خوابوں کے مزاج کی شناخت

Submitted by sirajalvi on Thu, 11/26/2009 - 04:11
خواب کی حد اور مزاج کیا ہے ؟ یہ بات جان لو کہ حکماء نے بیان کیا ہے کہ نیند کا سبب تر بخارات کاوجود ہے جو جسم سے دماغ کی طرف چڑھتے ہیں ۔جس کے باعث تمام حواس اور قوتیں آرام پاتی ہیں اور غذا ہضم ہوتی ہے اور جسم کی اخلاط پختہ ہوتی ہے ۔طبیب اس خواب کو طبیعی کہتے ہیںاور بعض کے نزدیک خواب دماغ کے افعال میں سے ایک فعل کانام ہےاور وہ طبعی فعل ہے ۔کیونکہ اس سے قوتوں کو آرام پہنچتا ہے۔ خاص کر قوت تخیل اور قوتِ فکر کو زیادہ آرام پہنچتا ہے، اور یہ قوتیں جن کا ذکر ہوا ہے رُوح نفسانی کی حرکا ت ہیں اور ان کی جگہ دماغ ہے اور خواب سے آرام ہے ۔تاکہ رُوح نفسانی تسکین پائے۔اس پر دلیل یہ ہے کہ جو شخص تحصیل علم میں مشغول ہوتا ہے اور رات کو گرمی اور خشکی اس پر غالب آجاتی ہے تو روح نفسانی کثرتِ حرکت سے سست اور کمزور ہوجاتی ہے اور یہیں سے دُکھ اور بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔ ان کا علاج سرد اور تر چیزیں ہیں ۔جیسے روغن بنفشہ اور روغن نیلو فر اور جو چیزیں اُن کے مناسب ہیں ۔ حکماء بیان کرتے ہیں کہ خواب دو قسم پر ہے ۔ایک طبعی دوسری غیر طبعی لیکن طبعی حرارت غریزی کو قائم رکھتی ہے ۔یعنی اصل گرمی کو اندر میں نگاہ رکھتی ہے لیکن چند قوائے نفسانی سست ہوجاتی ہیں کیونکہ ان پر تری غالب ہوجاتی ہے لیکن رنج کو دور کرنا چاہئے اور جو فضلات جسم میں جمع ہو گئے ہیں اُ ن کو پسینہ کے ذریعے رفع کرنا چاہئے۔ غیر طبعی خواتین کی قسم کے ہیں ۔ایک جسم کے فساد مزاج سے ۔دوسری بعض اخلاط یعنی خون اور صفرااور سودا کے زیادہ ہونے سے ۔تیسری غلیظ غذاؤں کے کھانے سے ہے یا سرد اور تر دماغ کے افکار ہیں ۔ان کا سرمایہ دما غ کی سردی اور تری سے ظاہر ہوتاہے ۔اسی لئے گرم وخشک دماغ والے کو نیند بہت ہی کم آتی ہے اور گرم وتر دماغ کو بہت نیند آتی ہے ۔ اگر کوئی شخص اعتراض کرے اور کہے کہ تم نے جانا ہے کہ خواب ایک فعل افعال سرد اور راحت وقوت متخیلہ اور متفکرہ ہے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کو عقل کے ذریعے معلوم ہوتاہے کہ بیٹھنا کھڑے ہونے سے راحت ہے ۔راحت کی وجہ سے بیداری اوردماغی قوتوں کی آسائش ہے ۔لہذا یقیناً خواب دماغ کے افعال میں سے ایک فعل ہے اور خوابِ طبعی اور غیر طبعی ،ضعف قوت تخیل ،و قوت ذکر وقوت فکر کی شرح ۔قولِ حکمائے قدیم سے سند اور دلیل کے ساتھ ہم نے مفصل طور پر بیان کردی ہے ۔ خواب کی قسموں کے بیان میں حضرت دانیال علیہ اسلام نے فرمایا ہے کہ خواب اصل میں دو چیزیں ہیں ۔ایک حقیقت حال پر آگاہ کرنے والی ہے ۔دوسری سر انجام کارسے اطلاع دینے والی ہے ۔اور ان دو کی چار قسمیں ہیں ۔ایک خواب امر کرنے والی ہے ۔اور دوسری خواب منع کرنے والی ہے ۔تیسری خواب ڈرانے والی ہے ۔چوتھی خواب خوشخبری دینے والی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے ۔ارّئویاَ ثلٰثتہ اَقسامِ مِنَاللہ تعالیٰ وَ بُشریٰ لِلمئو مِنیِنَ فِی حَیاَ تِہِم۔ یعنی خواب تین قسم کے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ایمان والو ں کےلئے بشارت ہے ۔