شاہی گلدان

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 01/16/2008 - 09:13

شاہی گلدان نئے گھر میں قدم رکھنے کے بعد بھی موجود تھا۔ اور صرف موجود ہی نہیں تھا بلکہ اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے بھی ہمیں پریشانیوں میں ڈال گیا تھا۔ اب اسے رکھا کہاں جائے.
’رکھنے‘ کی یہ بات ابّا کو کچھ ایسے ناگوار گزرتی تھی ‘ جیسے کسی نے اچانک شاہی تاج ان کے سر سے چھین لیا ہو۔
’کیا مطلب‘. ارے شاہی گلدان ہے۔ کیوںنہ اسے ڈرائنگ روم میں رکھ دیا جائے۔‘
’ڈرائنگ روم؟‘ فرحین کے لیے اپنے نئے گھر کے خوبصورت ڈرائنگ روم میں اس کی کہیں کوئی جگہ نہیں تھی۔ کیونکہ گھر آنے والے رئیس زادے اور دوست نہ اسے کوئی اینٹک پیس سمجھتے اور نہ اس سے وابستہ کہانی میں ان کی آنکھیں گم ہوچکی شہنشاہیت کی سڑک تک جانے کی ہمت کرسکتی تھیں۔ بس وہ کھل کر ہنس دیتے— ’بھابھی. تم بھی نا. کس کباڑی بازار سے لیا کیا.‘

اشرف کے لیے اس شاہی گلدان کی کشش صرف اتنی تھی کہ ابا کا احترام اس عمر میں کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا۔ اور ابّا وقت کے ساتھ آج بھی شہنشاہیت کے اسی قلعے میں قید تھے، جہاں سے شاید باہر نکلنا اب اس عمر میں ان کے لیے آسان نہیں رہ گیا تھا۔
ہاں، اگر اس نشانی سے جڑی نفرت کو دیکھنے کی بات تھی تو وہ بس امّی کی آنکھوں میں دیکھی جاسکتی تھی— جہاں گلو کو ما تو اتر آیا تھا، مگر آنکھوں میں چھائے گھنے اندھیرے کے کہرے کے باوجود شاہی گلدان کی تاریخ تک، بے رحم ماضی کے اوراق پلٹتی ان کی آنکھیں اگرچہ کچھ بول نہیں پاتیں، لیکن خاموشی میں ساری کہانی سنا ڈالتیں. ’کہ لو کہاں کا شاہی گلدان۔ بچوں نے توایک گھر بنا لیا اور ایک ہم تھے کہ شادی کے بعد تمہارے چھپّر کھٹّے میں آئے تو ساری زندگی تنگی کے سائے میں اسی چھپر کھٹ میں گذر گئی۔ بس لے دے کر زندگی بھر اس شاہی گلدان کی کہانی کہتے رہے. کہ بڑے بادشاہوںکے خاندان کے ہو۔ لیکن کہاں کے بادشاہ۔ تین وقت کی روٹی تو سڑک کا بھکاری بھی پیدا کر لیتا ہے.‘
٭٭

میرا نام اشرف ہے۔ اشرف جہانگیر۔ بچپن میں تاریخ کی کتابیں مجھے پسند نہیں تھیں۔ بڑا ہوا تو تاریخ سے نفرت ہوگئی۔ تاریخ میرے لیے ایک خوفناک آئینے کی مانند تھا، جس میںاپنی صورت دیکھنے کا احساس ہی مجھ میں خوف بھر دیتا تھا۔ تاریخ کے اوراق مجھے بے رحم لگتے تھے۔ کیونکہ بچپن کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی گھر کی ٹوٹتی محرابوں سے جھانکتی خاموشی مجھے زخمی کرتی تھی۔ ابّا نے میری پیدائش کے بعد ہی خود کو مسجد کے حوالے کردیا تھا۔ تنگی کے اس ماحول میں جب امّی کا چڑچڑاپن اور غصہ ابّا کے کمزور وجود پر ظاہر ہوتا تو ابّا سب کچھ بھول کر بس اس شاہی گلدان کو لے کر اپنی بے چارگی دکھانے آجاتے۔
’لو میں کیا کروں۔ سب تقدیر کے کھیل۔ کسے معلوم تھا کہ تیموریہ خاندان کا زوال آجائے گا اور ایک دن ان کی اولادیں پیسے پیسے کو ترس جائیں گے.
صبا مجھ سے دو سال چھوٹی تھی۔ امّی ابّو کو لڑتے دیکھ بس خاموشی سے اپنے کمرے میں بند ہوجاتی— اور تکیے پر گر کر آنسو بہانا شروع کردیتی۔

تاریخ کے بے رحم اوراق پر ’تیموریہ ٹھونگا بھنڈار‘ کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھتا ہوں اور جھلک میں ابّا کی بدقسمتی کی اُس کہانی کو محسوس کرسکتا ہوں، جب انہوں نے شروع، شروع ایک چھوٹی سی دکان میں ٹھونگا کا یہ کاروبار شروع کیا تھا۔ پیٹ کی دوزخ کو شانت کرنے کے لیے شاہی تخت سے ٹھونگے کی طرف ہجرت کرتے ہوئے کتنا کچھ ٹوٹ گیا تھا ان کے اندر۔ تاریخ کے اس بے رحم قلعے میں جھانکتے ہوئے وہ آنسو آج بھی نظر آجاتے ہیں، جو صبح ابّا کی خشک آنکھوں میں نظر آیا کرتے تھے۔ سرخ پھولی آنکھیں رات کی ساری روداد سنا ڈالتیں کہ ’شاہی حجرے‘ سے حال کے مقبرے کو دیکھنے کا تصور کیسے ہوتا ہے— ابّا حال سے پریشان تھے اور تاریخ اُنہیں خوش کرتی تھی۔

شاید انہی دنوں تاریخ سے نفرت کی کہانی کی شروعات ہوچکی تھی۔ تاریخ کی یادگاریں اور مقبرے مجھے بس ان گھنونے مکڑی کے جالوں کی طرح لگتے، جن میں پھنس کر کسی کیڑے کی موت ہوگئی ہے۔ اس وقت کی جد و جہد میں ہم بھی انسان کہاں تھے۔ کیڑے تھے— مردہ کیڑے اور شاہی داستانیں سنانے والا ٹوٹا پھوٹا گھر کسی مقبرے کی طرح لگتا، جس سے نجات حاصل کرنے کی فکر لمحہ لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔
کیا تاریخ کو کسی تشریح و توضیح کی ضرورت ہوتی ہے؟ یا تاریخ کسی نہ کسی صورت میں زمانہ اور عہد کے مطابق خود کو نئے سانچے میں ڈھال لیتا ہے۔ میری بڑھتی عمر کے ساتھ گھر کے اجنبی سے ماحول میں امیدکی ایک نئی کرن چمکی تھی— اور ساتھ ہی تبدیل شدہ تاریخ یا اس کی تشریح کا ایک نیا چہرہ دیکھا تھا میں نے۔ دو جگہ سے میری بحالی کی خبر آئی تھی۔ ایک جگہ نئے کالج میں لکچرر کے طور پر اور دوسرا ایک رپیوٹیڈ فرم میں فیلڈ افسر کے طور پر— میں نے یہ بات ابّا اور گھر کے کسی فرد کو نہیں بتائی۔ کیونکہ ان میں سے ہی کسی ایک کو جوائن کرنے کے فیصلے پر پہنچنا تھا مجھے۔ یہ احساس تھا کہ غربت کی اس تاریخ میں تھوڑی سی تبدیلی تو آئے گی۔ مگر یہ تبدیلی ایک نئی شکل میں بھی آئی تھی— یا تبدیلی ایک نئی تعریف کے ساتھ آئی تھی۔

اُنہیں دنوں شہر کے ایک کالج میں طالب علموں کی دو جماعت کے درمیان جھگڑا ہوا اور یہ جھگڑا اتنا طول پکڑا کہ سارا شہر اور شہر کی چھوٹی چھوٹی سڑکیں دہشت میں ڈوبے نوجوانوں کی چیخ و پکار سے لرز گئیں۔ جلدی جلدی دکانیں بند ہونے اور شٹر گرنے لگے۔ جو دکانیں کسی وجہ سے کھلی تھیں وہ لوٹ لی گئیں۔ لوگ چھتوں سے، کھڑکیوں سے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ اس وقت شہر کے کالجوں میں مشتعل طالب علموں کی ایسی جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں تھی۔
میں کمرے سے باہر آیا تو اماں اور صبا گھبرائے ہوئے میری طرف دیکھ رہے تھے۔
’’ابا نہیں آئے.؟‘‘
پتہ نہیں. کہاں ہوں گے؟
سڑک سے آرہی چیخ و پکار کی آوازوں کے درمیان کی میں خوفزدہ تھا۔ دو گھنٹے بعد ابّا لوٹ آئے۔ آواز میں لرزش. یہ بتانے کہ کمبخت نے دکان لوٹ لی۔ ٹھونگے سڑ ک پر پھینک دیئے۔ مشین کے کل پرزے الگ کردیئے۔ ڈرائنگ روم میں رکھے شاہی گلدان کو دیکھتی ابّا کی آنکھیں پڑھتا ہوا میں تاریخ اور تشریح و توضیح کی نئی سڑک سے گزر رہا تھا۔ ابّا خوفزدہ اور پریشان ہونے کا ناٹک کر رہے تھے۔ ابّا کہیں سے بوجھل یا پریشان نہیں تھے۔ اس بات سے بھی نہیں کہ دکان لوٹ لی گئی تو اب یہ گھرکیسے چلے گا۔ ان کی نظریں ایک ٹکی شاہی گلدان پر گڑی تھیں اور اسی احساس نے مجھے تاریخ کی نئی تعریف سے متعارف کرایا تھا۔ موجودہ وقت کے بھیانک اوراق کی جگہ انہوں نے سنہری تاریخ کو ترجیح دی تھی۔
’اب کیا ہوگا؟‘ اما نے آنگن سے برآمدے میں بھاگتے چمگادڑ کو دیکھ کر گردن جھکالی تھی۔ تب میں آہستہ سے بولا تھا— اب ابّا کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ میری نوکری لگ گئی ہے۔
نہیں، شاید اس لمحہ ابّا کی آنکھوں میں جو چمک لہرائی تھی، وہ ان تیموریہ بادشاہوں کی آنکھوں میں بھی نہیں ہوگی، جب وہ جنگ کے میدان سے فتح کے احساس کے بعد محل لوٹتے ہوں گے۔
٭٭
محبت آپ کی زندگی کو با معنی بنا دیتی ہے۔ شاید اب بہتر اور معقول وقت ہے کہ اس دبلی پتلی سی، لمبی سی فرحین کا تذکرہ بھی کردیا جائے۔ میری چھت کے سامنے والی چھت پر آنچل کا کونا بار بار ہونٹوں سے دبائے اور بار بار آنچل کے سرکنے سے پریشان۔ میری نگاہوں کا سامنا ہوتے ہی گھبرا جانے والی فرحین۔ کب صبا کی دوست بن کر گھر آنے جانے لگی، پتہ بھی نہیں چلا۔ لیکن اپنی آمد سے اس نے گھر کے سارے لوگوں کا دل جیت لیا تھا— ابّا کے سر میں تیل دیتی ہوئی۔ کبھی امی سے چھین کر روٹیاں بناتی ہوئی۔ صبا کے بال سنوارتی یا گھر کے چھوٹے چھوٹے کام میںاپنی حصہ داری کا احساس دلاتے ہوئے اس نے خاموشی سے جیسے اعلان کردیا تھا— ’میرا گھر ہے، میں جو کچھ کر رہی ہوں اپنے گھر کے لیے کر رہی ہوں— پہلے تھوڑی سی بات چیت پھر جھجھک۔ پھر ابّا امّی اور صبا کی موجودگی میں تھوڑا سا مذاق۔
’’نماز کیوں نہیں پڑھتے ہیں یہ.؟‘‘
’’زیادہ کتابیں پڑھنے سے کیا ہوگا؟‘‘
’’کم سے کم جمعہ کے دن تو مسجد جایا کریں۔‘‘
’’ابّا آپ تو بولا کریں۔‘‘
یا پھر صبا سے کہ تمہارے بھیّا ہر وقت غصے میں کیوں رہتے ہیں؟
اور ایک دن خاموشی سے گھر کے ایک گوشے میں، میں نے اس فرحین کی بچی کو تنہا پاکر اچانک سینے سے بھینچ لیا تھا— ’اوئی اللہ‘ کہہ کر بھاگنے کے بجائے وہ جیسے میرے سینے میں خرگوش کی طرح دبک گئی تھی۔ آنکھیں نیچی کیے۔ لرزتی ہوئی۔ مگر جیسے برسوں سے پیاسی ندی کو تھوڑا سا سکون ملا تھا۔
وہ آہستہ سے بولی تھی— ’ کوئی آجائے گا۔‘
’’پھر آپ شرارت کرتی ہی کیوں ہیں؟‘‘
اس کے کان کی لویں سرخ تھیں۔ آنکھوں کی پتلیاں لرزتی ہوئی۔ آنچل ذرا سا سر کا تھا۔ وہ ہونٹ دابے آہستہ سے بولی۔
’نماز پڑھنے جایا کیجئے، گھر میں رونق رہتی ہے۔‘
دیکھئے فرحین. میں نے ایک جھٹکے سے اسے بانہوں میں دوبارہ بھینچا تھا— میں مذہب کا احترام کرتا ہوں۔ تم اس ٹوٹتے اجڑتے گھر کی ویرانی دیکھ رہی ہو نا. اس گھر نے اور اس گھر سے پیدا شدہ بہت سارے سوالات نے میرے اندر کے مذہب کو کب مجھ سے دور کردیا، میں نہیں جانتا— مگر ڈرو مت۔ میں اتنا دور نہیں گیا کہ واپس بھی نہ آسکوں، مگر مجھے میرے عقیدوں کے لیے مجبور مت کرنا۔‘
