مشرف کی روانگی اور نئے خدشات

Khwaja Ekram's picture

ڈاکٹر خواجہ اکرام
مشرف کی روانگی اور نئے خدشات
جنرل پرویز مشرف نے12/اکتوبر 1999 میں جب نواز شریف کو بر طرف کر کے زمام حکومت اپنے ہاتھوں میں لی تب صورت حال یہ تھی کہ لوگوں نے ان کا استقبال کیا تھا اور خوشی میں مٹھائیاں بھی تقسیم کیں تھیں اور جب18/اگست 2008 کو انھوں نے استعفیٰ دیا تب بھی لوگوں نے خوشیاں منائیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد مٹھائیاں بانٹنے والوں کی تعداد کم تھی لیکن اقتدار سے رخصت ہوتے وقت مٹھائیاں بانٹنے والوں کی تعداد زیادہ نظر آئی اور خوشیاں منانے والے بھی پاکستان کے تمام صوبوں میں سڑکوں پر جشن مناتے نظر آئے۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی یہ تو پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی جماعت یا پُرانی پارٹی نئے رنگ وروغن کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تب یہی ہوتا ہے کہ عوام اور خواص اس کااستقبال کرتے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے ان کےاقتدار کی مدت بڑھتی جاتی ہے ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آنے کگتا ہے۔آج تک پاکستان کا کوئی ایسا حکمراں نہیں ہے جس کا انجام بخیر ہوا ہو ۔کوئی تختہٴ دار پر چڑھایا گیا تو کوئی بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا ، کوئی حادثے کا شکار ہوا تو کوئی ذلالت اور حقارت کے ساتھ اقتدار سے بے دخل ہوا۔ اخر ایسا کیا ہے اس ملک کی سیاست میں کہ ایک مدت تک مقبولیت کا تاج سر پر رہتا ہے اور کچھ ہی دنوں بعد عوام کی نظروں سے گر جاتا ہے ۔جنرل مشرف کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں حال یہ تھا کہ جب انھوں نے گذشتہ سیاستدانوں کے مواخذےکی بات کی اور ان پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں شرو ع کیں تو عوام نے ان کو اس قدر سراہا کہ وہ سر ہی چڑھ گئے حالانکہ انھوں نے اس حوالے سے نہ کچھ کیا اور نہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں تھے ۔جنرل مشرف میں فوجی صلاحتیوں کے ساتھ ساتھ ایک بات تو تھی کہ وہ عوام میں مقبول ہونے کا گُر جانتے تھے اسی لیے کبھی ‘سب سے پہلے پاکستان ’ کا نعرہ دیا تو کبھی ‘خوشحال ’ پاکستان کے نعرے سے عوام کو لبھانے کی کوشش کی۔لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں جو بنیادی خامیاں ہیں ان کو دور کرنے میں وہ بھی ناکام رہے ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو پاکستان میں یہ پہلے ایسے حکمراں تھے جن کے پاس سب سے زیادہ طاقت و قوت تھی یہ جو چاہتے کر سکتے تھے اور اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں ہی میں کر سکتے تھے مگر انھوں نے پاکستان کو مستحکم کرنے کی سمت میں کوئی تعمیری پہل اس وقت نہیں کی جب وہ کرنے کی پوزیشن میں تھے ۔البتہ اس طرح کے عزائم اس وقت سامنے آئے جب خود ان کے وجود پر سوالیہ نشان لگنے لگے ۔ باوجود اس کےاگر حق بیں نگاہوں سے دیکھاجائے تو انھوں نے کئی تعمیر ی کام کیے ہیں جن سے سیاسی استحکام آسکتی تھی مگر ان نئے ضوبط کو سیاست میں روایت کا حصہ بننے کا موقع نہیں ملا۔مثلاً بلدیاتی نظام ایک انقلابی قدم تھا اسی طرح پارلیمنٹ میں بی اے کی شرط بڑی بات تھی اس لیے کہ اس شرط کی وجہ سے ایک پارلیمنٹ تو ایسی بنی جو دنیا میں ایک مثال بنی کہ پاکستان کی اسمبلیاں واحد ایسی اسمبلیاں تھیں جہاں بی۔اے سے کم کوئی نہیں تھا۔اس کے علاوہ اسمبلیوں میں خواتین کی نسشتوں کو مخصوص کرانے کے سبب پہلی دفعہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستان میں خواتین نےمنتخب ہو کر ملکی سیاست میں قدم رکھا ۔ہمسایہ ممالک سے بھی انھوں نے روابط استوار کرنے میں اہم کوششیں کی تھیں گرچہ بعض مصلحتوں کے سبب یہ بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ بالخصوص ہندستان کےساتھ کئی ایسے موڑ آئے جہاں معاملات طے ہوسکتے تھے مگر یہ پہل اس وقت ہورہی تھی جب وہ خود دباؤ میں تھے ۔اس لیے اس سمت میں کوئی قابل ذکر بات نہیں کہی جاسکتی۔
