مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا

Guest's picture

انتخابات کے نتائج سے حاصل ہونے والی خوشیوں کا سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ہندوستان کا ہر امن پسند شہری شادمان ہے گویا سارے مسائل کا حل یکلخت ہو گیا ہو۔مسلمانوں کے خوشی دوہری ہے۔ انہیں کانگریس کے اقتدار میں آنے سے زیادہ مسرت بی جے پی کی شکست فاش سے حاصل ہوئی ہے۔اڈوانی جی کی محرومی نے ان کا دل باغ باغ کر دیا ہے۔نریندر مودی اور ورون گاندھی کو جب موردالزام ٹہرایا جاتا ہے تو انکی باچھیں کھل اٹھتی ہیں۔ بی جے پی کی آپسی سر پھٹول،جسونت سنگھ کی ناراضگی ، سدھیندو کلکرنی کا تجزیہ اورسنگھ پریوارکی جھنجھلاہٹ جب سامنے آتی ہے تو وہ بغلیں بجانے لگتے ہیں۔اس میں کوئی مضائقہ نہیںایسا ہونا بھی چاہیے لیکن کیا یہی سب کچھ ہے؟اگر ایسا ہے تو ہم اس شعر کی مصداق ہیں
نرغئہ ظلم میں دکھ سہتی رہی خلقت شہر
اہل دنیا نے کیے جشن بپا اور طرف

جشن کے دوران ایک قابل ذکر خبر عثمان آباد سے آئی جہاںاین سی پی کے نو منتخب رکن پارلیمان ڈاکٹر پدم سنگھ پاٹل کو پولس نے اپنے بھانجے پون راجے نمبالکر اور ڈرائیور صمد خان کے دوہرے قتل کے الزام میں گرفتار کر کے پنویل کی عدالت میں پیش کر دیاگیا۔پون راجے کو تین سال قبل کالمبولی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنے ماموں ڈاکٹر پدم سنگھ پاٹل کے خلاف الکشن لڑنے کی جرأت کی اور صرف ۴۸۴ ووٹوں سے ہارے۔ آگے چلکرتیرنا تعلیمی ادارے اور شکر کارخانے میں ہونے والی بد عنوانی کا پردہ فاش کیا اور کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئے نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر پدم سنگھ پاٹل نے پون راجے کا کانٹا نکالنے کے لیے۰۳ لاکھ روپے کی سپاری دے دی۔ابتدائ میں غالباً شرد پوار سے رشتہ داری کے باعث راشٹروادی پارٹی حمایت میں رہی لیکن جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیااورڈاکٹر پدم سنگھ پاٹل کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کر دیا گیا۔چونکہ ڈاکٹر پدم سنگھ پاٹل تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے ہیں اس لیے ان کے دماغ کی اسکریننگ ہونے والی ہے۔اس کے بعد کیا کچھ گل کھلیں گے خدا ہی بہتر جانتا ہے۔

پون راجے قتل کیس میں سب سے زیادہ مشکوک کردار خود پولس کا دکھائی دیتا ہے۔تانا جی پاٹل نامی شخص نے نارکو ٹسٹ کے دوران ڈاکٹر پدم سنگھ پاٹل اور راجیو بابا پر قتل کی سازش رچنے کا اور حکم دینے کا الزام لگایا۔پولس نے راجیو بابا کو پوری طرح بھلا دیا حالانکہ اس کی گرفتاری اس کیس کو سلجھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔تاناجی کے اعتراف کے مطابق اسے وکی ملہوترہ کو اس قتل کے لیے راضی کرنے کی خاطر ۰۰۰۵۱ ہزار روپے دئے گئے تھا۔ اس معاملہ میں گرفتار ایک اور ملزم پارس مل جین کے بارے میں بتلایا جاتا ہے کہ وہ سابقہ ایس پی کا مخبر ہوا کرتا تھا ان حقائق نے معاملے کو مزید الجھادیا ہے۔عدالت میں پولس کی تضاد بیانی بھی شبہات کو جنم دیتی ہے۔پولس بیان کے مطابق قتل والے دن وکی تھانے جیل میں تھا۔تفتیش سے پتہ چلا یہ بات غلط ہے وکی ملہوترہ کو قتل سے تین دن قبل ۹۹۹۱÷ کے ایک مقدمہ کی خاطر ممبئی لایا گیا تھا۔ قتل کے دن اسکی واپسی پولس کی گاڑی کے بجاے تیز رفتار جپسی سے ہوئی سوال یہ ہے کہ پولس نے عدالت کوگمراہ کرنے کی کوشش کیوں کی؟ اور وکی ممبئی سے تھانہ جاتے ہوے کالمبولی کیوں اور کیسے پہونچ گیا؟عدالت نے وکی کے ہمراہ جانے والے عملہ اورقتل کے دن راجے کے موبائل فون کی تفصیلات طلب کیں جو پولس مہیا نہ کر سکی اس کے باعث عدالت نے تفتیش کو ناقص قراردیا۔اس طرح کے معاملات میں پولس کا ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سہراب الدین معاملہ میں انسپکٹر ونجارا جیل کی ہوا کھا چکے ہیں لیکن اسوقت یہ کہا گیا تھاکہ مودی کے گجرات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے مہاراشٹر میں تو کانگریس کی حکومت تھی اور راشٹروادی کی آرآرپاٹل وزیر داخلہ ہوا کرتے تھے۔انہوں نے نہ صرف حقائق کو چھپایا بلکہ انا ّ ہزارے کی سپاری کو بھی دبا دیا اور ملزمین کو تحفظ فراہم کیا۔

