خون ذوالفقار سے ۔۔۔۔۔۔۔ ایشیا سرخ ہے

Administration's picture

خون ذوالفقار سے ۔۔۔۔۔۔۔ ایشیا سرخ ہے
رین بسیرہ /جلال الدین مغل
jalaluddin.mughal@gmail.com

شہادتوں اور قربانیوں کی روایات کے حامل بھٹو خاندان میں ہمت اور ثابت قدمی کی علامت سمجھی جانے والی محترمہ بینظیر بھٹو بھی بالآخر پاکستان کی سرزمین کو اپنے خون سے سرخ کرکے اپنے والد اور برصغیر کے عظیم سیاسی راہنما ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں منوں مٹی تلے چلی گئیں ، محترمہ کے قتل ناحق کی جس قدر مذمت کی جا ئے کم ہو گئی ۔ اور انکی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پا رٹی کے کارکن احساس یتیمی کا شکا رہو گئے ہیں ۔ بھٹو خاندان کی تاریخ خون کی قربانیوں بے بھری پڑی ہے اور پیپلز پارٹی کے کارکن آج جس کرب اور اذیت سے گذر رہے ہیں ان کیلئے قطعاً کوئی نئی با ت نہیں ہے ذوالعفقار علی بھٹو سے لیکر شاہنواز بھٹو ، مرتضیٰ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو کے انجام خون آشام تک پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کی تاریخ خون سے ہی لکھی گئی ہے عالمی شہرت یا فتہ پاکستانی سیاسی راہنما محترمہ بینظیر بھٹو کا سیاسی سفر 1986 کی جلا وطنی ختم ہونے کے بعد لاہور میںمینار پاکستان کے جلسہ عام سے شروع ہوا اور 27 دسمبر 2007کو لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسہ عام میں ختم ہو گیا ۔لاہور کے جلسہ عام مین ان کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ "ہاں ہاں میں باغی ہوں "نے ان کو میدان سیاست میں شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ۔ 18 اکتوبر کو اپنی طویل جلاوطنی ختم کر کے پاکستا ن آنے سے ایک روز قبل محترمہ بینظیر بھٹو نے پریس کانفرنس مین کہا تھا کہ انکی جان کو خطرہ ہے مگر پاکستان بچانے کی خاطر وہ اپنی جان کو دائو پر لگا کر ملک واپس جا ئیں گی ۔ 18 اکتوبر کو انکی وطن واپسی کے چند گھنٹے بعد ہی کراچی مین ان پر خود کش حملہ ہوا جس میں وہ خود تو محفوظ رہیں مگر پیپلز پارٹی کے ایک سو چالیس سے زائد کارکن اپنی زندگی سے ہا تھ دھو بیٹھے ۔محترمہ کے قاتلوں کا پہلا وار تو کارگر ثابت نہ ہو سکا مگر دوسری با رقاتل اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا اور عین اس وقت جب وہ راولپنڈی لیا قت باغ مین جلسہ عام سے خطاب کر کے واپس جا رہی تھیں تو انکو گولی کا نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گیا ۔ اسی لیاقت باغ میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھی 1951 مین گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا جن کے اصل قاتل اور ان کے قتل مین ملوث دیگر افراد کا آج تک پتہ نہیں چل سکا ۔ اور اسی راولپنڈی شہر میں سابق وزیر اعظم پاکستان قائد عوام ذوالعفقار علی بھٹو کے پھانسی دی گئی ۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان کا تیسرا وزیر اعظم راولپنڈی میں اپنی زندگی کی بازی ہا ر گیا ۔محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کو ایک بحران سے نکالنے کا عزم لیکر وطن واپس آئی تھیں مگر پاکستان کو ایک نئے بحران میں ڈال کر چلی گئیں ۔ ان کی ناگہانی شہادت سے جہا ں بحالی جمہوریت اور جمہوری جدوجہد کا ایک باب بند ہو گیا ہے وہیں ایجیٹشن اور بد امنی کا ایک نیا باب کھل گیا ہے اور جس انجا م نہایت ہی بھیانک نظر آ رہا ہے ۔ دیدور افراد اس بحران کا خاتمہ ایک اور مشرقی پاکستان کی شکل مین دیکھ رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی میں ہمت اور استقلال اور اتحاد کی علامت سمجھی جانے والی محترمہ بینظیر بھٹو پیپلز پارٹی میں ایک مرکز کی حثیئت رکھتی تھیں ان کی وفات کے بعد ایک طویل عرصہ تک پیپلز پارٹی شاید اپنا وجود برقار نہ رکھ سکے اور یہ وجود برقرا رہا بھی تو شاید اسقدر اتحاد اور یگانگت دیکھنے مین نہ آسکے گی ۔محترمہ بینظیر بھٹو صرف پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ہی قائد نہیں تھی بلکہ پاکستان کہ اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندہ اور ہر مکتبہ فکر کے افراد کی ہر دلعزیز لیڈر تھیں ۔ اور شاید اسی لیے کراچی کے ساحل سمندر سے لیکر تائو بٹ ﴿آزاد کشمیر ﴾ اور درہ خیبر سے لیکر گلگت بلتستان تک پوری قوم سوگ کی کیفیت میں ہے پاکستان کی سرزمیں ایک بار پھر بھٹو خاندان کے خون سے سرخ ہے اور حقیقت کی آنکھ سے اگر دیکھا جائے تو یہ خون سااری قوم کے سر ہے کیونکہ قوم نے خونیوں کو پناہ دے رکھی ہے ۔ باپ کے خونی بھی قوم کی پناہ میںتھے اور بیٹی کے خونی بھی قوم کی پناہ میں ہیں ۔آخر کب تک بھٹو خاندان کہ افراد منہ میں زبان رکھے کی سزا کے طور پر سرزمین پاکستان کو اپنے خون سے سیراب کرتے رہیں گے ۔ آخر کب تک غریبوں کہ لئے روٹی کپڑا اور مکان طلب کرنا ایک جرم رہے گا اور کب تک اس جرم کی سزا بھیانک موت رہے گی ۔ آج جب میں پاکستان بھرمیں سیاسی طور پر یتیم ہو جانے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی حالت دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہیکہ اپنے پیشے اور فرض کو بھول جائوں ، اپنا کیمرہ چھوڑ دوں ، اپنے گلے سے پریس کا کارڈ اتار دوں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرا ماتم محترمہ کو واپس نہیں لا سکتا ساری قوم کہ ضمیر کا ماتم کرووں یہ جانتے ہوئے کہ میرے نعرے محترمہ کو واپس نہیں لا سکتے ان کارکنوں کی صفوں مین شامل ہو کر یہ نعرہ لگائوں کہ
خون ذوالعفقار سے۔۔۔۔۔۔۔ایشیائ سرخ ہے
the end

Share this
No votes yet