عُہود کا عَہد اساطیری از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Mon, 06/08/2009 - 13:10

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”عہد کو پورا کرو۔ بے شک تم سے عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“
”ایک دفعہ رسول پاک ﷺایک کافر بدو کے ساتھ کسی سودا کے لین دین کا معاملہ سر انجام فرما رہے تھے کہ اُس دوران بدو کو کوئی کام یاد آن پڑا۔ تو بدو نے آپﷺ سے کہا آپﷺ انتظار فرمائیے میں یہ کام کر کے کچھ دیر تک واپس آتا ہوں۔ تین روز بعد جب بدو کا اُسی جگہ سے گزر ہوا تو اُس نے نبی اکرم ﷺ کو وہیں انتظار میں کھڑے پایا تو وُہ اپنی جگہ نادم ہوا۔ کہنے لگا! میں بھول گیا تھا کہ آپ ﷺ کو میں یہیں انتظار کرنے کے لیئے کہہ گیا تھا۔۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: مجھے تمہاری وجہ سے اتنی تکلیف برداشت کرنا پڑی۔“
رسول پاکﷺ نے محسن انسانیت کی حیثیت سے ہمیشہ committedانسان بننے کی عملی تربیت فرمائی۔ مسلمان کی حیثیت سے ہمارا ہر قول اور عمل committed ہونا چاہیے۔
نفیس اور عالیٰ ظرف افراد کو لوگ ”فرخ تبار“ اس لیئے قرار دیتے ہیں کہ وُہ معمولی سے قول کو نہ صرف تب تک یا د رکھتے ہیں جب تک اُسکی تکمیل نہ ہوجائے بلکہ اُس زبانی بات کو تمام تر تکالیف اور مشکلات کے باوجود اخلاق اور کردار کی نفاست اور دیانت سے مکمل کرتے ہیں۔
دیے گئے وچن کی تکمیل کے دوران انسان حالت ِعبادت میں ہوتا ہے۔
commitment یہ بھی ہے کہ دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر لینا۔ وُہ ہم آہنگی جس کے تحت ہم کسی دوسرے کو boundکر لیں۔ جب معاملات طے ہو کرایک ہو جائے تو دوسرے کی فکر اپنی فکر ہوجاتی ہے۔ خلوص کا یہ مادہ، دِلوں میںمحبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ commitmentکی ہم آہنگی انتظار پر محیط ہے۔ انتظار کے بعد نیک جذبات سے مکمل ہونا۔
ٍ commitment کےلیئے ہمیں کسی طویل فہرست کی ضرورت نہیں۔ صرف اقرار چاہیے۔ دِ ل سے نکلنے والا ایک ایسا لفظ جو ”ہاں“میں ہو۔ چلیئے ایک مثال لے لیتے ہیں آپ ۳۲ مارچ کو کیا کر رہے ہیں؟ میں کسی کو VIVAتیار کروا رہا ہوں۔جب میرا بھی VIVAہوا توکیا مجھ کو تیاری کروا دو گے؟ ”جی ہاں“۔ بس یہ commitment طے ہوگئی۔
ایک آدھا عمل عمل کا حسن ابھی باقی ہے۔ مسائل وہاں پر ہے۔ commitment کرلینے پر نہیں۔ کٹھن سفر سے پہلے حالات کا جائزہ لے لینا چاہیے۔ یونہی زبان دے دینے سے پہلے بات کی نوعیت جان لینی چاہیے۔ کیونکہ boundایک جانب نہیں دونوں جوانب ہوتی ہیں۔
لیجئیے پھر مثال کی طرف آتے ہیں۔ اُس شخص کےVIVAکا وقت آگیاپڑھنے والے نے پڑھادیا اور اپنی پوری کوشش سے صحیح پڑھا دیا۔ ایک بہت بڑی ذمہ داری سے سرخرو ہوگیا۔ اللہ کا شکر بجا لایا۔ کہ وُہ کامیاب رہا۔ commitment مکمل ہوگئی۔ نتیجہ کا معاملہ اللہ کی جانب ہے۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے۔ بات مکمل ہوگئی۔