ریاست مہاراشٹر میں وقوع پذیر ہونے والے اس شرمناک واقعہ پر حزب اختلاف ہنگامہ کھڑا کر سکتا تھا لیکن اس بیچ بی جے پی کے ریاستی سربراہ نتن گڈکری ایک نئی مصیبت میں گرفتار ہو گئے۔ ۰۲ مئی کو ان کی گاڑی سے یوگیتا ٹھاکرے نامی ۷سالہ بچی کی لاش برآمد ہوئی۔ اس بارے میں یوگیتا کے ماں باپ ومل اور اشوک ٹھاکرے کا الزام ہے کہ ان کی بیٹی کو عصمت دری کے بعد قتل کیا گیاہے۔چونکہ مقامی پولس مقدمہ تک درج کرنے کیلئے تیار نہیں تھی ان لوگوں نے سی بی آئی تحقیق کا مطالبہ کر دیا جس سے نتن گڈکری گھبرا گئے اوربلا تحقیق بیان بازی شروع کر دی۔لڑ کی کی موت دم گھٹنے سے ہی ہوئی ہے۔ وہ دل کی مریضہ تھی۔ اسے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اسکی حمایت کرنے والا سماجی کارکن انگلے پیشہ ورمجرم ہے وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرنتن گڈکری معصوم ہیں تو اسقدر گھبراہٹ چہ معنی دارد۔ تحقیق ہونے دی جائے اپنے آپ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ لیکن ان کی بے چینی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔

اس معاملہ میں بھی پولس کا رویہ نہایت جانبدارانہ ہے۔حادثہ کے وقت نتن گڈکری ممبئی میں ضرور تھے لیکن جب وہ واپس آئے توپولس کو چاہیے تھاکہ گاڑی کے مالک کی حیثیت سے اسی رات ان کا بیان لیا جاتاان کی اہلیہ رام ٹیک میں تھیں لیکن دو بیٹے نکھل اور سارنگ گھر میں تھے ان سے پوچھ تاچھ کی جاتی لیکن جس پولس نے لاش کا پنچ نامہ تک نہیں کیا اس سے یہ توقع فضول معلوم ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سنگین حادثہ کے بعد گاڑی کوضبط کر لیا جاتا لیکن اسے ایئرپورٹ روانہ کر دیا گیا حالانکہ گڈکری کی ایک اور ہونڈا گاڑی بھی ہے اور وہ ٹیکسی سے بھی گھرآسکتے تھے لیکن پولس کا رویہ تویوں تھاگویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔گھرکا کام کرکے اپنا گذارہ کرنے وا لی غریب ویمل کی بیٹی یوگیتاکی جان بھلا کس اہمیت کی حامل ہے ؟ اگر خدانخواستہ و ہ کسی بارسوخ آدمی کی بیٹی ہوتی تب بھی کیا ان سب کا یہی رویہ ہوتا؟ پولس نے بڑے وثوق سے اخباری کانفرنس میں کہہ دیا یہ محض حادثہ ہے۔ کیا ۷سال کی بچی کا چند گھنٹوں کے اندر گاڑی میں بند ہو جانے سے دم گھٹ سکتا ہے؟ کیا یہ گاڑی ائیرٹائٹ ہے؟ کیا محکمئہ پولس ساری دنیا کو اپنی طرح بالکل ہی بے وقوف سمجھتا ہے؟ ناگپور کی ممبئی بنچ نے پولس کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور کہا پولس بلاوجہ کی بیان بازی کرنے کے بجائے تفتیش پر توجہ دے۔پولس نے اپنے شروع کے بیان میں کہا تھا لاش پر زخموں کا کوئی نشان نہیں پایا گیا لیکن بعد میں یہ تسلیم کیا کہ یوگیتا کے چہرے اور ران پر زخم تھے اس کے ناک سے خون بہہ رہا تھامنہ کھلا ہوا تھااور اندرونی لباس پر خون کے دھبہ بھی تھے۔ پہلے پہل اس معاملہ کو محض ایک حادثہ قرار دینے والی پولس نے عدالت کے دبائو میں آکر مجبوراً کسی نا معلوم فرد کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کرلیا۔

