خود کش حملے ۔ ایک لمحہ فکریہ

Guest's picture

اس ارض پاک کو آج کل جن خوفناک مسائل کا سامنا ہے ان میں سے سب سے زیادہ اہم خودکش حملوں کا ہے ۔ اگرچہ پاکستان کو قائم ہوئے آج تقریباَ 60سال ہونے کو ہیں اور اپنے قیام سے ہی ہمار ا ملک اندرونی اور بیرونی طاغوتی طاقتوں کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی مسئلہ اس کی سلامتی کو درپیش رہتا ہے ۔ مگر خدا کے فضل و کرم سے ابھی تک ہمارا ملک سلامت ہے اور انشائ اللہ تا قیامت رہے گا۔

اب تک پاکستان میں تقریباَ62کے قریب خود کش حملے ہو چکے ہیں جن میں چار سو سے زائد جان بحق ہو چکے ہیں ۔ اور زخمی ہونے والے افراد کی تک ہزار کے لگ بھک ہے ۔جن میں کئی افراد جسمانی معذوری کا شکا ر بن گئے ہیں۔اور پاکستان کی تاریخ میں 2007ئ کا سال اس لحاط سے بھی منفرد ہے کہ اس میں گذشتہ سالوں کی نسبت کافی زیادہ تعداد میں خود کش حملے ہوئے ہیں۔اور ان ہونے والے خودکش حملوں سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میںاہم سیاسی شخصیت بھی خودکش حملہ آوروں کے نشانے پر ہیں۔اور اب تک صدر جناب پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور آفتاب احمد شیرپائو پر خود کش حملے ہو چکے ہیں۔ اور انہی خودکش حملوں کی وجہ سے سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر صاحبہ بھی جان بحق ہوئیں جو کہ 2007کی سب سے بری خبر شمار کی جاسکتی ہے۔اور سلسلہ میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضرور کوئی حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ ملک میں امن اور معاشی استحکام برقرار رہ سکے۔

اگر آپ روزانہ اخبارات کا مطالعہ کر تے ہیں توآپ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہوں گے کہ خود کش حملے صرف پاکستان کے رہنے والوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اب تو یہ تقریباََساری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ اور ساری دنیا کی حکومتیں اس کو روکنے کے سلسلے میں مختلف اقدامات کر رہیں ۔ مگر تاحال کوئی خاص کامیابی اس سلسلے میں سامنے نہیںآئی۔کیوںکہ جب ایک شخض اپنی جان دینے کا سوچ لیتا ہے تو اس کو کس طرح سے روکا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے کہ وہ اپنی موت کو خود دعوت دے رہا ہے۔ اور پھر اس دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ اور اس دنیا کے تمام عیش وعشرت سے محروم ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسکے گھر والے بھی اس کا منہ دوبارہ نہ دیکھ پائیں گے؟

سوال یہ پیداہوتاہے کہ وہ آخر ایسا کیوں کر تے ہیں ؟ اس کا آسان سا جواب ہے کہ بے روزگاری اور معاشی طو رپر مستحکم نہ ہونا ، دین کی تعلیمات سے دور ہونااور سب سے اہم وجہ والدین کی اپنے بچوںکو درست طور پر تعلیم وتربیت نہ دینا ہے ۔ ان کی صحیح رہنمائی نہ کرنا بھی ان کو راہ مستقیم سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ اس لئے آج کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں اور دینی تعلیمات سے روشناس کروایں۔ تاکہ وہ ایک اچھے اورسچے مسلمان بننے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شہری بھی بن سکیں۔

اس کے علاوہ جب بھی کوئی انسان اللہ تعالیٰ پر توکل نہیں کر ے گا تو وہ یقینا اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہرقسم کا طریقہ اختیار کرے گا اور اسی کوششوں میں وہ اس راہ کا شعوری یا غیر شعوری طور پر انتخاب کر لیتا ہے ۔قران و حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ’’ایک انسان کا قتل گویا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے‘‘۔اسلام تو امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے اوراسلام نے تو دوسروںکی بھی جان ومال کی حفاظت کا حکم بھی دیاہے۔

خودکش حملوں کو روکنے کی ذمہ داری حکومت یا ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ہی نہیں بنتی ہے بلکہ یہ ہماری قومی ذمہ داری بھی ہے کہ جب بھی ہم کسی مشکوک شخص یا چیز کو دیکھیں تو فورا اس کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں ۔ اس سے روگرداں ہونے کی صورت میں ہم اور ہمارے پیارے کسی ناگہانی حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تحریر: ذوالفقارعلی بخاری، اسلام آباد
zulfiqarbukhari80@gmail.com

Share this
Your rating: None Average: 5 (1 vote)