دہشت گردی : ڈبل ایجنٹ اور ڈبل گیم - Terrorism in Pakistan - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Mon, 10/25/2010 - 05:17

پاکستان کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ھے مگر فی الوقت پاکستان کے مسائل میں اس وقت سر ِ فہرست مسئلہ گُڈ گورننس کےبعددہشت گردی ھے جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی دعوے اس وقت دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب دہشت گرد اپنے اہداف تک بآسانی پہنچ کر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کرنے میں کامیاب رہنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں شرکت کے باعث 2002 سے 2010تک پاکستان کو 68 ارب ڈالر یا 5،848 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ھے، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا اوسط نقصان 8 ارب امریکی ڈالر سالانہ ھے۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے انسداد ِ دہشت گردی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے کی نوید آئے روز سنائی جاتی ھے اور قبائلی علاقوں میں باقاعدہ فوجی آپریشن کے دعوے کئے جاتے ہیں اور اخبارات میں آئے دن طالبان دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، لیکن ایک عام شہری ان اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتا اور اس سلسلے میں عمومی تصور یہی پایا جاتا ھے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ھے وہ کسی گہری سازش کا نتیجہ اور کسی بڑے عالمی استعماری کھیل کاحصہ ھے۔متعلقہ حکومتی اہلکار بشمول وزیر داخلہ رحمان ملک، امن امان کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن ان کے دعوؤں کے برخلاف، صورتحال میں بظاہر کوئی تبدیلی آتی دکھائی نہیں دیتی۔ ایک بات پرعمومی اتفاقِ رائے پایا جاتا ھے کہ دہشت گردی یا مبینہ خودکش حملوں کی روک تھام اس لئے ممکن نہیں ھے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ، امریکہ کے ایما پر لڑی جا رہی ھے اور امریکہ اس کام میں مخلص نہیں ھے اور اس کی دوغلی پالیسیاں اس بات کا موجب بن رہی ہیں کہ پاکستان سیاسی اور سماجی لحاظ سے ایسی ابتری کا شکار ہو کر رہ گیا ھے کہ جو دراز مدت میں پاکستان کی سا لمیت کے لئے خطرناک ہو سکتی ھے اور یہ ایسی چیز ھے کہ جس کا اظہار خود پاکستانی حکام بھی اپنی نجی محفلوں میں کرتے رہتے ہیں۔

سابق سویت یونین کے خلاف جنگ کے بہانے امریکہ نے پاکستان میں قدم رکھے اور جنرل محمد ضیاء الحق نے اس کا آگے بڑھ کر خیر مقدم کیا اور آج صورتحال یہ ھے کہ امریکہ کے خفیہ محکموں کے اہلکار، جاسوس ادارے، اور بدنام زمانہ بلیک واٹر جیسی تنظیم کے سینکڑوں اہلکاراس طرح سے دنداتے پھر رھے ہیں کہ جیسے پاکستان کوئی مقبوضہ ملک ہو۔ پکڑے بھی جاتے ہیں تو چھوڑ دیئے جاتے ہیں بہرحال اس وقت طالبان ہوں یا بلیک واٹر، القاعدہ ہو یا مقامی دہشت گرد تنظیمیں اگر باریک بینی سے ان کی کاروائیوں کا مشاہدہ کیا جائے تو سب کے سب ایک ہی ہدف کو اپنے پیش نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ ھے امریکہ کی خدمت! امریکہ اس وقت افغانستان اور عراق پر قابض ھے اور پاکستان کو اس نے اس طرح سے اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ھے کہ وہ ایک مقبوضہ ملک کی تصویر پیش کر رہا ھے فرق صرف اتنا ھے کہ پاکستان میں عراق یا افغانستان کی طرح باوردی امریکی فوجی کہیں نظر نہیں آتے۔

لیکن یہاں ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ھے کہ نہ افغان جہاد کے نام پہ لڑی جانے والی جنگ ہماری تھی اور نہ ہی مُش اور بُش کی دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی یہ نام نہاد لڑائی ہماری ھے اور ھم کل بھی کرائے کے قاتل تھے اور ھم آج بھی ڈالروں کی خاطر اپنے گھر کو آگ میں جھونک رھے ہیں۔ اور ہمیں اپنی غلطیوں پر انہیں نام نہاد دشمنوں کی سازشیں قرار دے کر پردہ ڈالنے کی روش ترک کرکے اپنے گھر کو پہلے صحیح کرنے کا بیڑہ اٹھانا ہوگا ورنہ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔

کیا یہ نہایت ہی حیران کن بات نہیں ھے کہ جی ایچ کیو/ آرمی، انٹیلی جنس، پولیس، سیاستدانوں اور عوام پر حملہ کرنے کے باوجود یہ ملعون دہشت گرد ہمارے ہی ملک میں ہمارے ہی درمیان رہ بھی رھے ہیں اور آذادانہ نقل و حرکت کر بھی رھے ہیں، ان دھشتگردوں کی آ ج تک نہ کوئی اسلحہ کی سپلائی کبھی پکڑی گئی اور نہ ہی کبھی ان دہشتگردوں کی کوئی اہم لیڈر شپ( ما سوائے خالد محمد شیخ کے ) کبھی زندہ امریکیوں کے ہاتھ لگا اور نہ ہی پاکستانیوں کے اور نہ ہی کسی اور کے! اس پر مذید حیران کن بات یہ ھے کہ یہ دہشتگرد حساس سے حساس جگہ تک پہنچ کر دھماکے کر جاتے ہیں، مگر کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا، انکے پاس ضروریات زندگی کی ہر چیز جس میں ملک بھر سے چھینی گئی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، ٹرک، ان میں ڈالنے کیلیئے پیٹرول، کھانے کے لیئے خوراک، اور سب سے بڑھ کر نشانے پر پہنچنے تک کی مکمل انٹیلی جنس انھیں گھر بیٹھے بٹھائے ملتی ہیں۔ جو اس بات کا واضح ثبوت ھے کہ ہماری آرمی، خفیہ ایجنسیاں، پولیس، حکومت، عدلیہ، سیاستدانوں اور عوام میں بھی دہشتگردموجود ہیں۔

آرمی میں موجود دہشتگرد آرمی پر حملہ کرنے کے نقشے اور پلان تیار کر کے دیتے ہیں، پولیس اورانٹیلی جنس میں موجود دہشتگرد، پولیس اورانٹیلی جنس کی حساس اور خفیہ معلومات لیک کرتے ہیں، حکومت اور عدلیہ میں موجود دہشتگرد ان کو پناہ اور چھتری فرہم کرتے ہیں، اور سب سے بڑھ کے ہمارے آذاد میڈیا میں موجود دہشتگرد دانستہ ےا نادانستہ متضاد آرا پیش کر کے کنفیوژن پھیلانے کی پالیسی کے تحت لوگوں کو تقسیم در تقسیم کرتے ہیں ۔ ویسے بھی ہمارے ہاں جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق ہر آدمی اپنے مسلک، مزاج، قبیلے، ذات پات ےا سیا سی و سماجی وابستگی کی بنیاد پر بات کرنا اور سننا پسند ھے اور تمام باتوںمیں جو بات اسکے مطلب کی ہوتی ھے اسے بغیر کسی تحقیق کے مان لیتا ھے اور یہ بھول جاتا ھے کہ اللہ اور اسکے رسولنے فرمایا ھے کہ "جب کوئی منافق تمھارے پاس کوئی خبر لیکر آئے تو پہلے اسکی تصدیق کر لو"۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوتاھے کہ "ظلم اور ظالم کی مخالفت کرو اور ظالم کو ظلم سے روکو، اور اگر نہیں روک سکتے تو کم از کم مذمّت کرو اور اگر مذمّت بھی نہیں کر سکتے تو اہنے دل میںاسے برا جانو، مگر خبردار کبھی کسی ظالم کی حمایت او ر مددنہ کرنا ورنہ ظالمین میں شمار کیئے جاؤ گے" نیز یہ بھی فرمایا کہ کسی انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ھے اور قاتل اور ظالم کی سزا صرف جہنّم ہی ھے۔ جبکہ ہمارا معاملہ یہ ھے کہ ہم ہرخبر کو خود سے بغیر تحقیق کیئے ہوئے اسے من و عن اپنی آراءسے آراستہ کرتے ہیں۔ اور پھر جب حقیقت سامنے آ بھی جائے تو اپنی انا کی تسکین کیلیئے ایسے حیلے بہانے تراشتے ہیں کے دنیائے عقل و دانش بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔

ہاں اس بات سے کوئی انکار نہیں کرے گا کہ اچھے اور برے لوگ، شریف اور دہشتگرد ہر جگہ، ہر مذھب میں ،ہر علاقے میں، ہر شہر میں، ہر ملک میں، ہر فرقے میں اور ہرسیاسی اور مذہبی پارٹی میں پائے جاتے ہیں، چاھے وہ مسلمان ہوں ےا غیر مسلم، امریکی ہوں یا اسرائیلی، انڈین ہوں یا پاکستانی، ایرانی ہوں یا سعودی۔۔ برے لوگ برے اور دہشتگرد ظالم ہی کہلائے جاتے ہیں، چاھے کسی بھی فرقے، مذہب مسلک، ادرے یا ملک سے کیوں نہ تعلق رکھتے ھوں۔ مگر نہایت ہی افسوس کہ ساتھ کہنا پڑ رہا ھے کہ ہمارے اکثر مسلمان بالخصوص ہمارے پاکستانی بھائی اتنے دقیانوس اور منافقت کی حد تک جھوٹے ہو چکے ہیں کہ جو دنیا کے ہرمظالم پر اور ظلم کرنے والوں پر لعنت تو بھیجتے ہیں مگر خود اپنے ان لوگوں کا نام بھی لینے سے کتراتے ہیں جو کھلے عام القائدہ، طالبان، تحریک طالبان،سپاہ محمد، لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ ےا لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں کے لیبل لگا کرہماری، فوج، پولیس، حکومت، انٹیلی جنس، عوام، مساجد، امام بارگاہوں، درسگاہوں، مسلمانوں و غیر مسلموں کی عبادت گاہوںاور مزراات مقدّسہ کو شھید کرتے ہوں، شیعہ اور سنّی کو کافر کہ کر 12 ربیع الاوّل، عاشورہ محّرم کے جلوسوں وغیرہ پر حملے اور دھماکے بھی کرتے ہوں اور پھر اسکا اقرار میڈیا پر کرتے ہوں اور کہتے ہوں کہ یہ دھماکہ ہم نے کیا ھے اورہم آئندہ بھی مزید کرینگے یا جو ایک دوسرے کو مذہبی وابستگی کی بنا پر کھلے عام واجب القتل قرار دینے کے فتوے جاری کرتے ہیں اور جن کو نہ صرف جلسہ عام کرنے کی اجازت دی جاتی ھے بلکہ اس چیز کے باقاعدہ شواہد موجود ہیں کہ بعض حکومتی ادارے ان نفرت پھیلانے والوں کے جلسے تک سپانسر کرتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ کےا ہم واقعی دہشت گردی کو پاکستان سے ختم کرنا چاہتے ہیں ےا ہم بھی ڈبل گیم کھیلنے والوں کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کے ساتھ بھی ڈبل گیم کھیل رھے ہیں؟

جب دہشتگرد کہتے ہیں کہ مولانا سرفراز نعیمی کو ہم نے مارا ھے، فلاں دھماکہ ہم نے کیا، جلوسوں اور عبادت گاہوں پر دھماکے ہم نے کیئے، تو یہ لوگ میڈیا پر آ کر کہتے ھیں کہ یہ انڈیا، امریکہ اور اسرائیل کے دہشتگرد ہیں۔۔۔ ارے بھائی جن کافروں کو اس زندگی سے اتنا پیار ہو وہ اپنے آپکو روز روز دھماکے کر کے نہیں ماریںگے، وہ تو چھپ کراور دور سے بیٹھ کر حملہ کرنے والے لوگ ہیں۔ بلا شبہ بلیک واٹر، را، موساد، سی آئی اے، کے جی بی، ایم آئی سکس اور خاد تو ہمارے دشمن ٹھہرے اور دشمن تو آپ کے خلاف سازشیں کرے گا ہی، مگر ان کے گماشتے ہماری اپنی صفوں میں ہی موجود ہیں۔ لہذا یہ بات ثابت ہوتی ھے کہ ہمارا ملک، اسکی عوام اور اسکا ہر اہم ستون واضح طور پر تین حصّوں میں بٹ چکا ھے، کچھ تو دہشت گرد ہیں، کچھ ان کے سپورٹر زےا سپانسرز اور باقی اکثریت اس دہشت گردی کے خلاف مگر بحیثیت قوم ہم اس مسئلے پر سخت کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے، مگر یہی حقیقت ھے کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، اور کالی بھیڑیں ہمارے اندر بھی ہیں جو ہمارے اندر بیٹھ کر ہمیں ہی کاٹ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے درمیان موجود ان ملت فروش میرجعفر اور میرصادق کی نشاندہی کرنا ہوگی وگرنہ خدانخواستہ ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

آخر میں مَیں یہاں ایک اور بات رکھنا چاہتا ہوں جس پر میرا کامل یقین ھے نیز جسے تاریخِ انسانی پر پرکھا جا سکتا ھے اور وہ یہ کہ کسی بھی ملک کی خفیہ ایجنسی کے تراشے ہوئے کوئی بھی مسلح گروہ تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پرآکر اپنے ہی آقاؤں یا پالنے والوں کے اثر میں بھی نہیں رہتے اور کسی بڑی سرمایہ کار ی کی رغبت میں وہ نئے ہاتھوں میں کھیلنے سے قطعاً دریغ نہیں کرتے لیکن چونکہ انڈر ورلڈ کی طرز پر کام کرتے کرتے انہیں صرف مرنا مارنا ہی آتا ہوتا ھے لہذا وہ مستقل کرائے کے قاتل بن کرمخصوص وقت میں اپنے مالکوں کے خلاف ہی صف آراء دکھائی دیں تو اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں۔ اللہ پاکستان
کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔ آخر میں مَیں اپنے ان اشعار پر بات ختم کرتا ہوں کہ

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
مِرے وطن میں بھی اک صبحِ جاوداں اُترے
یہاں پہ امن و محبت کی ایسی ریت چلے
ہر ایک دل میں اُمیدوں کی کہکشاں اُترے
قندیلِ چشم میں ایسے دھنک کے رنگ اُبھریں
سوادِ زیست کے آنگن میں ضوفشاں اُترے
★★★★★★★★★★★★★★★★★
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......