سوات، بلوچستان اور مہنگائی : آزاد عدلےہ کب متوجہ ہوگی

Submitted by Mudassar Faizi on Wed, 05/20/2009 - 01:11

سوات، بلوچستان اور مہنگائی : آزاد عدلےہ کب متوجہ ہوگی
عدلےہ بحالی تحرےک اپنے جوبن پر تھی جب کچھ حکومتی وزراءکی جانب سے کہا جاتا تھا کہ وکلاءاور معزول ججز اگر ےہ سمجھتے ہےں کہ عدلےہ بحالی سے ملک کی عمومی صورتحال خصوصاً امن و امان بہتر ہوجائےگا تو (اس وقت کے معزول)چےف جسٹس افتخار محمد چودھری کو سوات مےں بھی کنونشن سے بھی خطاب کرنا چاہئے اور لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی بجائے سوات کی طرف ہونا چاہئے۔جس پر وکلاءتحرےک کے قائد اعتزاز احسن اور دےگر رہنماﺅں نے ےہ کہا تھا کہ عدلےہ کو بحال کردےں، ہم سوات مےں بھی کنونشن کرےں گے اور ملک مےں مہنگائی کے طوفان کے خلاف بھی سپرےم کورٹ مےں درخواستےں دائر کی جائےں گی۔ چےف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری نے بھی اےک جگہ وکلاءکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پٹرولےم سے وابستہ ملٹی نےشنل کمپنےوں کو غےر قانونی طور پر نوازا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر پٹرول کی قےمتوں مےں کمی کے باوجود عوام کو کوئی رےلےف نہےں دےا جارہا اور اگر عدلےہ آزاد ہوگی تو اےسا نہےں ہوسکے گا۔
پاکستان کے عوام نے وکلاءکی بے نظےر عدلےہ بحالی تحرےک مےں وکلاءکا ساتھ دےکر اور لانگ مارچ کو کامےاب بنا کر اپنا حصہ ادا کردےاہواہے۔ وہ وکلاءجن کو نہ تو بنکوں سے قرضے ملتے تھے، نہ کراےہ پر مکان ملتا تھا، وہ وکلاءجن کا عمومی تاثر معاشرے مےں کافی خراب تھا، عدلےہ بحالی تحرےک سے ان کے وقار مےں بہت اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اب لوگ وکلاءکی طرف دےکھ رہے ہےں، کہ وکلاءسوسائٹی کی بہبود کےلئے کےا خدمات سرانجام دےتے ہےں! لوگ اعلیٰ عدلےہ سے امےدےں وابستہ کئے ہوئے ہےں کہ وہ کب عام آدمی کے مسائل کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ عوام الناس خصوصاً مڈل کلا س اور لوئر مڈل کلاس کی ساری امےدےں اب عدلےہ اور وکلاءسے ہےں۔ لوگ سوچتے ہےں کہ کب وکلاءسوات مےں امن کےلئے لانگ مارچ کرےں گے، کب سپرےم کورٹ کے جج صاحبان سوات مےں عدالتےں لگائےں گے، کب وکلاءقےادت اپنے وعدے پورے کرے گی؟ کب سوات مےں امن و امان کے لئے فوج کی بجائے مذاکرا ت سے کام لےا جائے گا، کب امرےکہ کی بجائے اللہ سے مدد مانگی جائے گی اور امرےکہ کی بجائے اللہ کو خوش کےا جائےگا؟ کب تک بےگانوں کی خاطر اپنوںکو تہہ و تےغ کےا جاتا رہے گا؟ کےا سوات کے لوگ پاکستانی نہےں؟ کےا سوات پاکستان کا حصہ نہےں؟ کےا وہاں پاکستان کے قوانےن لاگو نہےں ہوتے؟ کےا سوات اور سرحد کے دےگر علاقوں پر حملے پاکستان پر حملے نہےں؟ کےا وہاں کے بچے باقی پاکستان کے بچوں کی طرح نہےں؟ کےا وہاں کے والدےن اپنے بچوں سے پےار نہےں کرتے؟ وہ کب تک اپنے معصوم، بےگناہ اور بے قصور بچوں کے، بزرگوں کے اور خواتےن کے لاشے اٹھاتے رہےں گے؟ کب تک اپنے پےاروں کو تڑپتے دےکھےں گے؟ اور اب تو حد ہی ہوگئی، پاکستان کے وجود مےںآنے کے وقت اتنی بڑی ہجرت ہندوستان سے پاکستان کی طرف نہےں ہوئی تھی جتنی بڑی ہجرت سوات اور ملحقہ علاقوں سے ہورہی ہے۔ ان لوگوں کا آخر قصور کےا ہے، ان سے کونسا ایساگناہ سرزد ہوا ہے، ےہی کہ وہ مسلمان ہےں، اللہ کا نام لےتے ہےں، اس کے نبی آخرالزماں کا کلمہ پڑھتے ہےں اور حکمرانوں کی طرح امرےکہ کی غلامی قبول کرنے کو تےار نہےں!