اکثر آدھی بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ وُہ کیسے؟ پڑھانے والے نے پڑھایا نہیں، پڑھایا تو صحیح طرح دِل سے نہ پڑھایا، پڑھنے والے نے پڑھا نہیں یا دِل سے نہ پڑھا۔ دونوں میں سے کسی نے مناسب وقت نہ دینے کی کوتاہی کی۔ نتیجتاً مقصد ادھورا رہا۔ خطرناک بات تب ہے۔ جب ہم کسی کو انتظار میں رکھے۔ ایک فرد انتظار کرے اور دوسرا بھول جائے۔ یو ں تعلقات اُدھڑتے بھی ہیں اور اَدھیر بھی ہوسکتے ہیں۔
بس آج مسئلہ عام ہورہا ہے۔یہ دور عُہدوں کے لیئے باقی ہے۔زبان سے کئیے گئے اقوال نہ جانے کس حال میں موجود ہےں۔ آج بیشتر افراد اقرار کچھ کرتے ہیں۔عُہود اُن سے مختلف رکھتے ہیں۔ شخصیت کا تضاد بکھرتا جا رہا ہے، ذہنی اُلجھنوں کا علاج ممکن نہ رہے گا، متضاد رویے انسان کو پریشان کر رہے ہیں، چند افراد اپنی credibilityکو متاثر کر رہے ہیں، ہم اپنی عادتوں کی وجہ سے تنازعات کا شکار ہو رہے ہیں،کس قدر عجیب بات ہے ؛ بلاوجہ ہم اپنی ساکھ متاثر کررہے ہیں، خطرہ کی بات یہ ہو چلی کہ چند افراد قول نہ نبھانے کو fashionتصور کرنے لگے ہیں۔ کچھ افراد کو یہ شوق ہو چلا ہے کہ لوگ اُنکے پیچھے پھرےں، انتظار میں رہے۔ افسوس! یہ ذوق اُمراءو شرفاءمیں سے کسی کا نہیں رہا۔ یہ طوق ذہنی مریضوں کاہے؛ خطرناک ذہنی مریض اس کا شکار ہے۔
ہماری ہر روز ہر سطح پر commitments جاری ہیں۔ مملکت کے معاملات سے لیکر گھر گرہستی کے نظام تک commitment ہی چلی آرہی ہیں۔ شادی کا بندھن commitment سے شروع ہوتا ہے۔ اور عمر بھر نبھانے کی صورت میں جاری رہتا ہے؛ نہ نبھ سکے تو نتائج اچھے مرتب نہیں ہو پاتے۔ ذہنی آسودگی commitmentsکی تکمیل میں ہے۔
یہ قول کا نبھانا ہی ہے جو ہمیں معاشرے میں ایک ثابت قدم انسان بناتا ہے۔ لوگ ایسے افراد کو loyalقرار دیتے ہیں۔ ایسے خاندانroyalکہلائے جاتے ہیں۔ اِن افراد کے لیئے قول نبھانا زندگی اور موت کے مترادف ہے۔
بادشاہ وقت نے قول نبھاتے ہوئے نظام سکّہ کو ایک دِن کی حکومت عطا فرمائی۔ نظام سکّہ نے برصغیر کا ایک دِن کا بادشاہ بن کرcommittedمعیاد میں مطلوبہ مسئلہ حل کیا تھا۔ یہ ہماری ثقافت، تہذیب اور تاریخ ہے۔ مہمان کی خاطر جان کی قربانی پیش کر دینا؛ ہمارے قبائل کی اپنی روایات سے commitment تھی، شہنشاہ نورالدّین جہانگیر کا ملکہ ہند نور جہاں کو سزائے موت کی سزا صادر فرمانا۔ اپنے نظام کے ساتھ commitmentتھی۔ جس میں محبوب بیوی نہیں مقتول کا انصاف عزیز ہے۔ سلام ہو committedلوگوں پر۔
چند لوگ بیشمار commitmentsکرتے رہتے ہیں۔ اِن چند لوگوں کی بات یہاں تک نہیں ہوتی کہ وُہ خود commitmentsپوری نہیں کرتے۔ بلکہ اِن سے کوئی commitmentکر لے تو اُسکو پورا بھی نہیں ہونے دیتے۔ بلکہ اُسکا قیمتی وقت انتظار کی صورت میں برباد کرتے ہیں۔ چاہیے تو یہ کہ دوسرے کو اپنی فکر کی قید سے آزاد کر دےں۔
