حکومت کی غیر یقینی معاشی پالیسیاں

Submitted by news123 on Wed, 09/29/2010 - 18:42

شاہد حفیظ کاردار کی سٹیٹ بنک کے گورنر کے طور پر تقرری حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اقتصادی ٹیم میں غیر یقینی کا مظہر کے طور پر دیکھی جا رہی ہے کیونکہ بعض ماہرین کی نظر میں اڑھائی برس بعد بھی حکومت اپنی اقتصادی ٹیم کا حتمی تقرر نہیں کر سکی ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر کے صاحبزادے پرویز مشرف کے دور میں پنجاب کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں اور اس لحاظ سے شاہد کاردار کی تقرری کے بعد موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی سازی کے لحاظ سے دو اہم ترین عہدوں پر پرویز مشرف کی اقتصادی ٹیم کے ارکان فائز ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے چند ماہ قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو خزانے کے امور کا انچارج مقرر کیا جو مشرف کابینہ میں وزیر نجکاری رہ چکے ہیں۔

شاہد حفیظ سید سلیم رضا کی جگہ اسٹیٹ بنک کے گورنر بنے ہیں۔ سلیم رضا نے بعض حلقوں کی جانب سے اہلیت کو متنازع بنائے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے اڑھائی برس ہو چلے ہیں۔ اس دوران اس حکومت میں چار وزرائے خزانہ تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ معاشی پالیسی سازی کے دو اہم ترین اداروں سٹیٹ بنک اور پلاننگ کمیشن کے سربراہان بھی متعدد بار تبدیل ہو چکے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ کے اشتراک سے وجود میں آنے والی اس حکومت کے ابتدائی دنوں میں وزارت خزانہ کا قلم دان نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحٰق ڈار کے سپرد کیا گیا تھا جنہوں نے میثاقِ جمہوریت پر عمل نہ کیے جانے کا اعلان کرکے چند ماہ بعد ہی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اسحٰق ڈار کی حکومت سے علیحدگی کے بعد وزارت خزانہ کا ہما اس وقت کے وزیر نجکاری نوید قمر کے سر بیٹھا جنہوں نے یہ قلمدان شوکت ترین کے مشیر خزانہ بننے پر ان کے حوالے کر دیا۔

شوکت ترین نے ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر جب وزارت خزانہ اور سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دیا تو خزانے کا چارج ایک بار پھر نوید قمر کے حوالے کر دیا گیا۔ چند روز یہ بیڑا اٹھانے کے بعد نوید قمر کو ایک بار پھر اس سے دست کش ہونا پڑا۔ اس بار یہ سہرا رکن قومی اسمبلی مخدوم شہاب الدین کے سر سجا۔

مخدوم شہاب کو کچھ ہی عرصے بعد یہ کرسی موجودہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے لیے خالی کرنی پڑی۔
کچھ ایسی ہی صورتحال منصوبہ بندی کمیشن، سٹیٹ بنک اور وزارت خزانہ و اقتصادی امور میں رہی جہاں کبھی سردار آصف احمد علی جیسی سیاسی اور کبھی سلیم رضا جیسی شخصیات جلوہ گر ہوتی رہیں۔

معاشی امور کے ماہر سابق ٹیکنو کریٹ مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ معاشی لحاظ سے ان حساس ترین عہدوں پر بار بار ہونے والی شخصی تبدیلیوں کے ملکی معیشت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

’آپ دیکھیں کہ ڈھائی سال بعد بھی حکومت کی کوئی معاشی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ وجہ یہی ہے کہ بار بار پالیسی بنانے والے ہی تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی ترجیحات بھی چلی جاتی ہیں۔ نئے آنے والے نئے وژن کے ساتھ آتے ہیں اور پھر جلد ہی چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ وژن حکومتی معاشی پالیسی میں کہیں نظر نہیں آتا‘۔

اس موقع پر بعض ماہرین یہ سوال کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ کیا معاشی ٹیم میں شامل افراد کی بار بار تبدیلی پاکستان میں معاشی انحطاط کی وجہ ہے یا اس کا سبب کوئی اور ہے؟

ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق بار بار چہرے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ سے بدلے جا رہے ہیں۔

’جب جب کوئی ناکام ہوتا ہے، کسی نہ کسی بہانے سے حکومتی عہدے سے علیحدہ ہو جاتا ہے یا کر دیا جاتا ہے۔ لہذا یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ معاشی ناکامی چہروں کی تبدیلی کی بنیادی وجہ ہے

(((((((((((((( www.PakBooks.tk ))))))))))))))

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......