قربانی کا بکرا کراچی ھی کیوں

siaksa's picture

بلااخر تین دن کے بعد توانای کانفرس جو اسلام اباد میں وزیر اعظم صاحب کی صدارت میں جاری تھی اختتام پذیر ھوی اور ھونا تو یہ چاھیے تھا سب سے پھلے بجلی والے راجہ صاحب خود سے وزارت سے استفا کا اعلان کرتے کیونکہ وہ ایک ناکام ترین وزیر ثابت ھوے ھیں اور اسکی جگہ کسی بھی پارٹی یا حکمران جماعت کا ھی کوی اور وزیر نامزد کیا جاتا۔ خیر جمھوریت کے اس اعلا مقام پر انے کے لیے پاکستان کو مزید 60 سال اور چاھیے جھاں ناکامی پر وزیر خود سے مستفا ھونا شروع کردیں۔ اس کانفرس میں یہ بھی فیصلہ ھونا چاھیے تھا کہ پیپکو کے ڈفالٹر لسٹ میں جو جو افراد یا کمپناں ھیں ان سے فوری طور پر وصولی کی جاے لیکن یہ بھی نھیں ھوسکتا تھا کیکونکہ اتفاق فاویڈری پیپکو کی ڈفالٹر لسٹ میں تمبر ون پر ھے اور تو اور مذکورہ ادارے کے کچھ اعلا ذمہ دران اور خود وزیر بجلی اور ان کے دو بھای بھی ڈفالٹر لسٹ میں سرفھرست ھیں۔ جس ملک میں بھلے ھی جمعے کو ادھا دن اور ھفتہ، اتوار پوری چھٹی ھورھی ھے کافی سالوں سے وھاں اب کون سے دو دن چھٹی کی تیاری کرنی ھے۔ کراچی میں جھاں پھلے ھی لوڈ شیڈنگ کا افریت لوگوں کو پریشان کررھا تھا وھاں مسلم لیگ (ن) کا کراچی سے دشمنی نکالنے کا مطالبہ بھی پورہ کردیا گیا۔ اس کا اندازہ تو کانفرس کے اغار سے شھباز شریف کی باتوں سے ھورھا تھا کہ کراچی ھی کو قربانی کا بکرہ بنایا جاے گا۔ جناب والا خادم اعلی صاحب کراچی کو تو اس کی مطلوبہ ضرورت کے حساب سے ویسے ھی بجلی کی کمی کا سامنا تھا مگر کراچی کے منتخب نمایندوں اور گورنر صاحب کی بھتریں منجمنٹ کی وجہ سے موجودہ  وسایل کے اندر رھتے ھوے پاکستان کی معیشت کا پھیہ جو کہ کراچی میں ھے اسکو بھتر انداز میں چلایا جارھا تھا۔ مگر  اسکو روکنے کے لیے 300 میگاواٹ کی کٹوٹی کی جارھی ھے۔ ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ تمام وزیر اعلی حضرات گورنر سندھ کی اب تک کی بھترین کارکردگی سے سنق لیتے مگر کیا کریں جمھوریت کے اس اعلا مقام سے ھم ابھی کوسوں دور ھیں۔ صدر ہاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے مودبانہ گذارش ھے کراچی کو قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کیا جاے۔ کیونکہ کراچی کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ھے اور دل کو چلانے کے لیے خون کی روانی روکنی نھیں چاھیے۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />

Share this
No votes yet