حقیقت میں حقیقت کا بیاں بہت مشکل سے ہوتا ہے

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 06/10/2009 - 19:06

صدر اوبامہ نے اپنی چار سالہ میقات صدارت میں سے چار دن مسلمانوں کو بہلانے پھسلانے کے لیے نکالے۔ لیکن تیسرے دن جب وہ جرمنی کے بچنوالڈ میں واقع ہٹلر کے تعذ یری کیمپ کا معائنہ کریں گے اور اس کے بعد یہودیوں کی ہمدردی میں ٹسوے بہاہیں گے تو اسے دیکھنے کے بعد قاہرہ میں ہونے والی تقریر کے اثرات بڑی حد تک زائل ہوجائیں گے۔ بچا کھچا اثر چوتھے دن نور منڈی میں امریکی فوجیوں کے قبرستان کی زیارت اور اس پر بیان ہونے والے تاثرات ختم کردیں گے۔ دوسری جنگ عظیم میں مارے جانے والے نوہزار تین سو ستاسی امریکی فوجی اس قبرستان میں دفن ہیں۔ گویا چار دن کی یہ کہانی اپنے آپ ٹائیںٹائیں فش ہوجائے گی بقول شاعر ۔
حقیقت میں حقیقت کا بیاں بہت مشکل سے ہوتا ہے
جس آسانی کے چرچے ہیں ، وہ آسانی کہانی ہے

قاہرہ میں اپنی شہرۂ آفاق تقریر کرنے سے قبل بارک اوبامہ نے اپنے دورے کا آغاز سعودی عرب کی دارالخلافہ ریاض سے کیا۔ سعودی عرب کے ملک عبداللہ فی الحال یہودیوں اور عیسائیوں سے تعلقات استوار کرنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے نہ صرف پوپ سے ملاقات کی بلکہ اسرائیل کے صدر شیمون پیریز سے بھی جاملے۔ پوپ سے ملاقات تو کھلے عام ہوئی لیکن پیریز کی ملاقات صیغہ راز میں تھی۔ اقوام متحدہ کی بین المذاہب کانفرنس کے دوران یہ خفیہ ملاقات ہوئی۔ اس راز کو امریکہ کے انڈر سکریٹری ولیم برنس نے فاش کیا۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ کا دورہ شروع کرنے کے لیے سعودی عرب کے انتخاب کی وجہ بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے، لیکن ایک حسن اتفاق یہ ہے کہ اوبامہ نے فی الحال جس اسامہ بن لادن کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کا تعلق بھی سعودی عرب سے ہی ہے، یہ دوسری اہم وجہ ہوسکتی ہے۔ اسامہ بن لادن نے بارک حسین اوبامہ کے دورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: اوبامہ پاکستان میں مرنے والے معصوموں اور لاکھوں مہاجرین کوبے خانماں کرنے کا مجرم ہے، اس نے امریکہ کے خلاف نفرت کا نیا بیج بویا ہے۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاض کے بعد اوبامہ نے مصر کا رخ کیا۔ اسامہ بن لادن کے دست راست ڈاکٹر ایمن الظواہری کا تعلق مصر سے ہے۔ ڈاکٹر الظواہری نے کہا کہ اوبامہ کے خونی پیغامات ہمیں مل چکے ہیں اور مل رہے ہیں۔ اوبامہ کی چکنی چپڑی باتیں ان کے ظالمانہ اقدامات پر پردہ نہیں ڈال سکتیں۔ اوبامہ کو مصر پر قابض ظالموں نے دعوت دی ہے، وہاں کی عوام اوبامہ کا خیر مقدم نہیں کرتی۔
اتفاق سے صدر اوبامہ جس روز ریاض آئے اس دن ایرانی انقلاب کے عظیم رہنما آیت اللہ خمینی برسی تھی اور اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے آیت اللہ خامنائی نے کہا امریکہ کی پالیسی کے باعث مسلمان اسکے ساتھ تہہ دل سے نفرت کرتے ہیں۔ لوگ اوبامہ کا عمل دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ لچھے دار تقریر سے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں۔ حماس کے نمائندے نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اس پر اثر تقریر کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ہے۔ حزب اللہ کے نمائندے نے یہی بات کہی، ہمیں نصیحتوں اور مشوروں کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ لبنان و فلسطین کے معاملے میں امریکی صدر اب بھی اپنے پیش رو بش کے طریقہ پرگامزن ہیں،صرف ان کا لب و لہجہ مختلف ہے۔
امریکیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی نفسیات سے واقف نہیں ہیں، وہ نہیں جانتے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اس کے ایک حصہ کوتکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم اس کے کرب کو محسوس کرتا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی تکلیف ہندوستان کا مسلمان محسوس کرتا ہے۔ ایران پر ہونے والے مظالم سے مصر کا مسلمان تڑپ اٹھتا ہے۔ لبنان کے درد کو ملائیشیا کے مسلمان محسوس کرتے ہیں، پاکستانیوں کی تکلیف کو عرب کے مسلمان اپنی تکلیف سمجھتے ہیں۔ اوبامہ نے عراق، ایران اور فلسطین کے بارے میں کچھ گول مول باتیں کہہ کر یہ سوچ لیا کہ اس سے افغانستان میں کیا جانے والا ظلم ڈھک جائے گا، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ مسلمان تونہ صرف اپنوں کا بلکہ غیروں کا دکھ درد بھی محسوس کرنے والی امت ہے۔
صدر بارک اوبامہ کی تقریر میں جہاں ایک طرف بہت سارے حقائق کا اعتراف کیا گیا وہیں کئی معاملات میں تضاد بیانی سے بھی کام لیا گیا، اس لیے اس تقریر کا پوسٹ مارٹم ضروری ہے، جس کا چرچا چار وں طرف ہے۔ بقول شاعر ò
اہل تشہیر و تماشہ کے طلسمات کی خیر
چل پڑے شہر کے سب شعلہ نوا اور طرف
صدر بارک اوبامہ نے نہایت دالفریب سلام کے بعد کلام کیا تو پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ امریکہ اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کی جڑیں موجودہ پالیسی سے پرے تاریخی عوامل میں پائی جاتی ہیں۔ یہ بات غلط ہے۔ قیام فلسطین سے لے کر ۱۱ ستمبر اور عراق سے لے کر افغانستان میں امریکہ کی جانب سے کی جانے والی موجودہ جارحیت ہی کشیدگی کی اصل وجوہات ہیں صدر اوبامہ نے اپنے خطاب کاآغاز کیا اس حقیقت پر پردہ پوشی سے کیا اور آگے بولے: اگر ہم اختلافات کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ان لوگوں کی مدد ہوگی جو امن کے بجائے نفرت کے بیج بوتے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ اس جرم کا اہم ترین مجرم خود امریکہ ہے۔ اختلاف کے اظہار سے گویااس کی اپنی مدد ہوتی ہے۔اسی لیے امریکہ میں تہذیبوں کا ٹکرائو نامی کتاب لکھی جاتی ہے اور اسے مستقبل میں تعلقات کی استواری کے لیے بنیاد بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے شکوک و شبہات کے دائرے کو ختم کرنے پر زور دیا، لیکن آگے چل کر اپنی تقریر کے ذریعہ بے شمار شکوک پیدا کردیئے۔ اعلیٰ انسانی اقدار کی بنیادمسلمانوںسے تعلقات کی استواری پر اصرار کرتے ہوے اعتراف کیا کہ تبدیلی راتوں رات واقع نہیں ہوگی برسوں کا عدم اعتمادکسی ایک تقریر کے باعث ختم نہ ہوگا، آپ نے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا: اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہمیشہ سچ بولو۔ لیکن افسوس کہ آگے کا بیان اس امر کی تصدیق کرتا ہوا نظر نہیں آیا۔
