ماحولیاتی آلودگی تباہی کا پیغام

Submitted by arifmahi on Sun, 03/16/2008 - 20:15

’دنیا ماحولیاتی عدم توازن کا شکار‘

’ کاربن کے اخراج کو پچاس فیصد سے بھی کم کرنے کی ضرورت ہے‘
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں واضح طور پر ماحولیاتی عدم توازن پیدا ہو رہا ہے اور عالمی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بیان زمینی اور خلائی سائنسدانوں کی سب سے بڑی سوسائٹی امریکن جیوفزیکل یونین کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ زمینی ماحول میں آنے والی یہ تبدیلیاں قدرتی نہیں ہیں اور درجۂ حرارت، سمندروں کی سطح اور بارش کی مقدار میں تبدیلیوں کی وجہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا جمع ہونا ہے۔

امریکن جیوفزیکل یونین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کو سنہ2100 تک پچاس فیصد سے بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سنہ 2003 کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکن جیوفزیکل یونین کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلیوں پر اپنی پالیسی رائے ظاہر کی ہے۔

یونین کے بیان کے مطابق دنیا کو آنے والے پچاس برس میں ایک سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دنیا درجہ حرارت میں دو درجہ کا اضافہ نہیں دیکھنا چاہتی تو اس صدی کے آخر تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم از کم پچاس فیصد کم کرنا ہوگا۔

یونین کے مطابق اگر اب بھی کاربن اخراج کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھا لیے جائیں تو یہ بہتر ہوگا ورنہ مستقبل میں انہی اقدامات پر آنے والے اخراجات آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوں گے۔

امریکن جیوفزیکل یونین دنیا کے ایک سو سینتیس ممالک کے پچاس ہزار سائنسدانوں کی یونین ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں منظر عام پر آنے والی نئی رپورٹ نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے قدم اٹھانے کی وجہ فراہم کردی ہے۔
’انٹرگورنرمینٹل پینل آف کلائمٹ چینج (آئی پی سی سی)‘ کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رپوٹ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلے کرنے کے لیے حقیقی اور سستے راستے موجود ہیں۔

انہوں نے اگلے ماہ بالی میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں کوئی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی پی سی سی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی بالکل واضح ہے اور اس کی وجہ سے غیر متوقع اور ناقابل تبدل اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ ان اثرات میں گلیشیئرز کا تیزی سے پھگلنا اور جانداروں کی اقسام کا معدوم ہونا شامل ہے۔

سپین میں ایک ہفتےتک چلنے والی بات چیت کے بعد اقوام متحدہ کے سائنسدانوں کے پینل نے اس رپورٹ کے نکات پر اتفاق کیا جس کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں بڑی تیزی سے زمین ایک گرم دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔

باکیمون کا کہنا تھا: ’ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا‘

رپورٹ کی تیاری کے دوران سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک صدی قبل کی بہ نسبت اس وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پینل کے چیئرمین راجندرا پچوری نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے ہونے والے اثرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا:’اگر ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح اتنی ہی رہے جتنی کے اب ہے تو تحقیق کے مطابق سطح سمندر میں صفر اعشاریہ چار اور ایک اعشاریہ چار میٹر کا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ پانی گرم ہونے سے پھیلتا ہے‘۔

ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اس رپورٹ کا اجراء ولینسیا میں بان کیمون نے کیا۔ بان کیمون نے اس رپورٹ کے اجراء پر آئی پی سی سی اور اس کی تیاری میں شامل سائنسدانوں کو ماحولیات سے متعلق کام کرنے اور ادارے کو امن کا نوبل انعام جیتنے پر مبارکباد دی۔

حقائق جاننے کی مہم کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے حال ہی میں انٹارکیٹیکا اور جنوبی امریکہ کا دورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا :
’ہمارے سیارے کے کئی قیمتی خزانے انسانیت کے ہاتھوں ہی خطرے سے دوچار ہیں۔ تمام انسانیت کو ان قیمتی خزانوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنا ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا: ’ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے اثرات کو جان لینے کے بعد کہ وہ کس قدر شدید اورتیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں، ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا‘۔

