قبائلی علاقوں میں آستین کے سانپ زبیر احمد ظہیر

Submitted by imkan on Mon, 10/06/2008 - 14:49

زبیر احمد ظہیر

قبائلی علاقوں میں آستین کے سانپ

کیاامر یکی فضائی حملے رک پائیں گے ؟ساری سفا ر تی کو ششوں اور سرکا ری احتجاج سے لے کر صدر زرداری اورصدربش ملاقات تک مزید فضا ئی حملے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت نہیں مل سکی ، لہٰذاعام قبائلی بدستور امریکی دہشت گردی کی زد میں ہے۔بظاہریہ فضا ئی حملے عسکریت کے خلا ف کے انتہائی قدم ہیں، مگر ان سے عا م لو گ ،خو ا تین اور بچے زیادہ جاں بحق ہورہے ہیں۔اس نا قص امریکی انٹیلی جنس پرعام شہریوں کی مسلسل امو ا ت سے بڑی کوئی دلیل نہیں ۔ امر یکا نے قبا ئلی علا قو ں میں مقا می مخبر وں کا تعا ون حا صل کرلیا ہے، اور ہماری انٹیلی جنس پر اپنا ا نحصا ر کم کر دیا ہے ،اس بات کی تصد یق اس سے ہو تی ہے کہ متعدد بار پا کستا نی انٹیلی جنس نے امریکہ کومعلومات فر اہم کیں ، مگر ا س نے کا رروائی نہ کی اوراتنی تا خیر کر د ی کہ عسکر یت پسندوں کو نکلنے کا مو قع مل گیاپاکستان کو مسلسل لاعلم رکھ کر میزائل حملے اس بات کا کھلا ثبوت ہیںکہ امریکا نے پاکستانی اداروں پر اپنا انحصار ختم کر دیا ہے۔اورا س نے اپنا جاسوسی نظام خود کفیل بنا لیا ہے ،امریکا کی قبائلی علاقوں میں جاسوسی کی دیوار جن پتھروں پر کھڑی ہے وہ اس کے مقامی ایجنٹ ہیں۔ قبائلی علاقوں اور افغانستان میں امریکی جنگ کا دارومدار جن ایجنٹوں پر ہے، ان کا انٹیلی جنس معیار کتنا بلند ہے ؟یہ جاننے کے لیے ماہر سراغ رسان ہونا ضروری نہیں،عام آدمی بھی بچوں بوڑھوں اور خواتین کی مسلسل اموات سے ناقص انٹیلی جنس کا بخوبی اندازہ لگا سکتاہے ۔ کرائے کے ایسے مقا می بھیدی با لعمو م غیر تر بیت یا فتہ ہو تے ہیں، یہ کم علمی کی و جہ سے جا نچ پڑ تا ل کی زحمت نہیں اٹھا تے اورمعلو ما ت جوں کی توں آگے بڑ ھا د یتے ہیں، امر یکی ان کی تصد یق کیے بغیربٹن د با دیتے ہیں۔ قبا ئلی علا قو ں میں صد یوں پر ا نی ر نجشیں چلی آر ہی ہیں، اس لیے مقا می مخبروں کو ذا تی مخالفت سے الگ نہیں کیاجا سکتا۔ بیشترفضائی حملو ں میں مختلف لو گو ں کی بجا ئے عا م طور پر ایک ہی خا ند ان اور ایک ہی گھر کے افر ا د نشا نہ بنے ہیںجس سے انتقام کو رد نہیںکیا جاسکتا ۔یہ رنجش اور اس کے ذریعے دشمنی نکالنے کا معا ملہ صرف قبائلی علاقوں تک محدوود نہیں

