عدلیہ کی ایمرجنسی کے تحت برطرفی کی قانونی حیثیت

Submitted by arifmahi on Sun, 03/16/2008 - 19:54

سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قانونی سکیم وزیرِ اعظم کی طابع ہے، اِس لیے ایک انتظامی حکم نامے کو دوسرا انتظامی حکم نامہ ہی ختم کر سکتا ہے۔

اگرایک وزیرِ اعظم انتظامی حکم نامہ جاری کرتا ہے تو وہ پہلے جاری کردہ انتظامی حکم نامے کی تنسیخ بن جاتا ہے۔

یہ بات اُنہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہی۔ اِس حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے، اُن کا کہنا تھا کہ صورتِ حال اتنی پیچیدہ نہیں جتنی پیش کی جا رہی ہے، جب کہ قوم ضرور ایک فیصلہ کُن موڑ پر ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ تین نومبر کا انتظامی حکم نامہ فوج کے ایک سربراہ کی طرف سے تھا جو اپنے آپ کو منتظمِ اعلی (چیف ایگزیکٹو) قرار دیتا تھا،جب کہ پارلیمان کی توثیق کے عمل کے بغیر آئین میں کوئی ترمیم ہوہی نہیں سکتی۔’اب کیونکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ترمیم ہو گئی ہے، تو پھر اِس بات کی پارلیمان سے توثیق لینا بھی مشرف صاحب کا کام ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے اپنے دلیل کو دوام دلوائیں۔‘

جب اُن سے کہا گیا کہ موجودہ سپریم کورٹ نے صدارتی حکم نامے کی توثیق کی ہوئی ہوئی ہے، تو اُن کے بقول’ڈوگر عدالت نے صرف اِس اقدام کی نابادلِ خواستہ درگزری کی ہے، توثیق نہیں، اور وہ بھی محدود مدت کے لیے۔ اِسی لیے یہ ہمیشہ کے لیے نہ تو قانون کا حصہ ہے، نہ بن سکتی ہے۔‘

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ 1973ء کے آئین میں ترمیم صرف و صرف پارلیمنٹ کر سکتی ہے اور وہ بھی دو تہائی اکثریت سے، نہ کہ انتظامیہ یا عدلیہ۔

جب اُن سے معلوم کیا گیا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد کے بارے میں اُن کاکیا کہناہے،تو اُنہوں نے کہا کہ یہ محض ایک اخلاقی دباؤ کا کام کرسکتی ہے، لیکن اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ ’ہمارا موقت ہے کہ جو تین نومبر کے اقدام تھے وہ غیر آئینی تھے، اور یہ کہ جب تک پارلیمنٹ اُن کی توثیق نہیں کرتی، وہ غیر مؤثر رہیں گے، کیونکہ اُن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔‘

وکلا کے سرکردہ رہنما کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل ملک قیوم یہ کہتے ہیں کہ قرارداد کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوتی۔ منیر اے ملک کے بقول، ’اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ قرارداد ایک قانون ہے جو ججوں کو بحال کرے گا، تو یہ ہمارا موقف کبھی بھی نہیں رہا۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ تین نومبر کے جو اقدام تھے وہ غیر آئینی تھے۔ جب تک پارلیمنٹ اُن اقدامات کی دو تہائی اکثریت سے توثیق نہیں کرتی تب تک وہ آئین کا حصہ نہیں بنتے۔ دوسری صورت میں، دو نومبر والی صورت بحال ہو جائے گی۔‘

اُن کے بقول’بات کل یہ ہے کہ صرف ایک معاشرے کا بندوبست ایسے ہاتھوں میں رہا ہے جنہوں نے اصل ججوں کو ہٹا کر جو اصل جج نہیں ہیں اُن کو بیٹھنے دیا ہے۔‘

منیر ملک کا کہنا تھا کہ وکلا یہ سمجھتے ہیں کہ جو نیا منتظمِ اعلیٰ آئے گا وہ اپنے انتظامی اختیارات کی بنیاد پر ہدایت دے گا کہ جو پرانے جج تھے اُن کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے۔

اُن سے پوچھا گیا کہ جب ایک سپریم کورٹ نے ایک بات کی منظوری دی ہو تو کیا دوسری عدالتِ عظمیٰ اُسے رد کر سکتی ہے، تو اُن کے بقول’اگرتو ڈوگر سپریم کورٹ کی بات ہو رہی ہے تو اُنہوں نے وجیہ الدین احمد کیس میں’میرٹ‘پر کوئی فیصلہ صادر نہیں فرمایا، بلکہ فنی بنیاد پر مسترد کیا ہے۔‘

’اِس لحاظ سے، اب اگر صدر کے تین نومبر سے لے کر 15دسمبر 2006ء تک کے اقدامات کو توثیق نہیں ہوتی تو آپ پرانی صورت پر واپس چلے جاتے ہیں جو دو نومبر کو موجود تھی۔‘

اُن کے بقول،ماورائے عدالت دستاویزات کی بنیاد پرموجودہ سپریم کورٹ کے جو فیصلے دیے ہیں اُن میں عدالت نے درگزری سے کام لیا ہے۔۔ جیسا کہ ایمرجنسی اور پی سی او کا نفاذ۔ جِن کی 1973ء کے آئین میں کوئی وضاحت و تشریح نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین کی جو بھی انحرافی ہوگی،اُس کی توسیخ پارلیمنٹ کو دو تہائی اکثریت سے کرنا ہوگی۔ اُن کے بقول، یہ ذمہ جنرل مشرف کا ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے اپنے اقدامات کو منظور کروائیں۔ اُن کے بقول،’یہ ہمارا ذمہ نہیں ہے، نہ ہی نئی پارلیمنٹ کا۔‘

جب اُن کو یاد دلایا گیا کہ جب ایمرجنسی اُٹھائی گئی تو یہ کہا گیا کہ اِسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ منیر ملک کے بقول، ’یہ چیلنج کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ جب ایمرجنسی اُٹھتی ہے توازخود 1973ء کا آئین بحال ہو جاتا ہے۔اور، آئین میں ترمیم صرف ایک ہی ادارہ کر سکتا ہے اور وہ ہے پارلیمنٹ نہ انتظامیہ ایسا کر سکتی ہے نہ ہی عدلیہ۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......