بلوچستان کے لوگ انتظار مےں ہےں کہ کب اعلیٰ عدلےہ ڈکٹےٹر (سابق)پروےز مشرف کے خلاف اکبر بگتی کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر کرتی ہے۔ بلوچستان کے عوام وہاں کے حالات سے تنگ آچکے ہےں، وہ دکھے ہوئے ہےں، وہ شائد دماغ سے نہےں بلکہ دل سے سوچتے ہےں کہ کب ان کے بچوں کو بھی باقی ملک کے برابر تعلےم کے مواقع ملےں گے؟ کب ان کی دھرتی سے نکلنے والے سونے سے قےمتی ذخائر کو ان پر اور ان کے بچوں پر خرچ کےا جائے گا؟ کب ان کو بغاوت کے طعنے سے نجات ملے گی۔ کب ان کو بھی حب الوطنی کا سرٹےفکےٹ دےا جائےگا؟کب بلوچستان مےں امرےکہ ، بھارت اور چےن کی ”پراکسی وار“ اختتام کو پہنچے گی؟ کب اصل باغےوں اور غداروں کو قانون کے کٹہرے مےں لاےا جائےگا؟ بلوچستان کے بزرگ، جوان،بچے اور عورتےں ےہ سوال پوچھنے مےں حق بجانب ہےں کہ ان کے بچوں کے ہاتھوں مےں کتابوں کی بجائے کلاشنکوف پکڑانے والے خفےہ ہاتھ کب بے نقاب ہوں گے؟ ان پالےسی سازوں کو کب سزا ملے گی جن کی پالےسیوں پر عملدرآمد کی وجہ سے بلوچستان آج تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے!
مہنگائی کا اک سےل رواںہے جو ہر چےز کو بہائے لے جارہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے خودکشےاں ہو رہی ہےں، شرےف آدمی بھی چوریوں پر مجبور ہوجاتے ہےں، پٹرول کے دام کم نہےں ہوتے اور پٹرول پر انحصار کی وجہ سے ہر چےز کی قےمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ لوگ اپنے بچے، اپنے لخت جگر بےچنے پر مجبور ہےں۔ کوئی کسی کو گردہ بےچ رہا ہے، خواتےن، مردوں سے لڑتی ہےں کہ مہنگائی زےادہ ہے اور گذارہ نہےں ہوتا، مرد، خواتےن سے الجھتے ہےں کہ جو کچھ تھا تمہارے ہاتھ پر رکھ دےا ہے، قومی خزانہ ہے کہ صرف امرا، وزرائ، سول اور ملٹری بےوروکرےسی اوران لوگوں کی شکم پروری کررہا ہے جن کو اللہ نے وےسے ہی بہت کچھ دے رکھا ہے، ہوس ہے کہ پوری ہونے کو نہےں آتی۔ لوگ پےسے لے کر خود کش دھماکے تک کرنے کو تےار ہوجاتے ہےں کہ چلو مرنے کے بعد ہی اپنے گھر والوں کے کام آجائیں گا۔ غرےب آدمی کا سوال بجا ہے کہ وزےر خزانہ صاحب مزدورکی کم از کم تنخواہ مےں ذرا اےک آدمی کا ہی بجٹ بنا دےں، اور اگر مزدور عےالدار ہو،اس پر ذمہ دارےاں بھی ہوں تو بےچارہ کہاں جائے؟ اےک غرےب مزدور اور کسان چاہے وہ سندھ کا ہو، پنجاب کا، بلوچستان ےا سرحد کا، اس کے مسائل اےک جےسے ہےں، اور اس کے سوال بھی اےک جےسے ہےں!
اتنے زےادہ اور گھمبےر سوالات ہےں لےکن جواب ندارد! عدلےہ بحال ہوگئی اور عدلےہ کا دعویٰ ہے کہ اب وہ آزاد بھی ہے۔ وکےل کامےاب ہوگئے۔ بنچ اور بار کو علےحدہ نہےں کےا جاسکتا، ےہ دونوں اےک دوسرے کا اٹوٹ انگ ہےں، پھر کےا وجہ ہے کہ ابھی تک وکلاءقےادت (کےونکہ عام وکےل بھی اتنا ہی بے بس اور مجبور ہے جتنا کوئی عام پاکستانی) کی طرف سے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی جانب کوئی پےش رفت نہےں ہوئی! البتہ ذوالفقار علی بھٹو کے ”عدالتی قتل“ کے خلاف کےس پورے زور و شور کے ساتھ تےار ہورہا ہے۔ اب اعتزاز احسن اور علی احمد کرد کہاں ہےں؟ عدلےہ اور وکلاءپر بہت بھاری ذمہ دارےاں آن پڑی ہےں، ان کے کندھے بے شک ناتواں ہوں، لےکن ذمہ داری کا بوجھ انہیں اٹھانا ہی پڑے گا اور اےک بار پھر وکلاءکو ہی شروعات کرنی ہونگی! قوم کی امنگوں ،آرزوﺅں اور امےدوں کو قائم رکھنا پڑے گا، وکلاءکو آپس کی دھڑے بندےوں اور سےاستوں سے اےک بار پھر بالا تر ہونا پڑے گا، سےاسی جماعتےں تو کئی بار آزمائی گئی ہےں، وکلاءقےادت کی صحےح آزمائش اب شروع ہوئی ہے، وکلاءکو سپرےم کورٹ کی توجہ سوات اور بلوچستان پر ضرور مبذول کرانی چاہئے! ورنہ قومی شیرازہ بکھےرنے کے لئے بہت سی خفےہ قوتےں کام کررہی ہےں، وکلاءنے جس طرح عدلےہ بحالی تحرےک مےں پوری قوم کو اکٹھا کئے رکھا، اسی طرح باقی معاملات بھی ان سے اسی کردار کے متقاضی ہےں....!

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......