شیعہ مذہب کی ابتداء ۔۔۔ اور ان کا فرقوں میں بٹنا

Submitted by ownislam on Thu, 09/01/2011 - 17:56

کیا آپ جانتے ہیں کہ

شیعہ مذہب کا بانی کون تھا؟

شیعہ مذہب کب اور کن حالات کے تغیر کی وجہ سے وجود میں آیا؟

شیعہ مذہب میں کتنے فرقے پائے جاتے ہیں؟

شیعہ مذہب کی ابتداء ۔۔۔ اور ان کا فرقوں میں بٹنا

واضح رہے کہ شیعہ مذہب ابتدائے وجود ہی سے رنگ برنگ شکلوں اور طرح طرح کے بھیسوں میں رونما ہوتا رہا ہے (اور اگر يہ نظريہ تسلیم کر لیا جائے کہ شیعہ مذہب روحانی مذہب نہیں بلکہ ايک سیاسی مذہب ہے تو اس بوقلمونی اور طرح طرح کے بہروپ کو جواز سمجھ میں آ جاتا ہے)

غرض يہ ہرو قت انوکھے رنگ اور نئے طرز سے دنیا کے سامنے آتا رہا۔ تا انکہ عراق و خراسان میں صفوی سلاطین نے اس مذہب کے اصول وقواعد کو ضبط میں لانے کی صورت نکالی اور اس کے تحفظ و ترویج میں اپنے شاہی اثرات استعمال کيے۔ اور علما وقت نے بہت جدوجہد کے ساتھ اس کے اصول و فروع کی کاٹ چھان کر کے ايک صورت دی۔ اور اس کو کتابوں میں مدون کیا۔ تب کہیں جا کر اس کی رنگا رنگی اور تغیر وتبدل بند ہوا۔ اورايک حالت پر قرار نصیب ہوا۔

مگر چونکہ تغیر وتبدل اس مذہب کی خصوصیت بن چکا ہے۔ اس ليے بانیان مذہب شیعہ وقت و زمانہ کے مطابق اپنا خاص مذہب تراشتے رہے۔ اور کسی ايک خاص طریقہ پر قرار نہیں لیا يہی وجہ ہے کہ کہ اس مذہب کے اصول وارکان میں بڑا اختلال واختلاف پیدا ہوا ہے۔

بخلاف دوسرے مذاہب کے کہ گو وہ فروغ میں ايک دوسرے سے مختلف ہے مگر انہوں نے اصول کبھی نہ بدلے اور ارکان مذہب میں تبدیلی کو کبھی روا نہ رکھا۔

اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ ہو۔

خلفائے ثلاثہ رضوان اﷲ علہیم کے دور میں يہود ونصاری، مجوس ومشرکین کے دیار و امصار اﷲ تعالی کی عنایت سے صحابہ کرام و تابعین عظام رضی اﷲ عنہم کے ہاتھ پر فتح ہوئے اور کفار کو قتل وقید اور ذلت و ادبار سے سابقہ پیش آیا۔ غلامی کی ذلت برداشت کرنی پڑی اور جزيہ ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تو اس حالت سے نکلنے کے لئے اول دو خلفائے کرام رضی اﷲ عنہم کے زمانہ میں انہوں نے بہت ہاتھ پاﺅں مارے۔ میدان حرب وضرب گرم کئے۔مگر چونکہ نصرت الٰہی اسلام کی پشت پناہ تھی اس لئے بجز ذلت وخواری کچھ ہاتھ نہ آیا۔ تو انہوں نے کھلے کفر کو منافقت کا حلہ پہنانے کا فیصلہ کیا اورخلیفہ سوئم رضی اﷲ عن کے عہد میں ان میں سے بہت سے لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمانوں میں شامل ہو گئے ، اور در پردہ نور اسلام کو بجھانے اورمسلمانوں میں فتنہ وفساد او بغض وعناد کو ہوا دينے کی تدبیروں میں لگ گئے۔ ناگاہ جب تقدیر الٰہی سے دور خلافت ختم ہونے لگا تو مصریوں کی ايک جماعت نے خلیفہ ثالث رضی اﷲعنہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ۔اور ان کی اطاعت سے منکر ہوگئے۔ بغاوت کی آگ بھڑکانے میں يہ گروہ سب سے زیادہ پیش پیش تھا۔ اس گروہ کے ديگر افراد جو اطراف و اکناف خصوصاً کوفہ اور نواحی عراق میں پھیلے ہوئے تھے موقعہ غنیمت جان کر مدینہ میں سمٹ آئيے اور وہ سارے فتنہ انگیز پروگرام جو سالوں سے ترتیب دے جا رہے تھے اور جن کو دبدبہ اسلام کے سبب زبان پر لانے کی جرات نہ کر پا رہے تھے ۔ علی الاعلان ان پر عمل شروع کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کی شہادت اور خاتم خلفاءحضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی خلافت قائم ہوئی۔ تو منافقوں کے اس گروہ نے اپنے آپ کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے مخلص محبین کے رنگ میں پیش کرنا شروع کر دیا۔ اور اپنے اپ کو شعیان علی ؓ کہنے لگے۔ وہ اس انقلاب پر بے حد خوش تھے اب انہوں نے اپنے لئے حالات سازگار دیکھ کر اپنے پروگرام کو بروئے کار لانے کے لئے ہاتھ پاﺅں مارنے شروع کرد ئيے۔

اس گروہ کاسر غنہ عبدا ﷲ بن سبا یمنی،صنعانی تھا۔ جو اصلا ً یہودی تھا !!!

جو يہودی ہونے کے زمانہ میں اسلام و مسلمانوں کا کھلا دشمن تھا۔ دھوکہ اور فریب کاری کا ماہر، حرب وضرب کی چالوں سے خوب واقف، فتنہ انگیزی میں يکتا سیاسی چالوں سے آشنا، اس نے جب دیکھا کہ جو شوروش خلیفہ ثالث رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے وقت برپا ہوگئی تھی ۔ اب ماند پڑتی جا رہی ہے اور جو فتنہ ان لوگوں نے کھڑا کر دیا تھا وہ اپنی موت آپ مرتا جا رہا ہے۔ اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار کو جو منصوبہ ان کے پیش نظر تھا وہ نا کام ہوا چاہتا ہے۔ تويہودی سیاست کو بروئے کار لار کر اس نے طریقہ واردات بدل دیا۔ اور اجتماعی ہنگامہ آرائی سے ہٹ کر افراد پر توجہ دینی شروع کی۔ اورہر فتنہ پرواز کو نئے طریق سے فریب دینا شروع کیا اور ہر ايک کی استعداد کے مطابق اس کے دل میں گمراہی کی کاشت کرنے لگا۔

سب سے پہلے خاندان نبوی ﷺ کے ساتھ خلوص ومحبت کا حربہ اختیار کیا اور لوگوں کو اہل بیت کی محبت پر مضبوط و پختہ رہنے کی تلقین کرنے لگا خلیفہ برحق کی جانبداری، دوسروں کے مقابلہ میں ان کو ترجيح، اور ان کے مخالفین کی باتوں پر کان نہ دھرنے کی پالیسی اختیار کرنے کو کہنے لگا۔ اور يہ باتیں ایسی تھیں کہ ہر خاص و عام کا مطمح نظر تھیں اور کہیں سے بھی ان کی مخالفت متوقع نہیں تھی ۔ اس ليے ان کی کافی پذیرائی ہوئی اور لوگوں میں اس کا اعتماد بہت بڑھا۔ اور اس کو مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھا جانے لگا۔ اس کے بعد اس نے يہ کہنا شروع کیا کہ جناب رسول اﷲﷺ کے بعد حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے سے افضل ہيں اور نبی کريم ﷺ سے سب سے اقرب انسان ہیں۔ کیونکہ آپ رسول اﷲ کے وصی، بھائی اور داماد ہیں۔ اور حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے متعلق قرآن مجید میں جو آیات فضائل ہیں یا احادیث مروی ہیں وہ سب اور اسی کے ساتھ اپنی طرف سے احادیث گھڑگھڑ کر لوگوں میں پھیلانی شروع کیں۔ جب اس نے ديکھا کہ اس کے شاگرد اور ماننے والے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی افضلیت پر ایمان لے آئے اور ان کے ذہنوں میں يہ بات جڑ پکڑ گئی کہ تو اپنے بہت ہی خاص لوگوں اور اپنے بھائیوں کو نہایت راز داری کے ساتھ بتایا کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ پیغمبر علیہ السلام کے وصی تھے اور نبی کريم ﷺ نے کھلے الفاظ میں ان کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا تھا اور يہ کہ آپ کی خلافت قرآن مجید کی اس آیت انما ولیکم اﷲ رسولہ سے ظاہر ہوتی ہے۔