بان کی مون کا کہنا تھا:’ آج دنیا کے سائنسدانوں نے ایک آواز میں بڑا واضح پیغام دیا ہے۔ بالی کانفرنس کے موقع پر میں امید کرتا ہوں کہ دنیا کے پالیسی ساز اسی قسم کا مظاہرہ کریں گے۔‘

رپورٹ کے اہم نکات میں سے چند یہ ہیں: ماحولیاتی تبدیلی واضح ہے، انسانی کارروائی کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نوے فیصد سے زائد ہے جو اس مسئلے کی بظاہراصل وجہ ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو معقول طریقے سے کم کیا جا سکتا ہے۔

آئی پی سی سی رپورٹ کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

رپورٹ کے مطابق اگر عالمی درجہ حررات کی شرح میں ایک اعشاریہ پانچ سے دو اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوتا ہے تو کر ارض پر موجود جانداروں کی بیس سے تیس فیصد اقسام کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔

رپورٹ کے دیگر اہم نکات میں سے چند درج ذیل ہیں:

حال کے مقابلے میں مستقبل میں 75 سے 250 ملین افراد کو پینے کے تازہ پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بارش کے پانی سے ہونے والی زراعت کی پیداوار آدھی ہونے اور افریقہ میں خوراک کی کمی میں اضافے کے خدشات ہیں۔ سمندری مونگوں (کورل ریفس) پر ہونے والے وسیع تر اثرات۔

آئی پی سی سی کی رپورٹ کے نتائج تین دسمبر کو بالی میں یو این کلائمٹ چینج کنوینشن اور کیوٹو پروٹوکول کے حوالے سے والی بات چیت کا حصہ ہوں گے۔
ماحولیاتی تبدیلی اربوں کو خطرہ

گلیشیئر اور برف سے ڈھکے علاقوں میں کمی آئے گی
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ایک بڑی کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اربوں لوگوں کے لیے پانی اور خوراک کی قلت اور سیلاب کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس رپورٹ کے حتمی متن کے بارے میں رات بھر برسلز میں ہونے والے بحث و مباحثے کے بعد معاہدہ ہوا۔

وہاں موجود ماہرین کا کہنا تھا کہ ماحولیات کی تبدیلی کا سب سے برا اثر غریبوں پر پڑے گا۔

انٹر گورمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (ماحولیات کی تبدیلی سے متعلق بین حکومتی پینل ) کے چیئرمین راجندر پچوری کا کہنا ہے کہ اس کا شکار غریب لوگ ہوں گے اور ان میں وہ غریب بھی شامل ہیں جو خوشحال معاشرے کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس ان حالات سے نپٹنے کے لئے وسائل نہیں ہیں۔

کہیں پانی کی قلت تو کہیں سیلاب

پینل کے ورکنگ گروپ کے معاون چئر پرسن مارٹن پیری نے کہا ایسی شہادتیں مل رہی ہیں کہ ماحولیات کی تبدیلی کا براہ راست اثر جانوروں سیاروں اور پانی پر ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے اہم نکات اس طرح ہیں ۔

پورے افریقہ میں 75 سے 250 ملین لوگ 2020 تک پانی کی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا ئی فصلوں کی پیداوار میں 20 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں 30 فیصد کمی آئے گی۔

2020 تک کچھ افریقی ممالک میں بارانی سے ہونے والی کاشتکاری 50 فیصد کم ہو جائے گی۔

گلیشیئر اور برف سے ڈھکے علاقوں میں کمی آئے گی۔اور ان ممالک میں پانی کی کمی ہو جائے گی جہاں برف سے پگھلا ہوا پانی جاتا ہے۔

سمندر کی سطح بلند ہوگی سیلاب اور طوفان برپا ہوں گے

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے سبب عالمی درجہء حرارت میں اضافہ ہوگا۔

سائنس دانوں اور سیاست دانوں نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔

رائل سوسائٹی کے صدر مارٹن ریس کا کہنا تھا کہ حکومتوں صنعتوں اور لوگوں کے لیے یہ ایک اور انتباہ ہے۔اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے اثرات ہمیں پہلے ہی نظر آنے لگے ہیں۔اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کی مدد کی جائے جو متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے تحفظ کے انتظامات کر سکیں۔

اس رپورٹ کا خلاصہ جون میں ہونے والے جی 8 سربراہوں کے اجلاس میں بھیجا جائے گا۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......