خدا کے انصاف کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے

anawazkhan's picture

خدا کے انصاف کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے

میرعلی: آسٹریلوی نژاد القاعدہ کمانڈر سیف اللہ ڈرون حملے میں ہلاک

شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز امریکی ڈرون حملے میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والاالقاعدہ کمانڈر سیف اللہ ہلاک ہوا ۔
امریکی جاسوس طیاروں نےگزشتہ روز میرعلی کے علاقے ہرمز میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاتھاجس میں چارعسکریت پسندہلاک ہوئے تھےسرکاری ذرائع نے ڈرون حملے میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والےالقاعدہ کےکمانڈر سیف اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے کمانڈر سیف اللہ کی عمر پچاس سال کے قریب تھی اور وہ گزشتہ پانچ سال سے قبائلی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئےتھا۔

http://www.dunyanews.tv/index.php?key=Q2F0SUQ9MiNOaWQ9Mjk5NTMjTGFuZz11cmR1
خدا تعالی کی انصاف کی لاٹھی بے اآواز ہوتی اور ظالموں کو اپنے ظلم کا حساب ایک دن دینا ہے۔ مظلوموں کی اآہین ظالم کو لے بیٹھیں۔ دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان میں موجود ہین اور پاکستان دہشت گردی کا گڑہ کہلاتا ہے۔ "ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہان عرب ہین ،ازبک ہین ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی" کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں"( ڈیلی ڈان) وہان القائدہ ہے،طالبان ہین، پنجابی طالبان ہین ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہون نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے مین ڈال دیا ہے مگر انشاء اللہ ایسا نہیں ہو گا .
وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنا چاہئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہوتے ہیں۔ان حملوں کو وہاں کے رہائشی اپنے لیے خطرہ محسوس نہیں کرتے کیونکہ اور یہ حملے اپنے ہدف کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ وزیرستان کےرہائشیوں کے مطابق ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حامی، جن کی نظریں ہر وقت اآسمان کی طرف لگی رہتی ہین۔ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں تنگ ہین۔قبائلی علاقوں کے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں اگر کسی چیز سے مطمئن ہیں تو وہ ڈرون حملے ہیں۔ ڈرون حملوں کی وجہ سے دہشت گردپریشان ہیں۔ ان کےلئے ممکن نہیں کہ ایک جگہ پر اکٹھے اور مستقل رہ سکیں۔ ان کی کارکردگی پر فرق پڑا ہے اور انہیں نقصان ہوا ہے۔
عورتوں‘ بچوں اور بوڑھوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا دہشت گردوں کے جنگی حربوں کا حصہ ہے۔ وہ عموماً جس گھر پہ قبضہ کرتے ہیں یا جس غار کے اندر پناہ لیتے ہیں‘ اس کی چھت کے اوپر بنائے گئے گھر میں بال بچوں والے خاندانوں کو رہنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ جب ان کی کمیں گاہ کو ہدف بنایا جائے‘ تو ساتھ یہ بے گناہ بھی شہید ہوں اور پھر وہ اپنی لاشیں غائب کر دیتے ہیں اور ان بے گناہوں کی لاشوں کی تصویریں اتار کے میڈیا میں پھیلاتے ہیں اور ان تصویروں کو دیکھ کر پاکستان کے سیاستدانوں اور میڈیا میں طالبان کے حمایتیوں کو ڈرون فوبیا ہو جاتا ہے اور وہ دانستہ یا نادانستہ دہشت گردوں کے حق میں مہم چلانے لگتے ہیں۔
میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ پاکستانی میڈیا کی خبروں پر ہی انحصار کرتا ہے، جو خبرین گھڑتے ہیں، اور اس کے علاوہ بھی جن ذرائع کی مدد لیتا ہے وہ بھی قابل اعتبار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کرائے گئے ایک سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن علاقوں میں امریکی ڈرون کے ذریعے میزائل داغے جاتے ہیں وہاں رہنے والے ۷۵ فیصد عام افراد ، ان حملوں کی حمایت کرتے ہین۔
حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہین۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ ہمین یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ۳۵۰۰۰ معصوم پاکستانی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور پاکستان کو معیشت کو ۶۸ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
اللہ تعالہ فرماتے ہین:
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(
کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”
پاکستانی معیشت وار آن ٹیرر کے شدید دباؤ تلے ہے جو پچھلے چار سالوں میں افغانستان میں شدت اختیار کر چکی ہے 2006ء سے یہ جنگ پاکستان کے منتظم علاقوں (Settled Areas) میں متعدی وباء کی طرح پھیلی ہے جو اب تک پاکستان کے 35000 شہریوں اور 3500 سیکورٹی اہلکاروں کو کھا چکی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کی تباہی ہوئی، جس کی وجہ سے شمال مغربی پاکستان میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کا ماحول غارت ہوا۔ جس کی وجہ سے ملکی پیداوار تیزی کے ساتھ پستیوں کی طرف لڑھکی، جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کے بیشتر حصوں میں اقتصادی سرگرمیاں کلی طور پر جامد ہو کے رہ گئیں۔ پاکستان نے کبھی اس پیمانے کی سماجی، معاشی اور صنعتی تباہ کاری نہیں دیکھی تھی حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب ایک براہ راست جنگ کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا تھا۔“
یہ درست ہے کہ ہماری آزادی و خودمختاری کو ختم کرنے کی پہل اسامہ بن لادن کی جماعت القائدہ اور دوسرے غیر ملکی جہادیوں نے کی تھی جنہوں نے شمالی وزیرستان کے بڑے حصہ پر قبضہ کرکے وہان پاکستان کی حاکمیت اور قانون کی عملداری ختم کرکے رکھ دی ہے ۔ کیا یہ ہماری ریاست کی ذمہ داری نہ ہے کہ ہم تمام غیر ملکی جہادیوں کو پاکستان سے نکال باہر کریں؟ اور ہم نے کس حد تک اس ذمہ داری کو نبھایا ہے۔ غیر ملکی جہادی،القائدہ اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان مین ویزا لے کر نہیں آئے ۔ اور نہ ہی غیر ملکی جہادیوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہے۔ ہمارے ہاں دہشت گردوں سے بڑا مسئلہ وہ خودسر اور ناعاقبت اندیش سیاست دان ہیں‘ جو معاملات کو سمجھے اور جانے بغیردہشت گردوں کی اندھا دھند حمایت کرتے رہے ہیں۔
دہشت گردی کی وجہ سے فاٹا کے بہت سے لوگ اور کاروبار فاٹا ایریا چھوڑ گئے ہین اور غربت مین اضافہ ہو گیا ہے، نئی انڈسٹریاں نہ لگ رہی ہیں، کاروبار برباد ہو گئے ہین ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہین۔ آج ہمارے پاس اس علاقہ مین مخبری کا ایک اچھا نظام بھی موجود نہ ہے اور ہمیں علم نہ ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
القاعدہ اور طالبان کی اعلیٰ قیادت اس وقت بھاگ رہی ہے یا فرار کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسامہ بن لادن کے کمپاونڈ سے برآمد شدہ کمپیوٹر ڈاٹا اور دوسری دستاویزات کی مدد سے دہشت گردوں کا پتہ چلانا آسان ہو گیا ہے، نیز دہشت گرد اب خود بول رہے ہین اور دوسرے دہشت گردوں کے بارہ میں بتا رہے ہین۔ لہذا شمالی وزیرستان جو پاکستان میں شدت پسندوں کا سب سے محفوظ ٹھکانہ تصور ہوتا تھا ، وہاں کے شدت پسندوں کے حوصلے بلاشبہ ٹھنڈے یا کم پڑ گئے ہین۔ اور اب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے لیے زمین سکڑنا و تنگ ہونا شروع ہو گئی ہے .
ہمارے دشمن کو ہماری ہی صفوں سے حمایت اور تقویت مل رہی ہے‘ جس کا وہ خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں ،سیاست اور میڈیا میں جو لوگ دانستہ یا نادانستہ دہشت گردوں کی حمایت کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہا‘ تو وہ خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

Share this
No votes yet