لیکن صحابہ (رضی اﷲ عنہم) نے مکر سے اور اقتدار کی خاطر آنحضرت ﷺ کی وصیت کو ضائع کر دیا اور خدا و رسول کی اطاعت نہیں کی۔ اور حضرت علی(رضی اﷲ عنہ) کے حق کو تلف کر دیا۔ دنیا کے لالچ میں آ کر دین بھی چھوڑ بيٹھے۔ اور باغ فدک کے سلسلہ میں سیدة النساءرضی اﷲ عنہا اور خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے مابین شکر رنجی ہوگئی۔ جو صلح و صفائی کے بعد ختم بھی ہوگئی تھی۔ اپنے قول کے ثبوت میں سند و دلیل کے طور پر بیان کیا۔ اور ان حواریوں کو يہ راز چھپانے کی از حد تاکیدکی۔ اور يہ کہا، کہ اگر لوگوں سے اس مسئلہ پرتمہاری بحث ہو جائے تو بطور حوالہ میرانام ہرگز نہ لینا۔ بلکہ مجھ سے نفرت و بیزاری ظاہر کرنا۔ کیونکہ میں نام و نمود اور شہرت اخواہاں نہیں۔ نہ جاہ و مرتبہ کی خواہش رکھتا ہوں۔ اس نصیحت سے میرا مقصد صرف ايک حق بات کہنا اور ايک واقعہ کو ظاہر کر دینا ہے۔

اس کی اس وسوسہ اندازی کا يہ نتیجہ نکلا کہ خود جناب علی کرم اﷲ وجہہ کی فوج میں ان باتوں کا تذکرہ اور خلفاء پر طعن و وشنام کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مناظرہ بازی اور جھگڑوں کا آغاز ہو گیا۔ حتی کہ خود حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے برسر منبر خطبوں میں اس جماعت سے اپنی نفرت وبیزاری کا اظہار فرمایا دیا۔ بعض سر گرم لوگوں کو دھمکایا اور شرعی سزا کا خو ف دلایا۔

ابن سبا نے دیکھا کہ تیر نشانہ پر بیٹھا اور شہد کی انگلی کام کر گئی اورمسلمانوں کے عقیدہ میں فتنہ وفساد کا بیج بارآور ہو گیا۔ مناظرہ بازی میں ايک دوسرے کی عزت و آبرو کا کوئی پاس نہیں رہا۔ تو اگلے قدم کے طور پر اپنے مخصوص ترین شاگردوں کی ايک اور جماعت منتخب کی اور راز داری کا حلف لينے کے بعد، پہلے بھید سے بھی زیادہ باریک اور نازک”راز“ کا انکشاف کیا۔ کہ جناب علی مرتضیٰ(رضی اﷲ عنہ) سے چند ایسی باتوں کا ظہور ہوتا ہے جو انسانی طاقت کے بالاتر ہیں۔ مثلاً کرامتیں، ذاتوں کا بدل دینا، غیب کی خبریں سنانا۔ مردوں کو زندہ کردینا۔ اﷲ کی ذات اور دنیا کے حقائق بیان کرنا۔ باریک اور گہری جانچ۔ حاضر جوابی۔ الفاظ وعبارت میں فصاحت وبلاغت۔ زہدو پرہیز گاری۔ بلند درجہ بہادری اور وہ قوت وطاقت کہ دنیا والوں نے نہ دیکھی نہ سنی۔

تم جانتے ہو يہ سب کچھ کیوں اور کيسے ہے؟ اور اس کا راز کیا ہے ؟ سب نے عاجزی کا اظہار کر کے کہا نہیں(استاد) ہم نہیں جانتے آپ فرمائيے۔ جب ان کے جذبہ شوق کو خوب بھڑکا چکا تو رازوں کو چھپانے کی تاکید مزید کر کے کہنے لگا کہ يہ سب کچھ خواص الوہیت ہیں، جولباس بشریت میں جلوہ گرہیں۔غیر فانی لباس فنا میں خود کو نمودار کر رہا ہے۔ فاعلموا ان علیا ھو الا الہ ولا الہ الاھو یعنی جان لو کہ علی ہی معبود ہیں ان کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔

اور اپنے قول کی شہادت وتائيد میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے وہ کلمات پیش کئے۔ جو بحالت وجدوکیفیت جو کبھی اولیاء اﷲ پر غالب و طاری ہو جاتی ہے۔آپ کہ منہ سے نکلے تھے۔ مثلاً انا حی الاموات میں زندہ ہوں نہیں مروں گا۔ انا ابعث من فی القبور قبروں سے مردوں کو میں اٹھاؤں گا۔ انا مقیم القیامة میں ہی قیامت برپا کروں گا۔“

چنانچہ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی، کے مصداق يہ نازیبا کلام بھی راز نہ رہا۔ اور لوگوں میں پھیلتا چلا گیا اور جناب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے سمع مبارک تک بھی پہنچا۔

آپ نے استاد شاگرد سب کو پکڑا۔ اور فرمایا تم نے ان خرافات سے توبہ نہ کی تو سب کو آگ میں جلا کر مار ڈالوں گا۔ چنانچہ سب نے توبہ کی۔ اس کے بعد ابن سبا کو مدائن میں چلا وطن کر دیا گیا۔ مگر وہ وہاں بھی اپنی حرکتوں اور غلط اور گمراہ عقائد کی تعلیم واشاعت سے باز نہیں آیا۔ اپنے خاص گر گوں کو آوزبائیجان اور عراق کے علاقہ میں پھيلا دیا۔ اور ادھر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ شام کی مہم اور کار خلافت کے سبب اتنے مصروف و مشغول رہے کہ ابن سبا اور اس کے چیلوں کی طرف توجہ نہ دے سکے۔ يہاں تک کہ اس ملعون کے پھيلائے غلط عقائد نے لوگوں کے دلوں میں جڑ پکڑلی، اور وہ خوب مشہور ہوئے۔ جناب امیر رضی اﷲ عنہ کے فوجی اس وسوسہ کو قبول کرنے اور نہ کرنے کی بناء پر چار فرقوں میں بٹ گئے۔

پہلا فرقہ

ان مخلصین اور جاں نثارساتھیوں کا ہے جو اہل سنت والجماعت کے مقتداء وپیشوا ہیں يہ حضرات، اصحاب کبار، ازواج مطہراتؓ کی حق شناسی اور ظاہر و باطن کی پاسداری نیز جنگ وجدل کے باجود سینہ کے بے کینہ اور پاک و صاف رکھنے میں جناب علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے قدم بقدم رہے۔ ان کو ہی شیعان اولیٰ، اور شیعان مخلصین کہتے ہيں اور مصداق آیت کریمہ لیس لک عليھم سلطان (البتہ میرے خاص بندوں پر تیرا غلبہ نہ ہو سکے گا) يہ حضرات ہر حیثیت سے اس دھوکہ باز شیطان کے شر سے محفوظ و مامون رہے۔ اور ان کے دماغ پر اس شیطان کے گندے عقائد کاکوئی دھبہ نہ لگ سکا۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے خود اپنے خطبوں میں ان لوگوں کی مدح فرمائی اور ان کے رويہ کو سراہا۔

دوسرا فرقہ

تفضیلی شیعوں کا تھا۔ جو حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے افضل کہتے تھے! يہ ابن سبا کے ادنی شاگردوں میں سے تھے کہ انہوں نے اس وسوسہ کے ايک مختصر سے حصے کو تسلیم کیا۔

لیکن حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ان کو بھی ڈانٹا ڈپٹا اور فرمایا کہ اگر کسی کے بارے میں، میں نے يہ سنا کہ وہ مجھے جناب شیخین رضی اﷲ عنہما پر فضلیت دیتا ہے تو میں اسے افترا کی شرعی حد 80کوڑے ماروں گا۔

تیسرا فرقہ

تبرائی شیعوں کا تھا ان کو شیعہ سبیہ بھی کہتے ہیں، يہ لوگ عقیدة صحابہ کرام (رضوان اﷲ علیہم)کو ظالم، غاصب، بلکہ کافرو منافق مانتے اور کہتے تھے۔گویا يہ اس شیطان مجسم کے درمیانی درجہ کے شاگرد تھے ۔

