مصطفی باکمال

siaksa's picture

کچھ لوگوں کی عادت ھوتی ھے بلاوجہ پنگا لینے کی ایسے ھی لوگوں شمار ذوالفقار مرزابھی ھے یہ وہ انسان ھے جب بھی بولتا ھے آگ ھی اگلتا ھے۔ سندھ سیلاب میں تباہ حال ھے اور موصوف کا ذاتی حلقہ بدین مشکلوں کا شکار ھے پر جناب کو تو متحدہ فوبیا ﴿ایم کیو ایم﴾ نامی ایسی لاعلاج بیماری لاحق ھوگی جس کی بنا پر موصوف سندھی سلطان راھی بنے ھیں ۔ جو انسان اپنے حلقے سے بے نیاز یہ بھی بھول گیا ھے کہ اسکی ھیرو گری کے سب سے زیادہ مستحق اسکے حلقے وہ غریب عوام ھیں جن کو اج مدد کی اشد ضرورت ھے اور جن کے ووٹوں کے زریعے وہ عوام کا خود ساختہ لیڈر بننے کی کوشش کی ناکام کررھا ھے۔ آج سپریم کورٹ نے یہ کھ دیا ھے کہ انکو کسی خودساختہ ھیرو کو بلانے کی ضرورت نھیں اگر زلفی صاحب کو کوئی تکلیف لاحق ھے تو حلفیہ بیان جمع کروایئں۔ جناب کو زلفی لیکس بننے کا بھی شوق لاحق ھوگیا پر اصلی وکی لیکس نے انکے اس جھوٹ پر پانی ڈال دیا کہ نیٹو کے کینٹنر میں کوئی اسلحہ سپلائی نھیں ھوتا پاکستان کے زمینی راستے سے جسکو بقول انکے بابر غوری نے لوٹ لیا۔ کل تو متحدہ کے ایک قابل ڈاکٹر مصطفی باکمال نے انکو کچھ ادویات کی ڈوز دی ھیں۔ اللہ کرے انکو افاقہ ھو اور اس طرح کی ھذیانی کفیعت سے انکی جان چھوٹے اور ان پر جو سندھ کا عظیم لیڈر بننے کا بخار چڑھا ھوا وہ کم ھو اور وہ اپنے حلقے کے لوگوں کی مدد اور امداد لے لیے آگے آکر کام کریں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ بدین سے سکھر کا پاگل خانہ دور نھیں انکے حلقے کے لوگ خود انکا داخلہ وھاں کروادیں گے۔ جس جگہ پر ھر پاگل خود کو وزیر اعظم سمجھتا ھے۔ یاد رکھیں عوام جب سر پر بٹھا سکتی ھے تو گرا بھی سکتی ھے عوام کے خادم بنو ناکہ اپنے آبا اجداد کا شجرہ نسب گلے میں ٹانگے گھومتے رھو۔ ایک سیاسی لیڈر، رھنما یا کارکن کی بس ایک اوقات ھوتی ھے کہ وہ عوام کے ووٹ کا بھکاری ھوتا جس کو عوام اپنا خادم بنا کر اسمبلی میں بھجتی ھے ناکہ کسی کے اعلا شجرہ نسب کی بدولت۔

Share this
Your rating: None Average: 1 (1 vote)