شرافت ےا بزدلی

Submitted by Mudassar Faizi on Thu, 04/23/2009 - 09:04

شرافت ےا بزدلی
مدثر فےضی
لاہور
چند دن پہلے تھکا ہارا سونے کی تےاری کررہا تھا، رات کا تقرےباً اےک بج چکا تھا کہ موبائل فون پر اےک بہت ہی پےارے دوست حاجی محمد اشرف کا مےسج ملا، اس نے لکھا تھا کہ اےک مسئلہ پےدا ہوگےا ہے اور صبح 9 بجے تھانہ نولکھا جانا ہے۔ مجھے بڑی حےرت ہوئی کےونکہ اشرف بہت ہی شرےف آدمی ہے اور لڑائی، جھگڑے، تھانے و کچہری سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔ پےشے کے لحاظ سے انجےنئر ہے، کھانے پےنے کا شوقےن ہے لےکن بنےادی طور پر شرےف آدمی ہے تو اسے تھانے کےوں جانا پڑ رہا ہے۔ مےں نے اسی وقت اشرف کو فون کےا اور پوچھا کہ کےا مسئلہ ہے؟ اس نے بتاےا کہ اس کا برادر نسبتی محمد الےاس، لاہور رےلوے سٹےشن کے قرےب اےک ہوٹل مےں مےنجر ہے اسے آج صبح سے پولےس نے گرفتار کےا ہوا ہے، ابھی تھوڑی دےر پہلے پولےس والے اپنی گاڑی پر اس کے گھر لائے تھے اور پھر مارتے ہوئے واپس تھانے لے گئے ہےں۔ وجہ پوچھی تو اس کے علم مےں بھی نہےں تھی۔ صبح اشرف نے دوبارہ فون کرکے بتاےا کہ اس کی الےاس سے تھانے مےں ملاقات ہوگئی ہے، پولےس والوں نے اس پر بہت تشدد کےا اور ساری رات مار پےٹ کرتے رہے ہےں۔ وجہ ےہ ہے کہ اس کے ہوٹل مےں اےک جاپانی شہری آکر ٹھہرا ہوا تھا جس نے شکائت کی کہ اس کا لےپ ٹاپ کمپےوٹر اس کے کمرے سے غائب ہوگےا تھا اور اس نے پرچہ درج کروادےا ہے جس مےں الےاس کو بھی نامزد کےا گےا ہے۔ دوسرے ےہ کہ پولےس نے الےاس کی باقاعدہ گرفتاری نہےں ڈالی بلکہ روائتی انداز مےں اس کو غےر قانونی طور پر پکڑکر زےر حراست رکھا گےا ہے اور پولےس والے ےہ بھی کہتے ہےں کہ ہم مزےد اےک ہفتہ اس کی گرفتاری نہےں ڈالےں گے۔ اشرف بہت پرےشانی مےں مےرے پاس آےا اور سارے حالات بتائے، مےں نے کہا کہ ہمارے پاس قانونی طرےقہ موجود ہے، عدالتےں آزاد ہوچکی ہےں اس لئے تم فکر مت کرو ہم بےلف کے ذرےعے الےاس کو برآمد کروالےتے ہےں۔ اشرف کے ادھےڑ عمر سسر بھی اس اثناءمےں مےرے دفتر پہنچ چکے تھے اور اپنے 28 سالہ نوجوان بےٹے کی ےوں غےر قانونی گرفتاری و حراست سے بہت پرےشان تھے۔ مےں نے ان کو بھی تسلی دی اور اپنے اےک انتہائی مہربان دوست اور لاہور بار کے سابق جنرل سےکرٹری لطےف سراءصاحب کو بھی اپنے دفتر مےں بلا لےا اور ان کے توسط سے الےاس کی غےر قانونی حراست کے خلاف رٹ پےٹےشن تےار کروالی۔ ابھی ہم اسے دائر کرنے جانے والے تھے کہ اشرف کا اس کے اےک قرےبی سسرالی عزےز سے لندن مےں رابطہ ہوا۔اس نے کہا کہ ابھی آپ کےس دائر نہ کرےں، مےرے کچھ تعلقات ہےں، مےں کوشش کرتا ہوں کہ پولےس والے الےاس کو چھوڑ دےں۔ چنانچہ وہ سارا دن ہم نے انتظار مےں گذار دےا لےکن نتےجہ کچھ نہ نکل سکا۔ اگلے دن صبح سےشن کورٹ مےں رٹ دائر کی گئی، ڈسٹرکٹ اےنڈ سےشن جج صاحب نے بےلف مقرر کےا اور بےلف نے الےاس کو تھانہ نولکھا سے برآمد کرلےا جہاں اس کو غےر قانونی حراست مےں بغےر گرفتاری ڈالے رکھا گےا تھا۔ اس سے اگلے دن ڈسٹرکٹ اےنڈ سےشن جج صاحب کی عدالت مےں الےاس بھی حاضر ہوا اور متعلقہ پولےس اہلکاران بھی SHO سمےت حاضر تھے۔ وہاں الےاس کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی عدالت سے منظور کرائی گئی۔ جب الےاس اور اس کے بوڑھے والد کو کچھ اطمےنان ہوا تو الےاس نے اپنی کہانی سنائی جس کو سن کر اےسا لگا کہ پاکستانی پولےس کے نزدےک انسانےت کی کتنی اہمےت ہے۔ وہ اپنی ”دےہاڑی“ کے چکر مےں کسی بھی شرےف شہری کے ساتھ کےا کرسکتے ہےں! الےاس نے بتاےا کہ اس پر بے انتہا تشدد کے ساتھ ساتھ اس کے منہ مےں پےشاب ڈالا گےا۔ اس کا موبائل فون، پرس جس مےں 11000 روپے موجود تھے اور گھڑی پولےس نے چھےن لی۔ اس کے بعد الےاس نے ہم سے
سوال کےا کہ سر! کےا اس ملک مےں کسی غرےب کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہےں؟ مےں نے جواب دےا کہ اگر آپ اور آپ کے گھر والے سٹےنڈ لےں تو ہم آپ پر انسانےت سوز تشدد کرنے والے پولےس اہلکاران کے خلاف کارروائی کرنے کو تےار ہےں، پہلے تو الےاس مان گےا لےکن جب اس نے ےہ بات اپنے گھر والوں کو بتائی تو انہوں نے ہاتھ جوڑ دئےے اور کہا کہ ہم پولےس والوں سے ٹکر نہےں لے سکتے، ہم ”شرےف“ لوگ ہےں۔ الےاس نے اس موقع پر کہا کہ سر مےں تو سٹےنڈ لےنے اور پولےس کے خلاف کارروائی کرنے کو تےار ہوں لےکن مےرے والدےن اور باقی گھر والے نہےں مانتے، وہ کہتے ہےں کہ تم ابھی ”بچے“ ہو اور تمہےں نہےں پتہ کہ پولےس والے کےا کچھ کرسکتے ہےں۔ الےاس نے کہا کہ مےں مجبور ہوں اور پولےس والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہےں کروں گا۔ اس کے بعد پولےس نے الےاس سمےت دےگر دو ملزمان سے پچاس ہزار روپے مزےد وصول کئے اور مدعی (جاپانی شہری) نے کےس واپس لے لےا۔ الےاس نے اس مےں پچےس ہزار روپے ادا کئے تھے۔ ےعنی ظلم بھی اس معصوم پر ہوا اور سزا بھی اسے ہی ملی۔ الےاس نے روتے ہوئے مجھ سے معذرت کی اور دوبارہ کہا کہ سر مےرے والد صاحب کہتے ہےں کہ ہم شرےف لوگ ہےں اس لئے پولےس سے ”متھا“ نہےں لگا سکتے، لےکن سر مےں کہتا ہوں کہ جےسا سلوک مےرے ساتھ ہوا ہے اےسا سلوک کسی اور کے ساتھ ہو تو شائد وہ تھانے مےں جا کر خودکش دھماکہ کردے، سر! شرافت اور بزدلی مےں کچھ فرق تو ہونا چاہئے نا!

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......