ام المومنین حضر عائشہ صدیقہ، اور حضرات طلحہ و زبیر رضی اﷲ عنہم سے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا تنازعہ ان لوگوں کے مذہب کے لئے موید اور ان کے خیال کےلئے محرک بن گیا۔ اور چونکہ ان جھگڑوں کی بنا خلیفہ سوم رضی اﷲ عنہ کی شہاد ت تھی۔ اس لئے لا محالہ ان لوگوں نے ان کی شان میں بھی زبان طعن دراز کی ، اور جب کہ خلیفہ سوم رضی اﷲ عنہ کی خلافت کی بنا شیخین رضی اﷲ عنہا کی خلافت پر تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف اس کے ہم خیال صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بحیثیت ثالث بانی مبانی تھے اس لئے ان بدبختوں کے تیر ملامت کا يہ حضرات بھی نشانہ بنے اور مخلصین کے ذریعہ جب بھی اس وشنام وتبری كی اطلاع حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے سمع مبارک تک پہنچی۔ آپ خطبہ عام کے وقت ان لوگوں کو برا بھلا کہتے اور ان لوگوں سے اپنی کھلی بیزاری کا اظہار فرماتے۔

چوتھا فرقہ

غالی شیعوں کا تھا۔ اور يہ ابن سبا کے خاص الخاص شاگردوں اور راز دار دوستوں کا گروہ تھا۔ اور ےہی گروہ جناب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی الوہیت کا قائل تھا۔

اور جس طرح قرآنی آیت ونفخنا فیہ من روحنا۔ (کہ ہم نے ان میں اپنی روح پھونکی ) سے دھوکہ کھا کر نصاری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اپنے مذہب کی صحت ثابت کرتے ہیں۔ اسی طرح يہ لوگ بھی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے بعض کلمات کی لچر اور دوراز کار تاویلات سے اپنے لچرو بیہودہ عقیدہ کی صحت کی کوشش کرتے رہے۔

تو يہ ہے کہ شیعہ مذہب کے وجود میں آنے کی حقیقت اور اصل بنیاد کا موجد اور بانی يہی بدباطن، نفاق پیشہ يہودی تھا۔ جيسے دنیا عبداﷲ بن سبا کے نام سے جانتی پہچانتی ہے۔ يہ ہر شخص کو اسی کے مذاق وصلاحیت کے مطابق اپنے جال میں پھانستا اور سبز باغ دکھا کر اپنے قابو میں رکھتا تھا۔

غالی فرقہ کی کمی اور تبرائی فرقہ کی کثرت کی وجہ

فرقہ وارانہ تفریق واختلاف کے بعد ايسے امور بکثرت رونما ہوئے جو تبرائی عقیدہ کے لئے مہمیز ثابت ہوئے ۔مثلاً:

اول: اتفاقاً ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ و حضرت طلحہ وزبیر رضی اﷲ عنہم سے جنگ جمل چھڑ گئی اور يہ چونکہ سب خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے قریبی متعلقین تھے اور خلیفہ سوئم حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے قصاص کے دعویدار! اس لئے لا محالہ تبرائی فرقہ کے لوگوں کے دلوں میں دونوں خلفاءکی طرف سے بغض وعناد نے جگہ بنا لی۔ اور ان کے نزدیک شیعیت مرتضیٰ گویا صرف اسی بغض کا نام قرار پایا۔ اور جناب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے وہ اقوال جو شیخین رضی اﷲ عنہا کی مدح وتعریف میں صادر ہوئے تھے اور اصول دلداری و ظاہرواری پر محمول کرتے ،جو اکثر دنیا طلب سردار برتا کرتے ہیں۔

خلیفہ اول کے ساتھ برائیوں کا بغض وعناد ہی خلیفہ دوم کے ساتھ بغض کا سبب بنا اس لئے کہ خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ کی خلافت خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے تابع تھی اور ہر دو اصحاب کا رويہ اور طریقہ زندگی ايک ہی تھا۔ يہاں تک کہ گویا ہر دو حضرات نے سیرت اور طریقہ زندگی میں ايک دوسرے کی اتباع و اقتدا کو لازمی جان رکھا تھا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے عہد مبارک میں حضرت فاروق اعظم عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ کی حیثیت وزیر ومشیر کی سی تھی۔ سیدة النساءحضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہما کو فدک سے باز رکھنے نیز دیگر تنازعات میں آپ خلیفہ اول کے ہم خیال اور شریک کار تھے۔

يہ واقعات واسباب تبرائیوں کے ذہن وخیال پر اس بری طرح حاوی ہوئے کہ وہ تعلقات و نسبت خاص جو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے تھی مثلاً داماد ہونا۔رشتہ دار ہونا۔ دین وخلافت کے اہم معاملات میں حضر ت علی کرم اﷲ وجہہ سے طلب رائے اور شریک مشورہ بنانا، ان سب کو تقیہ پر اور جناب مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی کمزوری اور بیچارگی پر محمول کرتے رہے۔

اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ اکثر برگزیدہ انصارو مہاجرین صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بھی طعن کا نشانہ بنایا جو آنحضرت صلی اﷲ عليہ وسلم کی اتباع کی طرح ان خلفاء رسول کی اتباع کرتے، ان کی مدد اورپشت پناہی کرتے ان کے احکامات کی بجاآوری کواپنے اوپر لازم اور فرض گرادنتے تھے۔

دوم يہ کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور آپ کے بعد حسنین رضی اﷲ عنہما اور آپ کی اولاد مثلاً زید شہید رحمہ اﷲ تعالی علیہ یا دیگر سادات حسینیہ ہمیشہ شام کے مروانی نواصب (خارجیوں) اور عراق کے عباسی نواصب کے ساتھ برسر نزاع اور برسرپیکار رہے اور باہم کینہ پردری فروغ پاتی رہی۔ اس لئے ادھر تو بعض نواصب گمراہی کے انتہائی درجے تک پہنچ کر روسیاہی کی زندگی گذارتے اور حضرات مذکورہ کی شان گرامی میں بڑی بے دادبی کا مظاہرہ کرتے۔شیخین اورحضرت عثمان رضی اﷲ عنہم کو نیکی سے یاد کرتے۔ بلکہ مرداینوں نے تو خود حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کی طرف داری میں شرارت و گمراہی کا اندازاختیار کر رکھا تھا۔ تو دوسری طرف تبرائی فرقہ بھی ان نواصب کے مقابلہ میں ”بغض معاویہ“ کے مظاہرہ میں پیچھے نہ رہا اور مسلمانوں کے اسلاف ہرسہ خلفاء رضی اﷲ عنہم کے متعلق ہرزہ سرائی وطیرہ بنالیا۔

چنانچہ دونوں نے اپنی اپنی طرف سے جی بھر کے داد بے حیائی دی ۔

سوم يہ کہ جناب علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اور دیگر تمام آئمہ اطہار رحمة اﷲ علہيم ان بدبخت خارجیوں کی ظاہری شرارت، بدذاتی اور خباثت و بدطینی کے پیش نظر گاہے گاہے کچھ کلمات لعن آمیز عام اوصاف کی آڑ میں ارشادفرماتے رہے۔ مثلاً نواصب کا ظلم و غضب، اہل بیت کے ساتھ تعصب وبغض،سنت رسول کو بدل ڈالنا، بدعات اختراع کرنا اور خلاف شرع احکام گھڑ لینا۔ وغیرہ

گو جناب مرتضیٰ اور آئمہ کروئے سخن نواصب کی طرف تھا، مگر حقیقت شناس حضرات سمجھتے تھے کہ بدخیال اور جلدبار گروہ نے ان کلمات کو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اور ازواج مطہرات رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی شان میں استعمال کیا کیونکہ وہ اپنے لغو عقیدہ کی بناء پر ان ہی حضرات کو ان کلمات کا محمل سمجھتے تھے ۔ جب ان لوگوں سے کہا گیا کہ اگر جناب مرتضیٰ اور آئمہ اہل بیت رضی اﷲ عنہم کاروئے سخن ان بزرگ اسلاف کی طرف تھا تو ان حضرات نے ان کے نام کیوں نہ لئے ، تو اس کا ان کے پاس ايك ہی گھڑا گھڑایا جواب ہوتا تھا کہ مصلحت وقت اور تقیہ اس کا سبب تھا۔

