حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

Submitted by Muhammad Umer Khan on Mon, 01/05/2009 - 14:50

ْْ قرض ادا کرنے کے لیے وقت کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ ایسے مواقع تلاش کیے جا تے ہیں کہ ان کے ذریعے قرض بھی ادا ہوجائے اور مقروض کا نام بھی سنہرے الفاظوں میں تحریر کیا جائے ۔جسطرح اس کائنات کی مسلم اور واضح حقیقت ہے کہ ہم سب کا خالق ایک ہے با لکل اسی طرح یہ بھی ایک واثق حقیقت ہے کہ آزادی کا قرض خون کے آخری قطرے تک بھی نہیں چکایا جا سکتا ہے لیکن موجودہ حالات میں قرض چکانا تو دور ،غیرت کا اظہار بھی نہیں کیا جا رہا ہے ۔وہ ہماری دہلیز پار کر کے ہمارے گھر کا معائینہ بھی کر گئے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ۔بحیثیت پاکستانی اگر کوئی ہم پر میلی اور سازشی نظر بھی رکھے تو ہم پر فرض ہے کہ ہم ہر سطح پر اس سازشی آنکھ سے نفرت کریںاور اسکا اظہار بائیکاٹ کرکے اوربرآمدات و درآمدات کا سلسلہ منقطع کرکے کریں ۔ لیکن ہم تو انہی کی فلمیں اپنے ملک میں زوق و شوق سے دکھا رہے ہیں اور انکی فلم انڈسٹری کی گرما گرم خبروں کا مزا آلو کے سموسے کی مانند لے رہے ہیں ۔ہمارے ملک اور خصوصا ً کراچی میں بڑے بڑے سینما گھروں میں بھا رتی فلموں کا شائع ہونا اس طرح ہے کہ جیسے کوئی محکوم حاکم کے غلط حکم کی اطاعت کرے لیکن ہم تو ایک آزاد قوم ہیں نجانے پھر بھی کیوں محکوم بنے پھر رہے ہیں ؟جبکہ اس کی وجہ ذاتی مفاد پر مبنی ہے۔تقسیم ہند اور آزادی پاکستان کے بعد قائد اعظم نے قوم سے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کی ساکھ کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیں اور قربانیاں دینی ہونگی تو کیا ہم صرف اتنی قربانی نہیں دے سکتے کہ اپنے لطف اور اپنی ذاتی خاطر تواضع کے خاطر ہم بھارتی فلمیں دیکھنا اس لیے ترک کردیں کہ پاکستان پر اٹھنے والی ہر نگاہ کا جواب اٹل ہوکر دینا ہے ۔تاریخ میں کوئی ایسا لمحہ نہیں ملتا کہ پاکستان کی جانب سے اٹھا یا جانے والا قدم غلط اور بھا رتی حکام کا فیصلہ درست ہو۔1947سے پہلے مسلمانوں کے ساتھ جو رویہ تھا ا س سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن اازادی کے بعد اس رویے میں مزید منفی تبدیلیا ں رونما ہوگئیں اور با لآخر 1948کی جنگ ،چھ ستمبر 1965کی رات بھارت کی جانب سے پیٹ پیچھے حملہ کرنا ،1971میں مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرانا ،1997سے لیکر اب تک بھا رت کی جانب سے جنگی شعلوں کوہوا دینا ،پانی کو روک کر پاکستان کی زراعت کو نقصان پہچانا،وقتاً فوقتاً مختلف مواقعوں پر کشید گیوں میں اضافہ کرنا اور اپنے ملک میں ہونی والی ہر دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا،اگر ان تمام نکا ت کے بعد بھی بھارت سے دوستانہ تعلقات رکھیں جائیں تو یہ محکومیت نہیں تو کیا ہے؟ایک طویل عرصے بعد دیرینہ رنجشوں کو بھلا کر نئی پاکستانی جمہوری حکومت نے بھارت کی جانب دوستانہ تجارت کا ہاتھ بڑھایا اور کچھ ماہ بعد ہی دوبارہ رنجشون نے جنم لے لیا لہذا اب مکمل بائیکاٹ کا وقت آگیا ہے کہ ہر اس چیز سے قطع تعلق کرلیا جائے جو بھارت سے درآمد کی جاتی ہو ۔جئب ڈینمارک کی جانب سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاکہ شائع کیا گیا تو مسلمانوں نے اسلام کی ساکھ کی خاطر ڈینمارک کی تمام پروڈکٹس کا بائیکاٹ کردیا گیا
اب اگر پاکستان کی ساکھ کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو ہمیں بھی بھارت کی تمام درآمدی پروڈکٹس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اگر بھارتی حکام کی جانب سے بھارتی عوام کے لیے یہ پیغام آسکتا ہے کہ پاکستان بھارتی عوام کے لیے غیر محفوظ ہوچکا ہے تو لازم و ملزوم ہے کہ بھارت سے برآمد ہونے والی ہر شے پاکستان کے لیے غیر محفوظ اور غیر معیا ری ہوچکی ہے لیکن ان حا لات میں بھی بھارت سے تجا رت بدستور جاری ہے ۔گذشتہ ہفتے بھارت کی جانب سے 111ٹرکوں کی پاکستان آمد اور دوسری جانب سرحدی کشیدگی ایک کھلاتضا د ہے۔ہمیں اس بات کا بھر پور عزم کرنا چاہیے کہ سب سے پہلے بھارتی ٹی وی چینلز ،بھارتی فلمیں ، بھارتی ڈرامے اور بھارتی پروڈکٹ کا مکمل بائیکاٹ کریں۔عوام کا ایک مثبت قدم ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے اور حکومت کا ایک غلط قدم پوری قوم کا مستقبل برباد کرسکتا ہے۔غیرت کا اظہار اسی طریقے سے کیا جا سکتا ہے البتہ باغیرت سے بے غیرت ہونا کوئی مشکل کام نہیں ،کیو نکہ صرف اپنے ضمیر کا گلہ ہی تو گھونٹنا پڑتا ہے ۔اگر مشکل ہے توصرف ایک غیرت مند پاکستانی کے لیے جو حقیقی معنوں میں اپنے ضمیر کی مخالفت بھی نہیں کرسکتا ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم خالق اسم پاکستان چوہدری رحمت علی کی بتائی ہوئی راہ NOW OR NEVERپر گامزن ہوجائیں کہ بایئکاٹ کرنا ہے تو ابھی کرو ورنہ کبھی موقع نہیں ملے گا ،اگر وطن کا قرض چکانا ہے تو ابھی چکائو پھر شاید موقع ملے نہ ملے اور اب صرف دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی قوم میں غیرت محفوظ ہے کہ نہیںیا ہو سکتا مفاد پرست پاکستانیوں نے اس کا بھی سودا کردیا ہو۔

غیرت جسکا نام ہے ،گئی تیمور کے گھر پہ
تحریر : محمد عمر خان

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......