جاتے جاتے، وہ سہمی سہمی سی آنکھوں سے اتنا کہہ گئی تھی۔ چلو تمہارے بدلے کی نماز میں پڑھ لوں گی۔ تمہارے لیے اللہ میاں سے معافی بھی مانگ لوں گی۔
آنچل برابر کرتی فرحین تیزی سے بھاگی تھی— ٹھیک اسی لمحہ جلد بازی میں دیوار سے ٹکرانے کے دوران سوکھی سفیدی کا ایک بڑا جھول گرا تھا۔ شاید یہ حال کی دستک تھی۔ اور تاریخ کا ذرا سا حصہ اس لمحاتی رومانی ماحول کے احساس سے ٹپک گیا تھا۔
پرانے گھروں کی دیواروں پر چھپکلیاں اتنی کیوں گھومتی ہیں۔ اچانک ہی میری نظر دیوارکی جانب گئی تو وہاں دو چھپکلیاں چوکنّی نگاہ سے میری طرف دیکھ رہی تھیں. میں چھت کی کمزور اور بارش میں لرز رہی دیواروں کو دیکھ رہا تھا۔ آس پاس کی دیواریں بھی چولہے کے دھوئیں سے سیاہ پڑ گئی تھی. چھت کو سہارا دینے کے لیے بانس کے موٹے لٹھے لگے تھے۔ اب یہ لٹھے صدیاں گزارتے ہوئے تھکے اور پکے آم کی طرح گرنے کے انتظار میں تھے۔ ایک خوشبو ابھی چپکے سے مجھے چھو کر گئی تھی۔ ایک مکان پرانا پڑ گیا تھا۔ ابّا کے ٹھونگے لوٹ لیے گئے تھے— اور بے نور شاہی گلدان کی تاریخ کی چمک ابّا کی آنکھوں کو سحر زدہ کر گئی تھی— فرحین جاتے جاتے اپنے جسم کی خوشبو اور انگارے میرے جسم میں چھوڑ گئی تھی— اور دو نوکریوں میں سے ایک کو چننے کے خیال میں، اسی لمحہ دہلی والی رپیوٹیڈ مگر پرائیویٹ فرم کو دل ہی دل میں اپنی منظوری دے دی تھی. چھوٹے آنگن سے بڑے آنگن کا سفر— سیاہ تاریخ سے دہلی کی زندہ اور موجودہ تاریخ کو دیکھنے کی باری تھی— جہاں قدم قدم پر تیموریہ بادشاہوں کی نشانیاں خوبصورت ماضی کی دستکیں سنا رہی تھیں۔
مٹھی بھر تاریخ
گھر میں میرے دہلی جانے کی خبر پھیل گئی تھی۔ اس لیے رات دسترخوان پر طلبائ کے ہنگامے یا ابّا کی دکان لوٹنے کی کہانی کہیں نہیں تھی۔ ابّا کی آنکھوں میں ماضی کی حسین سڑک نظر آرہی تھی، اور ماضی کی ان سڑکوں پر قلعہ معلی کی لال اور سفید برجوں کے کلس چمک رہے تھے.
’تو تم دہلی جارہے ہو.‘
ابّا کی آواز ایسی تھی، جیسے اپنے آبا و اجداد کے گھر جارہا ہوں— اپنا پشتینی مکان دیکھنے۔
رات کے کھانے کے بعد ہم چھت پر آگئے— آسمان پر چاند روشن تھا۔ بادلوں کا دور دور تک کہیں پتہ نہیں تھا۔ چھت پر پلنگڑیاں بچھ گئی تھیں. ایک پر میں، ایک پر صبا اور سامنے والے کارنس کے قریب ابّا کی پلنگڑی بچھی تھی۔ ابّا چاند نہارتے ہوئے جیسے شاہی گلدان کی تاریخ میں گم ہوچکے تھے.
’’مئی کا مہینہ تھا وہ. اب بھلا کیا یاد رہے گا۔ باتیں بھی پرانی پڑ گئیں۔ اور ایک دن باتیں بس پرانی ہو کر کھوجاتی ہیں۔ پشتینی کہانیاں بس ماہ و سال ہوتی ہوئی ایسی معلوم ہوتی ہیں جیسے سارا واقعہ ابھی ان آنکھوں کے سامنے گزرا ہو.
صبا اٹھی۔ ابا کے پائتانے بیٹھی. آہستہ سے سر دبانے لگی۔ ابّا کی آنکھیں بند تھیں۔
’بہت بھاری غدر ہوا تھا۔ غدر۔ لیکن ایک تاریخ کے گزر جانے کے بعد صرف تاریخ کے چھینٹے رہ جاتے ہیں۔ اور ان چھینٹوں کو اگلے زمانے کے لوگ اپنے اپنے طریقے سے دہراتے ہیں۔ غدر تو بس غدر تھا۔ کون غدّار تھا، اپنے یا انگریز۔ کہنا مشکل— 90سال کے بوڑھے پینشن یافتہ بادشاہ کو کمی کس بات کی تھی— بیٹھے بٹھائے لاکھ روپے مل جاتے تھے— انگریز حاکم ان کی صلاح سے ہی کام کیا کرتے۔ سات یا آٹھ بجے ہوں گے۔ بادشاہ تسبیح خانے میں تھے۔ شاید نماز پڑھ چکے تھے— کھڑکی کے پاس آئے تو دریائے جمنا سے دھوئیں کے بادل منڈرا رہے تھے۔ بادشاہ نے انجانے خطرے کی بو سونگھ لی۔ گھبرائے ہوئے واپس آئے۔ اونٹ برداروںکی ٹولی کو بھیجا کہ ماجرا کیا ہے۔ اونٹ بردار واپس آئے اور گھبرائے لہجہ میں بتایا کہ میرٹھ سے غدّاروں کی پلٹن آئی ہے۔ تلواریں گھماتے، گھوڑے دوڑاتے پاگل فوجی ہیں جو میرٹھ سے ہنگامہ کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ صاحب لوگوں کے بنگلے جلا دیئے گئے۔ جو انگریز سامنے آیا، اس کا قتل کردیا گیا. سارے شہر میں بھگدڑ مچ گئی۔ میرٹھ سے آئے انقلابی شہر میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ انگریزوں نے ہوشیاری سے اسے بند کرا دیا۔ دہلی پر موت برس گئی۔ غدر کی آگ دور تک پھیل گئی اور اس مار کاٹ ، تباہی کے بعد تھوڑا سکون ملا تو یہ آوازیں گردش کر رہی تھیں۔ خلق خدا کا، ملک بادشاہ کا. لیکن تجربوں کی لمبی راہ داری سے گزرنے والا بوڑھا بادشاہ جانتا تھا کہ ان غداروں نے ان کی زندگی کے چین و سکون کے دن چھین لیے ہیں۔ آنے والے دن بربادی کی کہانیاں لے کر آئیں گے۔ اور وہی ہوا تھا.
