قدم قدم پہ دل خوش گماں نے کھائی مات

Submitted by Guest (not verified) on Thu, 06/04/2009 - 18:33

انتخابی نتائج عام طور پر گمراہ کن ہوتے ہیں، نتائج کے سطحی جائزے سے پیدا ہونے والی غلط فہمیاںان لوگوں کو جو انتخابی عمل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے﴿ کچھ زندہ باد، کچھ مردہ باد، کبھی وقت گزاری کے لیے ووٹ دے دیا تو کبھی سیر تفریح میں مصروف رہے﴾ کوئی خاص نقصان نہیں پہنچاتیں، لیکن اگر سنجیدہ لوگ بھی اسے سنجیدگی سے لینے لگیں تو ان کو لاحق ہونے والی خوش فہمیاں بڑے مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرسری نظر پر اکتفار کرنے کے بجائے گہرائی کے ساتھ ان وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے جو ان نتائج کا سبب بنے ہیں۔ مثال کے طور پر ریاست مہاراشٹر کا جائزہ قارئین کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔
مہاراشٹر میں دو قومی جماعتیں اور دو علاقائی پارٹیاں ہیں۔ اتفاق سے ان دونوں میں سے ہر دو کاایک دوسرے کیساتھ الحاق ہے۔ کانگریس نے راشٹر وادی اور بی جے پی نے شیوسینا کے ساتھ مل کر محاذ بنا رکھا ہے۔ لیکن ان دو محاذوں کے علاوہ دو جماعتیں ایسی ہیں جن کے قابل ذکر اثرات انتخابات پر پڑے ہیں۔ ویسے راج ٹھاکرے کی ایم این ایس کا ذرائع ابلاغ میں بڑا چرچا ہے لیکن دیہی علاقوں میں خاص طور پر ودربھ اور وسطی مہاراشٹر کے اندربہوجن سماج پارٹی انتخابات پر خاصی اثر انداز ہوئی ہیں۔ اتفاق سے ان دونوں کا ایک امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوسکا، لیکن کئی لوگوں کو متوقع کامیابی سے محروم کرنے کا سہرہ ضرور ان کے سر ہے۔ اسی کے ساتھ اس مرتبہ مہاراشٹر سے نہ صرف مسلم نمائندگی کا قلع قمع ہوگیا بلکہ دلتوں کی رہنمائی کا دم بھرنے والی ساری نامور ہستیاں بھی نیست و نابود ہوگئیں۔ کانگریس والے اپنے چار ممبران کے اضافے کا جشن منارہے ہیں لیکن حقیقت برعکس ہے کہ ان کے ووٹ کا تناسب چار فی صد کم ہوا ہے۔ کانگریس کی اندرونی قوت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ شردپوار کو مغربی مہاراشٹر کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا تھا لیکن انہیں بھی خود اپنے علاقے میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور نقصان اٹھانا پڑا۔ شیوسینا کی لنکا کواس کے اپنے گھر کے بھیدی ڈھا رہا ہے اور بی جے پی کے سامنے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر راج ٹھاکرے انہیں شیوسینکوں کے ووٹ حاصل کرنے سے محروم کردیتا ہے تو کیوں نہ راشٹر وادی سے الحاق کرلیا جائے، ویسے بھی کانگریسی رہنما آئے دن خود اپنے بل بوتے پر انتخاب لڑنے کی دھمکی دے کر راشٹر وادی کو چھیڑتے ہی رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر راشٹر وادی بی جے پی کے ساتھ الحاق کرلے تو ریاستی سطح پر بہار کی طرح ان کا اقتدار میں آنا ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ صورتحال اوپر اوپر دکھائی دیتی ہے لیکن اگر اندر جھانک کر دیکھیں تو ان سب کی ٹھوس وجوہات بھی سامنے آتی ہیں۔
