ظالموں کی رسی

siaksa's picture

محرم کے زخم ابھی بھرے بھی نھیں تھے کہ ایک اور زخم لگا دیا ان ظالموں نے جن کے ظلم اور  بربریت کے اگے شیطان بھی پنھاہ مانگتا ھوگا۔ کیا ھمارے علما اکرام کو ادراک نہ ھوا ھوگا ایک ظلم کو دیکھکر کہ کھلے عام اجتماّع ان شیطان لوگوں کے لیے اسان ٹارگٹ ھوتا ھے جس کی تلاش انکو ھوتی ھے۔ کیا اب بھی یہ سوچنے اور سمجنے کی بات نھیں رھی ھمارے حکمرانوں ، ساستدانوں اور علما اکرام کے لیے دس محرم کے المناک حادثے کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا شعیہ علما اکرام کے مشورے کے بعد کہ عزادران کی حفاظت کو مدنظر رکھکر چھلم کے جلوس کو بڑے پیمانے پر نہ نکالا جاے کیونکہ معصوم انسانو ں کی جان زیادہ اولین ھے اور انکوں محفظوظ رکھنا اللہ اور نبی برحق اور انکے نواسے حضرت حسین کے لیےزیادہ مقبول عمل ھوگا۔ ناکہ انکے چاھنے والوں کو ان دھشت گردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دینا جن کے اگے ھماری فورسس بھی لاچار ھوگی ھیں۔ حد تو یہ ھوگی ھے کہ زخمیوں مدد کرنے والوں کو بھی نھیں بخشا گیا اور جناح اسپتال میں ڈاکٹر اور زحمیوں کی مدد کرنے والوں انسان دوست لوگوں کو بھی نھیں بخشا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان جو اپنے قاید کی اپیل پر انسانیت کی مدد کرنے پھنچے تھے وہ بھی اپنی جان کو اللہ کے سپرد کرگیے اس ایمان کے ساتھ کے کہ انسانیت کو بچانا افضل عمل ھے ناکہ خلق خدا کو اذییت میں مبتلا کرنا۔خدا کی قسم جس کے قبضے قدرت میں تمام انسان کی جان و مال ھے وہ ضرور ان ظالموں کی رسی ایک دن کھنچے گا جو اس کے معصوم بندوں کو ایذا پھنچا رھے ھیں۔ اور پاکستان کی حفاظت کرے گا جس کو یہ ظالم تل تل بکھیر رھے ھیں۔ ظالموں اللہ سے ڈرو ۔ کب تک تم بچ پاوگے اللہ کے عذاب سے ۔ وہ وقت اب دور نھیں جب تم کو اللہ کو جواب دینا ھوگا۔ اپنے ظلم اور پرپریت کا۔

Share this
No votes yet