مشرف صاحب کے اقتدار میں اتنی تیزی سے عروج وزوال اور نشیب و فراز ہوتے رہے ہیں کہ شاید ہی کسی پاکستانی حکمران کو اس کا سامنا کرنا پڑا ہو۔نائن الیون کے واقعے نے تو ان کی سیاسی بساط ہی پلٹ کر رکھ دی ۔انھیں پاکستان کی صدیوں پُرانی خارجہ پالیسیوں کو تبدیل کرنا پڑا ، دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنانے پر مجبور ہوئےاور پاکستان کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑ اکر دیا کہ آگے بڑھیں تو خطرہ اور پیچھے ہٹیں تو خطرہ۔یہ صورت حال اب بھی برقرار ہے۔جنرل مشرف کی ناکامی یا زوال کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے ۔اسی لیے اکثر وہ خود بھی کنفیوز رہے کہ کیا اقدامات کیے جانے چاہیے۔کبھی انھوں نےملک میں انتہا پسندی کو نشانہ بنایا تو کبھی انھوں نے انتہا پسندوں سے مصالحت کرنے کی کوشش کی ۔لال مسجد کا سانحہ سب سے بڑا سانحہ تھا جو پاکستان کی تاریخ کا سرخ باب ہے ۔ یہ حکومت کی ناکامی بھی تھی اور غیر ملکی دباؤ کا اظہار بھی تھا ،اسی طرح مدارس کو نشانہ بنا نا اور پھر مدارس میں اصلاح کی باتیں کرنی یہ تمام وہ تضادات ہیں جو ان کی بے بسی اور بیرونی مداخلت کو صاف ظاہر کرتی تھیں کہ ملک میں کیا ہو رہاہے اور اس ملک کا مستقبل کیاہوگا ۔عدلیہ کے ساتھ کھیلواڑ کر کے بھی انھوں نے یہی پیغام دیا کہ وہ اعلیٰ اورمثالی سیاست اورجمہوریت کی بات کرنے کے باوجودجمہوریت کو اپاہج بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں ۔
اب مشرف اقتدار سے الگ ہوگئے ہیں شکر ہے کہ پہلے ایسے صدر ہیں جن کی روانگی ابھی تک بخیر و عافیت نظر آرہی ہے اور انھیں باضابطہ گارڈ آف آنر بھی دیا گیا ۔لیکن مستقبل کیا ہوگا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پرانی روایت ہی دہرائی جائے گی یا یہاں بھی نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔اب سوال یہ ہے کہ ان کے جانے کے بعد کیا ہوگا؟ یہ بڑ ا سوال ہے اور اس سوال کا جواب ابھی تک موجودہ حکمرانوں کے پاس نہیں ہے کیونکہ جس امریکہ نوازی کے سبب مشرف صاحب کا یہ حال ہوا ہے کیا وہ امریکہ نوازی ان کے جانے کے بعد فوراً ختم ہوجائے گی۔اگر ختم ہوگئی تو موجودہ حکمراں تو امر ہوجائیں گے لیکن اگر ختم نہ ہوئی تو شاید یہ بھی اسی طرح قوم کے سامنے ذلیل ہوں گے۔یہ بات تو کچھ ہی لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ خارجہ پالیسی اتنی جلدی بدل نہیں سکتی اور خاص طور پر امریکہ کے ساتھ روابط نہ ختم کیےجاسکتے ہیں اور نہ بڑھائے جاسکتے ہیں ایسے میں لیکن عوام تو نہیں سمجھ سکتی ۔یہ پریشانی تووہی محسوس کر رہے ہوں گے جنھوں نےمشرف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے۔ اب یہ نیک نامی یا بد نامی تو موجودہ حکمرانوں کے سر ہی جائے گی۔ دور اندیش سیاست کا تقاضہ تو یہ تھا کہ مشرف تو بدنام ہو ہی چکے ہیں انھیں ہی اقتدار میں رہنے دیا جاتا اور انھیں کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چلایا جاتا تو یہ موجودہ حکمراں اپنے مستقبل کو بھی بچا سکتے تھے اور ملک کو نئے بحران سے بھی نکال سکتے تھے مگر مجھے تو ایسا لگتا ہے مشرف کو ہٹانا جلدبازی میں اٹھایا گیا قدم ہے ۔ اب جو نئے خدشات سامنے ہیں وہ یہی ہیں کہ اگلا صدر پاکستان کون ہوگا ؟ کس میں اتنی جرات ہے کہ کانٹوں بھرے تخت پر براجمان ہو (بیٹھے )۔ابھی تو یہی طے ہونا ہے کہ اس مخلوط حکومت میں کس کی شراکت زیادہ ہے اور کس کو یہ تحفتاً پیش کیا جائے ، جب بات اس منصب کو تحفے میں پیش کرنے کی ہوگی یا مخلوط حکومت میں کسی کو خوش کرنے کی ہوگی تو مسائل اپنی جگہ رہ جائیں گے اور عوام کو کچھ ہی دنوں بعد پھر سے سڑکوں پر آنا ہوگا۔
******

Share this
No votes yet