دوسری قسم ۔ مِنَ الشّیطاَ نِ اِ لیَ الّذینَ اٰ مَنُوا ایمان والو ں کے لیے شیطان کی طرف سے ۔ تیسری قسم ۔اضغاثُ احلام ۔پریشان کن خیالات ہیں ۔یعنی خواب کی تین قسمیں ہیں ۔ایک حق تعالیٰ کی طرف سے جو اہل ایمان کےلیے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے ۔دوسری قسم کے خواب وہ ہیں ۔جو لوگوں کو غم میں ڈالتیں ہیں ۔تیسری قسم کےخواب پریشان ہیں۔حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خواب دو قسم پر ہے ۔ایک کو حکم ،دوسرے کو متشابہ ،تیسرے کو اضغاث و احلام کہتے ہیں اور اضغاثُ واحلام یعنی پریشان خواب چار گروہ دیکھتے ہیں ۔اوّل گروہ کہ جس کی طبیعت فساد کی طرف مائل ہے۔دوم وہ گروہ جو شراب خور ہے۔سوم گروہ جوخلط سودا پیدا کرنےوالی غذا کھاتاہے۔جیسے بینگن،مسور، نمک ملاہوا گوشت اور جو چیزیں ان کے مشابہ ہیں ۔چہارم گروہ نابالغ بچے ایسے خواب دیکھتے ہیں ۔حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خواب دو قسم پر ہے ۔ ایک خواب حکم ، یعنی فیصلہ کن جو درست ہوتاہے ۔دوسرے اضغاث واحلام جو پریشان اور پرا گندہ خواب ہوتے ہیں اضغاث گھاس کے جنگلوں کو کہتے ہیں ۔ یعنی گھاس کی طرح سبزہ زاروں میں متفرق ہیں ،اور خواب پریشان بھی تین قسم پر ہیں بعض طبیعت اور خواہش کے غلبے سے اور بعض شیطان کی نمائش سے اور بعض نفس کی اپنی باتوں سے اور یہ تینوں قسمیں درست نہیں ہوتیں ہیں ۔حضرت کرمانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ خواب تین قسم پر ہے ۔ایک قسم حق تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے ۔دوسری قسم شیطان کا وسوسہ ہے۔ تیسری وہ بات ہے جو خیال میں جم جاتی ہے اور شوق کی وجہ سے اُ سی کو خواب میں دیکھتا ہے۔ سچی خواب فرشتے کی صورت ہوتی ہے کہ کرنے کی چیز کی لوح محفوظ سے بشارت دیتا ہے یابا خدا شخص کو آتی ہے کہ قبل از وقت اُس کی شرارت سے محفوظ رہے لہذا جو شخص خواب دیکھ کر بھول جائے ۔ تعبیر بیان کرنے والا اس سے توبہ اور خواب کا بھلانا گناہ ہے ۔ کیونکہ خواب کا نمائندہ ممکن ہے کہ لوح سے کوئی فرشتہ ہو۔حضرت مغربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خواب دو قسم پر ہے ۔ ایک سچا ،دوسرا جھوٹا اور سچا خواب تین قسم پر ہے ایک بشارت ۔دوسرے تنبیہہ اور تیسرے الہام ۔بشارت کی قسم یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ایک فرشتہ لوح محفوظ پر مقرر کیا ہوا ہے ۔ تاکہ جو کچھ نیکی اور بدی فرزند آدم کے سر پر آنے والی ہے اُس کو اس کی اطلاع کرے اور اس پر خواب میں ظاہر کرے ، اس فرشتے کانام ملک الرؤیاہے۔کسی کو بشارت پہنچانی ہوتی ہے تو خواب کا فرشتہ خواب میں ظاہر کردیتا ہے اور خواب تنبیہہ یہ ہے کہ فرشتہ اس کو ڈراتا ہے اور آنے والی چیز کی اطلاع دیتاہے تاکہ خواب دیکھنے والا اطاعت کرے اور گناہ سے بچے ،اور اس کے باعث عبادت اور فرمانبرداری کرے اور آنے والی بدی سے امن میں رہے ۔ حق تعالیٰ کا ارشادہے ۔ وَتُوبُو اِ لیَ اللہ جَمِیعاً اَیّھا المئو مِنوُنَ لَعَلّکُم تُفلِحُونَ۔ ایمان والوں! اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم نجات پاؤ خواب الہام یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرشتے کوحکم دیتاہے کہ وہ بندے کو خواب میں الہام کرے تاکہ وہ صدقہ دے اور جہاد کرے اور حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور گناہ سے بچے اور خلقت کے ساتھ احسان کرے۔ جھوٹے خواب کی بھی تین قسمیں ہیں۔ایک کواب ہمت، دوسرا خوابِ علت ، تیسرا خوابِ شیطانی یعنی پریشان و پرا گندہ ۔خوابِ ہمت یہ ہے کہ جو کچھ بیداری میں سوچ رہا تھا ۔ وہی کچھ خواب میں دیکھے ۔اس خواب کی اصل نہیں ہے اور اُس کی تاویل ہے ۔اور خوابِ علت یہ ہے کہ دُ کھیا آدمی درد سے روتاہے اور نیند میں وہی درد غلبہ کرتا ہے ۔ بری اور خوفناک چیزیں خواب میں دیکھتا ہے اور اس خواب کا باعث درد ہوتا ہےاس خواب کی بھی اصلیت نہیں ہوتی ہے۔اور خوابِ شیطانی یہ کہ اس کو بدن کا دھونا واجب کردے یا نا ممکن چیز کو دیکھتا ہے ۔ اس کی بھی تعبیر اور تاویل نہیں ہوتی ہے ۔چنانچہ حق تعالیٰ کا فرما ن بطورِ نقل ہے ۔و مَا نَحنُ بِتَا وِیلِ لاَ حلا مِ بِِعَا لِمیِن۔ا(ہم پریشان خوابوں کی تاویل کے عالم نہیں ہیں )اور امیرُالمؤمنینحضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ حق تعالیٰ کی عجائبات خلق میں سے ایک خواب بھی ہے اور نیز جو کچھ خواب میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے نیکی اور بدی پہنچتی ہے ۔ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ خواب کے عجا ئبات میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی خواب میں خیر اور منفعت اور راحت دیکھتاہے اور وہی خیر اور راحت یا شر اور آفت بالکل بیداری میں دیکھتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کند فہم اور کند زبان ہوتے ہیں ۔ جو بیداری بہت لمبے بیت یا شعر یاد نہیں کرسکتے ہیں خواب میں پڑھ کر یاد کر لیتے ہیں اور بیداری میں دُرست پڑھتے ہیں اور بہت سے جاہل لوگ ہوتے ہیں کہ حکمت کی باتیں اور اچھے الفاظ بیان کرتے ہیں جو اُنہوں نے خواب میں یاد کئے ہیں جن کو کوئی حکیم اور عالم بھی نہیں یبان کرسکتا ہے اور بیداری میں بھی اُن کو درُست بیان کردیتے ہیں ۔حضرت جابر مغربی رحمتہ اللہ علیہ نے فر مایا ہے کہ خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے خواب میں ایک جھوٹ چیز نظر آتی ہے اور اس کی تاویل اُس کے فرزند یا برادر پر واقع ہوتی ہے ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺنے خواب دیکھا کہ ابو جہل مسلمان ہوگیا ہے ۔ حالانکہ اُس کے بعد حضرتِ عکرمہ ؓابو جہل کے فرزند اسلام لائے۔ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ اسد امیر مکہ اسلام لایاہے ۔ حالانکہ اس کے بعد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن اسد کےفرزند اسلام لائے ۔یہ بھی ہوتاہے کہ بچے کے خواب کی تاویل ماں پرپڑتی ہے اور غلام کےخواب کی تاویل آقا پر پڑ تی ہے ۔ ایسے عجائبات خواب میں بہت ہوتے ہیں ۔اگر سب کو بیا ن کیا جائے تو کتاب دراز ہوگی۔ نفس اور روح کے یاد کرنے کےبیان میں قرآن مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ اَللہُ یَتَوَفَّی الاَ نفُسَ حِینَ مَوتِھَا وَلّتِی لَم تَمُت فِی مَنَا مِھَا فَیُمسِکُ الّتِی قَضیٰ عَلَیھَا اَلمَوتَ وَیُر سِلُ الاُ خرٰی اِلیٰ اَجَلَ مُّسَمّٰی۔