فراموش انتخاب از کاشف فاروق

Submitted by TeamAdmin on Tue, 10/02/2007 - 11:32

فراموش
کهانی کا مصنف روزانه صبح کی سیر کےلیے باهر جایا کرتا تھا۔ جس جگه اس کے محلے کی گلیاں ختم هوتی تھیں تقریباً وهیں سے آبادی بھی ختم هوجاتی، وهیں سے باهر کی طرف ایک لمبی سڑک نکلتی تھی۔ جس پر مصنف سیر کے لیے چل نکلتا۔ سڑک سے تھوڑی دور جاکر محصول چونگی کی چوکی تھی۔ جهاں پر خربوزوں اور ککڑیوں کے ٹوکرے پڑے هوتے یا دوسری طرف سبزیوں سے لدی هوئ گدھا گاڑیاں کھڑی نظر آتیں۔ آگے ایک رهٹ تھا اور اس سے آگے ٹیوب ویل اور اس کا سیمنٹ کا بنا هوا حوض۔ جس میں ٹیوب ویل کا پانی گزرتا تھا، ٹیوب ویل سے بیس تیس قدم کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی کوٹھی تھی۔ جس پر چاروں طرف سے سفیدی هوئ هوئ تھی۔ کوٹھی کے باهر کسی انجینئیر کے نام کی تختی لگی تھی۔ لیکن بظاهر وه غیر آباد اور پراسرار سی لگتی تھی۔ کیونکه وهاں پر زندگی کے نشان بهت هی کم نظر آتے تھے۔ کوٹھی سے آگے بهت دور دونوں طرف کھلا میدان تھا۔ اسکے بعد سڑک ایک تیز موڑ کھاتی اور مشن اسکول کی عمارت سامنے آجاتی۔ اس سے خاصی دور اینٹوں کے بھٹے کی چمنیاں نظر آتیں۔ اس کے بعد سڑک کے آگے ریل کی پٹڑی آجاتی جهاں سے ریلوے کی طرف پھاٹک لگا هوا تھا۔

مصنف کا روز کا یه معمول تھا که وه سڑک پر سیر کے لیے نکلتے هی نیم کے کسی پیڑ سے ایک مسواک توڑ لیتا اور اسے چباتے هوۓ سڑک پر چل نکلتا، جس جگه پر ریل کی پٹڑی سڑک کو کاٹتی وهاں سے وه واپس لوٹ جاتا، یه اس کی آخری حد تھی۔ واپسی پر وه ٹیوب ویل کے حوض سے اپنا منه هاتھ دھوتا اور چپل اتار کر مٹی میں اٹے پاؤں پانی میں ڈال دیتا۔ تو اسے عجیب سی فرحت محسوس هوتی۔ کوٹھی کے سامنے سے گزرتے هوۓ کبھی کبھار ایسا هوتا که اندر سے ایک سفید رنگ کی گیند باهر سڑک پر آگرتی جسے اٹھانے کے لیے ایک نوجوان سے لڑکا جو حلیے سے ملازم لگتا سڑک پر آتا اوربغیر کسی طرف دھیان دیۓ گیند اٹھا کر کوٹھی میں داخل هوجاتا۔ کبھی کبھار هونے والے صرف اس واقعه سے اندازه هوتا که کوٹھی غیر آباد نهیں هے۔ ورنه عام طور پر کوٹھی میں زندگی کے آثار بهت کم نظر آتے۔

ایک دن ایک چھوٹا سا عجیب واقعه هوا۔ مصنف نے دیکھا که کوٹھی کے عین سامنے سے گزرنے والی سڑک پر سفید چاک سے لفظ فراموش لکھا هوا هے۔ مصنف وهاں پر یه لفظ لکھا هوا دیکھ کر ٹھٹھک سا گیا، کیونکه اس لفظ سے اسکی بھی بعض یادیں وابسته تھیں۔ دوسرے دن جب وه سڑک پر سے گزرا تو لفظ فراموش کے حروف کچھ مٹ سے گۓ تھے۔