اوبامہ نے کہا اسلام ہمیشہ امریکہ کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ سب سے پہلے مراکش نے امریکہ کو تسلیم کیا۔ ۶۹۷۱ئ میں امریکہ کے دوسرے صدر جان آدم نے طرابلس میں معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے لکھا: ریاستہائے متحدہ امریکہ کو مسلمانوں کے قانون یا دین سے کسی قسم کا بیرنہیں ہے، لیکن جب اس احسانمندی کا بدلا چکانے کا موقع امریکی صدر ٹرومین کو ۳۵۹۱ئ میں حاصل ہواتو انہوں نے جواب میں احسان فراموشی کا مظا ہرہ کیا؛قیام ا سرائیل کے بعد مشرق وسطی سے امریکی سفیر نیے صدر کو بتلایا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مسلمانوں کے اندر ناراضگی پیدا ہوگی تو ٹرومین کا جواب تھا فی الحال میرے لیے اپنے یہودی حامیوں کی رضاو خوشنودی زیادہ اہم ہے صدربارک اوبامہ خودجان آدم کے بجائے ٹرومین کی راہوں پر گامزن ہیں، ان کی حالیہ تقر یر اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
جناب اوبامہ کے مطابق وہ عیسائی ہیں،باوجود اسکے کہ ان کے والدکا تعلق مسلمان خاندان سے تھا لیکن آگے فرماتے ہیں: اسلام کی بنیاد وہ ہونی چاہئے جو کہ اسلام ہے نہ کہ جو اسلام نہیں ہے اور امریکہ کے صدر کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ جہاں کہیں بھی منفی روایتی اسلام نظر آئے وہ اس سے لڑیں۔ گویا امریکی صدر پہلے یہ طے کریں کہ اسلام کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ اور یہ طے کرنے کے بعد مسلمانوں کو منفی اسلام سے بعض رہنے کی تلقین کرنے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے خودساختہ منفی اسلام سے برسرپیکار ہوجائیں گے۔ گویا ہر ایسی چیز کوجو امریکی مفاد سے ٹکرائے گی یا اس کے ظالمانہ استحصال کو چیلنج کرے گی اے منفی اسلام قرار دے دیا جائے گا اور اس کے خلاف صلیبی جنگ کا جواز پیدا ہوجائے گا ، یہ بات کسی جارج بش نے نہیں بلکہ بارک اوبامہ نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ اپنے ناپاک ارادوں کے دو ٹوک اظہار کے بعد وہ ان تنازعات کی جانب آتے ہیں جو ان کے اپنے خیال میں کشیدگی کے اصل سباب ہیں۔
بقول اوبامہ: ’’اوّلین مسئلہ پرتشدد انتہا پسندی ہے۔ یہ سارے سماج کے لیے شدید خطرہ ہے اور اس کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔ تمام مذاہب معصوم لوگوں کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور امریکیوں کی حفاظت میری اوّلین ذمہ داری ہے۔ ۱۱ ستمبر کو القاعدہ نے تین ہزار معصوم لوگوں کو مار ڈالا اور وہ آگے بھی قتل عام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ حقائق ہیں محض مفروضات نہیں ہیں جن پر بحث کی جائے۔‘‘ اوبامہ کے اس بک بک کو اگر بغیر بحث کے تسلیم بھی کرلیا جائے تب بھی آگے بڑہنے سے قبل اوبامہ کو چند سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ ناگا ساکی اور ہیروشیما میں مارے جانے والے لوگ معصوم تھے یا نہیں؟ ویتنام میں جن کی نسل کشی کی گئی کیا وہ سب مجرم تھے؟ فلسطین میں شہید ہونے والی خواتین اور بچوں کے بارے میں اوبامہ کا کیا خیال ہے؟ عراق، افغانستان اور پاکستان میں جن لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے کیا وہ معصوم نہیں ہیں؟ چند ہزار لوگوں کی موت کا بدلہ لینے کی خاطر لاکھوں معصوموں کو موت کے منہ میں دھکیلا جاتاہے، کیا اس رویہ کو تشدد پسند انتہا پسندی میں شمار نہیںکیا جائے گا؟ یا امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا یہ ظلم و طغیان محض اس لیے اعتدال و امن پسندی میں شمار ہوگا کیوں کہ اسکا مرتکب امریکہ ہے؟
