حقانی نیٹ ورک اور امریکہ کی پریشانی

Khwaja Ekram's picture

دنیا میں دہشت گردی کے لفظ کو عام کرنے اوربدنام کرنے اور اس کو ہوا بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ امریکہ کا ہی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بدنام ترین دہشت گردوں کے گروپ کو امریکہ نے ہی بنایا، سنوارا ، کھڑا کیا اور ہر طرح کی امداد سے اسے مضبوط کیا ۔جب تک ان گروہوں سے اس کے مفاد وابستہ رہے تب تک امریکہ نے اسے کبھی دہشت گرد نہیں کہا ۔لیکن جیسے ہی ان گروہوں سے اسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا ویسے ہی امریکہ نے اسے دنیا کےلیے خطرناک ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کر کے واقعی اسے سب سے بڑا دہشت گروپ بنا دیا ، امریکہ کے ساتھ دنیا نے بھی وہی کہا جوامریکہ کہنا چاہتا تھا۔ اور اب حال یہ ہے کہ امریکہ سے بھی اونچی آوازوں میں دوسرے ممالک ان کو اس نام سے جان رہے ہیں۔کبھی کسی ملک نے ، کسی ٹی وی چینل یا اخبار نے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی اور کبھی کسی نے امریکہ کی دوہری پالیسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے نئے نئے روپ سامنے آتے رہے اور ہم وہی دیکھتے رہے جو امریکہ نے دیکھایا ۔آج دنیا کے سامنے ایک اور نام شہرت کی اونچائیوں کو چھو رہا ہے اور وہ حقانی گروپ ہے ۔کہا جاتا ہے کہ ایک وقت تھا جب امریکہ نے اپنے مفاد کے لیے اس گروپ کو استعمال کیا تھا لیکن آج مفاد کے ٹکراو کے سبب حقانی نیٹ ورک دنیا کے لیے ویسے ہی خطرناک ہے جیسے القاعدہ۔ حقانی گروپ کے حوالے سے جب امریکہ نے پاکستان ہر الزام عائد کیا کہ پاکستان کے تعلقات حقانی نیٹ ورک سے ہیں اور وہ افغانستان میں امریکی اتحادیوں پر حملہ کر رہا ہے تو اس کے جواب میں پاکستان کی وزیر خارجہ نے بڑھ سخت لہجے میں کئی بناتیں کیں ان میں ایک دو اہم یہ تھیں کہ حقانی نیٹ ورک سے امریکہ کے تعلقات پاکستان سے زیاد ہ ہیں شاید اسی لیے حنا ربانی نے یہ کہنے کہ ہمت جٹائی کہ امریکہ پاکستان پر الزامات عائد کرنا بند کرے۔حنا ربانی اور امریکہ کے درمیان سخت و سست جملے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایسی کشیدگی پہلی دفعہ دیکھنے کو ملی۔امریکہ نے کئی اہم عہد ہ داروں سے الگ الگ بیانات دے کر پاکستان کو دباو میں لانا چاہا لیکن پاکستا ن نے بھی اس کے جواب میں کئی حربے اختیار کیے ۔
ایک طرف امریکہ کے حالیہ بیان جس نے پاکستان کو رنجیدہ کیا کہ حقانی گروپ کے ساتھ پاکستان کے روابط ہیں اور اس کی امداد بھی ملتی ہے ، امریکہ کے اس بیان کے ساتھ پاکستانی سیاست میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔پاکستان نے بہت دنوں کے بعد امریکہ کے اس بیان پر جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کئی سطح پر جواب دیا ۔ اس کو منہ توڑ جواب بھی کہہ سکتے ہیں ۔سب سے پہلے حنا ربانی نے آتشی زبان کھولی اس کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ کو یہ جتایا کہ اب ہمارے تحمل کا امتحان نہ لیا جائے اور آناً فاناً انھوں نے آل پارٹی مٹینگ کا بلا کر امریکہ پر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس امریکہ اب اس خام خیال میں نہ رہےکہ اس کی ہر بات پر پاکستانی حکومت سر تسلیم خم کرےگی ۔ اس کو مزید با اثر بنانے کے لیے چین کے نائب صدر کے دورے کا اہتمام کیا گیا اور چینی نائب صدر کی جانب سے یہ بیان آیا کہ چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ چین کا یہ قدم دراصل گھس پیٹھ جیسا ہے کیونکہ ایک طرف وہ امریکہ کو آنکھ دیکھانا چاہتا تو دوسری جانب ہندستان پر یہ رعب ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ہندستان کو کمزور کر سکتا ہے ۔ اور عملی طور پر وہ پاک مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو ہی گیا ہےاور ان علاقوں کے باز آبادکاری کے نام پر چین کو عمل دخل کافی حد تک بڑھ گیا ہے ۔ اب اگر یہ مان بھی لیاجائے کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان سے نکل جائےگا ، جوکبھی نہیں ہوگا ، ایسی صورت میں چین ان علاقوں میں داخل ہوکر اپنی طاقت کو وسیع کرے گا۔ چین کا یہ خیال بھی ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر بھی نہیں ہوگا۔ لیکن دوسری طرف پاکستان کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ چین کو اپنے یہاں جگہ دے گا یہ امریکہ کو ؟ امریکہ تو پہلے ہی سے پاکستان کے اندر تک داخل ہوچکا ہے ۔اور چین بھی اس کے سر حد میں مضبوطی سے اپنے قدم جما رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہندستان کی دشمنی کے نام سے پاکستان اپنی سر زمین میں چین اور امریکہ دونوں کو جگہ دے دے اور مستقبل میں جس طرح آج امریکہ سے پریشان ہے ، وہ چین سے بھی اسی طرح پریشان رہے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ پاکستان خودکو دو ملکوں کو غلام بنا لے ۔ اس لیے ابھی موقع اس بات کا ہے کہ جس طرح جارحانہ انداز میں اس نے امریکہ سے آنکھ ملانے کی کو شش کی ہے اسی انداز سے اپنے مستقبل کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جوش میں پاکستان اپنا دو گنا نقصان نہ مو ل لے لے۔لیکن ایسا لگتا نہیں ہے کیونکہ آل پارٹی مٹینگ کے بعد جس طرح کا رد عمل سامنے آنا چاہیے تھا وہ دیکھنے کو نہیں ملا۔اس آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پہلے شرکا کا شکریہ شکریہ ادا کیااور’’ کہا کہ قومی سلامتی کاتحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، ہم علاقائی صورتحال کے حوالے سے آج اہم موڑپرکھڑے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پروفیسربرہان الدین ربانی کی شہادت سے امن کی کوششوں کونقصان پہنچا جس کی مذمت پاکستان نے بھرپور انداز میں کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کر کے امریکی حکام کی طرف سے دیئے جانیوالے حالیہ بیانات ہمارلئے حیرت کاباعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قومی مفادات کاہرحال میں احترام کیاجائے ، ہم متحدہوکران تمام چیلنجوں کامقابلہ کریں گے، قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے‘‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستانی قوم کواس وقت متحدہونے کی ضرورت ہے۔امید یہ کی جارہی تھی کہ جس جوش و خروش کے ساتھ اس مٹینگ کا اہتمام کیا گیا تھا او ر پورے پاکستان میں جس انداز سے عوام سڑکوں پہ آئی تھی وہ گرمی یہاں دیکھنے کو نہیں ملی ، اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیاں اگرچہ اس معاملے میں متحد ہیں لیکن وہ کھلے دل سے ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔ اسی طرح پاکستانی حکومت یہ بھی جانتی ہے کہ امریکہ کےساتھ دشمنی مول نہیں لی جاسکتی اور یہ بھی معلوم ہے امریکہ اب اس کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے جسے نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں ۔ فارسی میں ایک محاورہ ہے ، نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ایسی صورت میں ایک اور مشکل یہ آگئی ہے کہ ابھی افغانستان کے صدر جو بیان دیا ہے اس نے پاکستان کی مشکل ان معنوں میں اور بڑھا دی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور پر امریکہ کی بیان بازیوں کی ہی تصدیق کرتا ہے۔
افغان صدر نے کہا کہ امن مذاکرات کسی اور سے نہیں بلکہ پاکستان سے کرنے ہونگے۔یہ بات انہوں نے دارالحکومت کابل میں مذہبی رہنماؤں کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سابق صدر برہان الدین ربانی کے قتل سے انہیں یقین ہوگیا ہے کہ اب اہم یہ ہے کہ پاکستان سے بات کی جائے۔برہان الدین ربانی کو بیس ستمبر کو ایک خودکش بمبار نےکلِک ہلاک کیا تھا۔ اس شخص نے اپنے آپ کو طالبان کا امن ایلچی ظاہر کیا تھا۔امن کے عمل میں دوسری طرف کون ہے؟ میرے پاس اس کا صرف یہ جواب ہے کہ امن مذاکرات میں دوسری طرف پاکستان ہی ہے۔ صدر کرزئی نے کہا کہ طالبان کے رہنما ملا عمر کہیں سے مل ہی نہیں رہے ہے۔’وہ کہاں ہیں؟ ہمیں طالبان شوری نہیں مل رہی ہے۔ کہاں ہے وہ ۔ایک شخض اپنے آپ کو طالبان شوری کا رکن ظاہر کرتے ہوئے آتا ہے، کہتا ہے کہ وہ ان کی طرف سے ایک پیغام لے کر آیا ہے۔ لیکن پھر وہ نہ اس کی تردید کرتے ہیں اور نہ ہی تصدیق۔لہذا اب ہم سوائے پاکستان کے کسی اور سے بات نہیں کر سکتے۔‘ ادھر امریکی صدر براک اوباما نے ایک امریکی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری رائے ہے کہ اگر پاکستان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کوئی سرگرم تعلقات ہیں یا اسے بغیر کسی مزاحمت کے سرحدی علاقے میں کارروائی کرنے کی استثنیٰ حاصل ہے تو اسے’ پاکستان کو‘ اس معاملے کو حل کرنا ہو گا۔حالانکہ ایک دن قبل امریکی انتظامیہ کا صدارتی حوالے سے یہ بیان آیا تھاکہ مولن نے بیان دیا ہے اس میں مبالغہ ہے ۔ یہ کہہ کر امریکہ نے در اصل پاکستان کے سخت ردعمل میں نرمی لانے کی کوشش کی تھی مگر اب صدر کے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ امریکہ اپنے بیان پر قائم ہے اور پاکستان نے ڈو مور کا مطالبہ بھی ہے ۔ اب ایسی صورت میں حالات تشویش ناک ہوتے جارہے ہیں کہ پاک امریکہ کشیدگی سے کیا نتائج بر آمد ہوں گے اور امریکہ کی پریشانی کس طرح دور ہوگی ۔ کیا امریکہ ایک بار پھر اپنی من مانی کرنے میں کامیاب ہوگا یا کوئی واضح حکمت عملی سامنے آئے گی۔

Share this
Your rating: None Average: 3 (2 votes)