خوبی کیسے بنی خامی ایران چین کی کہانی

Submitted by imkanaat on Sun, 07/26/2009 - 09:59

خوبی کیسے بنی خامی ایران چین کی کہانی

زبیرا حمد ظہیر

ایران اور چین میں فسادات کیوں شروع ہوئے؟ یہ انسانی ذہانت کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے والا سوال ہے۔ دنیا کے 2 سو45 ممالک میں یہ دونوں پرامن ملک ہیں، ان دونوں ملکوں میں عوام کے پاس اسلحہ نام کی کوئی بلا موجود نہیں۔ اس لئے یہاں لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک جارحیت پسند نہیں۔ جو ملک جارحیت پسند نہیں ہوتے وہاں اسلحہ کی ریل پیل نہیں ہوتی اور وہ ملک پر امن رہتے ہیں۔ امریکہ' اسرائیل' بھارت' برطانیہ سے روس تک جس ملک نے بھی جارحیت کا ارتکاب کیا، ردعمل میں اسلحہ اس ملک میں عام ہو گیا، جب اسلحہ عام ہوا تو امن جاتا رہا۔

آج جو ممالک دہشت گردی کا دن رات رونا روتے ہیں یہ جارحیت کے مرتکب رہے ہیںلہٰذاانہیں دہشت گردی مکافات عمل میں ملی ہے۔ جارحیت کا ارتکاب دہشت گردی کو جنم دیتا ہے یہ صدیوں کا تاریخی سچ ہے اور مسلمہ اصول ہے صدیوں کے سچ اور مسلمہ اصول کبھی جھٹلائے نہیں جاتے ان کی حقیقت ہوتی ہے جس طرح یہ حقیقت ہے ویسی ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ جو ملک جارحیت پسند نہیں ہوتے وہ پر امن ہوتے ہیں ۔جارحیت پسندی اسلحے کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے اور جو ملک پر امن ہوتے ہیں وہاں اسلحہ عام نہیںہوتا ۔کل تک یہ بھی صدیوں کا سچ تھا اور یہ مسلمہ اصول تھا مگر جب سے ایران میں الیکشن کے بعد فسادات شروع ہوئے اور چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تو یہ اصول ،یہ نظریہ بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے۔ مانا کہ دنیا کاکوئی اصول کلی نہیں ہوتا 'ہر اصول کہیں نہ کہیںجا کر ٹوٹ جاتا ہے ، ہر نظریہ کہیں نہ کہیں جا کر ختم ہو جاتا ہے اس لحاظ سے ہم جارحیت پسندی اور امن پسندی کے نظریئے کو بھی کلی نہیں مانتے مگر کیا کیا جائے کہ صدیوں کے سچ لمحوں میں جھٹلائے بھی نہیں جاسکتے ۔یہ کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ وہ چین جہاں عام افراد کے پاس بندوق تک نہیں اور وہ ایران جس کا نامی گرامی ڈاکو بھی چاقو چھری استعمال کرے وہاں اتنی سرعت سے فسادات پھوٹ پڑیں اور آن کی آن میں اموات کی شرح سینکڑوں میں چلی جائے اس خلاف روایت معاملے کو ٹھنڈے پیٹوں کیسے ہضم کر لیا جائے۔

نابغہ روز گار ذہانت رہی ایک طرف ..عام فرد کی عقل عام بھی اس انہونی کو تسلیم نہیں کرسکتی کہ ایسا کیوں ہوا۔ یہ دیکھنے کے لئے ہم چین چلتے ہیں ۔ساری دنیا اس وقت دہشت گردی کی زد میں ہے یہ دہشت گردی سپر پاور کے سر کا بھوت بنی ہوئی ہے جس نے سپر پاور کا چین سکون سب برباد کر دیا ہے اور دنیا کا اگلا سپر پاور بننے والا چین سکون میں ہے ۔رقبے میں پورے یورپ کے برابر چین کواس دہشت گردی( جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے )سے کوئی پریشانی نہیں اس دہشت گردی کی وجہ سے ڈیڑھ ارب آبادی کے چین میں کبھی کوئی پٹاخہ تک نہیں پھٹا ،روس کو امریکا نے توڑا، دنیا کی اس سب سے بڑی دشمنی کے باوجود محض دہشت گردی کے جس خوف نے روس کو امریکا سے معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا، وہ دہشت گردی چین کے لئے خطرہ کیوں نہیں ،یہی خطرہ توچین کے ذہن میں ڈالنا مقصود تھا۔ یہ بات چین کے کان میں ڈالنے کی کوئی راہ دکھلائی نہ دی ،چین میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں نے مذہب پر پابندی قبو ل کر لی مگر اف تک نہ کی، سازش کا کوئی راستہ نہ بچا ،رقبے میں پاکستان سے بڑے سنکیانگ میں فسادات کے لئے مسئلہ جو کھڑا کیا گیا وہ کیا تھا اصل النسل مقامی چینی اور غیر مقامی چینی کا تھا۔جہاں کوئی چال کامیاب نہ ہو تو استعمار کا سب سے بڑا ہتھیار قومیت کا ہی تو ہوتا ہے سو یہ قومیت ایک جھوٹے انٹرنیٹ پیغام سے اتنی پھیلی کہ آج ہم چین کے لاکھ دوست سہی اس کے مسلمانوں پر روا رکھے مظالم کی حمایت نہیں کرسکتے ۔

