علامہ نعیمی کی شہادت , رائے عامہ کی حمایت

Submitted by imkanaat on Tue, 06/23/2009 - 08:32

علامہ نعیمی کی شہادت , رائے عامہ کی حمایت

زبیرا حمد ظہیر

مساجد میں خودکش حملوں کا کیامطلب لیا جائے؟ یہ سوال جمعہ کے روز لاہور کی معروف دینی درس گاہ جامعہ نعیمیہ کے دفتر اور نوشہرہ میں سپلائی ڈپو کی جامع مسجد میں ہونے والے خود کش دھماکوں سے پیدا ہوا ، ان دودھماکوں نے پورے ملک کو سوگوار بنادیا ہے ۔ایک ہی دن میں ملک کے دومقامات پر عین نماز جمعہ کے وقت خود کش حملے اور دونوں کا مساجد میں وقوع پزیر ہونا جہاں انتہائی افسوسنا ک ہے وہاں ان سے حملہ آوروں کی منصوبہ بندی میں تبدیلی کا اشارہ بھی ملتا ہے ۔لاہور خود کش حملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس نے ملک کے ممتاز عالم دین مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی جان لے لی ہے اس حادثے سے دینی حلقوں کو ایسا گھاؤ لگا ہے جسکی تلافی نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کی موت سے پیداہونے والی غلط فہمی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ان کی جرأت ہی تھی کہ خود کش حملوں کے خلاف سب سے پہلے ان کی آواز بلند ہوئی ' وہ دینی مدارس کے تحفظ کی گرجدار آواز تھے۔ دہشت گردوں نے ڈاکڑ سرفراز نعیمی کو نہیں بلکہ دینی مدارس کے تحفظ اور حب الوطنی کی آواز کو دبانے کی کوشش کی انھیں مارنے والے جو کوئی بھی ہوں انہیں مساجد کے ذریعے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے اظہار کو کمزور کرنے کے الزام سے بری نہیں کیا جاسکتا۔