ابّا نے گلا کھکھارا. ایک لمحے کو چپ ہوئے پھر جیسے ایک بار پھر وہ تاریخ کی تاریک گپھاؤں میں قید تھے۔
’بادشاہ کی مجبوری تھی، غداروں کا ساتھ بھی دینا تھا اور نہیں بھی دینا تھا۔ ان سے دوبارہ بادشاہ بننے اور انگریزوں کو بھگانے کی اپیل کرنے والی ان کی ہی رعایا تھی— اور اس وقت بادشاہ کی مجبوری تھی یا تیموریہ سلطنت کی سنہری تاریخ کا دباؤ کہ بادشاہ ان غداروں سے ناراض ہوتے ہوئے بھی ان کی ہربات ماننے کو مجبور تھے. اور پھر. بھلا انگریز مکاروں کے سامنے، یہ جذباتی ہندستانی کب تک چلتے—کشمیری گیٹ، کا بلی گیٹ سے انگریزی فوجیں شہر میں داخل ہوگئیں. چاروں طرف مار کاٹ مچ گئی۔
پھر وقت نے کروٹ بدلی، شاہ زیب، ہمارے خاندان کا شجرہ ان سے ہو کر گزرتا ہے۔ ٹنّی بیگم پائیں باغ میں تھی۔ بیگمات اور محل کی عورتوں کو ایک بڑے سے ہال میں جمع کیا جاچکا تھا۔ خبر ملی تھی کہ بادشاہ نے ہمایوںکے مقبرے میں، چھپنے کی تیاری کر لی ہے اور حکم ہوا ہے کہ اپنی اپنی جان بچانے کی کوشش کی جائے کیونکہ انگریزوں کا قہر کسی وقت بھی محل پر ٹوٹ سکتا ہے۔ محل میںافراتفری کا ماحول تھا۔ جان بچانے کی ناکام کوشش کی جارہی تھیں۔ شاہ زیب جانتے تھے کہ اس غدر کے ماحول میں اپنے عزیز ایک دوسرے سے بچھڑ جائیں گے۔ زخمی انگریزوں کے دل میں ہمدردی کہاں— لیکن وہ محل سے کسی شاہی نشانی کے بغیر نکلنا نہیں چاہتے تھے اور یہی شاہی گلدان.
محل چھوڑتے ہوئے بس یہ شاہی نشانی کپڑوں کی ایک پوٹلی میں عقیدت کے ساتھ باندھی۔ ٹنّی بیگم کا ہاتھ تھاما اور باہر نکل گئے. تب تک خبر آچکی تھی کہ بادشاہ قیدی بنا کر دہلی لائے گئے۔ شہزادوں کو خونی دروازے کے نزدیک گولی مار دی گئی. اور تینوں شہزادوں کے سر نڈھال بادشاہ کے سامنے ’ سرخوان پوش‘ سے ڈھک کر بھجوائے گئے. اُف یہ ظلم کی انتہا تھی۔‘
شفاف آسمان پر بادلوں کے کچھ ٹکڑے اچانک آگئے تھے۔ اور ان ٹکڑوں نے اچانک چاند کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔
ابّا سونے کی تیاری میں تھے. ’اور اس کے بعد سے یہ شاہی گلدان. وہ بیحد آہستہ سے بولے— ’آخری نشانی. اسے دیکھ لیتا ہوں تو پھر اپنی بربادی یاد نہیں رہتی۔‘
ابّا ایک بار پھر ماضی کی گپھاؤں میں چلے گئے۔ اور مجھے دہلی جانے کی تیاری مکمل کرنی تھی۔
تاریخ اور تشریح و توضیح
میں جانتا تھا، ہر عہد اپنے حساب سے تاریخ کی تشریح و توضیح پیش کرتا ہے۔ کبھی وقت اسے خونخوار اور ناقابل برداشت بنا کر پیش کرتا ہے تو کبھی تاریخ کے خوفناک چہرے میں اپنے لیے پانی جیسا ایک شفاف چہرہ بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ لیکن دہلی جانے کے بعد کے تجربے ماضی کی اس سنہری تاریخ سے اس طرح بھی جڑ سکتے ہیں، مجھے اندازہ نہ تھا۔ اس لیے اس تحریر میں صرف شاہی گلدان کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ اس تاریخ سے جڑی شاخیں بھی ہیں، جنہیں چھوٹی چھوٹی ندیوں کی طرح ایک بڑی تاریخ یعنی سمندر میں سما جانا تھا۔ نہیں، شاید اس طرح آپ اس بات کی حقیقت نہیں سمجھ پائیں گے جو میں کہنے جارہا ہوں۔ اس لیے تھوڑا ٹھہر ٹھہر کر مجھے ساری تفصیل صاف کرنی پڑے گی۔ دہلی جاتے ہوئے ابّا خوش تھے.
’’لو تاریخ نے ہمیں ایک موقع اور دیا.؟‘‘
’لال قلعہ پر پرچم کشائی کا یا شاہی قلعے میں اپنا پشتینی تخت تلاش کرنے اور شہنشاہیت کے اعلان کا.‘ میں بہت آہستہ سے بولا تھا۔
٭٭
دہلی کے چار پانچ برسوں کی زندگی میں اپنے لیے ایک خوبصورت ’فلور‘ حاصل کرنے میں مجھے زیادہ مشکلوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہاں، وہ کہانی آپ شروع میں ہی سن چکے کہ ابّا شاہی گلدان کو ڈرائنگ روم میں نشانی بنا کر رکھنے کی ضد کر رہے تھے اور اپنی بات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ صبا کی شادی ہوگئی اور وہ اپنے سسرال میں خوش تھی۔ فرحین نے گھر کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ ان چار پانچ برسوں کی خوشیوں اور الجھنوںنے کچھ کچھ دہلی وال تو مجھے بنا ہی دیا تھا— اب یہ اشرف جہانگیر بہت حد تک بدلا ہوا، شاید مضبوط ہونے کی حد تک ، تاریخ سے آنکھ ملانے کی ہمت کر رہا تھا۔ شروع میں فرحین نے بھی جاب کرنے کا خیال کیا تھا— مگر آرام دہ زندگی کے احساس نے اسے ’جاب‘ پر گھر کو فوقیت دی تھی—
گھر کے باہر برآمدے میں پھولوں کے گلدستے ایک قطار سے سجے تھے۔ اس دن چھٹی کا دن تھا۔ لیموں کے بونسائی پودے کو لے کر فرحین سے میری تھوڑی سی جھڑپ ہوئی تھی۔
’پاگل ہو، پودا سوکھ جائے گا.‘
’نہیں سوکھا تو.؟‘
’سوکھ جائے گا.‘
’اور نہیں سوکھا تو.؟‘
’چلو وقت آنے پر دیکھیں گے۔‘
چھٹی کے دن فرحین برآمدے میں آئی۔ پھر تیزی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے برآمدے میں کھینچ لے گئی۔ گلدستے کے پودے میں چھوٹے چھوٹے لیموں کے جاگنے کی پہلی آہٹ مل چکی تھی۔ میں بھونچکا تھا۔ اچانک مجھے یقین نہیںہوا۔ فرحین ہنسے جارہی تھی۔ جیسے تاریخ نے اپنے پاؤں پھیلائے ۔ جیسے وجود میں برسوں سے سوئی ہوئی شہنشاہیت چپکے سے جاگی۔ میں جو کہہ رہا تھا، شاید مجھے بھی نہیں پتہ تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں. مذاق ہی سہی. مگر میرے اندر سے شاید کوئی شکست یافتہ شہنشاہ بول رہا تھا۔
’ہاں، چلو ہار گیا۔ بولو کیا مانگتی ہو۔ چاہو تو آزاد ہوجاؤ۔ طلاق لے لو مجھ سے۔‘‘
’طلاق‘— فرحین کانپ گئی۔ اچانک نکلے اس مکالمے سے جیسے ہوا ٹھہر گئی۔ پودے سے جھانکتے ننھی لیموں کی کونپلوں نے جیسے ٹھنڈی ہوا کے خوف سے خود کو ہلکے ہرے پتوں میں چھپا لیا.