(ترجمہ) اللہ تعالیٰ موت کے وقت جانوں کو بھر پور لے لیتا ہے اور اس کو جو اپنی نیند میں نہیں مرا ہے جس پر موت کا حکم ہے اس کو روک لیتا ہے اور دوسرے کو وقتِ مقررہ تک چھوڑ دیتا ہے ۔ علماء اور حکماء کے درمیان نفس اور روح کے بارے میں اختلاف ہے ۔بعض کہتے ہیں کہ دونوں ایک ہی چیز ہے نفس اور روح کے معنے جان ہیں ۔ان کی دلیل یہ ہے کہ کلام عرب میں نفس کے آٹھ معنے ہیں ۔جان، خون،آب،منی،براز، ہمت،جسم،ہاتھ اورروح کے بارہ معنے ہیں ۔جان ،کلام روح القدس ،باران، وحی،افسون،مسیح مریم ،زندگانی،فرشتہ ، رحمت حق تعالیٰ۔اور حکماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ خواب دیکھنے والے کی جان جسم سے نکلتی ہے اور آسمان پر جاتی ہے اور دیکھے سنے کو یاد رکھتی ہےاور بیداری[۳] کے وقت پھر جان جسم میں آجاتی ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص طہارت [۴] سے سوتا ہے اور ذکر حق زبان پر جاری رکھتا ہے اُس کی جان آسمان پر لے جاتے ہیں ۔ بعض تعبیر بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں ہے ۔ اگر سوئے ہوئے آدمی کی جان جسم سے جاتی تو سانس لینے کی حرکات باقی نہ رہتیں۔چونکہ سونے والا سانس لیتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جان جسم میں رہتی ہے۔بعض لوگ جان اور روح میں فرق کرتے ہیں کہ سوتے وقت روح جسم سے نکلتی ہے اور جہان کے گرد گھوم کر پھر جسم میں واپس آجاتی ہے اور دیکھی ہوئی چیز کی جان کو خبر دیتی ہے۔اس کی یہ دلیل بیان کرتے ہیں کہ جان قرِص آفتاب [۵] کے مشابہ ہے اور روح آفتاب کی روشنی کے مشابہ ہیں ۔ جیسے آفتاب کا قرص چوتھے آسمان پر ہے اور اس کی روشنی سارے جہان میں ہے۔اور حکامء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جان اور روح ایک ہی چیز ہے ۔دونوں میں فرق نہیں ہے ۔کیونکہ ان کی صفت قیاص عقکی کے مطابق ایسی ہے جیسے پانی سے برف اور برف سے پا نی ہوجاتاہے۔اور حکیم ارسطا طالیس کے نزدیک نفس مبداء [۶] اوّل ہےاور روح سے زیادہ شریف اور بزرگ ہے لیکن نفس اور روح کی حقیقت ہم نے اپنی کتاب سماز المسائل میں بیان کردی ہے اور حکماء کے اقوال اس میں درج کردئیے ہیں۔اہل سنت ولجماعت کے نزدیک روح امر رب ہے ۔ چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔وَ یَسئَلُو نَکَ عَنِ الرُّوح ِ قُلِ الرُّ وحُ مِن اَمرِ رَبِّی ۔(ترجمہ) جو لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں اُ ن سے کہہ دو کہ روح میرے رب کا امر ہے ۔ہمارا اعتماد [۷] حق تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان پر ہے اور حکماء کے اقوال بیان کرنے کا یہ منشاء ہےکہ یہ کتاب اُن کے ذکر سے خالی بھی نہ رہے۔حق تعالیٰ ہم کو دین الہٰی اور سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قائم رکھے ، اور توفیق خیر و کرامت عنایت فرمائیں۔ خوابوں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں http://www.Taveel.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......