حق ہمسائیگی

کائنات's picture

بہت سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔۔ ہمارے گھر کے ایک طرف والے جو پڑوسی تھے جن کے ساتھ ہماری دیوار ملی ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے ان کے گھر سکون جیسی نعمت ذرا کم تھی۔۔۔۔۔ پہلے میاں بیوی کی لڑائی ہوتی تھی تو پورا محلہ ان کی لائیو لڑائی گھر بیٹھے سنتا تھا۔ پھر ان کے بچے بڑے ہوئے تو میاں بیوی کی لڑائی ذرا کم ہوئی اور ان کے بچوں میں منتقل ہو گئی، دونوں لڑکے جوان جہان جب لڑتے تو لگتا سانڈ لڑ رہے ہیں۔ کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوتا۔ اس لیے ان کی لڑائی میں بھی  بڑی شدت ہوتی تھی کہ مرجاؤ یا مکا دو والی بات ہوتی۔ اور ساتھ شور شرابا اور چیخنا چلانا بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا۔ اس لیے جیسے ہی ان کی لڑائی شروع ہوتی۔  پورا محلہ ان کے گھر امڈ آتا۔۔۔۔ لائیو شو دیکھنے اور بیچ بچاؤ کرانے۔۔۔۔۔ اور ہماری تو ویسے ہی ان سے دیوار ملی ہوئی تھی۔ اس لیے فورا خبر ہو جاتی۔۔۔۔۔ کہ آج پھر ان کے ستارے گردش پر ہیں ۔۔۔۔ میری امی تو خود گھبرا جاتیں اور ابو سے کہتیں " جائیو جائیو ذرا ان کو چھڈائیو۔ " اور ابو بھی حق ہمسائیگی ادا کرنے چلے جاتے، اور ایسا ہر بار ہوتا لیکن ان کی لڑائیاں کم ہونے میں نہ آتیں بلکہ ایک بار تو ایک بھائی نے مار مار کر دوسرے کو بیہوش بھی کر دیا ۔۔۔۔ ایک بار اسی طرح ان کی لڑائی ہو رہی تھی کہ ابو بھی اس لڑائی میں اپنا حصہ ڈالنے چلے گئے یعنی انھیں چھڑانے کے لیے  گئے۔۔۔۔۔ لڑائی زوروشور سے جاری تھی اور ابو بھی اپنا رول ادا کر رہے تھے کہ لڑکوں کے باپ نے ابو سے کہا کہ " آپ ہماری لڑائی میں نہ آیا کریں، یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے۔ "  ابو کو ان کا اس طرح کہنا بہت برا لگا اور آکورڈ سا محسوس ہوا۔ گھر آ کر انھوں نے امی جان سے صاف کہہ دیا کہ " آئیندہ میں نہیں ان کے جھگڑے میں جانے والا، یہ لڑیں مریں جو مرضی کریں ۔ " سو نیکسٹ ٹائم جب ان کی لڑائیاں ہوتیں تو ابو نہ جاتے۔۔۔۔۔ پھر محلے والوں نے ابو کی غیر موجودگی نوٹ کرنا شروع کر دی اور باتیں کرنا بھی شروع کر دیں کہ دیکھیں جی ہم تو اتنے دور دور گھروں سے فورا آ موجود ہوتے ہیں۔ اور ابو کا نام لے کر کہتے کہ ان کی تو دیوار سے دیوار ملی ہے، ان کو تو سب سے پہلے پہنچنا آنا چاہیئے۔ پھر یہ تبصرے ہمارے گھر تک بھی آنے لگے۔۔۔۔۔ تو امی جان کو یہ سب سن کر بہت برا لگتا اور وہ دوبارہ پھر  لڑائی ہونے پر ابو جی سے جانے کے لئے کہنے لگیں۔ لیکن ابو نہیں مانتے تھے کہ جب گھروالے خود منع کر دیں  تو میں کیوں جاؤں۔۔۔۔۔ اور امی جان ابو کو قائل کرنے میں رہتیں کہ " کوئی بات نہیں ان کے لیے بھی سچوئیشن بہت آکورڈ ہے ۔ غصے میں کہہ دیا ہو گا۔ ہمسایوں کے بڑے حقوق ہوتے ہیں۔ آپ چلے جایا کریں۔۔۔۔۔ لوگ ہمارے بارے میں  بھی باتیں کرتے ہیں کہ آپ کیوں نہیں وہاں پہنچتے۔ " لیکن ابو اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور امی جان اپنی بات پر قائم رہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سو اس مسئلے کا یہ حل نکلا ۔۔۔ کہ ۔۔۔۔ آئندہ ان کی لڑائی کے موقع پر ابو نہیں جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔ بلکہ پھر ۔۔۔۔۔ میرے بھائی جان جانے لگ گئے تھے۔۔۔۔۔۔ سو آپ نے دیکھا ۔۔۔۔ کہ حق ہمسائیگی کتنا ہوتا ہے ۔۔۔ کہ نا چاہتے ہوئے بھی پرائے پھڈے میں جانا ہی پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

Share this
No votes yet

Comments

Sumara's picture

بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔

بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔

Guest's picture

یعنی کسی طرح بھی راضی

یعنی کسی طرح بھی راضی نہیں۔۔۔۔۔