’ کیا. کیا بولے تم.‘ فرحین ڈری ہوئی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
نہیں، مجھے خود حیرت تھی۔ اس بے تکی بات کا یہاں کوئی مطلب نہیں تھا۔ شاید نیوز چینلوں پر آنے والے مسلسل اس طرح کے مکالموںنے مجھے اس حیران کن لمحہ ایک سنگدل حکمراں میں تبدیل کر دیاتھا۔
تو کیا میرے اندر سچ مچ ایک تانا شاہ چھپا تھا۔ ایک ایسی بات جس کا میں نے تصوربھی نہیں کیا تھا۔ ایک ایسی بات جس نے قہقہ لگاتی فرحین کی آنکھوں میں ایک بھیانک ڈر پیدا کردیا تھا۔ میں نے شاید تاریخ کی نکلتی شاخوں میں اس بونسائی لیموں سے نکلے یا ٹپک رہے خون کو دیکھ لیا تھا۔
اس رات فرحین کی آنکھیں نم تھیں۔
’تم نے ایسا کیوں کہا، میں نہیں جانتی، مگر کچھ تو ہوگا تمہارے اندر۔ تم بتاؤ نا بتاؤ۔ گھر سے غائب رہتے ہو۔ بڑے آدمی ہو۔ عورتوں کے فون آتے ہیں۔ مٹنگس چلتی ہیں۔ سچ بتاؤ اشرف، ایک سکنڈ کے لیے بھی تمہیں فواد کا خیال نہیں آیا۔‘
میں نے دیکھا، فواد بستر پر سو گیا تھا۔
’میں شرمندہ ہوں.‘
میں خود سے لڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر آخر تک ’میں شرمندہ ہوں‘ یہ جملہ میرے ہونٹوں پر نہیں آسکا۔ آخر ایسا کیا کیا تھا میں نے۔ بس ایک چھوٹا سا مذاق— مذاق میں طلاق کی بات کرنے سے طلاق تھوڑے ہوگئی۔ میاں بیوی میں ایسے مذاق تو ہو ہی سکتے ہیں‘۔ مگر جیسے فرحین زخمی تھی۔
شاید وہ اس مذاق پر دیر تک روتی رہی تھی۔ اس کی آنکھیں پھولی ہوئی تھیں۔
’تم نماز کیوں نہیں پڑھتے؟‘
’یہ میرا اور خدا کا معاملہ ہے۔‘
’نہیں، یہ صرف تمہارا اور خدا کا معاملہ نہیں—فرحین چیخی تھی— اب فواد بھی ہے۔ پانچ سال کا ہوگیا۔ اسے اپنے مذہب کو جاننا ہے— قرآن شریف شروع کرانا ہے۔ کل ابّا بھی کہہ رہے تھے اشرف مت بنانا. فرحین ایک لمحہ کو ٹھہری— ’’نماز پڑھتے تو اللہ کا ڈر ہوتا تمہیں۔ پھر اتنی بڑی گالی نہیں دیتے۔ تم کیا جانو، ہم شادی شدہ عورتوں کے لیے طلاق موت سے بھی زیادہ ہے۔ ایک بار پھر وہ بلک بلک کر رو پڑی تھی۔ اور شاید اس بار ایک شکست خوردہ شہنشاہ حقیقت میں تیز آواز میں دہاڑا تھا—
’پاگل ہوگئی ہو تم۔ ایک چھوٹے سے مذاق کو بھی ڈائجسٹ کرنے کی کیپسٹی نہیں ہے تم میں۔ کیا تمہارے سامنے مجھے ہر لفظ کو ناپ تول کر بولنا پڑے گا۔ بس ایک مذاق تھا۔ ایک چھوٹے سے مذاق کا افسانہ بنا لیا تم نے۔ چھٹی کا دن مشکل سے ملتا ہے۔ اس چھٹّی کے دن کو بھی عذاب بنا دیا تم نے.‘
میںاتنے زور سے چیخا تھا کہ شاید لال قلعہ کے بجھے ہوئے کلسوں تک میری آواز گونج گئی ہو۔ فواد اٹھ کر رونے لگا تھا۔ میں دل کا غبار نکال کر نیچے ڈرائنگ روم میں آیا تو اچانک نگاہ، اس شاہی گلدان کی طرف چلی گئی۔ لگا، اس گلدان سے سچ مچ ایک رشتہ رہا ہے میرا— ایک ایسا رشتہ شاید جسے میں جان رہا تھا— لیکن میںنے جان بوجھ کر اپنے آپ سے چھپانے کی کوشش کی تھی۔
مجھے احساس تھا۔ کمرے سے ابا کی خاموش آنکھیں مجھے دیکھ رہی تھیں۔ اور شاید ان کے پیچھے اماں بھی ہوں گی۔ بے نور آنکھوں والی اماں . شاید یہ میرے لیے تبصرے یا مکالمہ کا وقت تھا— تو کیا آج جو کچھ بھی ہوا وہ اس شاہی گلدستے سے جڑی تاریخ کی نئی تشریح و توضیح تھی.؟ میں جس طرح فرحین پر چلایا تھا، یا جس طرح ایک کمزور لمحے حیوانیت یا درندگی مجھ پر سوار ہوئی، وہ شاید اس سے پہلے مجھ پر کبھی نہیں حاوی ہوئی تھی.؟ کیا میرے اندر کے لہو میں سوئے ہوئے حکمراں یا تانا شاہ نے کوئی کروٹ لی تھی۔ یا پھر یہ ایک عام سی بات تھی— ایک ایسی کہانی جو گھر گھر میں روز دہرائی جاتی ہے۔ لیکن شاید میرے اب تک کے ’بی ہیویر‘ کے خلاف— اور مجھے فرحین کو اس بات کا احساس کرانا تھا کہ بونسائی لیموں والے واقعہ کے ساتھ میں نے جو کچھ بھی کہا‘ وہ صرف ایک چھوٹا سا مذاق تھا۔ اور شاید اسے مذاق ثابت کرنے کے لیے دو تین بار، ایک بار تو، ایک بیحد رومانی لمحہ فرحین کو بازؤں میں بھرتے ہوئے، بوسہ لیتے ہوئے، میں نے اس سے کہا— تو تم مجھ سے طلاق کیوں نہیں لے لیتی۔ اور اتنا کہہ کر میں زور زور سے ہنسا تھا— دیکھا، کیسے ڈر گئی۔ ارے. ایسے طلاق تھوڑے ہی ہوتی ہے۔ جسٹ کڈنگ، لیکن تمہارا چہرہ اتنا پھیکا کیوں پڑ جاتا ہے.‘
مگر شاید مجھے یہ علم نہیں تھا کہ کبھی کبھی تاریخ اپنی ہی تشریح و توضیح میں اس قدر سخت ہوجاتی ہے کہ دو زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔
فتوے کی سیاست

