لارنس آف عربیہ اور پاکستانی سیاستدان ‘‘ کالم ‘‘ ڈاکٹر منیب احمد ساحل

muneeb ahmed sahil's picture

ہ 1915ء کا سال تھا،یہودیوں کی تنظیم ورلڈ جیوش آرگنائزیشن کے قیام کو 17 سال کا عرصہ بیت چکا تھا ،یہودیوں کے سامنے دنیا میں اپنی سلطنت قائم کرنے کی راہ میں ایک ہی رکاوٹ تھی اور وہ تھی سلطنت عثمانیہ ۔ورلڈ جیوش آرگنائزیشن کے منصوبہ سازوں نے اس وقت مسلم امہ کو لسانی و علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی ۔یہودیوں نے ٹی ای لارنس آف عربیہ کو مسلم امہ کو لسانی ،قبائلی و علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کو بھیجا ،لارنس آئر لینڈ کے ایک نواب کا ناجائز بیٹا تھا اسے عربی و فارسی پر غیر معمولی عبور حاصل تھا وہ عربی لباس پہنتا تھا اور عربی بولتا تھا ،لارنس کی آنکھوں میں فتح مندی کی چمک پیدا ہوئی اور سلطنت عثمانیہ کو تقسیم کرنے کے شیطانی ارادے سے اس نے اپنا ناپاک قدم صحرائے عرب میں رکھا۔

عرب پہنچ کر اس نے سلطنت عثمانیہ کے تمام باغیوں سے ملاقات کی جس میں شریف مکہ سرفہرست تھا ،اس نے قبائلیوں میں قوم پرستی،عصبیت اور لسانیت کی آگ بھڑکائی ،مصر میں ان دنوں فوج کی کمان جنرل ایلن بی کے پاس تھی اس نے لارنس سے کہا ’’عربوں میں ترکوں کیخلاف بغاوت کی جو آگ تم نے بھڑکائی ہے اسے سرد نہیں ہونا چاہئے ۔ہم جلد ہی سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتوحات اور صلیبی جنگوں میں ہارنے کا اپنا بدلہ چکا لیں گے‘‘۔

جنرل ایلن نے لارنس کو یہ بھی یقین دلایا کہ اس کی مدد کیلئے اسلحہ اور سونا بھیجا جارہا ہے پھر اس نے لارنس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا ’’یہ معرکہ تمہیں تاریخ میںحیات جاوداں عطا کر دیگا‘‘۔

لارنس نے عرب قبیلوں کو جنہیں وہ سلطنت عثمانیہ کیخلاف بھڑکا چکا تھا انہیں سلطنت عثمانیہ سے نجات دلانے کا بھرپور یقین دلایا اورانہیں ہر طرح سے مالی و مادی مدد فراہم کی ۔لارنس آف عربیا نے عرب قوم پرستی کی جو آگ جلائی تھی وہ عربستان کے بھڑکتی آگ کے صحراؤں میں خوب شعلے بھڑکاتی رہی یہاں تک کہ سعودی عرب کا قیام عمل میں آ گیا ،اس سے کئی برس قبل اٹلی ترکی کو شکست دیکر لیبیا پر قبضہ کر چکا تھا ادھر سلطان مہمت محمد کی حکومت مصطفی کمال اتا ترک کے ہاتھوں میں گئی سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر گیا ،پھر مسلمانوں کی مرکزیت رہی اور نہ ہی امت مسلمہ کا کوئی تصور یہ سب تو قومیت کے سیلابوں میں بہہ گیا تھا اب صرف یہودیوں کی یلغار تھی ،پس یہودی اپنے مشن میں کامیاب رہے اور ’’اسرائیل ‘‘ کا ناجائز وجود قیام عمل میں آگیا۔