بادی النظر میں مساجد میں خودکش حملے خطرنا ک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں انہیں کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا، ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔اگر اسے امریکا کے خلاف جنگ کہاجائے تو یہ کیسی جنگ ہے کہ دشمن اور ہمدرد ایک ہی صف میںکھڑے ہیں امریکا ڈرون حملہ کرے اور وہ مساجد اور مدارس کو شہید کردے تو برا اور اگر امریکا مخالف عناصر یہی کام امریکا کے نام پر کریں تو درست اس عمل کو کسی طور پر بھی صحیح نہیں کہا جاسکتا ،اس معاملے کا ایک اورنقطہ نظر اورایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اس پہلو کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہم ذراآپ کو اس خطے کے تبدیل ہونے والے حالات کی جانب لیے چلتے ہیں۔امریکہ نے7اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر چڑھائی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان پر قبضہ کرلیا، فضائی بمباری سے ہزاروں افراد شہیدہوئے' امریکا کی افغانستان آمد سے قبل طالبان افغانستان کے تمام قابل ذکر کمانڈرز سے لڑائی میں مصروف تھے ، افغانستان تنازعات کا شکار تھا طالبان کی وجہ سے شمالی اتحاد قائم تھا جب طالبان حکومت نہ رہی تو شمالی اتحاد بھی تنازعات کا شکار ہوگیا امریکا نے جوں جوں قدم جمانا شروع کیے تو افغانیوں کی نظروں میں طالبان کے بتلائے گئے امریکی قبضے کے خدشات حقیقت بنتے چلے گئے، دیکھتے ہی دیکھتے عام افغانیوں نے طالبان کا ساتھ دینا شروع کردیا اورامریکا کے خلاف مزاحمت تیز تر ہوتی چلی گئی ان حالات کا اثر پاکستان پر بھی برابر پڑااور دیکھتے ہی دیکھتے امریکی حملے کے ساتھ ہی پاکستان میںدفاع افغانستان کی تحریک منظم ہوتی چلی گئی یہ تحریک پاک افغان دفاع کونسل میںبدلی دوچارجماعتوں کی اس کونسل میں ملک کی تمام دینی جماعتیںشامل ہوگئیں اس تحریک نے آگے چل متحدہ مجلس عمل کی چھتری تلے تمام دینی جماعتوں کو جمع کرلیا پاکستان جیسے ملک میں جہاں مسلکی اختلافات ہمیشہ عروج پررہے ہیں اور ایک مسلک کے دوسرے پر کفر تک کے فتووں کا رواج رہا ہے ۔ اس ملک میں یہ دن بھی آیاکہ تمام دینی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم تلے متحد ہوگیں اور یہ اتحادامریکا مخالف پلیٹ فارم بن گیاجس کی وجہ سے امریکا کو دہشت گردی کے خلاف عوامی سطح پر رائے عامہ ہموار کرنے کاموقع نہ مل سکایہ عوامی دبا ؤ اتنا بڑھا کہ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کا نوٹس لے لیا امریکا نے دہشت گردی کے خلاف تمام رکاوٹوں کو ایک ایک کرکے ہٹانے کی کوششیں برابر جاری رکھیں،امریکا نے چار پانچ برس کے اس تجربے سے یہ راز پالیا کہ جب تک پاکستانی عوام مزاحمت پسندوںکے ساتھ ہیں وہ یہ جنگ جیت نہیں سکتااور نہ ہی اسے وسیع پیمانے پرپھیلائے بغیر وہ اپنے مقاصد حاصل کرسکتا ہے اس لیے امریکا نے پاکستانی عوام کی رائے تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر کام شروع کردیا جب بھی امریکا کی پالیسی بدلتی ہے اسکے ساتھ ہی پاکستان میں کئی انہونی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں ۔ وہ قوم جو امریکاکی مخالفت میں ملین مارچوں میں لاکھوں کے حساب سے سڑکوں پرنکلا کرتی تھی اس میں بھی کمی آنا شروع ہوگئی دوسری جانب امریکا نے رائے عامہ تبدیلی کے منصوبے کے ساتھ جنگ کا کنٹرول اپنا ہاتھ میںلے لیا یہ کنٹرول اسے اس لیے لینا پڑا کہ جنگ کے پاکستان کے پاس کنٹرول کی صورت میں اسے امریکامخالف عوامی حمایت کو مزاحمت پسندوں کے خلاف کردینے میں کامیابی پانا مشکل تھی امریکا کو بخوبی معلوم تھاکہ مزاحمت پسندوںکے پاس سب سے بڑااور سستا ہتھیار خودکش حملے ہیںتب اس نے اس ہتھیار کو کمزوری بنانے کی ٹھان لی اور 2004سے امریکانے ڈرون حملوں کا آغاز کردیا ان حملوں کی وجہ سے القاعدہ اور اس کی حامی طاقتوں نے روپوشی اختیار کرلی مگر شہری علاقوں میں کارروائی اور وسیع آپریشن جسکا امریکا شروع دن سے مطالبہ کرتا رہا تھا اس کا جواز پیدا نہ ہوسکا 2007ء میں ایک موقع ایسا آیا کہ اسلام آباد میں لال مسجد کے خلاف آپریشن ہوا جس سے خود کش حملوں میں تیزی آئی امریکانے القاعدہ قیادت کو جنگل او ر قبائلی علاقوں سے باہر نکالنے کیلئے ڈورون حملوں میں اضافہ کردیا جوں جوں خود کش حملے بڑھتے گئے عوام کی امریکی مخالفت سے توجہ ہٹتی گئی اور رائے عامہ امریکا مخالف قوتوں کے خلاف ہوتی چلی گئی2008 ء کے الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کا اتحاد ٹوٹا اور دینی حلقوں کی آواز میں جان بھی ختم ہوگئی مجلس کا اتحاد کیا ٹوٹا دینی حلقوں کے مشترکہ اور متفقہ موقف کو دینی حلقوں نے اپنے مسلک کی آنکھ سے دیکھنا شروع کردیا ادھر امریکی مطالبات بڑھتے چلے گئے اور حالات ایسے بنتے گئے کہ آخر کار پاکستا نی فوج کو سوات میں آپریشن کرنا پڑا جب یہ صورت حال امریکا مخالف قوتوں نے دیکھی تو انہوں نے امریکاسے جنگل میں لڑنے کی بجائے شہروں میںامریکی کمک روکنے کی تیاری کرلی آپ اگر اسلام آباد میرٹ ہوٹل پر حملے دیکھیں اودیگر مقامات پر حملوں کا جائزہ لیںتو ان میں آپ کو کہیں نہ کہیں امریکا ،امریکا کے فوجی اور اسکے خفیہ مراکز کا ذکر ضرور ملے گا،شہروں میں خودکش حملوں کے ذریعے امریکا کے تعاقب میں یہ جنگ اتنی فیصلہ کن بنی کہ امریکا مخالف قوتوں نے رہی سہی عوامی ساکھ بھی کھودی آ پ اگر ڈاکٹر سرفرار نعیمی کی شہادت کا بغور جائز ہ لیں اس بحث میں الجھے بغیر کہ کس نے انہیں شہید کیا ان کی شہادت کے بعد سمجھا کیاجائے گا یہ بات بڑی اہم ہے ڈاکٹر سرفراز نعیمی اہل سنت والجماعت کے دینی مدارس بورڈ کی نمایاںشخصیت تھے اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک میں مسلکی بنیادوں پراگر آبادی کو تقسیم کیاجائے تو ملک کے پانچ مسلکوں میں بریلوی مسلک کی آبادی 60فیصد بنتی ہے اور ملک کی کل آبادی کاساٹھ فیصد پنجاب میں ہے اور پنجاب میں بریلوی مسلک کا سب سے زیادہ اثر ونفوذ ہے ڈاکڑ سرفرازنعیمی کے قتل کا مطلب بریلوی'دیوبندی مسلک کی لڑائی نہیں بلکہ ملک کی 60فیصد آبادی کی رائے کو دہشت گردی کی جنگ کا حامی بنانا ہے اور امریکا مخالف قوتوں کے خلاف کرناہے ڈاکڑ سرفراز نعیمی کی شہادت کے بعد یہ سوال بدستور موجود ہے کہ کیا امریکا نے اپنی مخالف قوتوں کوعوامی حمایت سے محروم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے؟
email4zubair@ymail.com

I think the ,chiffon party dress chiffon party dresswedding dress wedding dress finder of our on-line shop can certainly help you,long bridesmaid dresses long bridesmaid dresses, because they are all experienced and helpful ones. We do have some competitiveness. Marriage just happens once in our life,wedding dress discount wedding dress discount, though the wedding dresses wedding dresses maybe a little expensive,cheap wedding dress cheap wedding dress, with our wedding dress finder's professional service,modest wedding dresses modest wedding dresses, you can find a pleased style wedding dress wedding dress easily. I think there must be a unique maternity bridesmaid dress bridesmaid dress for you. These days it's not uncommon for the happy couple-to-be to have started their family before the big day. Some to-be brides may get pregnant before the ceremony. Pregnant bride can wear a variety of styles of maternity wedding dresses wedding dresses,evening handbags evening handbags, and either show off her pregnancy or not.Related Article:

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......