اوبامہ نے پاکستانی مہاجرین کو دی جانے وا لی ڈیڑھ بلین سالانہ امداد کاذکر کیا لیکن سوات کے لوگوں کے گھروں کو اجاڑ کر انہیں امداد کا محتاج بنانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اگر وہ پاکستان کو فوجی کارروائی پر مجبور نہ کرتے تو یہ رقم ان کے اپنے ملک میں معاشی بحران سے مقابلہ کرنے کے کام آسکتی تھی۔ تھامس جیفرسن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’مجھے امید ہے کہ طاقت کے استعمال کے ساتھ ہماری حکمت و دانائی میں اضافہ ہوگا اور ہمیں یہ سبق ملے گا کہ ہم جس قدر طاقت کا استعمال کم کریں گے اسی قدر اس میں اضافہ ہوگا۔‘‘ افغانستان میں صدر اوبامہ کا فوجیوں کے اضافہ کا ارادہ اور ناٹو سے بھی ایسا کرنے درخواست جیفرسن کی رائے کے بین خلاف ہے۔
صدراوبامہ نے گوانتاناموبے میں قائم کئے جانے والے قید خانوں اور ان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا، ۱۱ ستمبر کے نتیجہ میں ملک کے اندر غم و غصہ کی جو لہر چلی تھی اس کے ردعمل میں ہم نے اپنی اقدار کے خلاف یہ اقدامات کئے تھے اور اب وہ اسکاازالہ کر رہے ہیں، لیکن کیا غم و غصہ کی بنیاد پررد عمل کا حق صرف امریکیوں کو حاصل ہے۔ فلسطینی یا افغانی اگر اپنے رد عمل کا اظہار کریں تو وحشیانہ شدت پسندی ہے او رامریکی کریں تو قابل فہم رویہ ہے؟ کسی اور کے ذریعہ رد عمل کا اظہار ناقابل معافی جرم ہے مگر امریکہ کی جانب سے اس کا سرزد ہونا اور پھر رجوع کرنا احسان عظیم ہے؟ کیا یہ منطق کسی منصف مزاج انسان کی سمجھ میں آسکتی ہے؟
اسرائیل کے بارے میں بڑی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے صدر اوبامہ نے کہا کہ اسرائیل اورامریکہ کے گہرے تعلقات جگ ظاہر ہیں۔ یہ تعلق ناقابل قطع ہے۔ اس کی بنیاد ثقافتی اور تاریخی رشتوں پر ہے جو یہودیوں کے مادر وطن سے محرومی کے ناقابل انکار المیہ کا اعتراف ہے، یہودیوں کا تاریخی المیہ یقینا ماضی کی حقیقت ہے اور اس کے لیے فلسطین کے مسلمان نہیں بلکہ یورپی عیسائی ذمہ دار ہیں جبکہ اسکی سزا کے طور پر فلسطینی مسلمانوں کوبے وطن کر دیا گیایہ کہاں کا انصاف ہے ماضی کے مظالم کی بنیاد پر حال کے ظلم کو جائز قرار دینا اسرائیل چاہے جو خون خرابہ کرے،کیمیائی اسلحہ کا استعمال کرے، معصوم لوگوں پر بے تحاشہ بمباری کرے، اس کے باوجود اس سے تعلقات کو بحال رکھنے کی یقین دہانی کرنا عصبیت نہیں تو اور کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ کی ایک ناجائزاولاد ہے جس سے امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے گونا گوں ناجائزمقاصد کو حاصل کرتا رہتاہے، اسی لیے اس کے ہر ظلم پر پردہ ڈالتا ہے، اس کے خلاف آنے والی ہر تجویز کو اقوام متحدہ میں ویٹو کردیتا ہے اور عدل و انصاف کے کھوکھلے نعروں سے دنیا کو بے وقوف بناتا ہے۔
فلسطینیوں کی حالت زار بیان کرنے کے بعد صدر اوبامہ نے کہا کہ میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ فلسطینی عوام کے حالات ناقابل برداشت ہیں۔ امریکہ ان کے جائز مطالبات، عزت و وقار، یکساں مواقع اور خود مختار ریاست کی جانب سے پیٹھ نہیں پھیرے گا۔ لیکن اس کے فوراً بعد اوبامہ نے ظالم و مظلوم دونوں کو ہم پلہ کرتے ہوے کہابرسوں سے دونوں ﴿یعنی یہودی اور فلسطینی﴾ عوام کے جائز مطالبات کے درمیان عد م مفاہمت پائی جاتی ہے۔ گویااسرائیل کے قیام کی خاطر فلسطینیوں کو اکھاڑپھینکنا نیز اسرائیل کے خلاف اندرون اور بیرون سرحد مزاحمت کا پایا جانایکساں ہے۔ اورقیام عدل کے بغیردونوں کا امن و سلامتی کے ساتھ رہنا اسرائیل، فلسطین اور امریکہ کے مفاد میں ہے، اور یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا؟ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا فلسطینیوں کو تشدد سے باز آنا ہوگا۔ تشدد وقتل وغارتگری کے ذریعہ مزاحمت غلط اور بے نتیجہ عمل ہے۔ تشدد ایک اندھیری گلی ہے، سوئے ہوئے بچوں پر راکٹ سے حملہ اور خواتین کو بسوں میں بم سے اڑا دینا دلیری کی نشانی نہیں ہے، اس طرح اخلاقی برتری نہیں حاصل کی جاتی بلکہ اسے گنوایا جاتا ہے۔ حماس کواب فلسطین کی تعمیر کی جانب توجہ دینی چاہئے۔فلسطینی انتظامیہ کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہئے تاکہ عوام کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے، اس ناصحانہ بیان کو سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ گویا سارا تشدد صرف فلسطینیوں ہی کی جانب سے ہوتا ہے۔ یہودی بے چارے گاندھی جی کی طرح عدم تشدد کے علمبردار ہیں، حالانکہ صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے، یہودیوں نے نہ صرف معصوم لوگوں کو انکے گھروں سے نکال کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا بلکہصابرہ اورشتیلہ کے کیمپوں پر بھی بمباری کرنے سے بعض نہیں آئے غزہ میں کیمیائی ہتھیاروںکی بارش کرنے سے نہیں چوکے۔ انتخابی فائدے کی خاطر ۰۰۴۱ فلسطینیوں کو یک لخت شہید کردیا۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر معصومو ں کو ہلاک کرتے رہے۔ حماس کے رہنمائوں کو چن چن کر شہید کرتے رہے، اور غزہ کو ایک قید خانے میں تبدیل کردیا۔ حزب اللہ سے سرحد پر لڑنے کے بجائے بیروت میں جاکر غیرمتعلق لوگوں پربمباری کی ۔ ایران سے لے کر مراقش تک موساد کے لوگ معصوموں کو ہلاک کرتے رہتے ہیں اور اسے جائز قرار دیتے ہیں لیکن اوبامہ نے نہ صرف اسرائیل کو اپنے ظالمانہ رویہ سے باز آنے کی تلقین نہیںکی بلکہ اس کے اعتراف سے بھی گریز کر گئے۔اس سے اوبامہ کا دوغلاپن ظاہر ہوتا ہے غزہ پر حملہ کے وقت اسرائیل پر تبصرہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ایک وقت میں صرف ایک صدر ہوتا ہے لیکن ممبئی حادثہ پر بولنے سے پہلے وہ اس بات کو بھول گئے اور القاعدہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ حماس کو تشدد چھوڑنے کا مشورہ دینے والے اوبامہ پرکسی فلسطینی کو اعتبار نہیں سوائے غلام ابن غلام محمود عباس کے، اس لیے کہ اس طرح کے الفاظ کلنٹن اور بش بھی بول چکے ہیں، لیکن یہ گفتار کے غازی صرف بولتے ہیں کچھ کرتے نہیں ہیں۔
اوبامہ مصر میں یہ تقریر کر رہے تھے یہ علاقہ غزہ کے ایک جانب اور اسرائیل اسکے دوسری جانب واقع ہے۔ یہودی غزہ کو ملنے والی عالمی امدادکو مصر کے راستہ وہاں جانے نہیں دیتے، وہاں کے لوگوں کوروزگار کے لیے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں اور مصر آنے نہیں دیتے۔ ہزاروں ٹن امدادی مال مصر میں ضائع ہورہا ہے، کئی امریکی امدادی تنظیموں کے لوگ سرحد پر اندر داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر لمبی چوڑی تقریر کرنے کے بجائے اوبامہ غزہ تشریف لے جاتے اس غیراخلاقی و غیر قانونی محاصرہ کو ختم کرنے کی جانب کوئی ٹھوس اقدام کرتے تو زیادہ مناسب تھا، حماس کو تشدد کے لیے مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے غزہ کی عوام کے زخموں پر مرہم رکھتے تو بہتر تھا لیکن نمک پاشی کرنے والوں سے یہ توقع بے جاہے۔