عدالت نے چابی کے معاملے کی بھی کرید کی جس سے معاملہ مزید الجھ گیا۔ عدالت نے پوچھا گاڑی لاک کیوں نہیں کی گئی ؟جواب تھاتالہ خراب تھا اگر ایسا تھا وہ بند کیسے ہو گئی ؟جواب تھا چائلڈ لاک لگ گیا اور چابی سنتری کے پاس تھی۔ جب عدالت نے استفسار کیا کہ گاڑی کی دوسری چابی بھی تو ہو تی ہے وہ کہاں تھی ؟اس سوال کا کوئی جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ بار بار فورینسک رپورٹ اور عصمت دری نہیں ہوئی یہ بات دوہرائی جاتی رہی لیکن یہ معاملہ صرف عصمت کا نہیں موت کا ہے اسے پولس بھول گئی۔سارے شواہد گواہی دے رہے ہیں کہ مقامی انتظامیہ نتن گڈکری کی جانب جھکا ہوا ہے یا بکا ہوا ہے۔اس لئے معاملے کی سی بی آئی انکوائری ضروری جس سے نتن گڈکری گھبرا رہے ہیں اس لیے کہ پدم سنگھ کا حشر ان کے سامنے ہے۔

کانگریس اور بی جے پی کے مقابلے کمیونسٹ اپنے آپ کو بڑا پارسا ظاہر کرتے ہیں۔ان کا دعویٰ تھا کہ بدعنوانی کا کوئی الزام آج تک ان کے کسی رہنما پر نہیں لگا لیکن اب یہ بات بھی دعویٰ فردا بن گئی۔ فی الحال کیرالا میں سی پی ایم کے سربراہ وجین۰۰۳ کروڈ روپئے کی رشوت کے الزام میں الجھے ہوے ہیںلیکن اس سارے معاملہ میں پارٹی کے رویہ نے برسوں کی بنی بنائی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔۹۹۹۱÷ میں پی وجین وزیر بجلی ہوا کرتے تھے اور اسوقت کینڈا کی لیولین نامی کمپنی کو تین پن بجلی کارخانوں کے درستگی کاٹھیکہ دیا گیا تھا جس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی سامنے آئی۔فی الحال سی بی آئی اس کی تحقیقات کر رہی ہے اس سلسلے میں اس نے وجین کو تفتیش کے دائرے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ چونکہ کیرالہ میں کمیونسٹ محاذ کی حکومت ہے اس نے خود اپنی پولس کی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوے فیصلہ کیا کہ وجین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں اسلئے ان سے تفتیش نہ کی جائے۔ریاستی گورنر نے اس سفارش کو ٹھکرا دیا اورفردجرم داخل کرنے کی اجازت دے دی۔ گورنر کے اس فیصلہ کو سی پی ایم نے جمہوریت کا قتل اور مرکزی حکومت کی سازش قرار دیا حالانکہ ریاستی حکومت کے فیصلہ کو بھی سیاسی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وجین بے قصور ہیں تو سی پی ایم تفتیش سے کیوں خوف کھاتی ہے؟وجین کے معاملے میں سی پی ایم کے لوگوں نے راج بھون کے سامنے مظاہرہ کیا گورنر کا پتلا جلایا۔گور نر کو فون پر جان سے مارنے کی دھمکی موصول ہوئی۔ہڑتال کا اعلان کیا گیا لیکن یہ پتہ چلنے پر کہ اس پر پابندی ہے مظاہرے کوسیاہ دن میں تبدیل کر دیا گیا۔توڑ پھوڑ ،راستہ روکو،سرکاری گاڑیاں نذر آتش وغیرہ سب کچھ ہوا جو ہڑتال میںہوتا ہے لیکن ہڑتال نہیں ہوئی سرکار اپنی ہے پھر خوف کس بات کا؟ لیکن اب بات اور آگے بڑھ گئی ہے خود اپنے ہی وزیر اعلیٰ اچھوت آنند کو پارٹی میں اچھوت بنا دیا گیا ہے اس کے خلاف پوسٹر لگ رہے ہیں۔استعفیٰ مانگا جا رہا ہے۔وجین کے حامی وزرائ استعفیٰ کی دھمکی دے رہے ہیں اور یہ سب تماشہ ایک بدعنوان سیاستدان کوبچانے کی خاطرہو رہا ہے کیا یہ شرمناک بات نہیں ہے؟