اس وقت ملک میں طا لبا ن اور القا عد ہ کے نا م پر گر فتا ر کر ا نے کی دھمکیا ں دینا عام سی بات بن گئی ہے، کسی کو خوف زدہ کرنے کے لیے یہ دھمکی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے اب یہ دھمکی ہر گلی محلے کی چھوٹی لڑائیوں کا حصہ بن گئی ہے اور تو اور مذہبی افراد کو تھانے دار معمولی تنازعوں میں طالبان کے نام پر فٹ کر انے کی دھمکی دے کر پیسے بٹورلیتے ہیں۔اس عذاب میں پھنسنے کے لیے مذہبی ہونا ضروری نہیں اس لیے یہ رسک کوئی نہیں لے سکتا۔ یہ وبا ءپورے ملک میں کسی موذی مرض کی طرح پھیل گئی ہے۔جب پر امن شہروں کی صورت حال یہ ہو تو جنگ زدہ اور صدیوں پرانی رنجشوں کے جنگل میں انتقامی صورت حال سے قبائلی علاقوں کوکیسے الگ کیا جا سکتا ،لہٰذا مقامی ایجنٹوں کی معلومات ذاتی مخالفت کے شک سے خالی نہیں ۔قبائلی علاقہ جات میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹتے رہتے ہیں۔ان علاقوں میں تو بطور خاص یہ وبا ءطاعون کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے جھوٹی اور من گھڑت اطلاعات پہنچائی جاتی ہیں، جب امریکا یا فورسز کارروائی کر کے چلی جاتی ہیں تو پھر بدلہ ان سے لیا جاتا ہے ،جن پر مخبری کا شک گزرے۔ایسے لوگوں کی معلومات پر کارروئی کر نا اتنی بڑی بے وقوفی ہے ،جس کا امریکابار بار ارتکاب کر تا جارہاہے اور ایسی بدنامی کا بیج کاشت کر تا جا رہا ہے، جس کی فصل بر سوں امریکی دشمنی اگاتی رہے گے۔

امریکا کی قبائلی علاقوں پر گہری نظر تھی ،بر طانیہ کی ماضی میں قبائلیوں سے شکست اسے یاد ہے ۔ امریکاکو روس دور کی پاکستان کی دور اندیشی اور اپنی غلطی بھی یاد تھی، جب پاکستان نے امریکا کو مجاہدین سے براہ راست ڈیل کی رسائی نہ دے کر اس کے ہاتھ پاوں باندھ دیے تھے۔ اس بار امریکا نے ایسا نہیں ہونے دیا، خودترقیاتی فنڈ دیے ،سڑکیں بناکر دیں ، اوراس بہانے قبائلیوں میںجگہ بنالی ۔، مزاحمت کم کرنے کے لیے جرائم پیشہ عناصر سے مدد لی اوراپنا نیٹ ورک پھیلا دیا۔ جس سے قبائلیوں میں باہمی تصادم ہوا اوران کی طاقت تقسیم ہو گئی ۔حکومت نے امن معاہدے کیے اورجانی ومالی نقصان سے بچنے کی کوشش کی۔ امریکا نے فضائی حملے شروع کردیے اوریوں جلتی پر تیل کے اس چھڑکاو نے امن معاہدے ختم کر وادیے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ امریکا نے میزائل حملوں کوعملا بچوں کا کھیل بنا دیاہے ،جب مرضی آئی میزائل داغ دیے۔امریکا نے اب جس تواتر سے حملے شروع کردیے ہیں۔اتنے حملے مشرف کے آٹھ سالہ دور میں نہیںہوئے ،معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو اقتدار اعلی جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ میں بکھر اہوا قطعی پسند نہیں اسے تو ایک آمر چاہیے جو یک جنبش قلم امریکہ کی مان لے ۔آج پاکستان میں جمہوری حکومت دن بدن کمزور ہورہی ہے اس کی وجہ اپوزیشن ہے نہ فوج بلکہ امریکہ ہے

پاکستان نے امریکا کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟پاکستان کے سیکورٹی حکام نے امریکا کی جانب بڑھتی گولیاں اپنے سینے پر کھا کر یہ جنگ لڑی،کندھوں سے کندھے ملا کر ڈنکے کی چوٹ پر امریکا کا ساتھ دیا۔ایک ہزار فوجیوں کی قربانی دی ،ایک لاکھ بیس ہزارفوجی امریکا کے تحفظ کے لیے افغان سر حد پرلگادیے۔امریکی حملوں میں اپنے سیکڑوںشہریوں کی مظلومانہ موت پر خاموشی اختیار کر لی ،فوجی آپریشن کے دوران اپنے ہزاروں شہریوں کی اموات قبول کرلیں، قر بانی سے لے کر بدنامی تک اس ساری محنت پر امریکا اس وقت پانی پھیر دیتا ہے،جب افغانستان سے اندھیرے میں تیر چلا تاہے، ا نہیں لا علم رکھ کر ا مر یکا جب فضا ئی حملے کر تاہے ،تو یہ لا علمی کے حملے قبائلی علاقوں میں آستین کے سانپوں کی موجودگی کی چغلی کھا تے ہیں ،جن کی چغلی قبائلیوں کے خون بہنے پرمنتج ہوتی ہے۔امریکا فضاءسے جاسوسی کی لاکھ کوشش کرلے ،جب تک ہدف کاتعین زمین سے نہیں ہوتا ،جاسوس طیاروںاورسیٹلائیٹ کی تصاویر کی اہمیت اندازے اورتخمینے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔

ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، اس کے مسائل ہماری طر ح ہیں۔ امریکا اس پر حملوں کی آئے روز دھمکیا ں دیتا ہے اور ہمارے اوپر آئے روز حملے کر تاہے۔ایران میں بارہ سال پہلے ایک بم دھماکہ ہوا تھا، ایران نے اس کی تفتیش میں بال کی کھال نکال دی، جس کا اثر بارہ سال رہا۔ گزشتہ دنوں جو بم دھماکہ ایران میں ہوا یہ بارہ سال بعد ہوا ہے۔ ایک ہمار ملک ہے،جہاں ہر نیا بم پہلے دھماکے سے بھاری ہوتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے؟ ایران امریکا کو دھمکیاں دے اوراسرائیل پرتڑیاں جمائے۔ امریکا ایران سے زیادہ سے دور بھی نہیں،عراق کی سرحدیں ایران سے متصل ہیں اوراندر خفیہ علیحدگی کی تحریکیں بھی چل رہی ہے، مگر مجال ہے کہ امریکا ایران کا بال تک بیکا کرسکے۔جب ایرانی صدر امریکا کو دھمکی دیتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی سیکورٹی ایجنسیاںکسی کو ایران کے اندر پر نہیں مارنے دیں گی، اس لیے ایران میں در اندازی میں کوئی کامیاب نہیں ہوسکا۔ ایران کے اس امن کا راز یہ ہے کہ اس کی قوم ڈالروں کی لالچ میں مخبری جیسی غلاظت میں ہاتھ نہیں ڈبوتی، ایک پاکستان ہے کہ جس پتھر کو اٹھائیں ڈالروں میں بکا لگتاہے۔ اگر ہم امریکی میزائل حملے نہیں روک سکتے، توان غداروں کو تو لگام دے سکتے ہیں۔ قبائلی علاقوں سے آئے روز جاسوسوں کو مارے جانے کی خبریں آتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبائیلوں کو بغل میںچھپے دشمن کا ادراک ہے۔

امریکا کے پاس جاسوسی کی جدید ٹیکنالوجی ہے ،یہ فضا سے مچھر کے پر گن سکتی ہے۔مان لیا ،مگریہ ٹیکنالوجی ہے کو ئی دیو جن قسم کی مخلوق ہر گز نہیں۔ امریکا کے پاس ان عسکریت پسندوں کی تصاویر ہیں،نہ ان کی آواز ہے ۔امریکی حملے آواز یا سیٹلائٹ کی تصاویر کی مددسے ہوتے ہیں۔اگر یہ مان لیا جائے تواسامہ بن لادن پر ایسے کتنے حملے ہوئے ہیں ؟اور کتنے کامیاب ہوئے

ہم نیٹو افواج کی سپلائی بند نہیں بند کرسکتے اور ہم مخبری کے جال کوبھی پھلانگ نہیں سکتے تو امریکی صدراتی انتخاب ہونے تک قبائلی علاقوں میں کفن دفن کا انتظام کم از کم حکومت اپنے ذمے لے،اگر ہم زندگی نہ دے سکیں، یہ ہمارے بس میں نہیںرہا تو آخر ی مذہبی رسومات کا حق تونہ چھنا جا ئے، جو حکومت اپنے شہریوں کو زندہ رہنے کی ضمانت نہ دے سکے وہ ان سے اپنے مطالبات بھی نہیں منوا سکتی۔روس کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکاکو مجاہدین تک رسائی نہ دے کر جس دور اندیشی کا مظاہر ہ کیا تھا، آج اسی دور اندیشی کو امریکا نے ہمارے اورپرالٹ دیا ہے، روس کے خلاف جنگ کاکنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا ہماری مجبوری تھا ،وہ پاکستان کے دفاع کی جنگ تھی ،اس بار امریکا نے ابتداءہی سے ماضی کی غلطی نہیں دہرائی اورافغانستان اور قبائلی علاقوںمیں براہ راست اپنے حامی پیدا کیے اور مخبروں کا جال بچھا لیا، لہٰذا آج اس جنگ کا کنٹرول امریکا کے پاس ہے ،وہی اسے طول دے سکتاہے اورمختصر کر سکتاہے۔ہم ویسے تماشائی ہیں جسے روس کے خلاف جنگ میں امریکہ تھا۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......