دہشت گردی اور قبائلی علاقے

anawazkhan's picture

شمالی وزیرستان جہادیوں کا مرکز و گڑہ ہے اور حقانی نیٹ ورک و القائدہ ،ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور جہادیوں کا مسکن ہے۔ جہان سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں مین باآسانی کاروائیان کرتے ہین ۔ القائدہ کے مرکزی لیڈر بھی اسی علاقہ مین روپوش ہین۔ لیون پنیٹا نے الزام عائد کیا کہ ایمن الظواہری پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہےیہ علاقے دہشتگردی کا مرکز ہیں جہاں اسامہ بن لادن کی باقیات اس علاقے سے باہر کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں .تمام گروپس اگرچہ علیحدہ علیحدہ ہیں مگرمل کر کام کرتے ہیں۔ القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہین، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہین ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہین دی جاسکتی۔
دہشت گردی کے ضمن مین رستم شاہ مہمند کا کنا ہے کہ ’سارا نظام ختم ہوگیا ہے اور لاکھوں لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔ گھر اُجڑ گئے۔گاؤں ختم ہوگئے، باغات ختم ہوگئے ہیں اور مارکیٹیں تباہ کردی گئیں۔ سکولز تباہ ہوگئے۔ قبائلیوں میں جو خوداعتمادی تھی وہ ختم ہوگئی اور وہ گداگر بن گئے ہیں۔ وہ کشکول لیے پھرتے ہیں۔ ان کی باعزت اور آبرومندانہ زندگی جو تھی وہ اب نہیں رہی‘۔
دہشت گردی اور غیر ملکی جہادیوں کی بہتات کی وجہ سے فاٹا کے بہت سے لوگ اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے علاقوں مین آباد ہو گئے ہین اور فاٹا ایریا مین غربت مین بہت اضافہ ہو گیا ہے، نئی انڈسٹریاں نہ لگ رہی ہیں، کاروبار برباد ہو گئے ہین ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہین۔ آج ہمارے پاس اس علاقہ مین مخبری کا ایک اچھا نظام بھی موجود نہ ہے اور ہمیں علم نہ ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمہ کے بعد و ٔزیرستان کے لوگوں کے اچھے دن لوٹ آ ئین گے اور پھر سے وہاں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق چیف سیکرٹری سنگی مرجان محسود کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد قبائلی علاقوں کی دیرینہ روایات کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جن علاقوں میں مُسلح جنگجو طالبان موجود ہے ان کا اپنا طریقہ کار ہے اور ان کے طریقے قبائلی روایات کے مطابق نہیں۔اس لیے علاقے میں قبائلی روایات اور رواج کو کافی نقصان پہنچا ہے۔قبائل کی روایتی مہمان نوازی اور شادی بیاہ کی تقریبات بھی متاثر ہوئی ہیں اور وہ قبائلی جو پہلے مہمانوں کی آؤ بھگت کے لیے مشہور تھے اب مہمانوں سے بھی دور بھاگنے لگے ہیں۔
اسی بارے میں افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رُستم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ ’قبائلی علاقوں میں بڑوں اور چھوٹوں کا اپنا اپنا کردار تھا، جرگہ اور علاقائی ذمہ داریاں تھیں۔ معاشرے کے اندر بنا بنایا خود احتسابی کا عمل موجود تھا لیکن اب سب کُچھ ختم ہو کر رہ گیا ہے‘۔
دس سال کے اس عرصے میں قبائلی معاشرے کی ثقافت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہ معاشرہ جہاں رباب، منگے، طبلہ اور ڈھول جیسے روایتی آلاتِ موسیقی بوڑھوں، جوانوں اور بچوں سب میں مقبول تھے طالبان کے خوف کی نذر ہو گیا ہے۔
خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے حجرہ پروگراموں کے نامور گائیک امین گل آفریدی کا کہنا ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد سب کُچھ ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’طالبان نے پشتو ثقافت کو بنیاد سے بگاڑ دیا ہے اور اب اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا‘۔
امین گل کے مطابق طالبان نے اتنا خوف پھیلا دیا ہے کہ پروگرام کرنا تو دور کی بات آپ کسی کو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ آپ گائیک ہیں۔
مبصرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جانی و مالی نقصان سے زیادہ نقصان دہ بات قبائلی روایات، رسم و رواج کی تباہی ہے کیونکہ اس سے قبائلی شناخت کے ختم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں پہلے ہی مختلف شعبوں میں پسماندگی کا شکار تھا اور اس ’جنگ‘ کے نتیجے میں اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ترقی کی گاڑی کو’ریورس گیئر‘ لگا دیا گیا ہو۔عسکریت پسندوں کے حملوں اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف شہروں میں بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف خیبر پختونخوا میں پانچ سے سو زائد سکول تباہ ہوئے ہیں جبکہ نجی املاک، فوجی مراکز، پولیس تھانوں اور سرکاری و نجی عمارات کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔لوگوں کے کاروبار، روزگار، معیشت، رہن سہن، روایات ، ثقافت الغرض زندگی کا کوئی ایسا پہلو باقی نہیں رہا جو اس جنگ کی وجہ سے تباہی کے دہانے تک نہ پہنچا ہو۔
یہی نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں نے وہاں بدامنی کی وجہ سے بندوبستی علاقوں کا رخ کر لیا اور وہاں مستقل طورپر سکونت اختیار کرلی اور فی الحال ان لوگوں کا واپس اپنے آبائی علاقوں میں جانے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔
پاکستان اور دہشت گرد اکٹھے نہ رہ سکتے ہین اور نا ہی پاکستان دہشت گردوں کو اکیلے کچل سکتا ہے،ایسا کرنے کے لئے پاکستان کو گلوبل تعاون درکار ہے۔ہماری خودمختاری کو ان دہشت گردوں نے روند ڈالا جن کا تعلق مختلف نسلوں کے لوگوں سے ہے اور ہماری علاقوں ،زندگیوں،امن اور تمناؤن کا خون کردیا۔ڈرون حملے کرنے والے دہشت گردی کے خلاف جنگ مین ہمارے دوست ہین، جنہوں نے ہمارے علاقے،وسائل وزمین پر کبھی کسی قسم کا دعوی نہ کیا ہے بلکہ دہشت گردی کی اس بلا کو ختم کر رہے ہین جس کو ختم کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری تھی۔
گفت و شنید سے ہم دہشت گردوں کو کبھی بھی رام نہین کر سکتے ۔ ، دہشت گردون اور غیر ملکی جہادیوں کو وزیرستان اور فاٹا کے علاقہ سے طاقت کے بل بوتے پر نکال باہر کرنا ہو گا۔ تشدد اور دہشت گردی کا راستہ مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔ دہشت گردں کا کام تمام ہونا پاکستان اور ہمارے شہریوں کے مفاد میں ہے۔
لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں سخت تنگ ہین۔
ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہے اور اگر کسی کو ڈرونز سےخطرہ ہے، تو وہ یا تو دہشت گرد و شدت پسند ہیں یا ان کے حامی ۔ ڈرونز کی افادیت دشوار گزار اور مشکل ترین علاقوں مین دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے ضمن مین مسلمہ ہے اور ڈرونز کا نشانہ بلا کا ہے۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شدت پسند ہوتےہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنا چاہئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہوتے ہیں۔
آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ پاکستانی میڈیا کی خبروں ، اور دہشت گردوں کی سپلائی کردہ معلومات سے استفادہ کرتے ہین جو کہ قابل اعتبار معلومات نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات من گھڑت واقعات اور مفروضوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ لہذا میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔
کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں تمام جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ ہمین یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ۳۵۰۰۰ معصوم پاکستانی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور پاکستان کو معیشت کو ۶۸ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندے ہیں ‘ ان کا نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ ایسے درندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت ۱۵۱)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ دہشت گردی ایک غیر ملکی نہین بلکہ پاکستانی ایشو ہے۔ ہمارےعوام کی سلامتی اور ترقی کے لئے یہ امر انتہائی اہم اور ضروری ہے اوریہ ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔ہم کب تک دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے؟

Share this
No votes yet