میں دہلی کی جس کمپنی میں، ’ون آف د ڈایرکٹرس‘ میں تھا، اس کا نام میکلارڈ کمپنی ہے۔ میکلارڈ نے صابن ، تیل سے لے کر باسمتی چاول تک کے پراڈکٹ مارکیٹ میں اتارے تھے۔ اور کچھ ہی برسوں میں میکلارڈ گروپ ہر گھر کی پہلی پسند کے طور پر جانا جانے لگا تھا۔ میرے ذمے ان دنوں فارین ڈیلی گیٹس کو انٹرٹین کرنے سے لے کر نئے پروڈکٹ پر ایڈ فلم بنانے تک کی ذمہ داری شامل تھی۔ ایسی ہی ایک ایڈ فلم کے لیے میں نے بالی وڈ کے ایک بڑے اور قیمتی ڈائرکٹر کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ڈائرکٹر نے بجٹ اور تھوڑی بہت صلاح کے بعد ایڈ کے لیے کریکٹ کی دنیا کے ایک کھلاڑی کی خدمات لی تھیں۔ اس کھلاڑی کا اب تک کوئی ایڈ کسی چینل پر نہیں آیا تھا۔ اور شاید یہیں سے میری بدقسمتی یا ستاروں کی گردش کی کہانی بھی شروع ہوئی تھی۔ ایڈ فائنل ہوا۔ بجٹ فائنانس سے ہو کر میرے پاس آیا اور میرے سائن کے بعد ڈائرکٹر نے دس سے چالیس سکنڈ تک کی تین تین فلمیں تیار کرلیں۔ فلمیں اچھی بنی تھیں۔ لیکن بدقسمتی کی کہانی کی شروعات بھی یہیں سے ہوئی۔ بورڈ آف ڈائرکٹرس کے پینل کو کھلاڑی پر ایک سنجیدہ اعتراض تھا۔ کیونکہ کھلاڑی کے ڈرگس لینے اور بیوی کو مارنے کی کہانی کچھ ہی دنوں پہلے نیوز چینلوں پر ہائی لائٹ ہوئی تھی۔ بورڈ آف ڈائرکٹرس کا خیال تھا کہ ایڈ آتے ہی ہندستانی خاندان اس اشتہار کی مخالفت کرے گا۔ نتیجہ پروڈکٹ فلاپ۔ کیونکہ ہمارا پروڈکٹ، گھر گھر کا پراڈکٹ کہلاتا ہے۔ یہ معاملہ اتنا طول طویل ہوا کہ سارے بورڈ ڈائرکٹرس میری مخالفت میں کھڑے ہوگئے۔ دوسری جانب اکیلا میں تھا۔ اور یہی وہ دن تھے‘ جب فرحین کی ناراضگی کی کہانی بھی شروع ہوئی تھی۔ برآمدے میں بونسائی لیموں کے پودے پر تو شباب آگیا تھا، مگر ہماری گرہستی کو جیسے نظر لگ گئی تھی۔ میری خواہش ہوتی تھی کہ رات کو واپس آؤں تو فرحین سے باتیں کروں۔ مگر فرحین کی ناراضگی کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ گھر آکر جیسے میرا بلڈ پریشر ایک دم سے بڑھ جاتا۔ میں آفس سے گھر لوٹتے ہوئے سکون اور شانتی کی امید لے کر آتا تھا، لیکن فرحین کی موجودگی اب مجھے چڑپڑا کرنے لگی تھی۔ جیسے اس کی حرکت پر گھر آنے کے بعد میرے اندر بیٹھا جانور خاموشی سے مجھے بتاتا رہتا کہ ان سب کی ذمہ دار کوئی اور نہیں فرحین ہے اور جیسے اس وقت میرا دماغ آگ کے شعلوں کی طرح جلنے لگتا۔ میں امید کر رہا تھا کہ ان حالات میں مجھے بیوی کی مدد ملے گی۔ حوصلہ ملے گا۔ مگر مدد اور حوصلہ دور ہمارے چھوٹے سے مذاق کو جیسے فرحین نے اپنی نہ ختم ہونے والی ناراضگی سے جوڑ لیا تھا۔ میرے ساتھ مشکل یہ تھی کہ آفس میں چلنے والی سازش یا مخالفت پر گھر میں کسی سے بات بھی نہیں کرسکتا تھا۔
اور اس رات. شاید اندر دبا لاوا آتش فشاں بن گیا تھا۔ ایک بار پھر ایڈ فلم کو لے کر بورڈ آف ڈائرکٹرس کی میٹنگ ہوئی۔ شاید زندگی میں، میں اتنا ہیوملیٹ ، کبھی نہیں ہوا تھا. میں گھر آیا تو میرا دماغ سوچنے سمجھنے سے انکار کر چکا تھا۔ ایک فائل کی تلاش میں فرحین سے میری جھڑپ ہوگئی۔ مجھے نہیں پتہ میں غصے میں کیا کیا بولتا رہا۔ میری آنکھیں لال تھیں۔ لوٹتے ہوئے میں نے شراب کے دو پیگ بھی لیے تھے۔ کچھ اس کا بھی اثر تھا۔ میں زور زور سے چلّا رہا تھا۔
’’کیوں میری جان کی دشمن بنی ہو تم۔ مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتی۔ آئی ہیٹ یو۔ میری زندگی کو دوزخ بنا کر رکھ چھوڑا ہے تم نے۔ اور میں پورے ہوش و حواس میں تمہیں. طلاق دیتا ہوں. طلاق. طلاق . طلاق۔‘
جیسے ہوا رک گئی۔
وقت رک گیا۔
بالکل فلمی منظر. فرحین کا چہرہ سفید پڑ گیا— آنسو پلکوں سے زارو قطار گر رہے تھے— اچانک آواز آئی۔
’’قریشہ، دلہن کو اپنے ساتھ کمرے میں لے جاؤ۔ میں مڑا۔ دروازے پر ابّا غصے سے آگ بگولہ کھڑے تھے۔ اماں کا چہرہ فق تھا۔
’’اگر مولویوں کے حساب سے یہ طلاق جائز ہے تو دلہن اسی لمحے سے تم پر حرام ہوئی۔ رات کافی ہوگئی ہے۔ اب صبح مسجد میں جاکر اس پر فتویٰ لینا پڑے گا۔
ابّا کا چہرہ سخت تھا۔ مذہب سے کوئی سمجھوتہ نہیں۔
جب تک مجھے کچھ سمجھ میں آتا، اماں فرحین کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے میں جا چکی تھیں— اور اماں کے کمرے سے فواد کے رونے کی آواز آرہی تھی۔
٭٭

تنہا کمرہ جیسے کچھ دیر پہلے آئے ’زلزلے‘ کا گواہ بن گیا تھا۔ غصے کے عالم میں دیئے گئے طلاق کے دو دو گواہ اماں اور ابّا کی شکل میں موجود تھے۔ اور میں جانتا تھا، ابّا چاہے تیموریہ سلطنت کے زوال کی علامت یا نشانی کے طور پرہوں لیکن مذہب کے معاملے میں میں وہ کسی کٹّر سلطان سے کم نہیں۔ کمرے میں سگریٹ کا دھواں پھیل رہا تھا۔ خالی بستر مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ آج ساری رات مجھے اسی خالی بستر پر گزارنی تھی۔ اور اس کے بعد جو ہنگامے شروع ہونے والے تھے، میں نے اس کا اندازہ لگانا شروع کردیا تھا۔ آفس کی پریشانیاں ہی کم نہیں تھیں، اور اب میں اپنی ہی نادانی سے ایک اور پریشانی کو جنم دے چکا تھا۔
صبح ہوگئی۔