اسرائیل کے قیام سے ایک برس قبل ہی مسلمانوں کی ایک اسلامی نظریاتی ریاست ’’پاکستان ‘‘کا قیام وجود میں آچکا تھا دنیا بھر میں جتنے بھی مسلمان ممالک موجود تھے وہ علاقائی و لسانی بنیادوں پر وجود میں آئے تھے پاکستان سقوط خلافت کے بعد واحد مسلمان ملک تھا جوکہ اسلامی قومیت کے نظریے پر قائم ہوا تھا اس لئے یہود، نصاری و ہنود کی آنکھوں میں پاکستان کا وجود کھٹکنے لگا ،یہود و نصاری نے یہاں بھی وہی پالیسیاں اختیارکیں جو انہوں نے سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھیرنے کیلئے استعمال کیں تھیں ،انہوں نے پاکستان کے غیرت ملی سے عاری سیاستدانوں کو خریدا اوران سے لسانی بنیادوں پر قوم پرستی کا نعرہ لگوایا ۔جس کے باعث 1971ء میں سقوط خلافت کے بعد کا عظیم المیہ ہوا اور دنیا کی واحد اسلامی نظریاتی ریاست دولخت ہوگئی ،اس کے بعد جب پاکستان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگا تو پھر یہود و ہنود کے زرخرید سیاستدانوں نے یہاں لسانیت کا کھیل کھیل کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہ رہے ہیں ۔یہ سیاستدان کہتے ہیں کہ وفاق نے ہمیں حقوق نہیں دیے ۔یہ نام نہاد قوم پرست اربوں روپے کی جائیداد رکھتے ہیں کیا ان میں سے کسی ایک سیاستدان نے اپنے ذاتی پیسے سے کوئی فیکٹری قائم کی جس میں یہ ان لوگوں کو جنہیں لسانی بنیادوں پر اپنی قوم کہتے ہیں کو روزگار مہیا کر سکیں؟یہ سیاستدان تو یہودیوں سے پیسے لیکر غریب عوام اور اپنی ہی جماعت کے کارکنوں کو اپنے مفادات پر قربان کر دیتے ہیں اور جو سیاسی کارکن ان کے مفادات کی بھینٹ چڑھ کر مارے جاتے ہیں یہ پلٹ کر ان کے اہل خانہ کا حال تک نہیں پوچھتے ۔یہ صلیب و ہلال کی جنگ کو اپنی جنگ کہہ رہے ہیں،ان سیاستدانوں نے حیفا، خصاص،سعسع، ابوکبیر، طنطورہ،رملہ،جمرود،صابرہ،شطیلہ اور دیگر علاقوں میں بہنے والے مسلمان خاک نشینوں کے لہو کو بھلا دیا ہے ،کیا آج مسلمانوں کے پاس مرکزی خلافت ہوتی اور ایٹمی قوت بھی ہوتی تو کیا ارض مقدس سے لے کرعراق اور افغانستان تک یونہی مسلمانوں کا خون بہتا؟ اگر یورپ دو عالمی جنگیں لڑنے کے بعد،سو سالہ خونریزی کے بعد،کروڑوں انسانوں کا خون بہانے کے بعد ایک پارلیمنٹ اور کرنسی پر متحد ہو سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں ہو سکتے ؟کب تک ہم لسانی و علاقائی بنیادوں پر آپس میں لڑتے رہیں گے؟ کب تک غزہ میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں سے لے کر عراق اور افغانستان میں صلیبیوں کے ہاتھوں اور سرحد میں امریکی ڈرونز کے ہاتھوں بے غیرتی سے مسلمان خاک نشینوں کو مرتے دیکھتے رہیں گے؟

دنیا کے تمام مذاہب میں یہ امتیاز صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس نے ہرکام میں نہایت اعتدال قائم رکھا ہے قبل از اسلام دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا جارحانہ اصول ذات پات کی اونچ نیچ اور رنگ ونسل کالے وگورے کا امتیاز رائج تھا جرائم کی سزا بھی شخصیات وخاندان کو دیکھ کر دی جاتی پھر جب خدا تعالی کی رحمت کاملہ اسلام کی صورت میں اہل عالم کی طرف متوجہ ہوئی تو اس نے ان گم گشتہ راہ انسانوں کو یہ باور کرایا کہ تم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

خلقکم من نفس واحد (نساء:)

یعنی تمہیں ایک ہی ذات سے پیدا کیا۔

اسی کی تشریح کرتے ہوئے حضور ا نے حج الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا:

یایہا الناس! الا ان ربکم واحد وان اباکم واحد الا! لافضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لسود علی احمر ولا لحمر علی اسود الا بالتقوی۔(قرطبی ج: ص:)

ترجمہ:۔اے لوگو! خبردار! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے خبر دار! کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر یا کالے کو سرخ پر اور نہ سرخ کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے سوائے تقوی کے۔

اسی اسلامی دو قومی نظریہ کی رو سے یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ قومیت کی بنیاد صرف ایمان وکفر ہی ہوسکتی ہے رنگ ونسل زبان ووطن ایسی چیزیں ہیں ہی نہیں جو انسان کو مختلف گروہوں میں بانٹ سکیں

افسوس کہ اب پاکستانی بھی اس لعنت میں گرفتار ہو کر صوبائی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو گئے ہیں اور مہاجر بنگالی سندھی بلوچی پنجابی سرائیکی اور پٹھان مختلف قوموں میں بٹ گئے ہیں حتی کہ یہ لسانی اور صوبائی عصبیت ان کی رگ وپئے میں اس قدر سرایت کرگئی کہ حکومتی مناصب وعہدے بھی اسی بنیاد پر دیئے جانے لگے اور آئے دن اسی بنیاد پر قتل وخون کا بازار گرم کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر دوسری قوموں کی عزتوں پر حملہ کیا جاتاہے اسی پر تحریکوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور ان تحریکوں کے سرخیل وہی انسان ہیں جو انصاف وحقوق اور اتحاد کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے اور مظلوموں کے ہمدرد ووفادار ہونے کے علمبردار اور ٹھیکے دار بنے پھرتے ہیں۔

Share this
No votes yet