قاضی صاحب تنہا ہو گئے

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 12/18/2007 - 21:21

قاضی صاحب تنہا ہو گئے
قاضی صاحب اور ان کی جماعت تنہا رہ گئے۔ انہیں یہ تنہائی مبارک ہو۔یہ تنہائی بہت نصیب والوں کو نصیب ہوتی ہے۔قاضی صاحب اور ان کی جماعت کی تمام تر کوششوں کے باوجود قدرت نے انہیں سب سے الگ کر دیا ہے۔چھانٹ دیا ہے۔امید ہے اس تنہائی کو سنہرا موقعہ جان کر جماعت کے ذمہ داران طویل المعیاد منصوبہ بندی اور ٹھوس اقدامات کے بارے میں سوچ سمجھ لیں گے اور قیادت اور کارکنوں کی ہر نوع کی تربیت پر بھی توجہ دے سکیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تنہائی بہت ضروری تھی۔ تا کہ لوگ حقیقی اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے اعلانیہ و خفیہ مددگار لوگوں کے فرق سے واقف ہو سکیں۔ بلیک میل ہونے اور کرنے والے سب کھل کر سامنے آ جائیں۔ اصول اور "موقع"(اپورچنٹی) کے درمیان اختیار کی پسند سے سیاسی اصول پسندی اور موقع پرستی کا اامتیاز سامنے آجائے۔

قاضی صاحب تنہا نہیں ہوئے بلکہ وہ انتخابی عمل کے بوگس ہونے پر یقین رکھنے والے 80 فیصد افراد کے نمائیندہ بن گئے ہیں۔ جو گھر بیٹھ کر اس ڈھونگ پر خاموش عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

اپنا حصہ وصول کرنے والوں نے نظام سے سمجھوتا کر لیا ہے۔ مگر تبدیلی کی خواہش رکھنے والوں کو نظام سے سمجھوتا نہیں اس سے جنگ کی تیاری زیب دیتی ہے۔ ہاں جنگ۔ جنگ لاقانونیت اور جبر کے خلاف۔ جنگ بے آئین نظام کے خلاف۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کے خلاف۔جو لوگ سپریم کورٹ پر حملوں میں ملوث رہے ہوں ان کے سنگ یہ جنگ ہو بھی نہیں سکتی تھی،قاضی صاحب۔

قاضی صاحب کی نواز شریف سے سابقہ رفاقت پرکسی نے جملہ کسا ہے

ع ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوان عشق
او بصحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا شدیم

لیکن دیکھنے والی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ رسوا کون ہوا۔پولنگ اسٹیشنوں پر رونق کے لئے ترکی سے مغرب کے ہاتھوں اقتدار کے لئے اصولوں پر یو ٹرن لینے والے صدر عبداللہ گل تک کو بلا کر اور امریکی اور برطانوی اور دیگر مسلم سفیروں کے ذریعہ ہر کوشش کے با وجود عوام ،با لخصوص پڑھے لکھے لوگ اب اس ڈرامہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

آپ نے اس طبقہ کی نمائیندگی کرتے ہوئے سب کو مات دے دی ہے۔
اس طبقہ کو آپ کے خلاف کرنے کے لئے ہر غلیظ قدم اُٹھایا گیا، مزید بھی اُٹھائے جائیں گے۔ مگر آپ کے اخلاص نے آپ کو کوڑے کرکٹ سے بچا کر "تنہا" کر دیا ہے۔

شیر بننے کے دعوے دار اب دم ہلا رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کے دعوے دار اس کے اصل حلیف اور پٹھو بن کر سامنے آگئے ہیں۔قوم پرست، قوم فروشی،ضمیر فروشی اور پیرا ملٹری مافیا کے رول پر تیار ہو گئے ہیں۔فوج کے خلاف جدوجہد کے نام پر اپنے معصوم کارکنوں اور عوام کو بے وقوف بنانے والے اپنی ویب سائٹس پر سے فوج کے افسروں کے عوامی عہدوں پر قبضوں کے خلاف مضامین ہٹا رہے ہیں۔