ابا مذہبی معاملوں میں اپنی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے تھے۔ فرحین کا سامان میرے کمرے سے اماں کے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔ میں نے بیماری کا بہانا بنا کر آفس سے چھٹّی کر لی تھی۔ آنکھیں فرحین کو ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ معصوم سی شرمیلی لڑکی، چھپ چھپ کر اسے دیکھنے والی۔ میری آہٹ پاکر آنچل کا کونا دانتوں سے دبا لینے والی. ایک بار پھر تاریخ زندہ تھی اور وقت کے ساتھ اپنی بوسیدگی اور افسردگی کی تشریح و توضیح کر رہی تھی۔
دس بجے ابّا مسجد گئے۔ اور آدھے گھنٹے میں ہی مسجد کے ’مولی‘ صاحب اور دو اماموں کو لے کر آگئے۔ مجھے بلایا گیا۔ ڈرائنگ روم میں ابا سمیت ان تین اماموں کی موجودگی کے باوجود خطرناک حد تک سناٹا پسرا تھا— جیسے یہ امام یا مولوی کسی گھریلو جھگڑے کو سلجھانے نہیں بلکہ کسی کی میت میں آئے ہوں
’. آپ نے بہت اچھا کیا، جو ہمیں خبر کی۔ خوشی ہے، اسلام زندہ ہے، اسلام در اصل ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پرنظر رکھتا ہے۔‘
ابا الجھن میں تھے— ’لیکن کیا کیا جائے؟ فتویٰ کیا کہتا ہے، شریعت کیا کہتی ہے؟‘
چشمہ لگائے سفید داڑھی والے امام فرقان کو میں پہچانتا تھا۔ ورنہ بڑے شہروں میں جان پہچان کے موقع ہی کیا ملتے ہیں۔ اتفاق سے پڑوس میں مسجد نہ ہوتی اور مسجد کو ابّا نے آباد نہ کیا ہوتا، تو ممکن تھا، یہ معاملہ اتنا آگے بڑھتا بھی نہیں۔ لیکن اب یہ معاملہ گھریلو نہیں تھا۔ مذہب کا معاملہ تھا، اور گواہی میں ابّا اور امی بھی شامل تھے۔
’لڑائیاں پہلے بھی ہوئیں؟‘
’ہاں۔‘
’لیکن اس بار تین طلاق. بڑی بھی اس واقعہ کی گواہ ہیں؟‘
’ہاں‘ ابا کا لہجہ سہما ہوا تھا۔
’یہاں تو یہ معاملہ مسلک سے بھی جڑا ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے بریلویوں کے گاؤں میں، دار العلوم کے مولوی نے نماز جنازہ پڑھا دی تو کیا فتویٰ آیا—؟
مولوی صاحب کو یہ بات بری لگی تھی— ’ہاں یاد ہے، ایک بریلوی مولانا کا فتویٰ آیا کہ جو لوگ نماز جنازہ میں شامل تھے‘ ان کی بیویوں کا نکاح حرام ہے۔ پتہ ہے۔ ایسے فتوے دین کا رتبہ گراتے ہیں۔ مذہب کو بدنام کرتے ہیں‘
دوسرے امام بولے— وہ غصے میں تھے۔ ’ایسا آپ کیسے کہہ سکتے ہیں۔ بات مسلک کی ہے تو بریلوی مولانا نے کوئی غلط فتویٰ نہیں دیا۔‘
کمرے میں شاہی گلدان اپنے نکمے پن کی کہانی سناتا ہوا خاموش تھا— میری نگاہ اس طرف گئی پھر جھک گئی۔ تینوں مولانا فتوے کو لے کر الجھ گئے تھے۔ ابا نے بیچ بچاؤ کیا۔
’ارے بھائی. ہم نے بیٹے کو بلایا ہے۔ اس نے غصے میں طلاق دی۔ اب کرنا کیا ہے؟‘
’آپ کا مسلک‘. امام صاحب مسکرائے۔
’مسلک نہیں جانتا۔ نماز پڑھتا ہوں۔ سب کا احترام کرتا ہوں۔‘
’لو، مسلک نہیں تو پھر کس کا فتویٰ مانیں گے۔ بریلویوں کا یا دیوبندیوں کا؟‘
’اسلام کا‘— ابا ناراض تھے— ’قرآن پاک کیا کہتا ہے، حدیث کیا کہتی ہے۔ غصے میں طلاق ہوئی یا نہیں؟‘
’طلاق کی پہلی ادائیگی غصے کی ہوتی ہے۔ باقی دو ادائیگی کے درمیان آپ کے سوچنے کی پوری گنجائش رہتی ہے‘ اسی لیے منہ سے تین بار طلاق، طلاق، طلاق نکالنے کا چلن ہے.‘
’کیوں میاں، اس سے پہلے بھی کبھی بیوی کو غصے میں طلاق دینے کی نوبت آئی؟ میرا مطلب ہے منہ سے تین بار بولنے کی نوبت‘. اب تیر میری طرف تھے۔
دوسرے امام صاحب نے بھی دریافت کیا. ’کبھی اس سے پہلے غصے میں طلاق.؟‘
میں نے بات درمیان میں کاٹی— ’غصے میں نہیں مذاق میں۔‘
’مذاق—؟‘ آنکھیں بند کیے مولانا ابرار جھٹکے میں اٹھ کربیٹھ گئے— ’یعنی طلاق مذاق میں بھی دیا جاتاہے—؟ امام صاحب ابا کی طرف مخاطب ہوئے. ’نوجوانوں نے مذہب کو بھی مذاق بنا رکھا ہے۔‘
’یعنی مذاق میں کتنی بار.‘ امام صاحب جیسے پیچھے پڑ گئے تھے۔
’شاید دوبار.‘
’یعنی کل رات ملا کر تین بار .‘
اس بار سفید داڑھی والے امام نے ابّا کی طرف دیکھا۔ بھائی میں تو یہی جانتا ہوں کہ ایک ساتھ تین طلاق کہنے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے۔
’اور انہوں نے تو تین بار.‘
’لیکن دوبار مذاق میں—‘ مولی صاحب ٹھہرے— ’کوئی شخص تین بار طلاق دے تو بیوی سے اس کا تعلق ختم ہوجاتا ہے۔ اب اس سے نکاح کی صورت صرف یہ ہے کہ کسی دوسرے شخص سے اس عورت کے نکاح کے بعد پھر طلاق ہوجائے اور دونوں نکاح کے لیے تیار ہوں.‘

سامنے کا رنس پر دیکھا شاہی گلدان جیسے مسکرا رہا تھا۔ میرے کان کے پردے پھٹ رہے تھے— مولانا، امام صاحب اور ابا کی گفتگوئیں کہاں کس مقام تک پہنچیں‘ میں نہیں جانتا— لیکن شاید اب میں آگے کچھ بھی نہیں سن رہا تھا. دماغ پھٹا جارہا تھا۔ صرف آدھے ادھورے سے کچھ لفظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ عدّت، دوسرا نکاح— پھر طلاق۔ قرآن شریف اور حدیث کے کو ٹیشنس. شاید ابا بتا رہے تھے کہ وہ کسی مسلک کو تو نہیں‘ لیکن دیو بندیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
اور بڑے امام نے اٹھتے ہوئے کہا تھا— پھر دیو بند سے فتویٰ لیا جائے گا۔ آپ گھبرائیں نہیں، لیکن دلہن پر اب عدت لازم ہے۔ کیونکہ یہ شرعی معاملہ ہے.
