سلینگیات : اردو کی اوّلین عوامی بولی لغت

Submitted by hashims on Wed, 02/13/2008 - 20:31

تنبیہ: اس ”عوامی“ مضمون کو تحریر کرنے میں ”اوّلین اردو سلینگ لغت“ کے” کارتوسوں“سے بھرپور چاندماری اور” چھپائی“ کی گئی ہے۔

کسی زبان کا خمیرحقیقت میں ان ہی اجزاء (تحتی، عوامی بولی) کی یک جائی سے اٹھتاہے۔
ڈاکٹرفرمان فتح پوری

در اصل سلینگ بے تکلفی کی زبان ہے۔ یہ جذبات اور احساسات کا عوامی انداز میں اظہار ہے، بلکہ یہ عوامی شاعری ہے، اور عوامی کا عامیانہ ہونا ضروری نہیں۔
ڈاکٹر عبدالرﺅف پاریکھ

۔۔۔۔۔

جب ہماری درخواست پرمطلوبہ پنّی پیک کتاب موصول ہوئی تو ہمیں اس کے لشکارے دیکھتے ہی محسوس ہوگیا کہ یہ تو ایک بمباٹ اور وکھری کتاب ہے۔ اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے دھمال ڈالنے کا دل چاہنے لگا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایٹم بم کی طرح، یہ اردو زبان کی سلینگیات میں پہلا دھماکہ ہے۔ اور یہ کوئی اڑنگ بڑنگ چیز نہیں، اور نہ ہی اندھی میں کیا ہوا کام ہے۔ یہ ایک نہایت ہی عرق ریزی ، عمیق اور وسیع مشاہدہ سے لبریز عوامی بولی کی لغت ہے ۔ جسے ہم ”سلینگیات” کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ اس کارنامہ کا سہرا کسی ماجھے ساجھے، چپڑقناتی یا کسی امکے ڈھمکے کے سر نہیں، بلکہ ہمارے محترم ڈاکٹر رﺅف پاریکھ کے سر سجا ہے۔ محترم اردو لغت بورڈ کے مدیر اعلیٰ رہے ہیں، جو ڈاکٹرفرمان فتح پوری کی مشاورت سے قومی اہمیت کا یہ ادارہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ماشااللہ،یہ مقام بابائے اردو مولوی عبدالحق مرحوم کی جانشینی کا ہے۔ یہ ادارہ پاکستانیت کی بنیاد کے ایک اہم ستون اردو زبان کے ذخیرہء الفاظ کے بارے میں خاموشی سے ایسے ہی کام کر رہا ہے، جیسے ہماری کہوٹہ لیباریٹری اور میزائل کارخانے۔ اس سے پہلے جناب عبدا لرﺅف پاریکھ صاحب “اردو نثر میں مزاح نگاری (سیاسی اور سماجی پس منظر)” کے عنوان سے ایک مقالہ لکھنے کی پاداش میں جامعہ کراچی کی کچہری سے ڈاکٹر کی ڈگری اپنے نام جاری کراچکے ہیں۔ اور یہ ڈگری کسی دھانگا دھینگی سے نہیں بلکہ بڑی مغزماری، اور ایک محنت اور لگن سے عمدہ تحقیقی کام کرنے کے عوض ملی ہے۔

ہم اس سلینگیات کے بارے میں نہ توکوئی بنڈل ماررہے، اور نہ ہی کوئی گولی بازی کررہے ہیں۔ یہ واقعی ایک پپّو کتاب ہے۔ تاہم اس امر کا امکان ہے کہ اردو ادب کی بچّہ پارٹی اسے پڑھ کر شورڈالے، اور ہمارے بہت سے نقاد اسے دیکھ کر بھنّوٹ ہوجائیں، اور ان کی چنڈال چوکڑی پنگے بازی کی غرض سے پنچایتیں کرے۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ لال پیلے ہوکر اس کتاب کے خلاف بھی ڈگریاں جاری کرانے کی کوششیں شروع کردے اور اسے لغت کے بجائے لغویات کا نام دے۔ تاہم ایسی تمام پنگائیاں ان کے بھوندو پن کی غمّاز ہوں گی۔

ہمارے من موجی ڈاکٹر صاحب نے یہ سلینگیات اپنی مشہوری، یا اپنی پتنگ اونچی اڑانے کے لیے تحریر نہیں کی۔ بلکہ ان کے اس بیبے کام سے اردو زبان کی گڈّی نوشیرواں بن کر آسمان کو چھوئے گی۔ یہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے والا نہیں بلکہ ایک حیاتی کا کام ہے، جو پاریکھ صاحب نے پھوئیاں پھوئیاں کرتے کر چھوڑا ہے۔ اس دھان پان اللہ لوک باوا نے یہ ایک بڑا ہی وزنی پتھراٹھایا ہے۔ اس لغت میں درج عوامی الفاظ اور ان کے لیے کیے جانے والے مشاہدہ، سماعت ، کن سوئیوں، اور قرائت شاقہ سے اخذ کی جانے والی اسناد سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اردو ادب کے اس میمن صوفی چیتے نے(جسے اس کی اپنی کمیونٹی میں “فخراپلیٹا” بھی کہا جاتاہے) کتنی اونگی بونگی سے آفاقی تحریروں تک مطالعہ کیا ہوگا، کتنی بسوں میں دھکے کھائے، کیفے ڈی پھونسوں، باکڑاہوٹلوں اور ڈھابوں میں کتنی آرجار کی ہے، کتنا لمبا پانی اور کڑک چائے پی ہے، کتنا چکن گھٹالااور انڈہ گریبی چکھی ہے، تب کہیں جاکر اس لغت کے تن میں جان پڑی ہے۔

سکہ بند اردو لغتوں کی پخ، یہ لغت فی الحال آنہ لائبریریوں میں ملے گی اورنا کہیں سے پھوکٹ میں ۔ فضلی بک سپر مارکیٹ کے باہمت اور پرجوش جوان ساجد رحمٰن فضلی نے اسے نہایت ہی کم قیمت میں اور عوامی انداز میں ٹشن سے پیش کیا ہے، اور آپ اسے صرف ۱۹۰ روپے میں خریدسکتے ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہماری طرح آپ بھی اس سلینگیات کو حاصل کرکے محظوظ ہوں، اور چاہیں تو اس میں مندرج عوامی زبان کے چٹخارے لینے کے لیے اس قسم کے مضامین تحریرکریں ۔

چلیں، کہ اب اس سے پہلے کہ ہمارے گھر کی باجی آکرایک سو ایک ویں مرتبہ یہ شعر سنائے: ۔۔۔

لگے منہ بھی چڑھانے، دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجئے دہن بگڑا

۔
اور پھر وہ ہم سے سردی گرمی ،کھڑپینچ کرے، پرچی کاٹے اور ہمارا تھوبڑا اور جان خطرے میں پڑجائے، بہتر یہی ہے کہ ہم پتلی گلی سے کلٹی ہوجائیں۔ اپن کی خاطرآپ بھی فی الحال نکل لیں اور اپنا فوٹوگم کرالیں۔ یار زندہ، صحبت باقی ۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.