ذرا سوچئیے......ورائٹی از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Sun, 06/07/2009 - 11:31

آج لوگو ں کو ورائٹی چاہیے؟کثیر الجہت تبدل پذیری ۔ تبدیلی میں تنوع چاہیے۔ کیا خوب بات ہے؟ تبدیلی میں تبدیلی۔ زندگی رنگین ہورہی ہے یا بیزارگی کی جانب مائل؟ تبدیلی در تبدیلی، تبدیلی بہ تبدیلیتبدل مزاجی انسان کو متبدل سے معتدل گریز کررہا ہے۔ جو انسانی رفتار کو حقیقت سے ناگزیر فرما رہا ہے۔
بہتات انسان کو احتیاط سے احتیاج کی جانب دور لیجاتی ہے۔ اعتراض احتراز کی صورت اختیار فرما لیتا ہے۔ یکدم انواع کی کثرت انسان کو اُلجھا دیتی ہے؛قوت ِانتخاب کو کمزور رکھ چھوڑتی ہے۔ آج کا انسان تعدل سے تعدد کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ حقیقتاً وُہ معقولیت سے قنوطیت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
رنگارنگی نے انداز بدلے ، لباس کو خوبصورت لبادے اُوڑھے مگر افسوس معاشرہ کو تعمیر نہ بخشی۔
بوقلمونی نے نئے شبدوں کا ذخیرہ بخشا مگرآج اطوارِ انسان نے خود کوکثیرالمعانی الفاظ کے گنجینہئِ اسرار سے محروم رکھا ۔
مشاہدہ متلون مزاجی سے نہیں، مستقل مزاجی کے نظارہ سے ہوتا ہے۔فرد کا مزاج اپنے اندرتفاوت نہیں رکھتے۔ ایک منظر میںبیشمار نظاررکھتا ہے۔
ہم نئی جہتوں کی تلاش میں مختلف النواع کے پیچھے دوڑے چلے ہیں۔ زندگی کونئے بھرے رنگ چاہیے،خیال، بات، انداز، رنگ، لباس، مزاج، موسم ہر شےءکونئے دور کانیا انداز چاہیے۔ مانوسیت کی بیزاری سے مانوسیت کا نام ورائٹی رکھا گیا۔ بیزاری سے مانوسیت کا نام مجبوری طے ہوا؟
آج انسان تبدیلیوں کے مصنوعی خیال سے بیزاری اور مجبوری کے مشترکہ اشتراک سے ایک نئی اصطلاح سے آشنا ہو رہا ہےانجانہ خوف۔
زندگی میںگوناگونی ہونا منفی بات نہیں بلکہ مثبت بات ہے۔انواع تو ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔ تفاوت تب منفی ہوتی ہے۔ جب ناظر خود متغیرہوجائے۔
رواج نے مُلَوَّن کا ستیاناس کر دیا۔ رواج کے نام پہ تبدیلی معاشرہ کھوکھلا کررہی ہے۔ دِلوں میں حسد جیسی بیماری کو مﺅثر ماحول میسر کررہی ہے۔ رواج اقدار کی پاسداری کیلیئے تھا۔ آج رواج کے نام پر اقدار کی خلاصی کا جنازہ نکال دیا گیا۔ اقدار معاشرہ قائم رکھتی ہے۔ رواج کے رویّے اُس کو پروان چڑھاتے ہیں۔ بیشک رواج منفی اثرات رکھتے ہیں۔ مگر رواج جب اقدار کی حدپھلانگ جائیں تب رواج رواج نہیں رہتے، رسم رسم نہیں ہوتی۔وُہ آکاس بیل کی طرح ناسور کی بیماری بن جاتی ہے۔ رواج، رسم رویوں کو فطرت سے ملاتے ہوئے قدرتی رکھتے ہیں۔ افسوس! معاشرے اِن کا شکار ہو کر تباہ ہوتے ہیں۔ اپنے ہی خنجر سے خودسوزی فرماتے ہیں۔
تبدیلی ایک فطری عمل ہے۔ایک ہی کھیت پہ طرح طرح کی فصل اُگنا، موسموں کا تبدیل ہونا، دِن کے مراحل، لباس میں رنگت، چہرے پہ جھریاں آجانا،زمانہ میں الفاظ کے ذخیرہ کا استعمال، زندگی کا سفر، ساتھیوں سے تعلقات، دریاﺅں کا بہنا، خیالات کا بدلنا، قوموںکا عروج و زوال تبدیل ہونا ہی ہے۔پرانے کااختتام اور نئے کا ظہور ہی ارتقاءہے۔
قدرت تبدیلی کی بات کرتی ہے۔ انسان گھر بدلتا ہے، مقام بدلتا ہے، ہاتھ کی ریکھائیں بدلتی ہے، ستارے مسلسل اپنا مقام بدلتے ہیں، مراکز ہر نئے دورمیں بدلتے ہیں۔ آخر!اس قدرتبدیلی کے خلاف بات کیوں؟ اتنی اقسامِ مخلوقات کی انواع ؟باوجود اِسکے ورائٹی ہی کے خلاف ردّ عمل ؟
ذرا سوچئیےتبدیلی اصل‘ تبدیل ہونا شامل نہیں۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......