کسی زمانے میں سارا مہاراشٹر کانگریس کے قبضہ قدرت میں ہوا کرتا تھا لیکن پھر صورتحال بدلی، کوکن اور مراٹھواڑہ کے کچھ علاقوںمیںکسان مزدور پارٹی، ممبئی اور قبائلی علاقوں میں کمیونسٹوں نے اپنا رسوخ قائم کیا۔ ری پبلکن جو کانگریس کی حلیف ہوا کرتی تھی تقسیم ہوگئی اور اس کا ایک دھڑا کانگریس کے خلاف ہوگیا۔ آگے چل کر خود کانگریس پارٹی کو شردپوار نے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس دوران بی جے پی نے پسماندہ رہنمائوں کو آگے بڑھا کرمراٹھواڑہ و وسطی مہاراشٹر میں اپنا رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ شیوسینا نے ممبئی اور کوکن میں اپنے قدم جمانے کے بعد دیگر علاقوں میں بھی پیر پھیلانے لگی۔ کانگریس کے ناراض ڈوبنے والوں کی خاطر شیوسینا تنکے کا سہارا بن گئی۔ اس طرح کانگریس پارٹی خاصی کمزور ہوگئی۔ اسے اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور دوبارہ اقتدار میں آنے کی خاطر شردپوار سے الحاق کرنے پر مجبور ہونا پڑا، لیکن اس بار کانگریس پارٹی نے محسوس کرلیا کہ محض شردپوار کی حمایت اور سونیا و راہل کا آشیرواد کامیابی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، اس لیے ان لوگوں نے اپنی پرانی چال پھر چلی جس طرح بال ٹھاکرے کا استعمال کمیونسٹوں کے خلاف کیا گیا تھا اسی طرح راج ٹھاکرے کا استعمال شیوسینا کے خلاف کیا گیا۔ راج ٹھاکرے نے بہاریوں کے خلاف مہابھارت چھیڑ دی اور کانگریس پارٹی کرشن کنھیا بنی اسکی پشت پناہی کرتی رہی۔ راج ٹھاکرے کی تمام غنڈہ گردی کو تحفظ فراہم کیا جاتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شمالی ممبئی سے پہلی بار ایک بہاری کو لوک سبھا میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی، یہ حسن اتفاق ہے کہ سنجے نروپم کسی زمانے میں شیوسینا میں تھے اور ہندی سامنا کے مدیر ہوا کرتے تھے، لیکن انہوں نے شیوسینا کو چھوڑ کر کانگریس میں آنا پسند کیا۔ راج ٹھاکرے نے شیوسینا سے نکل کر بہاریوں کے خلاف تحریک چلائی۔ عام بہاریوں کو زدو کوب کیا گیا بلکہ قتل تک کی نوبت پہنچی لیکن ایک خاص بہاری کا فائدہ ہی ہوا۔
شمالی ممبئی میں سنجے نروپم اور رام نائک کے درمیان صرف ۶ ہزار ووٹوں کا فرق ہے جبکہ ایم این ایس کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ سینتالیس ہزار ووٹ ہے۔ ایسے میں کون اس حقیقت کا انکار کرسکتا ہے کہ سنجے نروپم کی جیت کے پیچھے صرف کانگریس کا ہاتھ نہیں بلکہ راج ٹھاکرے کا ساتھ بھی ہے۔ مہاراشٹر نونرمان سنیانے اس بار صرف ۱۱ مقامات سے قسمت آزمائی کی جس میں سے صرف پونامیں اسے ایک لاکھ سے کم ووٹ حاصل ہوئے اور وہ بھی ۶۷ ہزار۔ ممبئی اور اس کے آس پاس کانگریس محاذ کو حاصل ہونے والی کامیابی پر نظر ڈالیں، شمال مغرب میں فرق چالیس ہزار، ایم این ایس کے ووٹ ایک لاکھ چوبیس ہزار، شمال مشرق میں فرق صرف پندرہ ہزار اور ایم این ایس کا ووٹ ایک لاکھ پچانوے ہزار۔ جنوب وسطی میں فرق ۶۷ ہزار اور ایم این ایس کے ووٹ ایک لاکھ آٹھ ہزار، جنوبی ممبئی میں فرق ایک لاکھ چھبیس ہزار اور ایم این ایس نے ووٹ حاصل کئے ایک لاکھ ۹۵ ہزار، تھانے میں فرق ۹۴ ہزار اور ای این ایس نے ووٹ ایک لاکھ ۶۱ ہزار، بھیونڈی میں فرق ۲۴ ہزار اور ایم این ایس ایک لاکھ ۷ ہزارپونے میں فرق صرف ۶۲ ہزار اور ایم این ایس نے ۶۷ ہزار ووٹ کاٹے۔ اس طرح صرف جنوب وسطی ممبئی کی سیٹ کے بارے میں جہاں سے پر یہ دت ایک لاکھ ۶۷ ہزار ووٹوں سے کامیاب ہوئی ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایم این ایس کو وہاں ایک لاکھ ۸ ہزار ووٹ نہیں بھی حاصل ہوتے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ بہر حال اس حلقہ انتخاب سے کامیاب ہوجاتیں جہاں بال ٹھاکرے کی حویلی ماتوشری واقع ہے۔ ویسے کلیان سے پرانجپے کو صرف ۴۲ ہزار ووٹوں کی کامیابی حاصل ہوئی جبکہ راج ٹھاکرے صرف ایک لاکھ ۲ ہزار ووٹوں تک محدود رہے، یہاں اگر راج کو مزید پندرہ ہزار ووٹ حاصل ہوجاتے تو ممبئی اور اس کے قرب و جوار سے بی جے پی، سینا کا مکمل صفایا ہوجاتا۔ لیکن معاملہ صرف شیوسینا کو بالواسطہ ہرانے تک محدود نہیں ہے۔ ناسک اور جنوبی ممبئی میں راج ٹھاکرے نے اپنے چچا بال ٹھاکرے سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں اور شمال مشرقی ممبئی میں شیوسینا کو نونرمان سینا پر صرف ۵۱ ہزار ووٹوں کی بڑھت حاصل رہی۔ ان نتائج کو دیکھنے کے بعد بہت سارے شیوسینک رائے دہندہ گان کا ذہن اب تک بدل چکا ہوگا۔
راج ٹھاکرے نے شہر ی علاقوں میں جو نقصان سینا بھاجپ کو پہنچایا اس کی بھرپائی دیہی علا قوں ﴿وسطی مہاراشٹر اور ودربھ ﴾میںکسی نہ کسی حد تک بہوجن سماج پارٹی نے میں کردی۔ بلڈانہ میں بھگوا محاذ کو ۸۲ ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی۔ بی ایس پی کو ۱۸ ہزار ووٹ حاصل ہوئے۔ ایوت محل میں یہ فرق ۲۷ ہزار ووٹوں کا تھا لیکن بہوجن سماج پارٹی نے ایک لاکھ ۵۳ ہزار ووٹ حاصل کئے۔ہنگولی میں سنیابھاجپ ۶۸ ہزار ووٹ سے کامیاب ہوئی۔ لیکن بی ایس پی نے ایک لاکھ ۱۱ ہزار ووٹ حاصل کئے۔ پربھنی میں فرق ۴۶ ہزار ووٹ تھا اور بی ایس پی نے بھی ۴۶ ہزار ووٹ حاصل کئے۔ جالنہ میں ۸ ہزار کا فرق تھا۔ بی ایس پی نے ۳۳ ہزار ووٹ حاصل کئے، اورنگ آبادمیں ۷۲ ہزار ووٹوں کا فرق تھا اور بی ایس پی نے ۳۳ہزار وو ٹ کا نقصان کانگریس کو نقصان پہنچایا۔ ویسے دو قبائلی علاقوں میں سی پی ایم نے خاطر خواہ ووٹ حاصل کئے۔ ڈنڈوری میں اسے ایک لاکھ ۵ ہزار ووٹ حاصل ہوئے اور وہاں سے بی جے پی کو ۷۳ ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی ملی پال گھر میں گوکہ سی پی ایم نے ۱۹ ہزار ووٹ حاصل کئے، اس کے باوجود بہوجن وکاس اگاڈی کے امیدوار نے ۱۵ ہزار ووٹوں سے اپنی کامیابی درج کروائی۔ ان حلقہ انتخاب کے علاوہ راویر، وردھا، رام ٹیک، ناگپور، بھنڈارہ، چمور، چندر پور، ناندیڈ، لاتور اور ممبئی جنوب، ایسے علاقے ہیں جہاں بہوجن سماج پارٹی نے تیس ہزار سے لے کر ڈیڑھ لاکھ تک ووٹ حاصل کئے، اس کے باوجود کانگریس محاذ کے امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوی لیکن خطرہ موجودہ ہے
