ماحولیاتی تبدیلیاں: سنجیدگی کا وقت

Submitted by arifmahi on Sun, 03/16/2008 - 20:21

اولیور ٹکّل کا کہنا ہے کہ: ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں اب تک کی مستند ترین رپورٹ شائع ہو چکی ہے اور دنیا کے لیے درجۂ حرارت کو بڑھانے والی گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ وہ تمام قوموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ’کیوٹو دو‘ کے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل تیار کیا جائے جو ’سنگین و منفی حالات‘ کے سدباب کر سکنے والے ’بے باک اقدام‘ پر مشتمل ہو۔
’بین الحکومتی پینل آن کلائمنٹ چینج یا ماحولیاتی تبدیلیوں کا عالمی پینل، آئی پی سی سی کی چوتھی جائزہ رپورٹ کے مطابق زمین کا اوسط درجۂ حرارت یقینی طور پر دو سے چار اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ یا تین اعشاریہ چھ سے آٹھ اعشاریہ ایک فارن ہائٹ تک بڑھے گا۔

بھلا ہو زمین کے ماحولیاتی نظام سے ملنے والے ان مثبت پیغامات کا جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اضافہ چھ درجے سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ سکتا ہے اور اگر درجۂ حرارت میں یہ اضافہ اس پیمانے کے نصف تک بھی پہنچ گیا تو بھی اس کا مطلب ہو گا ایک ہولناک تباہی۔

اِس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہو جائے گی اور سیلابوں، سمندری طوفانوں اور خشک سالیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں ملین لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور یہ کرۂ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اِس نے پینسٹھ ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈینوساروں کا صفایا ہو گیا تھا۔

ایک دکھائی دیتا خطرہ
اگر درجۂ حرارت میں اضافہ اندازوں کی نسبت آدھا بھی ہوا تو یہ کرۂ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اِس نے پینسٹھ ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈینوساروں کا صفایا ہو گیا تھا

تاہم ابھی یہ صورت بے مداوا نہیں ہے۔ 1997 میں دنیا نے اس سلسلے میں ایک اہم قدم اٹھایا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے ’کیوٹو اوّل معاہدے کا مسودہ‘ یعنی کیوٹو پروٹوکول ترتیب دیا۔

لیکن تا وقت کیوٹو پروٹو کول کی حیثیت محض علامتی ہے اور صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کرۂ ارض کے مستقبل کو بچانے کے لیے ایسے اجتماعی اقدام کر سکتی ہے جو مستقبل میں کیے جا سکنے والے اقدام کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔

تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج کو روکنے پر اس کا اثر غیر یقینی اور انتہائی کم ثابت ہوا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج اسی انداز اور رفتار سے جاری و ساری ہے جیسے کہ میں کیوٹو پروٹوکول سے پہلے 1997 میں تھا۔

بہر صورت 2012 کیوٹو پروٹوکول اپنی مدت ختم کر رہا ہے، تو کیا ہوا مجھے یقین ہے کہ اس کی جگہ ایک ایسے نئے پرٹوکول کی ضرورت ہے جو اپنے دائرۂ عمل اور توقعات میں موجودہ پروٹوکول کی نسبت کہیں دور رس ہو۔

اُس پروٹوکول کو حقیقی معنوں میں عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج میں کمی کا باعث بننا ہو گا۔ اس کا لائحۂ عمل ایسا ہونا چاہیے کہ تمام ملکوں کو اس طرح اپنے دائرۂ عمل میں لا سکے کہ ان کی شمولیت مؤثر و مساوی ہو۔

کیوٹو اوّل جیسا بھی ہے 2012 میں ختم ہو جائے گا لیکن اس کے بعد کیا ہو گا۔ اس کا جواب اب تک سامنے نہیں آ سکا

اس پروٹوکول کو قدرتی ایندھنوں سے بہت آگے نکل آنے والے دنیا کے لیے ترقی کے ایک ایسے نئے راستے کی نشاندھی کرنی چاہیے جو ان تمام ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے اثرات کا مداوا تجویز کرنا چاہیے جن فرار اس وقت بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے اور جو ان ملکوں کے غیر متناسب طور پر زیادہ متاثر کرتے ہیں جو ان سے نمٹنے کے قابل نہیں۔‘

(اولیور ٹکّل ایک فری لانس صحافی ہیں اور ماحولیاتی معاملات اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......