چند دن اسی طرح گزر گۓ۔ ایک دن مصنف نے دیکھا که کوٹھی کی سفید اور صاف شفاف دیوار پر کالے کوئلے سےلفظ فراموش لکھا هوا تھا۔ اس نے یه سوچ کر اپنے دل کو تسلی دی که شایدیه کسی شریر بچے کی شرارت کا نتیجه هے۔ چنانچه سیر سے واپسی کے دوران اس نے دیکھا که ایک ادھیڑ عمر کا شخص جو چهرے سے افسر لگتا تھا اور شب خواهی کا لباس پهنے هوۓ تھا، اپنی نگرانی میں وه لفظ مٹوا رها تھا۔ دو تین دن بعد مصنف نے اسی مقام پر وه لفظ پھر لکھا هوا دیکھا۔ ایسا کئ مرتبه هوا که مصنف جب سیر کے لیے کوٹھی کے پاس سے گزرتا تو وه لفظ دیوار پر موجود هوتا لیکن واپسی پر وه یا تو مٹایا جاچکا هوتا یا پھر مٹایا جارها هوتا۔ اسی دوران میں مصنف کو اپنے کام کاج کے سلسلے میں شهر سے باهر جانا پڑا۔

پندره دن بعد، اسکی واپسی هوئ۔ صبح کو وه سیر کے لیے نکلا تو وه لفظ وهاں لکھا هوا موجود تھا، لیکن کسی نے اسے مٹانے کی کوشش نهیں کی تھی۔ دو تین دن گزر گۓ، لیکن پھر بھی کسی نے اس لفظ کو نهیں مٹایا تھا۔ مصنف نے سوچا که ممکن هے انجینئیر صاحب کسی لمبے دورے پر نکل گے هوں۔ یا پھر ان کا تبادله هوگیا هو، اور یه بھی ممکن هے که وه بیمار هوں۔ بهر حال، یه مسئله حل نه هوسکا۔ اسی دوران میں بارشوں کا سیزن شروع هوگیا۔ لگاتار بارشیں هونے لگیں۔ سوکھے هوۓ تالاب بارش کے پانی سے بھر گۓ۔ فضا میں نمی کے باعث در و دیوار پر سبز کائ جمنا شروع هوگئ۔ انجینئیر صاحب کی کوٹھی پر لکھا هوا وه لفظ اسی طرح موجود تھا۔ لیکن اس کے حروف دھندلے پڑ گۓ تھے۔ مصنف کو خدشه هوا که کهیں یه لفظ بالکل هی نه مٹ جاۓ۔ دراصل اس لفظ سے اس کو ایک تعلق سا هوگیا تھا۔ برسات کا موسم ختم هونے لگا۔ بارش بھی کبھی کبھار هوتی تھی۔ تالابوں کا پانی کم هونا شروع هوگیا تھا۔ لوگوں نے برسات کے موسم میں اپنے مکانوں کی گری هوئ دیواروں اور چھتوں وغیره کا کام شروع کردیا تھا۔ ایک دن مصنف کو انجینئیر صاحب کی کوٹھی کے احاطے میں بھی چونے کی بوری رکھی هوئ نظر آئ۔ ظاھر هے که کوٹھی کے در و دیوار کی بھی سفیدی هونے والی تھی۔ مصنف کا دھیان فوراً لفظ فراموش کی طرف گیا۔ یه لفظ خاصا مدھم پڑ چکا تھا۔ لیکن سفیدی کے دوران تو اس نے بالکل هی مٹ جانے تھا۔ اس خیال سے مصنف کے دل میں اداسی کی ایک لهر دوڑ گئ۔ جس سے اسے بے پناه انس هوگیا تھا۔ دو تین دنوں میں پوری کی پوری کوٹھی پر سفیدی هوگئ۔ لیکن مصنف یه دیکھ کر دنگ ره گیا که جس دیوار پر لفظ فراموش لکھا تھا وهاں پر اس طریقے سے سفیدی هوئ تھی که اس پر ایک بوند بھی چونے کی نهیں پڑی تھی اور وه لفظ اپنی جگه پر جوں کا توں قائم تھا۔