عالم اسلام کے دل میں یہ چین کے متعلق پہلی بدگمانی ہے جو استعمار پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور چین کے دل میں یہ بدگمانی جڑ پکڑگئی کہ ہو نہ ہو چین کو خطرہ اسلام سے ہی ہے۔ چین کے لئے بھی کسی ایسی دوسری القاعدہ کے خطرے کو باور کروا دیا گیا ہے جس کا سرے سے وجود ہی نہیں۔رہی بات ایران کی تو ایران کا داخلی ڈھانچہ اتنا مضبوط تھا کہ دنیا کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیاں اس کے ایٹمی پروگرام کا سراغ نہ لگا سکیں، نہ ہی اس کے نظام میں نقب لگا کر کوئی معلومات حاصل کرسکیں ،علیحدگی پسندی کو بھی ہوا نہ دی جاسکتی تھی، سنی شیعہ تنازع پیدا نہ کیا جاسکتا تھا کہ وہاں سنیوں کی تعداد کم ہے ،بس ایران کی ایک ہی کمزوری بنیاد پرست اور اصلاح پسند کی تقسیم تھی ۔یہ ہتھیار بھی کل تک موثر نہ تھا مگر جب داخلی جاسوسی ممکن نہ ہو تو جدید جاسوسی کا انداز یہ ہے کہ پالیسی سازوں کی سوچ ہی بدل ڈالو' میر حسین موسوی کو یہ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ محب وطن نہیں ،کسی محب وطن سے ملک کے خلاف کھلی ملک دشمنی کاکام نہیں لیا جاسکتا ،ایسے موقعوں پر حب الوطنی کی آڑ میں چند باتیں کانوں میں ڈالی جاتی ہیں، اصلاح پسندوں کا بھی ایک بڑا حلقہ ہے پس ان کے بھلے کی بات ان کے کان میں ڈالی گئی ہے تو اس کا نتیجہ دھاندلی کے الزام سے ہوتا ہوا فسادات پر منتج ہوا۔

میر حسین موسوی کو بس اتنا بتایا گیا ہے احمدی کی ضد امریکہ سے حملہ کروائے گی اور ملک نہیں رہے گا آپ ملک بچانے کی کوشش کریں ،پھر میر حسن موسوی نے ملک بچانے کی کوشش کی تو کیا براکیامگر جو ہوا وہ برا ہوگیا۔چین کے معاملے پر ایسٹ ترکستان موومنٹ(ایتم) کا یہ موقف ہے کہ چین نے مذہب پر ناروا پابندیاں عائد کررکھی ہیں شعائر اسلام ' نماز روزے اور جمعہ کے اجتماع تک سب خلاف قانون ہیں ان کے اس موقف کو کوئی مسلمان رد نہیں کرسکتا مگرا یتم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مکی دور کو بھی یاد رکھے کہ اس مکی دور میںاسلام تیزی سے پھیلا ہے چین میں کروڑوں مسلمان آباد ہیں اور چینیوں میں اسلام ان پابندیوں کے باوجود تیزی سے پھیل رہا ہے یہ پابندیوں کا اثر ہے ،پابندی تجسس پیدا کرتی ہے اور تجسس انہیں اسلام کی راہ دکھلاتا ہے چین کے کروڑوں مسلمانوںکے علاوہ عالم اسلام کا مفاد اس وقت یہ کہ جب ایک سپرپاور دشمن ہو تو مستقبل کی سپرپاور کو مفت میں دشمن بنالینا دانش مندی نہیںا یتم کے علاوہ عالم اسلام کا کوئی فرد چین سے متصادم ہونے کا حامی نہیں ۔

ایران کے معاملے میں سعودی عرب سے متعلق خبر پروپیگنڈا بھی تسلیم کر لی جائے تو سعودی عرب کی جانب سے تردید نہیں آئی کہ وہ ایران پر حملے میںاسرائیل کو فضائی راہداری دینے کے لئے تیار نہیں مانا کہ سعودی عرب یا عرب ممالک کے ایران سے لاکھ فکری اختلافات ہونگے مگر سچ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ دودرجن کے قریب عرب ممالک میں اسرائیل کو دندان شکن جواب دینے والا کوئی ملک نہیں اگر اسرائیل کو پوری دنیا میں کسی سے خوف ہے تو وہ ایران ہے اسرائیل کا ایران سے یہ خوف عرب ممالک کی ایک ڈھال ہے جنگ میں ڈھال اگر مخالف کی بھی ہو ڈھال ڈھال ہوتی ہے اسے پامال نہیں کیا جاتا۔امن پسندی کا اصول ٹوٹا نہیں اسے توڑا جا رہا ہے اور چین 'ایران کو امن پسندی کی سزا دی جا رہی ہے اور کچھ نہیں۔
email4zubair@ymail.com

The ,wholesale wedding dresses wholesale wedding dresseswedding dress wedding dress is sleeveless and has a right breast. It also consists of a corset and a skirt swollen body. The corset is black and has embroidery on it and the skirt is produced with embroidery around the edges,fur store fur store, embroidered flowers on good waves black. The skirt has multiple layers and be sure you'll see that beautiful dress beautifully when asking why. Black wedding dresses wedding dresses a different style from others.Maybe it is more glamorous.Because it is sexy,evening handbags evening handbags,mysterious and out of the ordinary. Black bridesmaid gowns bridesmaid gowns often give others an impression of cool.Related Article:

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......