قتل و غارتگری کے معاملے میں بھی اگر دیکھا جائے تو کمیونسٹ کسی سے کم نہیں ہیں۔تپاسی ملک معاملہ میں گذشتہ سال سی پی ایم رہنما سرحد دتا اور ان کے د ست راست دیبو ملک کو عمر قید کی سزا ہو چکی ہے ۸۱سالہ تپاسی کی قصور یہ تھا کہ اس نے ٹاٹا کی نانو فیکٹری کے خلاف اپنے حق کی خاطرغریب کسانوں کو احتجاج کرنے کی دعوت دی تھی اس بیچاری کو اغوائ کیا گیا عصمت دری کی گئی اور جلا کر اد ھ جلی لاش کو کارخانہ کے احاطہ میں دفن کر دیا گیاجہاں چار ہزار پولس والے تعینات تھے۔اس بے ضمیر دستہ میںسے کوئی ایک سپاہی بھی مظلومہ کی مدد کیلئے آگے نہیںآیا سب کے سب خاموش تماشائی بنے اس ظلم عظیم کے حصہ دار بن گئے جسکو سرخ پرچم تلے سرمایہ داروں کی مفاد کی خاطرانجام دیا گیا تھا لیکن سی پی ایم نے اس سے کوئی سبق نہیں لیابولپور حلقہ انتخاب سے رام چندر ڈوم کوپارلیمان کیلئے نامزد کیاگیا جس پر بندھو مسرا نامی کانگریسی کارکن کے قتل کا الزام ہے مقامی عدالت سے تو اس نے اپنے آپ کو بری کروا لیا لیکن ہائی کورٹ نے اس فیصلہ کو رد کرتے ہوے دوبارہ مقدمہ کی سماعت کی آغازکیا ہے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مندرجہ بالہ لوگوں کی پارٹی نے زوروشور سے حمایت جاری رکھی اور عوام جسے جمہوری نظام میں نعوذباللہ مختارکل معبود کا درجہ حاصل ہے اس نے بھی پانچ لاکھ انتیس ہزار ووٹ دے کر ایک لاکھ ستائیس ہزار ووٹوں کے فرق سے ڈوم کو کامیابی سے ہمکنار کیا ویسے یہ شرف کانگریس کو حاصل ہے کہ گذشتہ انتخاب میں سب سے زیادہ اور سنگین قسم کے سولہ مقدمات کا ملزم پوربندر سے اس کا امیدوارتھا اسے بھی عوام نے مایوس نہیں کیا وٹھل بھائی رڈادیہ تین لاکھ انتیس ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گیا۔ ۹۰۰۲÷ میںکامیاب ہونے والے۳۴۵ ممبران پارلیمان میں سے ۳۵۱ کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیںان میں فطری طور پر بی جے پی سر فہرست ہے جس کے ۲۴ ملزم ہیں لیکن کانگریس بھی ۱۴داغدارممبران کے ساتھ نہایت قریب ہے۔تیسرے اور چوتھے محاذ نے بھی اپنا حصہ بٹاتے ہوئے ۰۷ ایسے ارکان کو ملک کا مقدر سنوارنے کیلئے روانہ کیا ہے۔بی جے پی کے ۹۱ اور کانگریس کے ۲۱ پر قتل وڈاکہ زنی جیسے سنگین الزامات ہیں۔ ملزم ممبران کی تعداد میں اس بار۰۲ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔لیکن یہ اضافہ دولت کی ریل پیل کے مقابلے میں بہت کم ہے گذشتہ پارلیمان میں کروڈ پتی حضرات صرف ۴۵۱ تھے لیکن اسبار یہ تعداد ۰۰۳ تک پہونچ گئی ہے جمہوریت کا ایک احسان عظیم یہ بھی ہے کہ اس نے عوام کو نہ صحیح تو کم ازکم ان کے نمائندوں کو خوشحال ضرور بنا دیا ہے اور عدالت میں بڑی حد تک انہیںتحفظ بھی فراہم کردیتی ہے۔

قومی سیاست میں موجود سیاسی جماعتوں کو تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ درمیانی،دایاں اور بایاں محاذ لیکن جب انہیں قریب سے دیکھا جائے تو اسکول کے زمانے کا ایک تجربہ یاد آتا ہے۔طبیعات کی تجربہ گاہ میں ایک چرخی ہوا کرتی تھی جس پر قوس قزح کے سات رنگ ہوتے تھے جب اسے زور سے گھمایا جاتا تو سب رنگ ایک دوسرے میں مل کر یک رنگ ہو جاتے اور جب چرخی رکتی تو پھر وہ پہلے کی طرح جدا جدا ہوجاتے۔ہماری سیاست کا یہی حال ہے اقتدار سے محروم ہر کسی کا جدا گانہ رنگ ہوتاہے لیکن اقتدار کا حصول اگرچہ پوری طرح اس فرق نہیں بھی مٹاتا ہے تو کم ضرور کردیتا ہے۔ ایک اور تجربہ مثلث نما منشور کا ہوتا تھا جسمیں سے گزرنے والے روشنی کی شعاع وقتی طور پر سات رنگوں میں تقسیم ہو جاتی تھی لیکن منشور کے ہٹتے ہی پھرقوس قزح غائب اور سارے رنگ ایک دوسرے میں رل مل جاتے تھے۔ہمارے انتخابات کا یہی حال ہے کہ عارضی طور پر ہر ایک کاجداگانہ تشخص قائم ہوجاتاہے لیکن اس کیفیت کو دوام حاصل نہیں ہوتااس لیے کہ فرق صرف ظاہرداری کی حد تک ہے باطن سب کا یکساں ہی ہے۔ان جماعتوں کے باطن میں پائی جانے والی نظریاتی روح نکل چکی ہے اب ان کی حالت بے جان لاشوں کی سی ہے جس میں بدعنوانی کے کیڑے پڑے ہوے ہیںاور ان سے جرائم کا تعفن اٹھ رہا ہے۔مسئلہ کم سے کم بدبو دار لاش پر راضی ہونے کا نہیں ہے بلکہ ان کے اندر پھر سے روح پھونکنے کا ہے۔یہ صحیح ہے کہ محض جسم اور روح کا امتزاج کافی نہیں ہوتا روح کے اندر تقویٰ بھی ضروری ہے لیکن بے روح لاش میں تقویٰ کاپنپ نہیں سکتا یہ بھی ایک حقیقت ہے ۔مردہ سیاسی ڈھانچہ میں روح پھونکنا اگرچہ کہ مشکل کام ہے پھر بھی ہمیں کرنا پڑیگا اس لئے کہ یہ ہمارا فرض منصبی ہے۔ورنہ ان لاشوں کو ڈھوتے ڈھوتے ہم خود ایک چلتی پھرتی لاش بن جائیں گے۔ ہمارے جسم مفلوج ہو جائیںگے ہماری روح مفقود ہوجائے گی اورہمارا تقویٰ بے سودہو جائیگا۔ بقول شاعر مشرق اقبال(رح) ò

ا س کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

Share this
No votes yet

Comments

Onweddingd2f's picture

short prom dresses-

When on a beach,wedding ribbons and sashes wedding ribbons and sashes, weather is just about the only thing that can ruin your well laid plans. Just remember to have an alternate plan and things will be good. Another consideration is of course the tide. You need to check if the tide is incoming or outgoing. On a sea shore wedding,discount headpieces discount headpieces, it can make a lot of difference from the arrangements to the timing of the ceremony. In the different season,cheap beach weddings cheap beach weddings, you could get the different discount. Opportunity seldom knocks twice,cheap bridesmaid dresses under 50 cheap bridesmaid dresses under 50! Just move your finger,short prom dresses short prom dresses, and you will get the most beautiful silk wedding dress wedding dress,affordable wedding dresses online affordable wedding dresses online! Talking to the silk wedding dresses wedding dresses here we will also introduce some uses of the silk.Related Article: