شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے

anawazkhan's picture

شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے
امیر نواز خان

شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جہان دنیا بھر کے دہشت گرد موجود ہیں اور جن کی وجہ سے حکومت پاکستان کی رٹ اس علاقہ میں موثر نہ ہے۔ ان لوگوں نے ملک کی خودمختاری اور سیکورٹی کو چیلینج کر رکھا ہے جس کی ان دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جاسکتی ہے۔
قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں،یہ بات جناب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہی ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہین دی جاسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ خودکش حملوں کے باعث سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہوئی اور حکومت کی پرکشش مراعات کے باوجود سرمایہ کار پاکستان مین سرمایہ کاری کیلئے راغب نہ ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے. ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کے ۸۰ فیصد تانے بانے وزیرستان سے ملتے ہیں۔
وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنا چاہئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہوتے ہیں۔ان حملوں کو وہاں کے رہائشی اپنے لیے خطرہ محسوس نہیں کرتے کیونکہ اور یہ حملے اپنے ہدف کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ وزیرستان کےرہائشیوں کے مطابق ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حمائیتی۔
لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں فاٹا کے لوگ بری طرح تنگ ہیں۔ دہشت گردی اور غیر ملکی جہادیوں کی بہتات کی وجہ سے فاٹا کے بہت سے لوگ اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے علاقوں مین آٓباد ہو گئے ہیں اور فاٹا ایریا اور صوبہ ک پی کے دوسرے علاقوں مین غربت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے.
ناروے کی اوسلو یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کار فرحت تاج جن کا تعلق بھی پاکستان کے صوبۂ پختونخوا سے ہے، کہتی ہیں کہ میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور کئی صحافیوں کو ان علاقوں میں صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے کسی حد تک آزادانہ صحافت کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی و آزاد میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ آزاد میڈیا پاکستانی میڈیا کی خبروں پر ہی انحصار کرتا ہے، جو خبرین گھڑتے ہیں، اور اس کے علاوہ بھی جن ذرائع کی مدد لیتا ہے وہ بھی قابل اعتبار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔ فرحت تاج کے مطابق ڈرون حملوں کے بارے میں میڈیا کی سوچ میں ابھی تک تبدیلی نہیں آئی اور وہ پاکستان کے لوگوں کو ’اب بھی گمراہ کر رہا ہے۔
فرحت تاج کے مطابق اگر ان لوگوں سے بات کی جائے جو ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو وہ یہ بتائیں گے کہ ڈرون حملے اپنے نشانے پر لگتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ کھل کر نہیں بتاتے۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ یہ بات صرف وہی نہیں کہہ رہیں۔ ’گزشتہ برس پشاور میں ایک بڑا جرگہ ہوا تھا جس میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور ادیبوں سمیت ایک ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی تھی اس میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں اگر کسی چیز سے مطمین ہیں تو وہ ڈرون حملے ہیں۔
حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہیں۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ ہمین یہ نہ بھولنا چاہیے کہ 40،000 معصوم پاکستانی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور پاکستان کو معیشت کو 70ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
یہ درست ہے کہ ہماری آزادی و خودمختاری کو ختم کرنے کی پہل اسامہ بن لادن کی جماعت القائدہ اور دوسرے غیر ملکی جہادیوں نے کی تھی جنہوں نے شمالی وزیرستان کے بڑے حصہ پر قبضہ کرکے وہان پاکستان کی حاکمیت اور قانون کی عملداری ختم کرکے رکھ دی ہے ۔ کیا یہ ہماری ریاست کی ذمہ داری نہ ہے کہ ہم تمام غیر ملکی جہادیوں کو پاکستان سے نکال باہر کریں؟ اور ہم نے کس حد تک اس ذمہ داری کو نبھایا ہے۔ غیر ملکی جہادی،القائدہ اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان مین ویزا لے کر نہیں آئے ۔ اور نہ ہی غیر ملکی جہادیوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج کی گلوبل دنیا میں پاکستان کے ہمسائے اور دوست ممالک ،پاکستان میں دہشت گردوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اور دہشت گردی کے واقعات و حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔

Share this
Your rating: None Average: 5 (2 votes)