اس کے بعد مصنف کچھ عرصے کے لیے دورے پر نکل گیا۔ واپس آیا اور اس کوٹھی کے پاس سے گزرا تو اس نے دیکھا که کوٹھی کے برآمدے میں تین چار بچے دھما چوکڑی مچا رهے هیں اور اندر سے خواتین انهیں شور و غل کرنے سے منع کرنے کے لیے آوازیں دے رهی تھیں۔ بچوں کو ڈانٹنے کے لیے ایک مردانه آواز بھی آئ۔ مصنف کو بے حد اچھنبا هوا که اس کوٹھی میں یه نئ زندگی اچانک کیسے اور کهاں سے پھوٹ پڑی۔ خاموش برآمدوں، شیشے والے بند دروازوں اور گونگے کمروں کی کایا کیسے پلٹ گئ۔ اس نے سوچا که ممکن هے که انجینئیر صاحب کے کهیں سے مهمان آگۓ هوں۔ دوسرے دن اس نے دیکھا که کوٹھی کے باهر والے پھاٹک کے پاس سفیدی کے ڈول ڈرم وغیره رکھے هوۓ هیں۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا، واقعی سفیدی هوچکی تھی۔ اسکی نظریں فوراً اس دیوار کی طرف گئیں جهاں وه لفظ لکھا هوا تھا۔ مصنف کا دل دھک سے ره گیا۔ دیوار پر سفیدی هوچکی تھی اور وه لفظ مکمل طور پر مٹایا جاچکا تھا۔ اس سے ضبط نه هوسکا۔ مالی کوٹھی کی باهر والی دیوار کے ساتھ لگی هوئ بیلوں کو کاٹ رها تھا۔ اس نے اسکے قریب جا کر دریافت کیا که کیا آج انجینئیر صاحب کے مهمان آۓ هوۓ هیں؟ مالی نے بتایا که نهیں نۓ انجینئیر صاحب آۓ هیں۔ پهلے والے انجینئیر صاحب پینشن لے کر چلے گۓ هیں۔ مالی نے مصنف کو بتایا که پرانے انجینئیر صاحب کا اب پینشن پر چلے جانا هی بهتر تھا، کیونکه اب ان کا دماغ ٹھکانے نهیں رها تھا۔ دراصل انجینئیر صاحب کی کوئ اولاد نهیں تھی۔ انهوں نے ایک لڑکا لے کر پالا تھا، وه اس سے بهت لاڈ پیار کرتے تھے۔ وه لڑکا هی ان کی زندگی کا محور تھا، وه اسی کو دیکھ کر جیتے تھے۔ نه کسی سے ملتے ملاتے تھے اور نه کسی کے پاس آتے جاتے تھے۔ دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر بس دو هی ان کے ٹھکانے تھے۔ اچانک وه لڑکا لو لگنے سے بیمار هوگیا اور مرگیا۔ انجینئیر صاحب کی دنیا اجڑ گئ۔ وه پھر سے اکیلے ره گۓ۔ وه بهت دکھی هوگۓ تھے۔ نوکری سے ان کا دل اچاٹ هوگیا تھا اور وه کھوۓ کھوۓ سے رهنے لگے تھے۔ ان کے دل میں هر وقت اسی لڑکے کا خیال سمایا رهتا تھا۔ انهوں نے اس لڑکے کی ایک ایک چیز کو سنبھال کر رکھا هوا تھا۔ یه کهه کر مالی نے مصنف کی طرف دیکھے بغیر اپنی قینچی اٹھائ اور بیل کاٹنے میں مصروف هوگیا۔

مصنف جو همیشه سیر کے دوران ریل کی پٹڑی کے پاس سے هو کر واپس آیا کرتا تھا آج اسے یه فاصله اتنا طویل لگا که وه بیزار هو کر ریل کی پٹڑی کو چھوۓ بغیر واپس آگیا۔

http://geocities.com/kurdupk/faramosh.htm
kashif farooq

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......