اسرائیل کو انہوں نے صرف نئی بستیاں بسانے سے منع کیا۔ غاصبانہ قبضہ ختم کرنا تو درکنار پرانی بستیوں کو ہٹانے کی درخواست تک نہ کرسکے۔ الٹا حماس سے کہا کہ وہ سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کرے اوبامہ نے مسجد اقصیٰ میں معراج کی رات حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ساتھ عبادت کرنے کا واقعہ یاد دلایا لیکن جس مسجد میں یہ مبارک اجتماع ہوا تھا اسے منہدم کرنے کی یہودی سازش اور اس میں عبادت کرنے سے مسلمانوں کو روکنے کے ظلم عظیم کا معاملہ بھول گئے۔
ایران کے معاملے میں اوبامہ نے بغیر کسی اظہارتاسف کہ یہ تسلیم کیا کہ پچاس کی دہائی میں سرد جنگ کے باعث امریکہ نے وہاں کی منتخب شدہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا گویا کہ اس کا جواز موجود تھا حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس حکومت نے اپنی عوام کی فلاحوبہبود کے پیش نظر برطانوی تیل کمپنی کو قومیا لیا تھا ردعمل کے طور پر اپنے مالی مفاد کی خاطر تختہ الٹ کر ایک ظالم بادشاہ کو ایران پر بزور قوت مسلط کردیا گیاتھا جس نے لاکھوں معصوموں کا خون بہا کر امریکی مفادات کی حفاظت کی، اوبامہ کو اس کے مظالم یاد نہیں، اپنے سفارتخانے کے عملہ کایرغمال بنایا جانا یاد ہے جو جاسوسی کر رہا تھااور ایرانی پارلیمان کو دھماکے کے ذریعہ اڑانے کے لیے ذمہ دار تھا، ۔ ویسے اوبامہ نے ایران کے نیوکلیائی توانائی کو حاصل کرنے کے حق کو تسلیم کیا لیکن ان کے اس دورے سے ایک ہفتہ قبل زاہدان کی مسجد میں ہونے والا دھماکہ نیز تقریر والے دن کیش ایئرلائنز کے طہران جانے والے طیارے میں پایا جانے والا بم امریکی اور اسرائیلی حرکتوں کا شاخسانہ ہے جو ان کی یقین دہانیوں کو منہ چڑھاتا ہے۔
طرز حکومت کے سلسلے میں اوبامہ نے کہا کہ ہم کسی ایک نظریہ کو نافذ کرنا نہیں چاہتے ، اوبامہ نے اپنا دورہ سعودی عرب سے شروع کیا جہاں ملوکیت ہے اور مصر میں ختم کیا جہاں ۸۲ سالوں سے حسنی مبارک اقتدار پر قابض ہیں اور اپنے مخالفین پر طرح طرح کے مصائب توڑتے رہتے ہیں۔ اس لیے وہ کسی عوامی حکومت کی بات ہی کب کرسکتے تھے لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو جب اقتدار سے محروم ہوتے ہیں توجمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن اقتدار حاصل کرلینے کے بعد دوسروں کے حقوق مارنے لگتے ہیں، اس دوہرے طرز عمل کا سب سے بڑا ثبوت خود بارک حسین اوبامہ ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران وہ صاف و شفاف حکومت کی بات کرتے رہے اور جارج بش پر حقائق کی پردہ پوشی کا الزام ڈالتے رہے، لیکن خود انہوں نے گوانتاناموبے میں ہونے والی اذیتوں کی تصویروں کو صیغہ راز میں رکھنے کا بل پاس کردیا، گویا اب امریکی حکومت یہ طے کرے گی کہ دنیا بھرکے لوگ کونسی تصویریں دیکھیںاور کون سے نہ دئکھیں۔ کیا یہی وہ صاف شفاف جمہوریت ہے جس کی بحالی کے لیے وہ اقتدار میں آنے سے قبل دہائی دیا کرتے تھے۔ اوبامہ کے دورے کے دوران یہ تصویریں ذرائع ابلاغ میں بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں، مسئلہ تصویروں کو دکھانے یا چھاپنے سے زیادہ ان مظالم ملوث مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ہے ۔ اسکی کوئی بات ہی نہیں کرتا ابو غریب کے معاملہ میں کچھ لیپا پوتی کرکے معاملے کو رفع دفع کردیا گیا اور اب گوانتاناموبے کے معاملے میں یہی ہورہا ہے۔ کیا اس ظلم عظیم کے لیے کسی کو سزا نہیں ملے گی، محض اس لیے کہ اس کا ارتکاب کرنے والے امریکی ہیں؟ کیا اسی کو عدل و مساوات کہتے ہیں؟ جس کی نصیحت اوبامہ نے مسلمانوں کو کی ہے۔
مسلم خواتین کے حجاب کے حق کو انہوں نے تسلیم کیا اور یہ اعتراف کیا کہ مسلم ممالک نے خواتین کو اقتدار سے نوازا۔ حقیقت یہی ہے کہ امریکہ میں پہلی خاتون کو اقتدار میں آنے سے روکنے کا سہرہ خود بارک حسین اوبامہ کے سر ہے۔ انہوں نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کا بھی یقین دلایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کے میدان میں امریکہ کی حالت اب رہنمائی کی نہیں رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے کسی میدان میں بھی اب وہ اوّل نمبر پر نہیں ہے۔ معاشی طور پر امریکہ قلاش ہوگیا ہے وہاں کے دس فی صد لوگ کھانے کے لیے حکومت کی امداد لینے پر مجبور ہیں۔ جس روز اوبامہ قاہرہ میں تقریر کر رہے تھے امریکہ کی نامور کار بنانے والی کمپنی جنرل موٹرس دیوالیہ ہو رہی تھی، ایسے میں امریکہ سے کسی مدد کی توقع کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے جیسا ہے ۔
صدر اوبامہ نے اپنی تقریر کا اختتام نہایت ہی پردلپزیر انداز ان مکالموں کے ساتھ کیا کہ : ’’جنگ کی ابتدا آسان ہے اور اختتام مشکل ہے۔‘‘ اس کا اندازہ انہیں افغانستان میں ہوجائے گا جہاں انہوں نے نئے سرے سے محاذ کھولا ہے۔ آگے فرماتے ہیں: ’’دوسروں پر الزام تراشی آسان ہے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا مشکل ہے۔‘‘ اس کی سب سے زیادہ ضرورت خود اوبامہ کو ہے۔ ’’اختلاف کے بجائے اشتراک کی تلاش زیادہ اہم ہے‘‘ ۔ لیکن اگر اس تلاش میں اخلاص کے بجائے مفاد کارفرما ہو تو اشتراک کو اختلاف میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی ’’ ہمیں آسان راستہ کے بجائے صحیح راستہ اختیار کرنا چاہئے‘‘ ۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اوبامہ کو چاہئے تھا کہ سعودی عرب اور مصر کا آسان دورہ کرنے کے بجائے افغانستان، پاکستان اور شمالی کوریا جاتے جہاں جنگ کا بازار گرم ہے۔ امریکی دھمکی کے باوجود ایٹمی دھماکے ہو رہے ہیں یا کم از کم غزہ چلے جاتے لیکن اوبامہ نے تن آسانی کو ترجیح دی ہے اور ان کی آخری بات بہترین نصیحت ہے ’’تم لوگوں کے ساتھ وہ معاملہ کرو جس کی توقع تم خود ان کی جانب سے اپنے لیے کرتے ہو۔‘‘ لیکن افسوس کہ اس کلمہ پر اوبامہ کا اپناعمل ابھی تک نظر نہیںآیا ہے اگر مستقبل میں ایسا ہوجائے تو یہ امن عالم کے لیے ایک عظیم تحفہ ہوگا۔
صدر بارک حسین اوبامہ الفاظ کے بہت بڑے بازیگر ہیں، اپنے اس فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے سب سے پہلے ہیلری کلنٹن کو ہراکر ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارت کی دوڑ میں امیدواری حاصل کی اور اس کے بعد میک کین کو شکست فاش دے کر امریکہ کی صدر مملکت بن گئے۔ قاہرہ میں بھی انہوں نے خوب ادا کاری کی اور اپنے ہنر کا جادو چلانے کی بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ سبھی کو خوش کرنے کے زعم میں انہوں نے کم لوگوں کو راضی اور زیادہ کو مایوس و ناراض کرکے اس شعر کے مصداق بن گئے ò
کیسی عجیب بات ہے زعم ہنر کے باوجود
رنگ بکھرگئے تمام نقش کوئی بنا نہیں!

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......