مجھے فخر ہے!

Submitted by meem on Sat, 11/22/2008 - 08:01

فیکا اور میرا ساتھ بہت پرانا ہے کالج کے زمانے کا،فرق صر ف یہ ہے کہ میں کالج کے اندر اور وہ باہر ہوتا تھا،ٹھیلہ تھا اس کا بن کباب،
نہیں نہیں میرا آج کا ٹاپک فیکا نہیں ہے۔آج اس سے ملاقات ہوئی،کہنے لگا !مجھے فخر ہے،میں نے سوچا ایک ٹھیلے والے کو آخر کس بات پر فخر ہوسکتا ہے،کہیں اس کا کوئی انعام نکلا ہے یا بچہ پاس ہوا ہے یہی سوال اسکے سامنے بھی رکھا،
اس نے تھری کاسل کا ایک سوٹا لگایا،جی ہاں یہ لوگ سوٹا ہی لگاتے ہیں،اور مجھ کو ایسی نظروں سے دیکھا‘جیسے کوئی عالم کسی جاہل کو،اور پھر سے سچ میں ڈوب گیا اور کہا! مجھے فخر ہے!
اب کے میری جھنجلاہٹ عالم ہی کچھ اور تھا،میری زبان فوراً غیر پارلیمانی ہوگئی،
ابے کس بات پر فخر ہے؟
کس پر فخر ہے؟
کس لیئے فخر ہے؟
کیوں فخر ہے؟
اور کون ہے یہ فخر؟
اس نے تاسف سے مجھے دیکھا۔اور کسی دانشور کی طرح پھر ایک سوٹا لگایا۔تھوڑی دیر خلا میں دیکھتا رہا۔پھر ناک سکوڑ کر بولا!
بھئی مجھے فخر ہے کہ ہمارے محترم صدر صاحب ساٹھ دن کی حکومت میں 30 دن ملک سے باہر رہے،پتا نہیں 30 دن بھی کیسے رہ گئے۔
200 لوگوں کو اپنی جیب سے عمرہ کروایا،ہم کو کیا کہ بعد میں یہ بھی شوکت عزیز کی طرح کوئی پبلیسٹی اسٹنٹ نکلے۔
ایک وفاقی وزیر کے بیٹے کی شادی پر پانچ کروڑ کا خرچہ آیا،تو کیا ہوا جو آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے۔
مجھے فخر ہے سرکاری نرخ کے باوجود آٹا مہنگا خرید رہے ہیں،اب تو سوئی گیس بھی مہنگی ہونے جارہی ہے،اب چاہے سارے ماں باپ اپنے بچے ایدھی صاحب کے حولے کر آئیں۔
سزائے موت کے خاتمے کی تجویز زیر غور ہے،چاہے کوئی آئے کچھ بھی کرے ہمارے بچے بوڑھے اور جوان مار دے،مجھے فخر ہے اس کے بعد ہم بھی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہونے لگیں گے۔
مجھے فخر ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کے بچے غیر ملکی یونیورسٹیز میں پڑھتے ہیں،چاہے یہاں اسکالر شپ کا پروگرام فنڈز کی کمی کی وجہ سے روک دیا جائے۔
مجھے فخر ہے!
بس کرو فیکے کیا دماغ خراب کر رکھا ہے اپنا اور میرا بھی،میں نے اپنے ماتھے پر آیا پسینہ پونچھا۔چپ چاپ اپنا بن کباب بیچو اور چین و سکون کی زندگی جیئو اور جینے دو،تم ایک ٹھیلے والے ہو وہی رہو انٹیلیکچول بننے کی کوشش مت کرو وہ ہمارے پاس بہت ہیں،تھوک کے حساب سے،میری بڑبڑاہٹ جاری رہی اور بے چارہ فیکا میرا منہ دیکھ ک رہ گیا۔
آپ بتائے ایک ٹھیلے والے کو کیا حق کہ ایک سوئی ہوئی قوم کا اطمینان اور سکون غارت کرے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......