جیل اور جدہ کا فرق

Guest's picture

کہتے ھیں جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک چیونٹی کے ساتھ گفتگو ھوئی تو آپ نے اسے اپنے ھاتھ پر بٹھا کر پوچھا ھم دونوں میں سے کون افضل ھے۔
چیونٹی نے جواب دیا : آپ اللہ کے نبی ھیں اور آپ اس وقت اپنے تخت پر بیٹھے ھیں جب کہ میں اللہ کے نبی کے ھاتھ پر بیٹھی ھوں۔

تو حضور کسی مقام پر قیام کا یہی فرق گزشتہ ایک دھائی میں جیل اور جدہ میں رھنے والوں کی طبیعت میں نمودار ھوا ھے۔

پاکستانی جیلوں اور ان کی حالت ِ زار دیکھتے ھوئے یہ توقع کر لینا کہ جو بندہ اتنے سال تک جیل میں رہ لے گا اس کی شخصیت میں کوئی بہتری آئے گی خام خیالی نہیں تو اور کیا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ تمام تر حالات اور اندیشوں کے باوجود آصف علی زرداری ابھی تک اسی پرانی ڈگر پر چل رھے ھیں۔ جیل میں رھنے سے انہیں چالاکی بہت زیادہ آ گئی ھے اور انہوں نے بے شمار افراد کو بے وقوف بناتے ھوئے اپنے آپ کو قوت کا محور تو بنا لیا لیکن قلبی ماھیت کی عدم تبدیلی سے وہ اس روحانی سکون اور بصیرت سے بے بہرہ ھیں جو ایک بڑے لیڈر کے لیے لازمی ھوتی ھے۔

جبکہ دوسری طرف میاں صاحب نے اتنے سال جدہ اور مدینہ کی پر نور فضاؤں میں قیام کیا ھے تو نہ چاھتے ھوئے بھی اس جگہ کے روحانی اثرات تو پڑے ھی ھوں گے۔ ورنہ آپ خود ھی سوچیے کہ نواز شریف نے کون سا کھیل نہیں کھیلا یا کون سا پتہ استعمال نہیں کیا۔ یہ بہت سارے قوانین ان کے اپنے ھی ذھن کی اختراع ھیں۔ تاھم خوشی کی بات یہ ھے کہ وہ اب کسی حد تک اپنی ذات سے آگے سوچتے ھیں اور بڑی آسانی کے ساتھ حکومت چھوڑ سکتے ھیں۔ انتخابات کے بائیکاٹ سے لے کر قومی اسمبلی کے اھم عہدوں اور وزارتوں سے دستبرداری ان کی اسی سوچ کا نتیجہ ھے۔

اب دیکھنا یہ ھے کہ جدہ اور جیل کی ٹریننگ کے فائنل راؤنڈ میں جیل کے پینترے کام آتے ھیں یا جدہ کے سجدے

خوش رھیے اور سیاست کو کرکٹ کی طرح انجوائے کریں۔

Share this
Your rating: None Average: 3 (3 votes)