زمانہ امیر رضی اﷲ عنہ کے تبرائی ايک سوچی سمجھی اسکیم کی وجہ سے جانتے پوجھتے صحابہ کرام ازواج مطہرات اور خلفاء راشدین رضی اﷲعنہم اجمعین پر لعن طعن کرتے تھے۔ تو بعد میں آنے والوں کے لئے ان کا يہ طرزعمل نص صریح بن گیا۔ اور اب لعن وطعن شیعی سیاست کی بجائے مذہب بن گیا۔

حاصل کلام يہ کہ ان اورجن جيسے اسباب کی وجہ سے تبرائی فرقہ دوسرے تمام فرقوں سے قوت اور تعداد میں بڑھ گیا ۔ کیونکہ پے بہ پے ایسے واقعات رونما ہوتے چلے گئے جو ان کے عقیدہ کے ممد ثابت ہوئے۔

تبرائیوں کے مقابلہ میں غالی فرقہ کاحال روز بروز پتلا ،قوت کم اور ذلت و ادبازفزوں تر ہوتا رہا۔ اور يہ حال ہو گیا کہ عقیدہ کے کھلے بطلان اور ان وحشت انگیز کلمات کی کھلی برائی کے سبب ان کے بکواس پر اب کوئی کان دھرنے کو بھی تیار نہ تھا۔

اور اگر کوئی بطور” فیشن “يہ عقیدہ اپنا بھی لیتا تو کبھی اپنی ہی عقل کی رہنمائی یا کنبہ برادری کے افراد کی نصیحت جلد اس عقیدے سے ہٹا دیتی۔

اب رہے تفضیلی، تو وہ لا فی العیر ولافی النفیر ۔ کی تصویر بن کر رہ گئے تھے،

کہ نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔

تبرائی ان کو نہ منہ لگاتے نہ اپنے میں شامل کرتے ، او رکہتے کہ يہ اہل بیت کی محبت کے حق ادا نہیں کرتے جو تبرائیوں کے عقیدہ کے مطابق بعض صحابہ کرام اور ازاوج مطہرات کو گالی بک کر اور لعن طعن کر کے ادا ہوتا ہے۔

دوسری طرف مخلصین ان کو حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے رويہ کے خلاف چلتا دیکھ کر اور آپ رضی اﷲ عنہ کی دھمکیوں کا موردجان کر حقیر و ذلیل سمجھتے تھے ۔

اور تعجب کی بات يہ ہے کہ ہنوز تبرائی ان اہل سنت اور خارجیوں میں فرق وتمیز نہیں کرتے ۔ حالانکہ اہل سنت حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے مخلصین خاص ہیں خاندان نبوت پر دل وجان سے فدا ہیں۔ شام وعراق اور مغرب کے ناصبوں سے نہ صرف علمی اور زبانی لڑائی لڑنے میں مشغول ہیں، بلکہ تلواروں کی لڑائی میں بھی دو بدد ہو چکے ہیں۔

اور احکام شریعت کی مدد اور مروانی بدعات کا قلع قمع بھی کر چکے ہیں۔ نواصب کو نہایت بدزبان سمجھتے ہیں۔

اور تعجب بالائے تعجب اس بات پر ہے کہ تبرائیوں کے علماء جو اپنے متعلق يہ غلط فہمی رکھتے ہیں کہ وہ اسلاف کے اخبار اور اہل علم کے اقوال سے باخبر ہیں وہ بھی نواصب کا لفظ شیعان اولی پر بولتے ہیں۔

کسی دانا کیا خوب کہا ہے

ہر بیماری کی ايک دوا ہے جس سے وہ جاتی رہتی ہے

مگر حماقت کہ وہ اپنے معالج کو عاجز کرتی ہے

معلوم ایسا ہوتا ہے کہ شیعی لغت میں نواصب کا لفہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو ان کے عقیدہ کے خلا ف عقیدہ رکھتا ہو۔ اس اصول کی بناء پر غالی شیعہ، تبرائی شیعہ کو اور تبرائی شیعہ، تفضیلی شیعہ کو اورتفضیلی شیعہ شیعان اولی(مخلصین)کو نواصب جانتے اور گردانتے ہیں۔

ان شیعان اولی، کی حالت واقعی قابل رحم ہے کہ شیعوں کے تمام گمراہ فرقوں اور خارجیوں دونوں کی لعنت و ملامت کا نشانہ بنے اور سب کے ساتھ مخالفت اختیار کی۔ گویا حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی وراثت میں مسکنت اورغربت عظمی ان ہی کے نصیب میں آئی۔ اور جنگ وجدال اور مجاہدات شاقہ کےلئے ان کے صحيح وارث يہی قرار پائے۔

درحقیقت يہ حدیث ان ہی کے حال پر ٹھیک منطبق ہوئی اور ان کے انجام کا پتہ دیتی ہے۔

ان الدین بداء غریباً وسیعرو غریباً فطوبی للغرباء

انشاء اﷲتعالی اس آگے چل کر يہ بات کھلے گی کہ شیعان والی مہاجرین و انصار کی اس جماعت کا شمار ہے جن میں سے اکثر سعادت مآب جناب مرتضیٰ رضی اﷲعنہ کی ہمرکابی میں باغیوں ،اور قرآن میں تاویل کرنے والوں کے مقابلہ میں جنگ لڑ چکے تھے ! ایسے ہی جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضوان اﷲ علیہم کی رفاقت میں منکرین قرآن سے لڑائیوں میں شریک رہے تھے۔ اور ان میں سےبعض ايسے تھے جو انتہائی پرہیز گاری اور احتیاط سے کام ليتے ہوئے اور اہل کلمہ اور اہل قبلہ کے قتل سے گریز کرتے ہوئے چند عذر پیش کرکے گوشہ نشینی اختیار کر چکے تھے اور جن کے سب عذر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے قبول فرمائے تھے اور باوجود اس گوشہ نشینی کے انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے مناقب و فضائل کو پھیلانے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی محبت پر لوگوں کو ابھارنے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی عزت وتعظیم کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔چنانچہ انہوں نے اپنے عمل سے اس آیت کی ترجمانی فرمائی :۔

لیس علی الضعفا ءوعلی المرضی ولا علی الذین لا یجدون ما ینفقون حرج اذا انصحوا ﷲ ورسولہ۔ ما علی المحسنین من سبیل۔ (ترجمہ)”نہیں ہے ان ضعیفوں،مریضوں اور ان لوگوں پر جو خرچ کے لئے کوئی مال نہیں رکھتے کوئی حرج، جب کہ وہ اﷲ و رسول کے خیر خواہ ہوں اور نیکوں پر کوئی الزام نہیں“۔

اور آگے چل کر قارئین کرام کو يہ بھی معلوم ہوگا کہ بیعت رضوان کے حاضرین میں سے تقریباً آٹھ سو حضرات نے جنگ صفین میں داد جاں نثاری دی اور تین سو نے جام شہادت نوش کیا، ان کے علاوہ دوسرے صحابہ و تابعین رضوان اﷲ علیہم نے جو خدمات دین وخلافت کی انجام دیں نہ کسی زبان کو اس کے بیان کا یارا ہے نہ کسی قلم کو يہ تاب کہ ان کو رقم کر سکے۔

لیکن چونکہ دور خلافت ختم ہو چکا تھا اور خاتم الخلفاءحضرت امیر رضی اﷲ عنہ کا جام حیات لبریز ہو چکا تھا اس لئے دنیاوں طور پر يہ قربانیاں باآور نہ ہو سکیں۔ بجز اس کے کہ وہ حضرات ثواب آخرت اور جنت میں درجات بلند کے حقدارٹھیرے جو منجملہ دو بھلائیوں کے ايک بھلائی ہے ۔

امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے عہد میں شیعیت کے جنم لینے اور چار فرقوں میں بٹ جانے کے بعد شیعی مذہب میں اور بھی نئی نئی باتیں رونما ہوتی رہیں اس تغیر وتبدل اور فرقہ بازی کا راز يہ ہے کہ ہر انقلابی موڑ پر اس مذہب نے نیا چولا بدلا۔ اور نئے روپ اور نئے مذہب کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا اور اس قسم کے اکثر نقلابات آئمہ کرام کی شہادت کے موقعہ پر رونما ہوتے رہے۔

اب اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ ہو:

جب عراق کے بدبختوں نے یزید کی سیاست میں آ کر بدبخت زیاد کے بھڑکانے اور اکسانے پر حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تو کیسان نامی نے جو سبط اکبر حسن مجتبیٰ رضی اﷲ عنہ کے متبعین میں سے تھا اور آنجناب کی وفات کے بعد آپ کے بھائی محمد بن علی رحمہ اﷲ علیہ کی جو محمد بن الحنفیہ کے نام سے مشہور ہیں صحبت اٹھا چکا تھا۔ بلکہ ان عجیب عجیب علوم کا استفادہ بھی کر چکا تھا۔ امام شہید رضی اﷲ عنہ کے انتقام کا مدعی بن کر اٹھا۔ اور لوگوں کو بھی اس مہم میں شرکت کے لئے آمادہ کر لیا۔ چنانچہ حضرات شیعان اولی میں سے مثلاً سلیمان بن صرد خزاعی اور رفاعہ وغیرہ اور کچپ لوگ تبرائی شیعوں میں سے اس کے ساتھ ہوگئے۔ اور ايک جتھہ بنا کر ابن زیاد اور اس کے عاملوں سے اپنا لیڈر اور سردار بنایا۔مختار حکومت وسیاست،فن جنگ وجدال اور حرب وقتال میں ماہر تھا۔ اور سیاست زمانہ پر گہری نظر رکھتا اور مکرو فریب میں ابن سبا ہی کی طرح دسترس رکھتا تھا۔ مختار کی سرداری کے ساتھ ساتھ ابراہیم بن مالک اشترکو امیر الامراءمقرر کیا۔

ابن زیاد کے ساتھ مختار کے کئی معرکے ہوئے۔ اوربالآخر ابن زیاد مختار کے ہاتھوں مارا گیا۔ مختار نے اس کے بعد کیسان کا مذہب قبول کر لیا۔ کیسان ابتداء میں حضرات حسنین رضی اﷲ عنہما کی امامت کا قائل نہیں تھا۔ بلکہ اس کے نزديک حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے بعد،براہ راست جناب محمد ابن الحنیفہ امامت کے مستحق اور حقدار تھے۔ اس کے نزديک حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ تو اہلیت امامت اس وجہ سے کھو چکے تھے کہ انہوں نے حضرت معاويہ رضی اﷲ عنہ اور اہل شام سے صلح کر لی تھی اور امام حسین رضی اﷲ عنہ نے چونکہ بڑے بھائی کی متابعت کی تھی گو بادل نخواستہ تھی اسلئے وہ بھی اس کے عقیدہ کے معیار پر پورے نہیں تھے۔ اوروہ بھی اہلیت امامت سے محروم رہ گئے تھے ۔لہٰذا مجبور ہو کر محمد بن علی رضی اﷲ عنہما کو ہی اس نے سرمرتضوی کا خازن اور لواء امامت کا حامل قرار دے لیا تھا۔اور ان کے متعلق بیان کرتا تھا کہ ان کو جناب امیر رضی اﷲ عنہ سے وراثت میں کرامتیں اور عجیب و غریب علوم ملے ہیں۔

مختار زمانہ سازی اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو بدل کر فائدہ اٹھانے کا فن خوب جانتا تھا اور اب تو حکومت و اقتدار کی چاٹ لگ گئی تھی ۔ اس لئے بادل نخواستہ کوفہ کے عوام کو رام کرنے کےلئے کیسان کے عقیدہ کے خلاف حضرات حسنین رضی اﷲ عنہما کی امامت کا انکار نہ کرسکا۔ کیونکہ کوفہ کے عوام ان ہردو حضرات کے انتہائی مطیع وفرمانبردار تھے۔

لہٰذا اس نے اب يہ کہنا شروع کر دیا کہ امام شہید رضی اﷲ عنہ کے بعد حق امامت محمد بن علی رضی اﷲ عنہ کی طرف منتقل ہوا ہے۔ اور نواصب(خارجیوں) سے لڑنے اور امام شہید رضی اﷲ عنہ کا بدلہ لینے کے لئے ہمیں انہیں نے مامور کیا ہے۔

اور اس سلسلہ میں جناب محمد بن علی رضی اﷲ عنہ کی طرف سے جھوٹے اور جعلی مہر شہد فرامین تیار کر کے لوگوں کو دکھانے لگا۔ اور کیسان کی اپنے ساتھ موافقت بطور شہادت پیش کرنے لگا۔ چنانچہ يہ جعل سازی اور چال باز کامیاب رہی اور بہت سے لوگوں کو اپنے ادم تزویر میں پھنسا لیا ۔ اور عراق کے شہروں ویابکر، اہواز اور آزربیجان پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ تا آنکہ حضرت معصب بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جوحضرت عبد اﷲ بن زیبر رضی اﷲ عنہ کے بھائی اور امام شہید رضی اﷲ عنہ کے داماد تھے۔ کیونکہ جناب سکینہ رضی اﷲ عنہما آپ کی زوجہ محترمہ تھیں۔مختار کی بداطواریاں دیکھ اور سن کر اس پر فوچ کشی کی۔ اور اسے واصل جہنم کے کے خلق خدا کو اس کے جو روتشدد سے رہائی دلائی۔

مختار نے اپنے ماننے والوں کے لئے مختاریہ کا لقب دیا تھا۔ آخر میں تو اس نے نبوت کا دعوی ہی کر دیا تھا اورکہتا تھا کہ جبرئیل علیہ السلام ميرے پاس آتے اور امراء، صوبہ داروں اور لشکریوں کی خبریں مجھے بتا جاتے ہیں۔

ادھر جناب محمد بن الحنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ مدینہ منورہ میں مختار کے گندے اور بیہودہ عقائد و بداطواریوں پر لعنت بھیجتے تھے اوراس کے کرتوتوں سے اظہار بیزاری فرماتے تھے ۔

مختار ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے رسم ماتم عاشورہ اور نوحہ گری کی بنیاد ڈالی ،اور وہ يہ سیاست گری اور سارا کھیل اس لئے کھیلتا تھا یا کہ اہل کوفہ کو بھڑکا کر اہل شام کے ساتھ جدال وقتال پر کھڑا کرے اور اس کی آڑ میں زمام سلطنت واقتدار پر اپنا قبضہ مضبوط رکھے۔ اس کو امام حسین رضی اﷲ عنہ سے کیا واسطہ تھا۔ وہ تو خود پیغمبر بن بیٹھا تھا اوراس کے پیرو علی الاعلان صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم پر سب وشتم کرتے تھے۔

جب جناب محمد بن الحنیفہ رحمہ اﷲ علیہ کی وفات ہو گئی تو کیسانیہ انتخاب امام میں باہم مختلف ہو گئے۔ کہ اب امامت کس کی طرف منتقل ہوئی ۔ ابوکریب جو اس فرقہ کے سرداروں میں سے تھا يہ کہنے لگا کہ محمد بن علی رحمہ اﷲ علیہ خاتم الائمہ ہیں۔ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ دشمنوں کے خوف سے روپوش ہوگئے کچھ عرصہ بعد ظہور فرمائیں گے۔ اورمطلب اس سے يہ تھا کہ لوگ کسی دوسرے کے پیرو اور گردیدہ نہ ہو جائیں۔ بدستور سابق میرے ہی مطیع وفرمانبردار بنے رہیں۔

اس کے برخلاف ايک دوسرے سردار اسحاق نامی نے رسل ورسائل کے ذریعہ حضرت ابو ہاشم بن محمد بن الحنیفہ رحمہ اﷲ علیہ سے اپنا رشتہ جوڑا اور کہنے لگا کہ اب وہ امام ہیں اور انہوں نے مجھے نائب و نمائندہ مقرر کیا ہے۔ ابو ہاشم رحمہ اﷲ علیہ کے بعد اسحاقیہ فرقہ ان کی اولاد میں امامت منتقل ہونے کا قائل ہوا۔

ادھر ابن حرب جو اسحاقیہ فرقہ کا سردار تھا خود امامت کا دعوی کرنے لگا۔

ايک اور جماعت جو عبد اﷲ بن جعفر کے چیلے چانٹوں پر مشتمل اور پہلے اسحاقیہ میں شامل تھے حضرت ابو ہاشم رحمہ اﷲ علیہ کے بعد عبداﷲ بن معاويہ بن عبداﷲ بن جعفر کی امامت کی قائل ہوگئی اور کوفہ کے شیعوں کی بڑی اکثریت ان کے تابع ہو گئی ۔

کیسانیہ ہی کی ايک جماعت نے يہ کہا کہ حضرت ابو ہاشم رحمہ اﷲ علیہ کے بعد امامت اولاد ابو طالب سے منتقل ہو کر اولاد عباس رضی اس عنہ کو ملی۔ چنانچہ انہوں نے علی بن عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہم کو امام مانا اور ان کے بعد ان کے اولاد میں امامت کاسلسلہ چلایا تو آنکہ منصور دوانقی عباسی کا زمانہ آیا تو يہ سلسلہ بھی موہوم سا ہوا۔

اس سلسلہ میں عجیب تربات يہ ہے کہ يہ لوگ جن کو اپنے خیال میں امامت کا درجہ ديتے تھے اور ان کی امامت کا ڈھنڈوا پیٹتے پھرتے تھے وہ خود اس دعوے سے پورے طور پر بیزاری کا اظہار فرماتے اور اپنے آپ کو اس کھڑاک سے بے تعلق ظاہر کرتے۔اور يہ بے حیا لوگ، ان کا انکار اور بیزاری اورکنارہ کشی کو ان کے تقیہ اور دشمنوں کے خوف پر محمول کرتے،کیونکہ ہنوز مدینہ منورہ پر مردانیوں کا قبضہ و تسلط تھا ۔

شیعہ مذہب میں تقیہ نے دراصل اسی زمانہ سے جڑا اور شہرت پکڑی!

اس زمانہ میں مذہب تشیع صرف دو فرقوں۔کیسانيہ اور مختاریہ میں بٹا ہوا تھا اورکوفہ کے شیعہ اسی مذہب کے پیرو تھے۔ غالی شیعہ اور تفضیلی شیعہ فرقے بہت کم اور ذلیل و حقیر ہو کر رہ گئے تھے۔ البتہ کیسانیہ فرقہ میں زبردست پھوٹ تھی اور وہ خودکئی فرقوں پر تقسیم ہو چکا تھا ۔

شیعہ مذہب میں تیسرا انقلاب

شیعہ مذہب میں تیسرا نقلاب يہ ہوا کہ جب حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ اس عالم فانی سے دار بقاءکو سدھارنے، تو زید بن علی بن حسین رضی اﷲ عنہم نے جو زید شہید کے لقب سے مشہور ہیں۔ ہشام بن عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت پر چڑھائی کر دی۔ جب آپ کوفہ وعراق کے گرد ونواح میں پہنچے تو شیعہ مخلصین کی ايک جماعت آپ کے ساتھ ہو گئی ۔ اس لئے کہ مروانکی اولاد، اپنے عاملوں کے ظلم وستم کے سبب اور ان کو اس سے روکنے میں ناکام رہنے کے باعث ریاست کی ظاہری قابلیت اور دبدبہ سے بھی محروم ہو گئی تھی ۔حضر ت زید شہید کے اپنے ساتھیوں،مخلص شیعوں کے علاوہ تیس ہزار کی ايک جمعیت۔ تبرائی شیعوں کی بھی شامل ہو گئی تھی ۔جس کی اکثریت کیسانیوں اور مختاریوں پر مشتمل تھی ۔ يہ پورا لشکر یوسف بن عمر ثقفی سے قتال کرنے کے لئے روانہ ہوا جو اس وقت ہشام کی طرف سے امیر العراقین تھے۔

جب حضرت زید شہید رحمہ اﷲ علیہ نے تبرائیوں کا سب وشتم اورتبری سنا تو با ربار ان کو ڈانٹا، دھمکایا، اور ان لوگوں کے سرداروں کو پابند کیا کہ وہ اپنے ماتحتوں کو اس لائق نفرت فعل سے باز رکھیں۔ جب بات زبانی کلامی حددو اور سب وشتم سے آگے بڑھ کر تلوار اور بھالے تک پہنچی۔ اور محبان اہل بیت شیعوں کی عملی آزمائش کی گھڑی آپہنچی تو سارے کے سارے تبرائی، آپ کی رفاقت سے منہ موڑ کر اور آپ کے دشمنوں کے حوالے کر کے گھروں میں جا گھسے۔ اور عذر يہ گھڑا کہ ہم کو صحابہ پر تبرا بازی سے کیوں روکا۔گویا تاریخ نے اپنے آپ کو پھر دہرایا اور کوفہ کے شقی لوگوں نے جناب امام حسین رضی اﷲ عنہ سے غداری کو جو سلوک کیا تھا وہی سلوک ان کیسانیوں اور مختاریوں نے جناب زید شہید رحمة اﷲ علیہ سے کیا ۔ نتیجہ ً جناب زید شہید ہو گئے، آپ کی شہادت کے بعد مذہب شیعہ میں ايک عجیب انقلاب آیا کہ وہ جماعت جو جناب زید شہید رحمہ اﷲ علیہ کے ساتھ رہ گئی تھی۔ اس نے اپنا لقب شیعہ خالص رکھا ۔وہ اس کے قائل تھے کہ حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے بعد حضرت زیدشہید ہی امام برحق تھے اور شہادت جو ان کے باپ دادا کی میراث تھی ۔ ان کو نصیب ہوئی ۔ راہ خدا میں اپنی جان پر کھیل گئے اور يہی امام کے شایان شان ہے کہ سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرے اور تلوار لے کر اٹھ کھڑا ہو، کسی انسان کی رفاقت اور مفادقت کی اس پر کو پرواہ نہ ہو۔

اور ان لوگوں کو جو جناب زید شہید رحمة اﷲ علیہ کو مدیان جنگ میں چھوڑکر اپنے گھروں کو بھا گ گئے تھے۔روافض کا لقب دیا۔بلکہ خود جناب زید شہید رحمة اﷲ علیہ نے ان جھوٹے،بیوفا اور غداروں کے حق میں فرمایا۔ رفضنا فھم الروافض یعنی انہوں نے ہم کو چھوڑا تو وہ روافض ہوئے۔

پھر جب حضرت زید رحمة اﷲ علیہ کے يہ ساتھی اپنے گھروں کو واپس ہوئے تو ان کے سامنے اپنے لئے امام منتخب کرنے کا سوال آیا۔ اس جماعت نے اپنے لئے امامیہ لقب چنا۔ ان میں سے کچھ جناب حسن مثنیٰ بن حسن مجتبیٰ رضی اﷲ عنہم کی امامت کے قائل ہوئے ۔ جب کہ اکثریت نے امام محمد باقر رحمہ اﷲ علیہ کو اپنا امام تسلیم کیا۔ جو اس وقت اہل بیت میں سب سے افضل،عالم اور سب سے زیادہ پرہیزگار اور عبادت گذار تھے۔ اور ان لوگوں نے کیسانیہ اور مختاریہ فرقوں کو اپنے مذہب کی دعوت دینا شروع کی۔ اس مذہب کے داعی جو اس گروہ کے سردار تھے يہ لوگ تھے ۔ہشام بن الحکم احول۔ ہشام بن سالم جوالیقی۔ شیطان الطاق مثیمی اور زرارہ بن اعین کوفی۔

امام باقر رحمہ اﷲ علیہ کی وفات کے بعد اس گروہ میں پھر اختلاف ہوا۔بعض نے کہا کہ وہ زند ہ ہیں مرے نہیں ۔ اور ايک جماعت ان کی موت کی قائل ہوئی اورآپ کے صاحبزادے سے حضر ت زکریا رحمہ اﷲ علیہ کو اپنا امام مانا يہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ وہ زندہ ہیں مریں گے نہیں۔

کچھ لوگوں نے حضرت جعفر صادق رحمہ اﷲ علیہ کو امام مانا۔ يہ گروہ تعداد میں بڑھ گیا کیونکہ بہت سے لوگ ان کے ہم خیال ہوگئے۔ انہوں نے امامیہ کا لقب اپنے لئے مخصوص قرار دے دیا۔ اور حضرت زید شہید رحمہ اﷲ علیہ کو امام ماننے والوں کو زیدیہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔

پھر امامیہ فرقہ میں سرداروں کی بھرمار کے سبب مذہبی نزاع رونما ہوا۔ ہررئیس اور سردار نے اپنی خواہش کے مطابق نیا مذہب تراشا اور اپنا گروہ علیحدہ بنایا، اس لئے لا محالہ سرداروں کے ناموں پر ہشامیہ،سالمیہ، شیطانیہ،مشمیہ اور زراريہ فرقے ان میں پیدا ہوئے۔

شیعہ مذہب میں چوتھا انقلاب

شیعوں کی مذہبی تاریخ میں يہ چوتھا بڑا فرقہ اور ہولناک انقلاب تھا جو حضرت جعفرصادق کی وفات پر رونما ہوا۔ کچھ نے یہ عقیدہ قائم کر لیا کہ جناب صادق زندہ ہیں، غائب ہو گئے ہيں،پھر ظاہر ہو گئے۔ ايک فرقہ آپ کی موت کا قائل ہوا۔ اور اس نے آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے جناب کاظم موسی بن جعفر رحمہ اﷲ علیہ کی امامت کو تسلیم لیا۔ ايک دوسرے گروہ نے جناب اسماعیل بن جعفر رحمہ اﷲ علیہ کو امام ٹھہرایا۔

پھر اس اسماعیلوں میں بھی تفرقہ پڑا۔ بعضوں نے کہا کہ اسماعیل آخری امام ہیں ان کے بعد کوئی امام نہیں اور ان کے متعلق وحی لایموت کاعقیدہ قائل لر لیا۔ اور بعض دوسرے ان کی موت اور ان کے بيٹے محمد بن اسماعیل رحمہ اﷲ علیہ کی امامت کے قائل ہوئے۔

پھر ان میں بھی پھوٹ پڑ گئی ۔اس سبب سے کہ جناب اسماعیل بن جعفر ؒ حضرت جعفر ؒ کی حیات میں وفات پاگئے۔ اور اپنے پيچھے اپنا بیٹا محمد چھوڑا۔ وہ اپنے دادا کے ہمراہ بغداد گئے وہیں وفات پا کر مقام قریش میں مدفون ہوئے۔

ان کا ايک غلام مبارک نامی تھا ۔ جو خوش نویسی،نقش ونگار سازی اور دستکاری میں یکتائے روز گار تھا۔عبداﷲ بن میمون اقداح اہوازی اس غلام سے آکر ملا۔ اور حضرت جعفر صادق رحمہ اﷲ علیہ کی وفات کے بعد اس سے کہا کہ میں تیرے آقا ومولیٰ حضرت محمد رحمہ اﷲ علیہ کے شیعوں میں سے ہوں،غلام کے ساتھ کچھ عرصہ اٹھنے بيٹھنے اور بے تکلف ہونے کے بعد تنہائی میں اس سے کہا کہ مجھے تیرے آقا سے بعض ايسے اسرار اور بھید ملے ہیں کہ ان کی ميرے سوا کسی کو انہوں نے ہوا بھی نہیں لگنے دی۔ پس مقطعات قرآنی کے متعلق فسلفیانہ انذار کی باتیں تبانی شروع کیں کچھ شعبدے،سحر اور طلسمات بھی مبارک کو کھائے اور سکھائے۔ اس کے متعلق محمد بن زکریا رازی نے کتاب المحاریق میں کچھ ذکر کیا ہے۔ يہ عبداﷲ بن میمومن اقداح ملحد، بدعقیدہ، زندیق اور دین اسلام کا پکا دشمن تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اسلام میں فتنہ وفساد برپاکرے لیکن کوئی مناسب موقعہ نہیں ملتا تھا ۔ اب مبارک کی دوستی میں اس کو اپنی ناپاک خواہش برلانے کا موقعہ میسرآگیا تھا ۔

خلاصہ کلام يہ کہ کچھ عرسہ کے یارانہ کہ بعد دونوں میں باہم کچھ عہد و پیمان ہوئے اور دونوں ايک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ مبارک تو کوفہ چلا گیا اور وہاں اسماعیلی مذہب کا داعی بن کر اس کی دعوت دينے لگا اور اپنے فرقہ کا نام مبارکیہ اور قرمطیہ رکھا کیونکہ مبارک اس کانام اور قرمطہ لقب تھا۔ادھرعبداﷲ بن میمون کو ہستان عراق پہنچا اور کوہستانیوں کو طلسمات و نیر نجات کے زور پر اپنے جال میں پھانسا، وہ اپنے ہر متبع کو ان الفاظ میں نصیحت کرتا۔ استرذھبک وذھابک ومذھبک (اپنے سونے، اپنے سفر اور اپنے مذہب کو چھپا) اس نے اپنے گروہ میمونیہ کا لقب دیا۔

جب کوہستانیوں کی طرف سے اس کو پورا پورا اطمینان ہو گیا اور اپنا بازو قوی بنا لیا تو خلف نامی ايک شخص کو اپنا نائب بنا یا اور دعوت مذہب کی ہدایت کر کے کو اس کو خراسان ،قم اور کاشان کی طرف روانہ کیا اور خود بصرہ کا رخ کیا۔ اور وہاں کے لوگوں کو اگمراہ کرنے اور بہکانے میں مشغول ہو گیا۔

خلف پہلے طبرستان گیا اور وہاں کے شیعوں کو مذہب میمونیہ کی دعوت دينے لگا۔ وہ کہتا تھا کہ اہل بیت کا مذہب يہی ہے اور اہل البیت ادری بما فیہ (صاحب خانہ ہی گھر کی چیزوں کو اچھی طرح جانتاہے) اورمسلمانوں کی اکثریت نے اپنے اپنے الگ مذہب گھڑ لئے ہیں اسی وجہ سے وہ مصائب اور تکالیف کا شکار ہوئے اورلذائد وطیبات سے يہی دست!

وہاں سے اس نے نیشاپور کا رخ کیا۔ اور وہاں کے شیعوں کو بھی اسی آفت میں ڈالا۔ اور خودنیشا پور کے کسی گاﺅں میں اقامت پذیر ہوگیا۔ اہل سنت کو جب اسکی فتنہ پروازیوں کی خبر ہوئی تو وہ اس کے پيچھے پڑگئے اور وہ چھپ کر بھاگ گیا۔ وہاں سے رے پہنچا اور وہاں بھی يہی فتنہ انگیزی شروع کر دی۔ غرض جب تک زندہ رہا۔یہی کرتا رہا۔جب وہ مر گیا تو اس کے بیٹے احمد نے باپ کی جگہ لے لی۔ اور غیاث نامی ايک شخص کو اپنا نائب بنا کر عراق میں بھیجا۔غیاث ادیب، شاعر،مکار اور غدار آدمی تھا۔

فرقہ باطینہ کا بانی صبائی اور اول منصف یہی ہے۔”مذہب باطنیہ کے اصول کے بیان میں“ نامی کتاب اسی نے لکھی ہے۔جسے دل پذیر اشعار اور امثال عرب سے مزین کیا۔اور اپنی دلیل میں آیات واحادیث کے بہت حوالے دیتا ہے۔ وضو،نماز، روزہ، حج، زکوة اور دیگر احکامات کو باطنی فرقہ کے مطابق بیان کر کے ثبوت میں لغت کے حوالے پیش کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ ان سب امور سے شارع (علیہ السلام) کی يہی مراد ہے ،عام لوگوں نے ان کے جو معانی و مطالب سمجھے ہیں سراسر غلط ہیں۔

غیاث کے زمانہ میں باطنی فرقہ نے بڑا زور پکڑا۔ اور عوام کو يہ نیا اور آسان طریقہ جس میں بے باکی اور پوری پوری آزادی ملتی تھی بہت مرغوب اور دلچسپ معلوم ہوا، یہی وجہ کہ ہزاروں جاہل اور فاسق وفاجر اس کی اطاعت کے جال میں پھنس گئے۔ اور دور دراز کے شہروں سے سمٹ سمٹ کر اس کی طرف آنے لگے۔ یہ واقعہ202 ءکا ہے۔ جس کی طرف حدیث صحیح کے الفاظ ظہور الایات بعد الائتین، میں صاف اشارہ ملتا ہے کہ”دوسری صدی کے بعد نشانیوں کا ظہور ہوگا“ اس وقت شیعہ مذہب گویا کفر وفلسفہ کا معجون مرکب بن گیا تھا۔ جس کی مثال بول وبراز اور خون حیض کے ملغوبے کی سی تھی۔

شیعہ کے فرقوں کے تفصیل

غالی شیعوںمیں 24فرقے

فرقہ کیسانیہ میں6فرقے

فرقہ زیدیہ میں9فرقے

فرقہ امامیوںمیں39فرقے اور اسماعیلی فرقہ بھی اس میں شامل ہیں

غالی شیعوں کے (24)چوبیس فرقے

1۔ فرقہ سبائیہ (عبداﷲ بن سبا کے پیروکار)

2۔ فرقہ مفضلیہ (مفضیل صیرفی کے ساتھی)

3۔فرقہ سیرغیہ (سیرغ کے ہم عقیدہ لوگ)

4۔فرقہ بیزغیہ ( بیزغ بن یو نس کا گروہ)

5۔فرقہ کاملیہ (کامل کے ساتھی)

6۔فرقہ مغیریہ (مغیرہ بن سعید عجلی کی ٹولی)

7۔فرقہ جناحیہ ( يہ لوگ تناسخ ارواح کے قائل ہیں)

8۔فرقہ بیانیہ ( بیان بن سمعان لہدی کا گروہ)

9۔فرقہ منصوريہ (ابو منصور عجلی کا گروہ)

10۔فرقہ غمامیہ ( جس کو زبیعہ بھی کہتے ہیں)

11۔فرقہ امويہ (يہ حضرت علی ؓ کو آنحضرت کی نبوت میں شریک مانتا ہے)

12۔فرقہ تفویضیہ (ان کا عقیدہ ہے کہ اﷲ نے دنیا کے امور حضور کو تفویض کر دئيے)

13۔فرقہ خطابیہ ( ابو الخطاب محمد بن ربیب کا گروہ)

14۔فرقہ معمريہ (معمر کا گروہ جو امام جعفر کی امامت کے قائل ہیں)

15۔فرقہ غرابیہ (ان کا عقیدہ ہے کہ جبریل نے غلطی سے وحی حضور کو پہنچائی)

16۔فرقہ ذبانیہ ( جو حضرت علیؓ کو الہ مانتاہے)

17۔فرقہ ذمیہ (يہ حضرت علی ؓ کی الوہیت کا قائل ہے)

18۔فرقہ اثنینيہ (يہ آنحضرت اور حضرت علی ؓ دونوں کو خدا مانتا ہے)

19۔فرقہ خمسیہ (جو پانچوں کو خدا مانتا ہے)

20۔فرقہ نصیريہ (ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی ؓ میں خدا حلول کر گیا ہے)

21۔فرقہ اسحاقیہ (يہ بھی حضرت علی ؓ میں خدا کے حلول کے قائل ہیں)

22۔فرقہ غلبانيہ (يہ بھی حضرت علیؓ کی الوہیت کے قائل ہے)

23۔فرقہ زراميہ ( يہ تارک فرائض اور حرام کو حلال بتاتے ہیں)

24۔فرقہ مقغیہ (يہ حضرت حسینؓ کے بعد مقغ کو خدا مانتے ہیں)

کیسان۔ اوراس کے فرقے

فرقہ کیسانيہ کے متعلق يہ واضح رہے کہ کیسان کے متعلق تحقیق میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے جوہری صاحب صحاح اللغت کی تحقیق ہے کہ مختار کا نام ہی کیسان ہے اور صاحب قاموس اوراکثر اہل لغت بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ لیکن ثقہ اور معتمد اہل تاریخ کے نزديک وہ ايک الگ شخصیت ہے جو حضرت حسن مجتبیٰ رضی اﷲ عنہ کا پیرو اورجناب محمد بن الخیفہ کا شاگرد تھا۔ آپ سے اس نے اکتساب فیض کیا ہے اور بہت سے عجیب وغریب علوم حاصل کئے۔ اسی کیسان کے متعلق اور پیرو کاروں کو کیسا نیہ کہتے ہیں۔

کیسان کے پیروؤں کے چھ گروہ اور فرقے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔

1۔فرقہ کریبیہ

2۔ فرقہ اسحاقیہ

3۔فرقہ حرمیہ

4۔فرقہ عباسیہ

5۔فرقہ طاریہ

6۔فرقہ مختاریہ

زیدیہ۔ اور اس کے فرقے

اس فرقہ کے اصحاب اپنے آپ کو جناب زید بن علی بن الحسین رضی اﷲ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔مگر اختلاف سے يہ بھی محفوظ نہیں رہے۔ اور نو فرقوں میں بٹ گئے جن کا بیان یوں ہے۔

1۔فرقہ خالص زیدئے

2۔فرقہ جاردویہ

3۔فرقہ جریریہ

4۔فرقہ تبریہ

5۔فرقہ نعیمیہ

6۔فرقہ دکنیہ

7۔فرقہ خشبیہ

8۔فرقہ یعقوبیہ

9۔فرقہ صالحیہ

امامیہ ۔ اور اس کے فرقے

اب رہا فرقہ امامیہ توان کے مذہب کا دارومدار ان کے تمام فرقوں کہ عقیدہ يہ ہے کہ زمان تکلیف شرع ائمہ فاطميہ سے کبھی خالی نہیں رہتا۔ اس ايک خرقہ سے (39)انتالیس فرقوں نے جنم لیا۔ جن کی تفصیل ذيل میں ملاحظہ ہو۔

1۔فرقہ حسینیہ

2۔فرقہ نفسیہ

3۔فرقہ حکمیہ

4۔فرقہ سالمیہ

5۔فرقہ سیطانیہ

6۔فرقہ زراريہ

7۔فرقہ یونسیہ

8۔فرقہ بدائيہ

9۔فرقہ مفوصہ

مذکورہ بالا فرقے غلاة امامیہ کے ہیں يہ باتفاق کافر ہیں۔ ان سب کا مشترک عقیدہ دائمہ ستہ کی امامت ہے۔

10۔فرقہ باقريہ

11۔فرقہ حاضريہ

12۔فرقہ ناوسیہ

13۔فرقہ عماریہ

اسماعیلی ۔ اور ان کے فرقے

اسماعیلی بھی اگرچہ امامیہ میں شامل ہیں مگر الگ شاخ ہے اس لئے ان فرقوں کا علیحدہ ذکر کیا جاتا ہے۔ يہ فرقے جن کی تعداد8 بلکہ 10 ہے۔ ان کا مشترک عقیدہ يہ ہے کہ جناب جعفر ؒ کے اس قول صريح یعنی ان ھذا لامر فی الاکبر مالم یکن بہ عاھة۔ يہ امامت بڑے بيٹے میں ہی رہے گی ،تاآنکہ اس میں کوئی عیب نہ ہو۔ کے مطابق بڑے بيٹے اسماعیل امام ہیں۔

1۔فرقہ مبارکیہ

2۔فرقہ باطینہ

3۔فرقہ قرمطیہ

4۔فرقہ شمطیہ

5۔فرقہ میمونہ

6۔فرقہ خلیفہ

7۔فرقہ برقعیہ

8۔فرقہ جنابیہ

مذکورہ فرقوق میں سے شمطیہ، محمونیہ، خلیفہ، برقعیہ، اور جنابیہ قرامطہ میں داخل ہیں۔ اور ان ہی میں ان کا شمار ہے۔ اس لئے اسماعیلیہ فرقو ں کو آٹھ بتایا ہے۔ ورنہ وہ تعداد میں زیادہ ہیں۔ چنانچہ اسماعیلی اصول کی بنا پر نواں فرقہ سبعیہ ہے۔

9۔فرقہ سبعیہ

10۔فرقہ مہدویہ

24۔فرقہ افطحیہ

25۔ اسحاقیہ

26۔فرقہ قطعیہ

27۔فرقہ موسویہ

28۔فرقہ ممطوریہ

29۔فرقہ رجعیہ

30۔فرقہ احمدیہ

31۔فرقہ امامیہ

يہ گویا اس فرقہ کہ اصل اصول ہيں ۔لفظ امامیہ جب بغیر کسی قید کے بولا جسائے تو یہی فرقہ مراد ہوتاہے۔ يہ اثنا عشریہ ہیں ان کے نزدیک سلسلہ امامت اس طرح ہے۔ پہلے علی موسی الرضا ان کے بعد ان کے بیٹے محمد تقی جو الجواد کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کے بعد ان کے بیٹے علی نقی معروف بہادی۔ ان کے بعد ان کے بيٹے حسن عسکری ان کے بعد ان کے بیٹے محمد مہدی ان کو يہ قائم منتظر بھی مانتے ہیں۔ اور ان کے خروج کے منتظر ہیں۔ پھر ان ہی کے وقت غیبت اور سن وسال میں مختلف الخیال کر کے گویا ان کی مجموعی تعداد انتالیس تک پہنچتی ہے۔

32۔جعفریہ

http://www.ownislam.com/articles/urdu-articles/1400-shia-mazhab-ki-ibte…

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.