حکومت کی غیر یقینی معاشی پالیسیاں

news123's picture

شاہد حفیظ کاردار کی سٹیٹ بنک کے گورنر کے طور پر تقرری حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اقتصادی ٹیم میں غیر یقینی کا مظہر کے طور پر دیکھی جا رہی ہے کیونکہ بعض ماہرین کی نظر میں اڑھائی برس بعد بھی حکومت اپنی اقتصادی ٹیم کا حتمی تقرر نہیں کر سکی ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر کے صاحبزادے پرویز مشرف کے دور میں پنجاب کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں اور اس لحاظ سے شاہد کاردار کی تقرری کے بعد موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی سازی کے لحاظ سے دو اہم ترین عہدوں پر پرویز مشرف کی اقتصادی ٹیم کے ارکان فائز ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے چند ماہ قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو خزانے کے امور کا انچارج مقرر کیا جو مشرف کابینہ میں وزیر نجکاری رہ چکے ہیں۔

شاہد حفیظ سید سلیم رضا کی جگہ اسٹیٹ بنک کے گورنر بنے ہیں۔ سلیم رضا نے بعض حلقوں کی جانب سے اہلیت کو متنازع بنائے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے اڑھائی برس ہو چلے ہیں۔ اس دوران اس حکومت میں چار وزرائے خزانہ تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ معاشی پالیسی سازی کے دو اہم ترین اداروں سٹیٹ بنک اور پلاننگ کمیشن کے سربراہان بھی متعدد بار تبدیل ہو چکے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ کے اشتراک سے وجود میں آنے والی اس حکومت کے ابتدائی دنوں میں وزارت خزانہ کا قلم دان نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحٰق ڈار کے سپرد کیا گیا تھا جنہوں نے میثاقِ جمہوریت پر عمل نہ کیے جانے کا اعلان کرکے چند ماہ بعد ہی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اسحٰق ڈار کی حکومت سے علیحدگی کے بعد وزارت خزانہ کا ہما اس وقت کے وزیر نجکاری نوید قمر کے سر بیٹھا جنہوں نے یہ قلمدان شوکت ترین کے مشیر خزانہ بننے پر ان کے حوالے کر دیا۔

شوکت ترین نے ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر جب وزارت خزانہ اور سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دیا تو خزانے کا چارج ایک بار پھر نوید قمر کے حوالے کر دیا گیا۔ چند روز یہ بیڑا اٹھانے کے بعد نوید قمر کو ایک بار پھر اس سے دست کش ہونا پڑا۔ اس بار یہ سہرا رکن قومی اسمبلی مخدوم شہاب الدین کے سر سجا۔

مخدوم شہاب کو کچھ ہی عرصے بعد یہ کرسی موجودہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے لیے خالی کرنی پڑی۔
کچھ ایسی ہی صورتحال منصوبہ بندی کمیشن، سٹیٹ بنک اور وزارت خزانہ و اقتصادی امور میں رہی جہاں کبھی سردار آصف احمد علی جیسی سیاسی اور کبھی سلیم رضا جیسی شخصیات جلوہ گر ہوتی رہیں۔

معاشی امور کے ماہر سابق ٹیکنو کریٹ مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ معاشی لحاظ سے ان حساس ترین عہدوں پر بار بار ہونے والی شخصی تبدیلیوں کے ملکی معیشت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

’آپ دیکھیں کہ ڈھائی سال بعد بھی حکومت کی کوئی معاشی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ وجہ یہی ہے کہ بار بار پالیسی بنانے والے ہی تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی ترجیحات بھی چلی جاتی ہیں۔ نئے آنے والے نئے وژن کے ساتھ آتے ہیں اور پھر جلد ہی چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ وژن حکومتی معاشی پالیسی میں کہیں نظر نہیں آتا‘۔

اس موقع پر بعض ماہرین یہ سوال کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ کیا معاشی ٹیم میں شامل افراد کی بار بار تبدیلی پاکستان میں معاشی انحطاط کی وجہ ہے یا اس کا سبب کوئی اور ہے؟

ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق بار بار چہرے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ سے بدلے جا رہے ہیں۔

’جب جب کوئی ناکام ہوتا ہے، کسی نہ کسی بہانے سے حکومتی عہدے سے علیحدہ ہو جاتا ہے یا کر دیا جاتا ہے۔ لہذا یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ معاشی ناکامی چہروں کی تبدیلی کی بنیادی وجہ ہے

(((((((((((((( www.PakBooks.tk ))))))))))))))

Share this
Your rating: None Average: 2 (4 votes)