قربانی کا بکرا کراچی ھی کیوں

Submitted by siaksa on Thu, 04/22/2010 - 16:18

بلااخر تین دن کے بعد توانای کانفرس جو اسلام اباد میں وزیر اعظم صاحب کی صدارت میں جاری تھی اختتام پذیر ھوی اور ھونا تو یہ چاھیے تھا سب سے پھلے بجلی والے راجہ صاحب خود سے وزارت سے استفا کا اعلان کرتے کیونکہ وہ ایک ناکام ترین وزیر ثابت ھوے ھیں اور اسکی جگہ کسی بھی پارٹی یا حکمران جماعت کا ھی کوی اور وزیر نامزد کیا جاتا۔ خیر جمھوریت کے اس اعلا مقام پر انے کے لیے پاکستان کو مزید 60 سال اور چاھیے جھاں ناکامی پر وزیر خود سے مستفا ھونا شروع کردیں۔ اس کانفرس میں یہ بھی فیصلہ ھونا چاھیے تھا کہ پیپکو کے ڈفالٹر لسٹ میں جو جو افراد یا کمپناں ھیں ان سے فوری طور پر وصولی کی جاے لیکن یہ بھی نھیں ھوسکتا تھا کیکونکہ اتفاق فاویڈری پیپکو کی ڈفالٹر لسٹ میں تمبر ون پر ھے اور تو اور مذکورہ ادارے کے کچھ اعلا ذمہ دران اور خود وزیر بجلی اور ان کے دو بھای بھی ڈفالٹر لسٹ میں سرفھرست ھیں۔ جس ملک میں بھلے ھی جمعے کو ادھا دن اور ھفتہ، اتوار پوری چھٹی ھورھی ھے کافی سالوں سے وھاں اب کون سے دو دن چھٹی کی تیاری کرنی ھے۔ کراچی میں جھاں پھلے ھی لوڈ شیڈنگ کا افریت لوگوں کو پریشان کررھا تھا وھاں مسلم لیگ (ن) کا کراچی سے دشمنی نکالنے کا مطالبہ بھی پورہ کردیا گیا۔ اس کا اندازہ تو کانفرس کے اغار سے شھباز شریف کی باتوں سے ھورھا تھا کہ کراچی ھی کو قربانی کا بکرہ بنایا جاے گا۔ جناب والا خادم اعلی صاحب کراچی کو تو اس کی مطلوبہ ضرورت کے حساب سے ویسے ھی بجلی کی کمی کا سامنا تھا مگر کراچی کے منتخب نمایندوں اور گورنر صاحب کی بھتریں منجمنٹ کی وجہ سے موجودہ  وسایل کے اندر رھتے ھوے پاکستان کی معیشت کا پھیہ جو کہ کراچی میں ھے اسکو بھتر انداز میں چلایا جارھا تھا۔ مگر  اسکو روکنے کے لیے 300 میگاواٹ کی کٹوٹی کی جارھی ھے۔ ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ تمام وزیر اعلی حضرات گورنر سندھ کی اب تک کی بھترین کارکردگی سے سنق لیتے مگر کیا کریں جمھوریت کے اس اعلا مقام سے ھم ابھی کوسوں دور ھیں۔ صدر ہاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے مودبانہ گذارش ھے کراچی کو قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کیا جاے۔ کیونکہ کراچی کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ھے اور دل کو چلانے کے لیے خون کی روانی روکنی نھیں چاھیے۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......