جو خود عہد پورا نہیں کرتا، قول نبھاتا نہیں۔ وُہ کسی اور پر اعتماد نہیںکرتا۔ ایسے افراد مطلبی ہوتے ہیں۔ دوغلی پالیسی اختیاررکھتے ہیں۔ اِن کو اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔ صرف اپنا مفاد حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ سے مخلص نہیں ہوتے۔ جو خود سے مخلص نہ ہو وُہ کسی اور سے مخلص نہیں ہوسکتا۔ایسے افراد حقیقت کا سامنا حقیقی آنکھ سے نہیں کرسکتے۔ دلائل پیش کر کے اپنے آپکو بری الذّمہ کرسکتے ہیں۔
اُلجھن کچھ نہیں، اُلجھنے ہم نے خود پیدا کر رکھی ہوتی ہے۔ یہ سوال ضرور اذہان میں اُبھرا ہوگا۔ بیشتر افراد commitments کیوں نہیں مکمل کرپاتے؟ ظاہری جواب تو یہ ہے ”چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلاﺅ“۔ جب فردcommitment کی تکمیل کی صلاحیت رکھتے ہوئے ؛ اُسے مکمل نہ کرپائے تو اُسکی وجہ مختصر ہے۔ ہمیں ہر بات کا جواز بنا لینے کی عادت ہوگئی ہے اور کچھ نہیں۔ سب سے آسان جواب جو ہم گڑھتے ہیں۔ ”یاد نہیں رہا“، ”وقت نہیں ملا“۔ ذرا سوچیئے social lifeصرف آپ ہی کی ہے کیا ؟دوسرے فرد کی نہیں۔ہاں اگر بات یوں ہو جائے کہ ”بس میں نہیں“تو جواز نہیں ہوتا؛وُہ ایک مجبوری بھی ہوسکتی ہے؛ اُسکو سمجھتے ہوئے درگزر کر لینا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے جن سے ہم commitments پوری نہیں کرتے۔ وُہ ہماری priority list میں نہیں ہوتے۔ priority listانسان کی قدر اور دِل میں حقیقی اہمیت سے ہوتی ہے۔
prioritiesکی عملی مثال ایک اسلامی جنگ میں ملتی ہے۔جب ایک صحابیؓ شدیدزخمی حالت میں پانی کی طلب فرماتے ہیں۔ پانی پلانے والا اُن تک پہنچتا ہے۔ اسی دوران وُہ ایک اور صحابیؓ کی آواز زخمی حالت میں سنتے ہیں۔ جو پانی مانگ رہے ہیں۔ وُہ کہتے ہیں پہلے اُسکو پلاﺅ، مشکی جونہی دوسرے صحابی ؓکے پاس پہنچتا ہے تو وُہ تیسرے صحابیؓ کی آواز سنتے ہیں۔ اصرار یہ کیا جاتا ہے کہ پہلے اُنکو پانی پلایا جائے۔ خدمتگار جب تیسرے صحابی ؓکے پاس پہنچتا ہے تو وُہ پانی پینے سے انکار کر دیتے ہیں اور تکلیف کے باوجود شدت سے فرماتے ہیں۔ پہلے والے زخمی کو پہلے پانی پلایا جائے۔ جب پانی والا شخص پہلے صحابیؓ کے پاس پہنچتا ہے تو وُہ شہادت پا چکے ہوتے ہیں۔ پھر وُہ دوسرے صحابیؓ کی جانب بڑھتے ہیں مگر وُہ بھی شہا د ت کا عظیم رتبہ پاچکے ہوتے ہیں۔ جب وُہ تیسرے زخمیؓ کی جانب پانی لیکر پہنچتے ہے تو وُہ بھی شہید ہوچکے ہوتے ہیں۔
یہ ہر انسان کو چاہیے کہ وُہ یہ سوچے! وُہ اپنی commitments سے اپنی کیا reputeبنا رہا ہے۔کیونکہ کردار چاہے جتنا مرضی اچھا ہو مگر پہچان ہمیشہ reputationسے ہوتی ہے۔
commitment کی انسان سے commitment ہے کہ وُہ انسان کو خوبیوں والا بناتی ہے۔ جسکی reputeشان والی ہوتی ہے۔
(فرخ نور)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......