امریکی سامراج کے خلاف نعروں سے پیٹ بھرنے والے،"ترقی پسند" اور آپ پر مغلظات کی بارش کرنے والے اب امریکہ کے سامنے روشن خیالی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔تحفظ خواتین بل کے نام پر بر صغیر کی سب سے بڑی ریلی والے سڑکوں پر مردانہ پولیس کے ہاتھوں عورتوں کی تذلیل انجوائے کر رہے ہیں۔کنگرو کورٹ کا طعنہ دینے والے ،شیر جج کی قید پر مسرور و مطمئن اور سودہ بازی کی تکمیل پر شاداں و فرحاں ہیں۔
اور آپ تنہا کر دئے گئے!۔اسلامی جمعیت پر چند روز پہلے فوجی جنتا کی ایجنٹی کا الزام لگانے والے اب نئے دلائل کی تلاش میں دلائل کے ہول سیل دلالوں کے در پر دستک دے رہے ہیں۔مگر اب ہر جھوٹا کھل کر سامنے آگیا ہے۔
اب عدلیہ کے (3 نومبر)قتل کے بعد ہیلنگ ٹچ کے نام پر کٹی گردن پر ٹانکے لگائے جا رہے ہیں۔
واہ ! بے سر کی عدلیہ کے زخم مندمل کر کے(15 دسمبرکو) قانون کی حکمرانی کا اعلان ہونے جا رہا ہے۔ بے حمیتی کی ریس کے لئے بگل بجنے والا ہے۔ اگلی اسمبلی (جس کا کا موجودہ صدر کے اقدامات کی منظوری اور اٹھارویں ترمیم کے علاوہ کچھ بھی کام نہ ہو گا) کی سیٹوں کے لئے طے شدہ فارمولے کے تحت دوڑ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔مسلم لیگ ق کے غیر جانبدار وزیر اعظم اور سندھ کے غیر جانبدار گورنر اور جہالت کے کوٹے پر بھرتی ق لیگ ،ایم کیو ایم اور فوجی جنتا کے ابدی وفادارگروہوں کے ہزاروں ہیڈ ماسٹروں کی پولنگ افسری کے اسکور کا امتحان شروع ہونے والا ہے۔
اور آپ تنہا کر دئے گئے ہیں!آپ کو قدرت نے یہ انعام صبر و خلوص کی بنیاد پر دیا ہے۔ ورنہ کئی اہم مقامات پر ان کے ایجنٹ آپ کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہے ہیں۔اس اہم اور تاریخی مرحلے پربدنامی میں سب کو شریک کرنے کی سازش سے بچنے پر جس قدر بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔

وقت ثابت کرے گا کہ بہتے دھارے میں ہاتھ دھونے والے عوام کی نظروں میں کبھی مقام نہیں بنا سکیں گے۔جھرلو پارلیمنٹ،بالائے پارلیمنٹ فیصلوں،آرڈیننس فیکٹری کے مالک صدر کے سائے تلے محض ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے کردار کی حامل اسمبلی سے بہتر، عوام کی اسمبلی ہو گی۔
اب دھمکیاں اور انتقام بڑھ بھی سکتا ہے۔ مگر راستہ یہی ہے۔

کاش! مظلوم عوام کو صحیح خطوط پردینی اور سیاسی شعور دینے،انہیں منظم کرنے،نوجوانوں کو (جو منافقت کی بجائے سیدھی اور کھری بات پر یقین رکھتے ہیں)پابندی کی وجہ سے پاکستان کو تازہ خون کی سپلائی میں رکاوٹ کا مداوا کرنے کے لئے آپ تنہا یہ کام بھر پور جدوجہد کے ساتھ کر سکیں۔

کاش !آپ میں اور فوجی جنتا کےآلہ کاروں میں جو فرق واضح ہو گیا ہے ،یہ قائم رہے اور عوام کو صحیح قیادت فراہم کرنے کا کام آپ خود کر سکیں۔

اللہ تعالٰی آپ کو اس اعزاز کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور آ پ کو پاکستان کے مظلوم اور محکوم عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی توفیق عطا فرمائے۔

http://www.dictatorshipwatch.com/modules.php?op=modload&name=News&file=…

http://www.jasarat.com/col-detail.php?auther=15&id=3681

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......