سب چلے گئے۔

ڈرائنگ روم میں اب کوئی نہیں۔ میں اکیلا ہوں۔ شاید ہمیشہ سے اکیلا رہا ہوں۔ میری نسیں پھٹ رہی ہیں۔ اپنی زندگی جینے کے لیے بھی مجھے مذہب کے فتوی کی ضرورت پڑ گئی ہے— کہاں ہوں میں۔ کہاں کھڑا— میری اپنی آزادی کہاں ہے؟ انسانی زندگی کو مذہب کے فتووں سے آزاد کیوں نہیں کیا جاتا.

میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ لگا، اپنے پشتینی مکان میں ہوں۔ گھومتی چمگادڑیں— دیوار پر دوڑتی چھپکلیاں، ٹوٹتی محرابیں، بے رنگ و روغن دیواریں. میں ایک بار پھر ماضی کی گپھاؤں میں تھا. گپھا میں پھیلے ہوئے خوفناک سانپ. تاریخ چہرہ کہاں بدلتی ہے۔ لوٹ گھوم کر وہیں آجاتی ہے۔ شاید، ہاں. تشریح و تعریف بدلتی رہتی ہیں۔ کسی فیصلے میں پہنچنے تک میں نے ڈرائنگ روم میں رکھے شاہی گلدان کو اس بار نظر اٹھا کر دیکھا اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا۔
اور آخر میں فیصلہ
Give me a theme
the little poet cried
'And I will do my part
'T is not a theme, u need
the world replied
you need a heart.
مجھے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے— شاید اسی لئے تاریخ مجھے بد ہیئت اور بد صورت لگتی ہے— شاید اسی لیے میں نے خود کو حال کی سرنگوں کو سونپ دیا ہے۔ اپنی تمام تر آزادی کے احساس کے ساتھ— میں کچھ بھی پسند کروں— ایک بنجر زمین— خزاں کا موسم، میری گمنامی میری اپنی ہو— میرا لہجہ، میری فکر اور میرے فیصلوں پر میری اپنی مہر ہو— میں کچھ بھی پسند کروں— بچوں کو— پھولوں کو یا عورت— جنگلی اور قبائلی تہذیب سے الگ— سفید سیاہ اور نفرت کے بادلوں سے الگ— میرا راستہ‘ میرا اپنا راستہ ہو—
لیکن— زندگی کے ایسے ہر گوشہ، ہر راستے میں مذہب کیوں آجاتا ہے؟ اس لیے مجھے دنیا کا یہ جواب منظور ہے— کہ تمہیں ایک دل کی ضرورت ہے— ایک دھڑکتے انسانی دل کی— اور اس دل پر کوئی روک کوئی بندش نہیں ہے—
اور اسی لیے اب ضرورت تھی کہ جو فیصلہ میں نے تمام تر غور و فکر کے بعد کر لیا ہے، اسے گھر کے لوگوں کے سامنے بھی رکھا جائے۔ مجھے علم تھا کہ مذہب کی نہ نظر آنے والی شاخیں میرے گھر میں دراڑ ڈال سکتی ہیں۔ مگر میں نے سب کچھ سوچ لیا تھا۔ شام تک کتنی ہی بار میں فرحین کا چہرہ دیکھنے کے لیے ترس گیا۔ ابّا مغرب کی نماز کے بعد لوٹے تو میں امّاں کے کمرے سے فرحین کا ہاتھ تھامے ڈرائنگ روم میں لے آیا— فواد، فرحین کی گود میں تھا— فرحین کا چہرہ ایک ہی دن میں کسی بے جان بت میں تبدیل ہوگیا تھا۔
میں نے نگاہیں اٹھائیں۔ ابا کی طرف دیکھا— قدرے ٹھہر کر اماں کی طرف۔ پھر آگے بڑھا— شاہی گلدان کو ہاتھوں میں اٹھایا اور اسے زمین پر زور سے دے مارا۔
’سنیے ابّا۔ اب ہم سلطان نہیں ہیں۔ عام آدمی ہیں۔ سلطان ہونے کی نشانی ٹوٹ چکی ہے—‘ میں ذرا زور سے بولا— اور یہ عام ادمی کا فتویٰ ہے.‘ میں نے فرحین کا ہاتھ تھام لیا— مجھے فرحین کے ساتھ رہنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ آپ کا فتویٰ بھی نہیں۔‘
میری آواز بلند تھی— ’ آپ کا مذہب بھی نہیں—‘
میں نے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ ابّا شاہی نشانی کے ٹوٹنے سے زیادہ زخمی ہوئے تھے یا مذہب کی پیروی نہ کیے جانے سے۔ لیکن ابھی ایک ردّ عمل باقی تھا— بیڈ روم میں داخل ہونے کے بعد، میرا ہاتھ چھڑا کر فرحین نے تلخ لہجے میں دریافت کیا تھا— ’ شاہی گلدان توڑنے کی کیا ضرورت تھی—؟‘
لیکن اس کے بعد کے لفظ کسی دھماکے سے کم نہیں تھے— ’ فیصلہ تم نے اکیلے کیسے کر لیا۔ مجھ سے نہیں پوچھا— کہ میں شریعت کو مانتی ہوں یا نہیں؟‘
میں ایک بار پھر سنّاٹے میں تھا۔ یا ایک بار پھر شاہی گلدان کے ٹوٹنے کے باوجود میرے اندر کوئی سویا ہوا شہنشاہ بیدار ہوگیا تھا۔
مجھے احساس ہوا، بونسائی بینو کے پیڑ کا قد ذرا سا اور بڑھ گیا ہو—

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......