فلسطین،سامراجی عزائم اور مغربی میڈیا - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Mon, 10/25/2010 - 04:31

ء1967 میں دیگر علاقوں کے علاوہ مشرقی یروشلم سمیت وسیع مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا وسیع منصوبہ شروع کیا ہوا ھے۔ جہاں اب تک قریباً پانچ لاکھ یہودی آبادکار ایک بہترین سویلین انفراسٹرکچر کے فوائد سے نہ صرف لطف اندوز ہو رھے ہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لئے اسرائیلی فوج کومستقل طور پر مامور رکھا گیا ھے۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ ان بستیوں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے اسرائیلی معاہدوں کے ڈ رامے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ان بستیوں کے پھیلاؤ کا عمل مسلسل جاری رہا ھے۔ جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سرکاری موقف ھے کہ وہ ان بستیوں کے "بین الاقوامی قانونی جواز" کو تسلیم نہیں کرتا ۔ تاہم امریکہ اسرائیل کی اس توسیع پسندانہ پالیسی میں پچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل خفیہ مدد فراہم کرتا رہا ھے۔

امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو مبینہ طور پرلکھے گئے ایک خط کی تفصیلات کا انکشاف ہوا ھے جو فلسطینیوں کے ساتھ جاری امن مذاکرات کے کھیل میں امریکی و اسرائیلی کردار کو مذید مشکوک بنا دے گا ۔ منظرِ عام پر آنیوالی تفصیلات کے مطابق صدر اوباما نے فلسطینی مفادات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیل کو غیر معمولی سہولیات دینے کی پیشکش صرف اس ایک نکتے پر کی ھے کہ اسرائیل یہودیوں کی(غیرقانونی) آبادکاری کے منصوبے کومذید دو ماہ کے لئے مؤخر کر دے تاکہ صورتحال کو موزوں بنانے کے لئے امن مذاکرات کا ڈرامہ جاری رکھتے ہوئے درکار وقت حاصل کر لیا جائے۔ یہ راز افشا ہو جانے کے بعد مشرقِ وسطی میں امن کے نام پر جاری مذاکرات میں نہ صرف تعطل کا خدشہ پیدا ہو گیا ھے بلکہ مشرقِ وسطی کے حوالے سے امریکی سامراج کی اصلیت بھی کھل گئی ھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس امریکی پیشکش کو رد کر دیا ھے گرچہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایسے کسی خط کے وجود کے حوالے سے تردید سامنے آئی ھے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس انکار پر ناخوش ھے۔ اس خط کے متعلق متذکرہ بالا انکشافات واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نئیرایسٹ پالیسی(ونیپ) کے ڈیوڈ میکاوسکی نے کئے ہیں، جو مشرق وسطی پر امریکی پالیسی کے حوالے سے صدر اوباما کے مشیرِ اعلی ڈینس راس کے قریبی ساتھی بھی ہیں ۔ نیز اس خط کے مندرجات کی تصدیق ان امریکی یہودی سینیٹرز نے بھی کی ھے جنہیں گزشتہ ہفتے مشرق وسطی کے حوالے سے ڈینس راس نے واشنگٹن میں بریفنگ بھی دی تھی۔

ڈیوڈ میکاوسکی کے مطابق صدر براک اوباما نے اسرائیل کو یہودی آبادکاری میں مجوزہ دو ماہ کی عارضی تاخیر کے بدلے مستقبل میں مذید مہلت طلب نہ کرنے کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ ِ فلسطین اٹھائے جانے پر امریکہ کی جانب سے ویٹو کا حق استعمال کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ھے۔ نیز وائٹ ہاؤس اسرائیل کو فلسطینی ریاست کے قیام کے بعدبھی مغربی کنارے میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی بھی اجازت دے گا تاکہ وہ سمگلنگ روکنے کے بہانے فلسطینی سرحدی علاقوں میں نہ صرف اپنا کنٹرول قائم رکھ سکے بلکہ امریکہ اسرائیل کو جدید ترین ہتھیار ، سیکورٹی کی ضمانت اور سالانہ امداد میں اربوں ڈالر کا اضافہ کے علاوہ ایران کے خلاف ایک علاقائی سیکورٹی معاہدہ بھی کرے گا۔ ایک اور اطلاع کے مطابق اس مجوزہ امریکی پیکج کو تمام اسرائیلی حلقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے اس کے مندرجات پر امریکی انتظامیہ نے سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کی تجاویز کا سہارا بھی لیا تھا۔

تاہم قارئین کی دلچسپی کیلئے ایک بات بتانا نہایت ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ " آذاد" مغربی میڈیا کی جانب سے اپنی روائتی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے اس اتنی بڑی خبر سے عوام کوغافل رکھنے کی پوری کوشش کی گئی اور یا تو اسے سرے سے رپورٹ ہی نہیں کیا گیا اور اگر رپورٹ کیا بھی گیا تو کہیں خبر کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیااور کہیں اسے نہایت چھوٹی سی معمولی خبر میں بدل دیا گیا۔ مثلاً اگر ہم اس حوالے سے صرف برطانوی میڈیا کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ڈیلی انڈیپنڈنٹ اور دی ٹائمزنے بھی بشمول بی بی سی کے تقریباً تمام بڑے اخبارات نے اس کو رپورٹ کرنے سے اجتناب برتا، ماسوائے ڈیلی ٹیلیگراف کے جس نے یروشلم سے اپنے نمائندے کی بھیجی ہوئی خبر توڑمروڑ کر صرف اپنے آن لائن ایڈیشن میں شائع کی جبکہ پرنٹ ایڈیشن سے یہ خبر سرے سے غائب ہی کر دی گئی۔ ہمارے ایک برطانوی صحافی دوست نے اس حوالے سے جب بی بی سی کے ایڈیٹر برائے مشرق وسطی جرمی بوون سے قریباً چھ دن بعد دریافت کیا کہ کیا اس کو اس خبر کا علم ھے؟ تو اس نے چونکے بغیر نہایت بے اعتنائی سے کہا کہ ہاں مجھے پتا ھے اور اس کی تفصیلات ڈیوڈ میکاوسکی نے ونیپ کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دی ہیں مگر ابھی میں ایک اہم ریڈیو پروگرام کی تیاری میں تھوڑا مصروف ہوں، فارغ ہو کے اسے بھی دیکھتا ہوں (جیسے یہ کوئی انتہائی غیر اہم خبر تھی)۔۔۔ کچھ اس سے ملتا جلتا ہی سلوک دیگر ممالک کے "آذاد" مغربی ذرائع ابلاغ نے اس خبر کے ساتھ روا رکھا جس سے ایک بار پھرسامراجی میڈیا کی غیر جانبداری کا پول کھل گیا ھے۔

خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں امریکی سامراج کومشرق وسطی اور وسطی ایشیا میں اب ایک بہت ہی مختلف کھیل کا سامنا ھے۔اسے فلسطینیوں ، افغانیوں اور عراقیوں کے خلاف جنگ کی مشکل صورتحال ہی درپیش نہیں ، بلکہ وہ تمام علاقائی مفادات رکھنے والے ممالک کی طرف سے متواتر غیر متوقع چالوں سے بھی سخت پریشان ھے۔ ایک طرف سامراج کو دوبارہ سے ابھرتے ہوئے ایک نئے ترکی کا سامنا ھے جہاں خلافت ِعثمانیہ کی امین پارٹی برسرِاقتدار ھے، جنہوں نے نصف صدی تک بلا شرکت غیرے مشرق وسطی پربڑی حد تک پرامن حکومت کی۔ ترکی کی موجودہ حکومت نے متحرک سفارتی پالیسی کے طور پر خلافت عثمانیہ دور کی بغیر ویزہ نقل و حرکت کی روایت کو گزشتہ سال البانیہ ، اردن ، لبنان ، لیبیا اور شام کے ساتھ دوبارہ زندہ کر دیا ھے اور مصر کو بھی ایسے ہی معاہدے کی پیشکش کی گئی ھے۔ نیزیورپی یونین کی طرز پر مشرق وسطی میں ایک علاقائی یونین کی تشکیل کا ایک نیا منصوبہ بھی زیرِغور ھے۔ ترکی کی جانب سے جون 2010میں غزہ کے محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے کے بعد امن فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور ننگی جارحیت کی کھلی مذاحمت نے اسے ایک بار پھر عرب دنیا کی محبوبہ بنا دیا۔

ترکی نے پچھلے دو سال کے دوران روس کے ساتھ ایک مضبوط سٹریٹجک پارٹنرشپ بھی قائم کی ھے جس کے تحت دو طرفہ بغیر ویزہ سفری سہولیات نیز روسی روبل اور ترکش لیرا میں پرجوش کاروباری اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ نئی پائپ لائنوں کی تنصیب اور جوہری توانائی کی سہولیات کی تعمیر بھی شامل ھے۔ جس طرح ترکی خلافت ِعثمانیہ کا وارث ھے با لکل اسی طرح روس نے بھی اس سے پہلے سلطنتِ روم کے دور میں قریباً ایک صدی تک مشرق وسطی پر حکومت کے مزے لُو ٹے ہیں اگرچہ 1972میں مصر سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد سے مشرق وسطی میں روسی اثرو رسوخ میں بتدریج کمی آگئی تھی تاہم گزشتہ کچھ سالوں میں اس نے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں واضح کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لہذا ترکی اور روس خطے میں امریکی سامراج کا کھیل بگاڑنے اورنیا کھیل شروع کرنے کے لئے اپنے پتے بڑی چالاکی سے کھیل ر ھے ہیں اورلگتا یوں ھے کے امریکی سامراج کو اب خطے میں جاری کھیل میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزے کی بات یہ ھے کہ مشرق وسطی اور وسطی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جاری ننگی جارحیت نے متاثر علاقائی ممالک کو خوف میں مبتلا کرنے کی بجائے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اکساتے ہوئے قدرتی اتحادی بنا دیا ھے جیسا کہ خطے میں روس ، ترکی ، شام اور ایران وغیرہ کی نئی صف بندی سے ظاہر ہوتا ھے۔ شام ، ترکی اور ایران نہ صرف روایت ، مذہب ، امریکہ و اسرائیل کے منصوبوں کے خلاف مزاحمت کے سبب بلکہ اپنے کرد علیحدگی پسندوں (جن کو امریکہ اور اسرائیل کی مکمل آشیرباد حاصل ھے) کے خلاف مشترکہ جنگ نے بھی انہیں قریب آنے کا موقع فراہم کیا ھے۔شام ، ترکی اور ایران کے درمیان تیزی سے بڑھتے سماجی و اقتصادی تعاون کے علاوہ روس کے اشتراک سے سامراجی عزائم کے مدِمقابل ایک مضبوط ہم خیال علاقائی بلاک تشکیل پا چکا ھے۔ تاہم دیکھنا یہ ھے کہ کیا شطرنج کی بساط پر مہروں کی یہ نئی کروٹ مشرق وسطی میں مستقل امن کے لئے کوئی کردار ادا کر پائے گی؟

++++++++++++++++++++++++++++++
اے جنگ کے سوداگر، بس اِتنا سمجھ لینا
ترے گھر تک آئیں گے، مرے خون کے چھینٹے بھی
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
▓▓░░▓▓░░▓▓░░▓▓░░▓▓░░▓▓░░▓▓░░▓▓
(Written on October 07, 2010)

ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......