جمہوریت کی ڈوبتی ناﺅ !!

ajnasir's picture

جمہوریت کی ڈوبتی ناﺅ !!
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
پاکستان میں 18 فروری 2008ءکے انتخابات کے نتیجے میں بحال ہونے والی جمہوریت صرف 2 ماہ بعد ہی شدید خطرات اور سازشوں کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ جمہوریت کی ”ناﺅ“ایک مرتبہ پھر ڈوبنے کو ہے، اس کشتی پر پہلا حملہ 5 مئی 2008ءکو صرف ایک ٹیلی فون کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 38 نشستوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کراکر کیا گیا مگر شدید ردعمل اور حقیقت کے کھل آنے پر یہ حملہ ناکام ثابت ہوا۔ دوسرا حملہ وعدوں اور معاہدوں کے مطابق ججوں کو 12 مئی تک بحال نہ ہونے دیکر کیا گیا تاہم اس بار کے حملے کے نتیجے میں جمہوری کشتی کمزور ہوئی اور تباہی کے آثار دکھائی دیئے مگر نواز شریف اور آصف علی زرداری کے پر اعتماد ،پر جوش اورخوش کن بیانات کے بعد یہ محسوس ہوا کہ شاید جمہوری سفر خطروں سے دوچار نہیں ہوگا۔ 12 مئی 2008ءکو مسلم لیگ ( ن) نے اگرچہ عوامی خواہش اور عوام سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق اقتدار کو ٹھوکر ماری اور وزارتوں سے استعفے دیئے مگر نواز شریف نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم حکومت سے علیحدگی کے باوجود حکومت کے خلاف کسی سازش کا حضہ نہیں بنیں گے دوسری جانب مسلم لیگ ( ن) باالخصوص حکومت پنجاب کے حوالے سے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا جس کو اس ملک کے عوام نے بڑی سیاسی قوتوں میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی قرار دیا، اگرچہ اس میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے حصے میں نیک نامی اور پی پی پی اور آصف علی زرداری کے حصے میں بدنامی آئی ،تاہم عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس کو بھی کسی دباﺅ یا مجبوری کا نتیجہ تصور کیا مگر 14 مئی 2008ءکو پی پی پی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کے اجلاس میں سابق نگراں وفاقی وزیر سلمان تاثیر کو پنجاب کا گورنر بنانے کے مبینہ فیصلے نے جمہوریت کی کشتی میں بیچ سمندر میں سوراخ کردیا جس کے باعث اب جمہوریت کی” ناﺅ “ڈوبتی نظر آرہی ہے جس کی واضح مثال مسلم لیگ ( ن) کا شدید احتجاج اور پی پی پی کا بھر پور دفاع ہے۔
سلمان تاثیر کا شمار صدر مشرف کے ہمدردوں اور پی پی کے جیالوں کے علاوہ انتہائی روشن خیالوں میں ہوتا ہے، مذہبی طبقے کے حوالے سے ان کے خیالات صدر مشرف سے کئی گنا آگے بتائے جاتے ہیں اس کا کچھ اظہار وہ اپنے میڈیا کے اداروں میں بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کا شمار نواز شریف کے مخالفین میں بھی ہوتا ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ وطن واپسی کے بعد ان کی ملکیت کے ایک نشریاتی ادارے نے نواز شریف کے انