محبت از فرخ نور

Farrukh Noor's picture

محبت اعتماد سے نہیں، اعتماد محبت سے ہوتا ہے۔
محبت ہمیں لوگوں سے جُدا نہیں کرتی۔ ہمیں لوگوں سے جوڑتی ہے۔ ایک محبت ہمارا تعلق اللہ سے جوڑتی ہے۔ جو عشق کہلاتا ہے۔ محبت ہی وفا دیتی ہے اور محبت ہی یقین دیتی ہے۔ محبت ایک ایسا پھول ہے جسکی خوشبو ماحول کو معطر کردیتی ہے۔ محبت یہ نہیں کہ مزاج میں تلخی پیدا کرے بلکہ یہ تو تشنگی کو دور کرتی ہے۔

مانوسیت اُنس پیدا کرتی ہے۔ یہیں سے اُلفت؛ چاہت کا احساس پیار کی صورت میں دِلاتی ہے۔ محبت حب ہوتی ہے، جو محب کی وفا ہوتی ہے۔ عشق تو انسان کو ذات کی فنا سے معرفت کا مقام دِلاتا ہے۔ دوستی ہمیں یارانہ سکھاتی ہے۔ یہ تمام رفاقتیں لُطف و کرم کا ساگر ہیں۔ یہی پریم ہے۔ اسی پریت ( عاجزی )میں کوئی پریتم (سب سے زیادہ پیارا ) ہوتا ہے تو کہیں منزل کی تلاش ماسواء سے ماوراء تک لیجاتی ہے۔

سب کے اپنے انداز ہیں۔کوئی حمد لکھتا ہے تو کوئی مناجات، نعت ہو یا مرثیہ، کلام لکھے یا سلام بھیجے۔ اللہ نے بندے کو محبت کرنےکا سلیقہ سکھا دیا۔ بندہ جب اللہ سے اظہار کرتا ہے تو عاجزی اختیار کرتا ہے۔ منکسر المزاج ہو جاتا ہے۔ مزاج میں خاموشی ہو جاتی ہے۔ جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لوگوں میں نمائش کرتے ہیں۔ وُہ محبت نہیں کیا کرتے۔ وُہ دنیا کو دِکھاوا دِکھاتے ہیں۔ جسکو حقیقی محبت حاصل ہوجائے وُہ محبت کا اظہار خاموشی میں رکھتا ہے۔ عاشق اور معشوق دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی، ایک کا غم دوسرے کا غم ہوتا ہے۔ جو محبت دل میں ہوتی ہے۔ وُہ کہہ دینے سے نہیں بڑھتی، وُہ توجہ دینے سے بڑھتی ہے۔

جب تک ہم کسی کو بڑا تسلیم نہیں کرتے، ہم محبت کر نہیں سکتے۔ ایک نقطہ پر توجہ ہمیں محبت سکھاتی ہے۔ رہنما قوم کا باپ ہوتا ہے۔ وُہ عوام میں محبت بانٹتا ہے۔ سگی اُولاد کو اصول پر قربان کرتا ہے۔ وُہ مخلص ہوتا ہے۔ خلوص معاشرے کو ہم آہنگی سے جوڑتا ہے۔ آج ہمیں حقیقی محبت کی ضرورت ہے۔ افسوس! ہم لالچی ہیں، محبت لالچ کا علاج ہے۔ آپ محبت کیجیئے، معاشرے میں محبت پیدا ہو جائے گی تو قائدین پیدا ہونے لگیں گے۔ جو اپنا ایک متفقہ رہنما بھی تسلیم کر لیں گے۔ کامیاب قوم کی طاقت محبت میں ہے۔

دریائوں کے پانی خشک ہو رہے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ بہاولپور کے دریائے ہاکرہ (ڈھائی سو سال پہلے یہ دریا ختم ہو گیا تھا۔) کی طرح یہ زمین خشک ہو کر بنجر ہو جائےگی۔اس بیماری کا علاج ہے۔ دریائوں کے کنارے درختوں کے جنگل لگا دیجئیے دریا روانی سے بہہ پڑیں گی۔ سبزے پر بارش ہوتی ہے۔ ہر جان کی خوراک کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ پتھر درخت کو راستہ دے سکتا ہے تو اللہ کے حکم سے پانی بھی میسر آئے گا۔ آپ درخت لگائیں گے۔ اِن پودوں کی محبت سے پرورش کریں گے اور اللہ اپنی رحمت فرمائےگا۔ ذرا سوچئیں! محبت کا یہ چھوٹا سا عمل ہم میں الفت کے جذبات تو پیدا کرتا ہی ہے۔ بےشمار ماحولیاتی مسائل بھی حل کرتا ہے۔

محبت اندھی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ یوں بھی ہوتے ہیں کہ محبت کرنے والا بخوبی جانتا ہے کہ کون اُس سے مفاد کا تعلق رکھتا ہے اور کون خلوص کے جذبات رکھتا ہے۔ وُہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی محبت کرتا ہے۔ لوگ اُسے چھوڑ جاتے ہیں، بھول جاتے ہیں، نظر انداز کر جاتے ہیں۔ مگر وُہ خاموش رہتا ہے۔ وُہ ایک خوبصورت تناور درخت ہوتا ہے۔ جب لوگ مایوسی کے اندھیروں کا شکار ہوتے ہیں، ناکام ہوتے ہیں تو پھر اُس سے رجوع کرتے ہیں۔ وُہ نظرانداز نہیں کرتا، اُس سے ہو سکے تو اللہ کی مرضی سے اگلے کی مطلوبہ ضرورت پوری کر دیتا ہے۔اُسکی محبت اُن سےکسی مفاد کی نہیں ہوتی بلکہ ذات کی تربیت ہوتی ہے، محبت برداشت سکھاتی ہے۔ جس نے برداشت پیدا کر لی، اُس نےزندگی سہل کر لی۔ جو لوگ رابطہ نہیں رکھتے؛ محب اُنکی بھی پروا کرتا ہے، کامیابی کے لیئے بھی دُعا کرتا ہے۔ محبت کرنے والا ایک روشن چراغ ہوتا ہے۔ اپنے دِل میں کئی کہانیاں لیئے ہوتا ہے۔ لوگوں سے مایوس کسی بھی حال نہیں ہوتا۔ محبت اُمید کی کِرن ہوتی ہے یہی اس کا اقبال ہے مگر آج یہ تصور خاصا سحرزدہ ہے۔ پریوگ پرتاپ (شاندار عمل کی مثال) یہی ہے کہ محبت کرنے والا کسی سے جواب کی توقع نہیں رکھتا۔ وُہ بغیر جواب کے بھی رابطہ رکھتا ہے۔ چند لوگ اِس رابطہ کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں، پریشان ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ رابطہ کیوں؟ ایک ہی نگاہ پڑتی؛ بندے کی اہلیت واضح ہوجاتی ہے۔ یہ نگاہ والا ہی جانتا ہے کہ وُہ قابلیت کیا ہے۔ سینکڑوں لوگوں میں آخر ایک کا انتخاب کیوں ہوتا ہے۔ وُہ قابل ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کی خامیوں کو درگزر کرتے ہیں۔ عفو کا درس دیتے ہیں۔

محبت ایک روحانی عمل ہے۔ جو اخلاقیات کی تعلیم دیتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق اِنسان کو محبت کےعمل سے روشناس کرواتا ہے۔ محبت یہ ہے کہ ہر فرد کو اُس کےمرتبہ کے اعتبار سے اُسکا مقام دیا جائے۔ بڑوں کا احترام کرو، چھوٹوں پر شفقت کرو ہم مرتبہ افراد سے اچھا سلوک کرو یہی مقام محبت ہے۔

”بڑوں سےمحبت کرنا یہ ہے کہ اُنکو تسلیم کرو درجہ بدرجہ۔ ہم اللہ اور رسول پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہوئے اُنکو تسلیم کرتے ہیں۔ یوں دیگر تمام انبیاکرام، صحابہ کرام، بزرگ ہستیوں، معاشرہ اور خاندان کے بزرگوں، بڑوں اور والدین کا احترام درجہ کی ترتیب سے کرتے ہیں۔ نہ کسی کا مقام دوسروں سے زیادہ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کا کم۔ جو جس کا حق ہے وُہ اُسکا مقام ہے۔ پیرصاحب کی ہم بیعت کرتے ہوئے اُنکو اپنا بڑا تسلیم کرتے ہیں۔ اُن سے وعدہ کرتے ہیں کہ اُنکی رہنمائی میں رہتے ہوئے اللہ نے جو احکامات اور تعلیمات دی ہیں اُنکی پیروی کریں گے، والدین کے حکم کی بھی فرمانبرداری سے ہم اطاعت کرتے ہیں۔ چھوٹوں سے محبت کا عملی نمونہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےشفقت میں فرما دیا، کمزوروں کی مدد کرنا۔ ہم درجہ افراد سے محبت مساوات اختیار کر لینے میں ہیں۔ حدیث مبارک ہے ”دوسروں کے لیئے وہی پسند کرو، جو تم اپنے لیئے پسند کرتے ہو۔“ صلہئِ رحمی دوسروں کے لیئے نیک جذبات رکھنا۔ دُنیا میں نسل اِنسانی کے مابین محبت کی عظیم ترین مثال مواخات انصار اور مہاجرین کا آپس میں بھائی بھائی بن کر تمام اثاثوں کی مساوی تقسیم، جنگ میں ایک سپاہی زخمی ہے مگر وُہ چاہتا ہے دوسرا زخمی پہلے پانی پیئے۔ یہ ہم درجہ اور ہم مرتبہ افراد کی محبت مساوات کی بنیاد پر صلہئِ رحمی کا عملی نمونہ تھی۔“

”دین اسلام مکمل طور پر ایک عملی محبت ہے۔ ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئےاللہ اور رسول کریم سے محبت کا اقرار کرتے ہیں۔ نماز میں امام صاحب کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ دوران جماعت مساوات اختیار کرتے ہوئےخلا کو پُر کرتے ہیں، اتحاد قائم ہوتا ہے۔ خلا پُر کرنےسے نفرت دور ہوتی ہے۔ جب نفرت نہ رہے تو معاشرہ محبت کا عملی نمونہ بنتا ہے۔ دوران نماز ہر فرد اللہ کی جانب محبت سے لَو لگانےکی کوشش کرتا ہے۔ بیک وقت ہر فرد انفرادی اور اجتماعی محبت کے احساس سےگزرتے ہیں۔ایک جانب اللہ سے محبت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب انسانوں سے محبت بڑھ رہی ہے۔ روزہ ہمیں دوسروں کا احساس دِلاتے ہوئے؛ برداشت پیدا کرتا ہے۔ ہوس، لالچ اور بغض کو دور کرنےکی تربیت ہے۔ زکوٰۃ اللہ کی راہ میں ضرورتمند، محتاج اور کمزور افراد کو دیتے ہیں۔ اپنی ذات کی نمائش کو ختم کر کے اللہ کی راہ میں یہ فریضہ عاجزی سے ادا کرتے ہیں۔ جب ہم انسانیت سےعملی محبت کرنا سیکھ جاتے ہیں تو اللہ ہمیں حج کے ذریعہ سے اپنی قربت کا احساس دِلاتا ہے۔ ہمارے دِلوں کو منور کرتا ہے، ہماری ذات میں مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے، ہماری کوتاہیوں کو معاف کرتا ہے۔ سوچیئے! دین اسلام ہمیں محبت کرنا سِکھاتا ہے۔ محبت کے ہر درجہ کی عملی تربیت بھی کرواتا ہے۔ ذرا سمجھیئے محبت حقیقتاً کیا ہے؟ ایک پاکیزہ عمل، جو دِل میں خدا کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ “

اللہ نے عید کے دِن کو محبت کا دِن بنایا ہے۔ اُس روز ہر فرد خوش اسلوبی سے پیش آتا ہے۔ ماتھے پر شکن نہ لائے۔ یوں ہم کم از کم سال میں عید کو محبت کا دِن بنا سکتے ہیں۔ جو خوشیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ ہم نے بھی اللہ کے مقابلے پر محبت کا ایک دِن مقرر کیا ہے۔ خود دیکھ لیجئیےاللہ کے مقرر کردہ دن اور ہمارے قائم کردہ دِن۔ ہماری نفسیات پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟ ہم اپنےاندر کیا محسوس کرتے ہیں؟ عید کا دِن ہمارے اندر کچھ خاص سکون لاتا ہے۔ مگر ہمار ا دِن بے چینی کے سواء کچھ نہیں دے پا رہا ہوتا۔

محبت نفسانی خواہشات سے نہیں نہ ہی ذاتی تسکین سے ہے۔ بلکہ دوسروں کی تسکین میں اپنا سکون ہے، محبت دوسرے کا خیال کرنے سے ہوتی ہے۔ وُہ ایک رضا کی توجہ ہوتی ہے۔ بےشمار نوجوان کہتے ہیں اُنکو ایک خواب کی طرح محبت ہوگئی ۔ میں لمحہ بھر فلاں کےبغیر رہ نہیں سکتا۔ عموماً یہ علامات I am in Love کا عروج نہیں ہوتی۔ یہ اُسکا زوال ہوتی ہے۔ جب یوں کوئی شدت اختیار کر جائے۔ معاملہ مادی زندگی کا ہو تو وُہ شدت ضرورت بن جاتی ہے۔ ضرورت پوری ہو جائے تو وُہ بیزار لگتی ہے۔ اکثر ایسی انتہائیں ناکامیوں پر ختم ہوتی ہے۔ روحانی عمل میں محبت کی انتہائیں ہمیں عرفان کا مقام دِلاتی ہیں۔
خط میں تحریر الفاظ محبت کے احساس سے بھرے ہوتے ہیں۔ کسی کا خلوص سے ملنا بھی محبت ہے، پودے کو پانی دینا، درخت لگانا، کسی کو مسکرا کر دیکھ لینا، کسی ضرورتمند کی حاجت پوری کر دینا محبت ہے۔ جو شخص محبت کرتا ہے۔ اُس میں خلوص ہوتا ہے۔ اُس کا خلوص کسی ایک فرد کے لیئے نہیں تمام انسانیت کے لیئے ہوتا ہے۔ محبت چاہت ہے۔ مگر اُس میں کامیابی یا ناکامی کا کوئی تصور نہیں۔ وُہ ایک کوشش ہے۔ جسکا نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔

محبت دِل سے ہوتی ہے دِل احساس سے ہوتا ہے اور احساس انسانیت سے ہوتا ہے۔ جب احساس ہی مر جائے تو محبت وجود کھو دیتی ہے۔ ہمیں کسی کے جذبات کا قتل بھی نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اُوقات کوئی اپنے جذبات کے تحت ایک معاملہ محبت کے عمل سے کرتا ہے تو کسی کی بری بات، مغرور پن سے بھر پور لہجہ کسی زندہ انسان کے احساس کا قتل کرتا ہے۔ تکبر سے جذبات قتل ہو سکتے ہیں۔ جس سے دِل بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ ذہن بےچین رہتے ہیں۔

یہ ایک پھول کی مانند ہے۔ جسکی خوشبو ماحول کو معطر کر رہی ہے۔ مگر وُہ خود کانٹوں کے دُکھوں سے بھرا پڑا ہے۔ دُکھ ایک ایسا احساس ہے۔ جو ہمارے اندر کے حساس احساس کو جگا دیتا ہے۔ جو ہمیں انسانیت سے محبت کرنے کا عملی راستہ بتلاتا ہے۔ ہمیں direction دیتا ہے۔ ہر بڑے انسان کو ایک غم ہوتا ہے۔ غم جتنا بڑا ہوتا ہے مقصد بھی اُس قدر بڑا ہوجاتا ہے۔ اقبال کو بھی قوم اور اُمت کا غم تھا (غالباً واصف صاحب)۔ اُسکی محبت کی dimension بھی اُس قدر وسیع ہے۔

ہم دُنیا کو محبت کا گہوارہ بنا سکتے ہیں کیونکہ محبت اختلاف کو ختم کرتی ہے، ایک دوسرے کا احساس کرنا سکھاتی ہے، محبت تکلیف محسوس کرنے سے بھی ہوتی ہے۔ محبت ذات کی تکمیل نہیں ہوتی بلکہ ذات کی تشکیل ہوتی ہے۔ ذات کی تکمیل محبت بانٹنے سےشروع ہوتی ہے۔ بانٹنا ایک پُر خلوص معاملہ ہے۔ جسکی کوئی قیمت نہیں۔ دُکھ بانٹ لینا، دُکھ سن لینا، اچھا مشورہ دینا محبت ہی ہے۔ محبت اللہ کی جانب سے رحمت ہوتی ہے۔ محبت ایک ایسا عمل ہے۔ جو جتنی بانٹی جائے، بڑھتی ہے۔ اچھےعمل کی ایک فطرت ہوتی ہے۔ وُہ بانٹنے سے پھیلتا ہے، قلیل ہو جانے کا تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ محبت ہر اچھےعمل کا لازمی جزو ہے۔ انسان اِس کےمرہون منت آگے بڑھتا ہے، ترقی کرتا ہے۔ کامیاب انسان بنتا ہے۔ انسان کی مثبت سوچ کا وجود محبت کو دِل میں پیدا کرنے سے ہوتا ہے۔ اے اللہ ہمیں انسانوں سے محبت کرنےوالا بنا۔(آمین)
(فرخ)

Share this
No votes yet

Comments

arifmahi's picture

محبت کے دم سے یہ دنیا حسین ہے

بھائی فرخ
آپ کا آرٹیکل بے حد اچھا اور پر اعتماد ہے جس میں آپ نے محبت کی جزئیات بیان کی ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محبت کے دم سے یہ دنیا حسین ہے محبت انسانوں کو قریب لاتی ہے جیسا کہ آپ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے محبت سے انسان آسمان کی اتھاہ بلندیوں کو چھو لیتا ہے محبت ایک جذبہ ہے جو انسانوں اور حیوانوں میں بھی موجود ہے اللہ تعالٰی نے انسان کو پیدا کیا یہ اللہ کی محبت کا اظہار ہے مجھے آپ کا آرٹیکل بے حد پسند آیا