۔ جبکہ آزاد کشمیر کی کوئی جغرافیائی اہمیت نہ تھی لہٰذا پاکستان نے ایک کٹھ پتلی حکومت بنا کر ان پر گلگت بلتستان کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کر دئیے۔ اب اگرچہ کشمیری رہنما گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا ناقابل تقسیم حصہ سمجھتے ہیں لیکن حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر یہاں کا دورہ بھی نہیں کر سکتے۔
پاکستان اگر چاہتا تو گلگت بلتستان میں بھی یہاں کے عوام کی خواہشوں کے مطابق مقامی حکومت کا قیام عمل میں لاکرمسئلہ کشمیر کے حتمی تصٖفیے تک یہاں کے عوام کی بنیادی جمہوری حقوق کا تحفظ کر سکتا تھا۔ گلگت بلتستان کے عوام نے اسلام کے نام پر قائم ہونیوالی مملکت پاکستان کے ساتھ امیدیں وابسطہ کر لی تھیں ۔ مگر انہیں ہندو ڈوگرہ راج میں حاصل شدہ حقوق سے بھی محروم ہونا پڑا۔ تقسیم ہند سے پہلے متحدہ جموں کشمیر اسمبلی ہی گلگت بلتستان کی نمائندگی تھی اور یہاں پر اسٹیٹ سبجیکٹ رولز بھی نافذ تھے جس کے تحت ریاست سے باہر کا کوئی باشندہ یہاں کی زمین کا مالک نہ بن سکتا تھا۔ بھارت نے جموں و کشمیر کو اپنا صوبہ قرار دیکر انہیں اپنی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی ہوئی ہے۔ اور پاکستان نے بھی آزاد کشمیر میں کشمیریوں کی حکومت تشکیل دے رکھی ہے۔ تو پھر گلگت بلتستان میں بھی مقامی حکومت قائم کرنے میں کونسی رکاوٹ درپیش تھی؟ یہ درست ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل تک اس خطے کو اپنا حصہ نہیں بنا سکتا مگر جموں کشمیر طرز کا سیٹ اپ یا آزاد کشمیر کی طرح کی حکومت کیلئے کو نسا امر مانع تھا؟
گلگت بلتستا ن کو جس پولٹیکل ایجنٹ کے کنٹرول میں دینے کا تذکرہ موجودہے وہ نہ اس خطے کا باشندہ ہے اور نہ ہی عوام کا منتخب نمائندہ ، لہٰذا یہ معاہدہ اقدام متحدہ کی اس قرارداد کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی جس میں اس خطے کے عوام کیلئے لوکل اتھارٹی کی منظوری دی گئی تھی۔ اس فراڈ پر بن مبنی دستاویز کو بنیاد بنا کر حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کے 20لاکھ محروم و محکوم عوام کو اکسٹھ سال سے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ پاکستان کی تمام آئنی دستاویز میں گلگت بلتستان کا کوئی تذکرہ ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں ہماری کوئی نمائندگی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے متعدد فیصلوں میں اس خطے کو پاکستان کا آیئنی و جغرافیائی حصہ ماننے سے انکار کر دیا ہے لہٰذا گلگت بلتستان پر قبضہ نوآبادیاتی تسلط کی ایک بدترین مثال ہے حکومت پاکستان نے اس معاہدے میں کشمیری رہنماؤں کو شامل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ جموں کشمیر کا حصہ ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت کرکے آزادی حاصل کر لی تھی۔ لہٰذا ریاست جموں کشمیر سے گلگت بلتستان کا تعلق ختم ہو گیا تھا لیکن پاکستانی حکومت نے رائے شماری کیلئے آزادی جمہوریہ گلگت کی حکومت ختم کرکے اس خطے کو متنازعہ کشمیر کیساتھ نتھی کر دیا۔ اگر یہ خطہ واقعی متنازعہ ہے تو رائے شماری سے پہلے حکومت پاکستان کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں عوام کو حاصل کردہ بنیادی حقوق سلب کرکے اپنے نوآبادیاتی قوانین کا اطلاق کرے اور دوسرے ممالک کیساتھ معاہدے کرکے اس خطے کی جغرافیائی سرحدوں کے بخرے کر دے ۔
اس فراڈ پر مبنی معاہدے کی بنیاد پر نہ صرف خطے کے عوام کے بنیادی ،انسانی ،جمہوری و سیاسی حقوق سلب کئے گئے بلکہ اپنے نو آبادیاتی تسلط کو دوام بخشنے کیلئے لسانی ،علاقائی ،اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو پروان چڑھایا گیا تاکہ خطے کے عوام اپنے بنیادی حقوق کیلئے متحدو منظم ہوکر آواز نہ اٹھا سکیں۔ تقسیم ہند سے پہلے یہاں فرقہ وارانہ فسادات کا وجود ہی نہ تھا مگر آج قابض نوآبادیاتی انظامیہ لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت معاشرے کے مختلف طبقوں کو باہم لڑا کر انکے قدرتی و معدنی وسائل کا استحصال کر رہے ہیں ،اگر پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور کشمیر و گلگت بلتستان کے عوام کی منٹا کے مطابق چاہتا ہے کہ تو سب سے پہلے خود اقوام متحدہ کی قرار دادیں کی پاسداری کرنی چاہئے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی گلگت بلتستان کی دگرگوں صورتحال کا نوش لیکر دنیا کی اس آخری کالونی کے بنیادی ،انسانی حقوق کی بحالی کیلئے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔

Share this
No votes yet