جنوبی ایشیاء ۔۔ امریکی دھمکیوں کی حقیقت

jan alam swat's picture

افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد امریکہ نے اپنے الزامات کا رُخ پاکستان کے جانب کر دیا ہے ،امریکہ پاکستان کو افغانستان میں اپنی ذلت امیز اور تاریخی شکست کا ذمہ دار ٹہرا رہا ہے ۔ اور وہ اس ضمن میں پاکستان کو واضح الفاظ میں دھمکیاں دے چکاہے ، کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک اور امریکہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا،امریکہ کی جانب سے ماضی قریب میں بھی اسی طرح پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی گئی تھی ،اگر اُس وقت ،کسی سے نہ ڈرنے والا ،جنرل مشرف خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکل سام کی دھمکیوں کو نظر انداز کرلیتے تو شاید آج پاکستان کے حالات میں کچھ بہتری ہوتی، اگرتاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنوبی ایشیاء کا یہ خطہ ہمیشہ عالمی سیاسی تجربوں کامرکز رہاہے ،اور ہر دور کے فرعونوں نے افغانستان کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا ہے ،اس خطے پر ماضی کے کئی نامور طاقتوں سمیت دور حاضر کے سُپر طاقتیں بھی اپنے تمام تر تجربوں اور بھر پور طاقت کا مظاہرہ کرنے کے باوجود چاروں شانے چت ہوچکے ہیں ،لیکن دستور زمانہ ہے،کہ کوئی بھی نئی طاقت ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اپنی ٹکنالوجی اور جدید حکمت عملیوں پر ناز کرتے ہوئے بے گناہ افغانیوں کو اپنے نام نہادسیاسی تجربوں کے بھینٹ چڑھادیتے ہیں ،اور خود توہین امیز شکست سے دوچار ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں ،سابقہ سُپر پاور رُوس کے عبرت ناک شکست کے بعدافغانستان کی لیباٹری میں امریکہ کا بھی یہی حشر ہوا ،اور اب مسٹر سام پھنکارتے ہوئے اپنی اس شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ،امریکن اگرپاکستانی خفیہ ایجنسی isiاور پاکستانی فوج پر حقانی نیٹ ورک سے رابطوں کا شور مچا رہے ہیں ،تو یہ بتانے میں انہیں موت کیوں آتی ہے ،کہ حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر جہادی گروپوں کے تخلیق کار کون ہیں ؟کیا وہ خود امریکہ نہیں ہے جس نے رُوس کے خلاف پاکستان کے تمام مدرسوں کو جہاد فیکٹریوں میں تبدیل کردیا تھا ،امریکہ کو اُس وقت سمجھ کیوں نہیں ائی کہ پاکستان اور افغانستان کے ان پڑھ پختونوں کو تعلیم و ترقی سے دور رکھ کر انہیں چلتے پھرتے بموں میں تبدیل کرکے اور پھر30لاکھ افغانیوں کا خون ناحق بہا کر یہ نام نہاد جنگ کبھی بھی نہیں جیت سکے گا ،امریکہ کو اُس وقت کیوں خیال نہیں آیا ،کہ وہ ڈالروں کی بارش کرکے جن جہادی گروپوں کے کھیپ در کھیپ بنا رہاہے وہ گروپس اگر رُوس جیسے سُپرپاور کی دھجیاں اُڑا سکتے ہیں تو امریکہ کو کتے کی موت مارنا اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا ، جنوبی ایشیاء میں ایک جانب طالبان کے ہاتھوں ذلت امیز شکست تو دوسری جانب مستقبل کے سُپر پاور چایئنا کی فکر او ر پھر اپنے ملک میں بدترین معاشی بدحالی ، روز بروز بڑھتی بے روزگاری اور قرضوں کے بڑتے ہوئے بوجھ نے امریکہ کو حواس باختہ کردیا ہے،جس کی وجہ سے وہ اپنے ایجاد کردہ جہادی گروپوں سے رابطوں کا الزام محض پاکستان پر لگا رہا ہے ،سونے پر سہاگہ یہ ہے ،کہ امریکہ اپنے اس الزام میں حق بجانب بھی ہے ،کیوں کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دنیا کی تمام ترخفیہ ایجنسیاں اپنے ملکی مفادات کے لیے ہر قسم کے گروہوں ،گروپوں اور نیٹ ورکوںے مختلف نقابوں میں کسی نہ کسی طرح ہمیشہ رابطوں میں رہتی ہیں ،اور کہاں کونسی کھچڑی کون پکارہا ہے ، اُس پر ان ایجنسیوں کی گہری نظر صرف اسی صورت میں ہی ممکن ہوتی ہے، ان جیسے گروپوں سے isi کے علاوہ کئی دیگرغیر ملکی ایجنسیوں سمیت خود امریکہ کے روابط بھی تو ایک اٹل حقیقت ہے ،بلکہ خود امریکہ تو ان گروپوں کا موجد ہے اور پھر اُن سے مذاکرات کا خواہاں بھی ہے ،لیکن اس صورت حال میں امریکہ کی جانب سے صرف پاکستانی ایجنسیوں پر الزامات سمجھ سے بالاتر ہیں ، درحقیقت امریکہ پاکستان سے شمالی وزیر ستان میں جنوبی وزیرستان طرز کااپریشن کروانا چاھتا ہے ،لیکن ریمنڈ ڈیوس کے معاملات اور پھر ایبٹ آباد اپریشن میں پاکستان کے ساتھ نہایت ہتک امیز امریکی رویے کے بعد پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے،اور اب پاکستان امریکہ کے کہنے پر مزید کسی کارروائی کرنے کو تیار نظر نہیں آتا ،پاکستان اس امریکی جنگ میں اب تک اربوں روپوں کا نقصان اُٹھاکر معاشی طور پر بد حال ہوچکا ہے اور تقریباً30ہزار بے گناہ پاکستانیوں کے جانوں کا نظرانہ انکل سام کوپیش کر چکا ہے ،لیکن بدلے میں ملا کیا ؟ صرف چند ڈالر اور۔۔رُسوائی ،یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس تُوڑا بارہ آنے ۔جنوبی ایشیاء میں مستقبل کے سُپر پاور چائیناکے بڑھتے اثر و سوخ کوزائل کرنے کے لیے امریکہ کے پاس بھارت کو ترجیح دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ،اس صورتحال میں بھارت کا اپنی فوج کو خطیر بجٹ کے ذریعے اپ ڈیٹ کرنے کا اعلان دراصل خطے میں امریکی کی نئی پالسی کا اعلان ہے،اور اس ضمن میں چینی نائب وزیر کے پاکستان کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے،جبکہ اس دورے میں چایئنا نے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کرکے بھارت اور امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے اہم پیغام دے دیا ہے ،اب پاکستان کو امریکی دھمکیوں سے مرعوب ہونے بجائے ملکی سلامتی کے حوالے سے ایک جامع پالسی کو ترتیب دے کر چایئنا پر مکمل انحصار کر نا ہوگا ،اوراس اہم معاملے میں سب سے پہلے اپنی عوام کو متحد کرنا ہوگا ۔کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اتفاق میں برکت ہے اور متحدا قوم پر کوئی بھی غاصب کبھی بھی اپنا تسلط نہیں جما سکتا ہے ۔

جان عالم سوات
janalamswat@yahoo.com

Share this
No votes yet