مہاراشٹر گو کہ ڈاکٹر امبیڈکرکی جنم بھومی نہیں ہے لیکن کرم بھومی ضرور ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریک کا آغاز یہیں سے کیا۔ ممبئی ہی میں آپ کا قیام رہا اور شیواجی پارک میں آپ کی سمادھی بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر امبیڈ کر نے جس ری پبلکن پارٹی کوقائم کیا تھا اس کی اجارہ داری برسوں تک یہاں کے دلت ووٹوں پر قائم رہی لیکن اس انتخاب نے اس کے مکمل خاتمہ کا اعلان کردیا۔ فی الحال ری پبلکن پارٹی تین دھڑوں میں تقسیم ہے ایک کا الحاق راشٹر وادی سے ہے دوسرے کا کانگریس اور تیسرے کا کسی سے نہیں ہے لیکن پرکاش جی بھاجپ کو اچھوت نہیں مانتے۔ اس بار ان تینوں دھڑوں کے ایک ایک نمائندے نے انتخاب لڑا اور شیونکوں کے ہاتھوں انہیں ناکام ہونا پڑا۔ شرڈی سے سیدھے مقابلے میں شیوسینا نے رام داس اٹھاولے کو ایک لاکھ ۲۲ ہزار ووٹوں سے ہرادیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ناسک سے ۲ لاکھ ووٹ حاصل کرنے والی ایم این ایس نے متصل شرڈی میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا اس سے یقینا اٹھاولے کی ذلت آمیز شکست میں کچھ نہ کچھ کمی واقع ہوجاتی۔ امراوتی سے راجندر گوائی کو کانگریس کی حمایت حاصل تھی وہ ۲۶ ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئے ان کو شکست فاش دینے میں نہ صرف بہوجن سماج پارٹی کو ملنے والے ۱۴ ہزار ووٹ بلکہ راجندر جھامٹے نامی آزاد امیدوار کو ملنے والے ۴۶ ہزار ووٹوں کا بھی حصہ ہے۔ چونکہ ڈاکٹر راجندر گوائی کے والد کا شردپوار سے جھگڑا ہے اس لیے ہوسکتا ہے پوار کی حمایت ڈاکٹر جندر جھامٹے کو حاصل رہی ہو۔ اکولہ میں دلت اور مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد بستی ہے۔ وہاں سے پرکاش امبیڈ کرکے مقابلے میں کانگریس کا امیدوار بھی تھا۔ پرکاش امبیڈ کرنے ویسے تو ۲ لاکھ ۳۲ ہزار ووٹ حاصل کئے لیکن اپنے شیوسنیک حریف کو ہرانہ سکے جو ۲ لاکھ ۷۸ ہزار ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگیا، ویسے کانگریس کو صرف ایک لاکھ ۲۸ ہزار ووٹوں پر اکتفا کرنا ۔
شرد رائو جی پوار اپنی انتخابی چال بازیوں کے لیے خاصے مشہور ہیں، سازش کرکے اپنے حلیفوں اور حریفوں کو ناکام کرنے کے فن سے وہ خوب واقف ہیں، لیکن اس مرتبہ خود ان کے اپنے محفوظ قلعہ میں دراڑیں پڑتی نظر آئیں۔کولہا پور میں این سی پی کے باغی امیدواروں نے ۵۵ ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کرکے یہ بتلا دیا کہ شردپوار کی جڑیں کمزور ہونے لگی ہیں، ہاتھ کنگالے میں بھی یہی ہوا، سوا بھی مان پارٹی سے انتخاب لڑتے ہوئے دیوپاانا نے این سی پی کے سابقہ ایم پی نویدتا کو ۶۹ ہزار ووٹوں سے شکست دے دی۔ سانگلی میں باغی امیدوار کامیاب تو نہیں ہوسکا ،لیکن فرق صرف ۰۴ ہزار ووٹوں کا رہ گیا تھا ایک باغی کا تین لاکھ ۷۸ ہزار کے مقابلے میں ۳ لاکھ ۸۳ ہزار ووٹ حاصل کرلینا پوار کی شکست کے مترادف ہے۔ احمد نگر سے ایک کانگریسی ایم ایل اے نے بغاوت کرکے این سی پی کا مقابلہ کیا اور ایک لاکھ ۳۵ ہزار ووٹ حاصل کرلئے۔ نتیجہ وہ کامیاب تو نہیں ہوسکا لیکن این سی پی کا امیدوار ۲۴ ہزار ووٹوں کی شرمناک شکست سے دوچار ہوگیا۔ ایسے میں شردیوار کے لیے اگلے صوبائی انتخاب میںکانگریس کے ساتھ سودے بازی کرکے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں دشواری ہوگی جبکہ مرکزی حکومت کا انحصار بھی ان پر نہیں رہا ہے۔ اور اگر کانگریس نے زیادہ اکڑ دکھائی تو ممکن ہے وہ پھر ایک بار مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ بن کر اپنی بیٹی کے لیے راہ ہموار کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ ویسے اگر سونیاراہل کو وزیراعظم بنانا چاہتی ہیں۔ کرو ناندھی اسٹالن کو وزیراعلی بنانا چاہتے ہیں تو شرد پوار اپنی دختر نور اختر سپریہ سولے کو وزیراعلیٰ بنانے کا خواب تو دیکھ ہی سکتے ہیں۔
مسلمانوں کی حالت زار بھی دلتوں کی سی رہی۔ کانگریس پارٹی اور راشٹر وادی نے رائے گڈھ اور موال حلقہ انتخاب سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا احسان کیا، موال پوناضلع میں واقع ہے اور رائے گڈھ خود ضلع ہے یہ حسن اتفاق ہے موال سے متصل پونے میں کانگریس کے کلماڑی الیکشن لڑ رہے تھے تو رائے گڈھ سے متصل تھانے میں این سی پی کے نائک پونے اور تھانے میں کانگریس محاذ کو کامیابی حاصل ہوئی دونوں مقامات پر راج ٹھاکرے کے امیدوار موجود تھے لیکن جس طرح ناسک کے پاس شرڈی کی جانب سے صرف نظر کرکے اٹھاولے کی لٹیا ڈوبودی گئی اسی طرح کا معاملہ انتولے اور پانسرے کے ساتھ بھی ہوا۔ موال اور رائے گڈھ میں ایم این ایس کا کوئی امیدوار نہیں تھا۔ اعظم پانسرے اپنے آپ کو شردپوار اوراجیت پوار کی حمایت کے باوجود ۰۸ ہزار ووٹوں سے ناکام ہونے سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکے حالانکہ مغربی مہاراشٹر پوار صاحب کی اجارہ داری سمجھا جاتا ہے۔ عبدالرحمن انتولے نے ہیمنت کر کرکے کے سلسلسہ میں آزادانہ بیان دے کر کانگریسی آقائوں کو ناراض کر ہی دیا تھا شاید کانگریس ہائی کمان چاہتا تھا بھی کہ ان کا کانٹا اس بار نکل جائے اور وہ بھی عمر کے آخری حصہ میں اڈوانی جی کے ساتھ آرام فرمائیں۔ ویسے خود انتولے صاحب نے اقلیتی وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ایک بیان سے آگے کوئی ٹھوس کام کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی ورنہ وہ بھی شاہ نواز حسین کی طرح کسی مسلم علاقے سے الیکشن لڑتے اور مودی کے بغیر خود اپنے بل بوتے پر کامیاب ہوجاتے۔ انتولے کو نکم نے ایک لاکھ ۶۴ ہزار ووٹوں سے شکست دی جبکہ کسان مزدور پارٹی کے سابقہ ایم پی ٹھاکور صاحب نے ۶۳ ہزار ووٹ کاٹے اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید راج ٹھاکرے بھی بیرسٹر صاحب کا کوئی زیادہ بھلانہ کرپاتے۔ عبدالرحمن انتولے کے ہم عصر مسلم سیاستدان کا نام نہال احمد ہے جو عرصہ دراز تک مالیگائوں کی نمائندگی اسمبلی میں کرتے رہے ہیں اور مشرف بہ وزارت بھی ہوچکے ہیں اس بیچ مالیگائوں کو مہاراشٹر اور قومی سیاست میں خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ وہاں ہونے والے دھماکے،معصوم مسلمانوں کے بعدہندو تووادیوں کی گرفتاریاں گزشتہ سالوں کے اہم واقعات رہے۔ اسی حلقہ انتخاب میں واقع دھولیہ میں گزشتہ سال زبردست فساد بھی ہوا جس کے باعث مسلمانوں کا اعتبار کانگریس اور راشٹر وادی پارٹی سے مکمل طور پر اٹھ گیا۔ ایسے میں جتنادل ﴿ایس﴾ کے ٹکٹ پر جناب نہال احمد نے انتخاب لڑا انہیں صرف ۳۷ ہزار ووٹ حاصل ہوئے۔ ایک آزاد امیدوار گوٹے نے بھی ۳۵ ہزار ووٹ حاصل کرلیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی کے امیدوار کو محض ۹۱ ہزار ووٹ سے کامیابی حاصل ہوگئی۔ مذکورہ بالا رہنمائوں کے بعد کی نسل سے تعلق رکھنے والے نہایت تیز و طرار امیدوار جناب ابوعاصم اعظمی نے جو گزشتہ مرتبہ بھیونڈی سے خود اپنی اسمبلی نشست بچانے میں ناکام رہے تھے اس بار ممبئی شمالی وسطی سے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس حلقہ انتخاب میں شمالی ہند کے رہنے والے لوگ بڑی تعداد میں بستے ہیں جن کا تعلق یا دو برادری سے ہے اور پھرمسلمانوں کی بھی اچھی خاصی آبادی ہے، سماجوادی چونکہ اترپردیش کی پارٹی ہے اور پھر اعظمی صاحب کی ۰۲۱ کروڑ کی املاک سے یہ امیدبندھی تھی کہ شاید اس بار جناب ابو عاصم کو مہاراشٹر کے مسلمانوں کی نمائندگی کا شرف حاصل ہو۔ لیکن افسوس کہ وہ بھی نہ ہوسکا وہ توخیر راج ٹھاکرے کے امیدوار نے اعظمی صاحب سے ۰۴ ہزار زائد ووٹ حاصل کرلئے اور گروداس کامت کو ۰۴ ہزار ووٹوں سے کامیاب کروادیا ورنہ سینا کو واحد کامیابی دلانے کا سہرہ انہیں کے سر ہوتا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ سینا اور کانگریس کے درمیان کا فرق اور اعطمٰی اور راج کے درمیان میں پائی جانے والی تفاوت یکساں ہے۔ بھیونڈی میں بھی یہی ہوا ایم این ایس نے سماجوادی کے مقابلے میں ۵۷ ہزار ووٹ زائد حاصل کئے اور کانگریس نے بی جے پی کو صرف ۲۴ ہزار ووٹوں سے ہرایا۔ یہ مسلمانوں کے تین مہار تھی تھے جن میں سے ایک بی جے پی اورایک شیوسینا کے ہاتھوں خوار ہوا اور تیسرے کے لیے راج ٹھاکرے کافی ہوگیا۔ سب سے بہتر شکست سیاست میں نومولود اعظم پانسرے کے ہاتھ آئی۔ ان چاروں نے مختلف کمزور سہاروں کو تھاما اور مات پر مات کھاتے چلے گئے، بقول افتخارعارف ò
قدم قدم پہ دل خوش گماں نے کھائی مات
روش روش نگہ مہرباں کے ہوتے ہوئے

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......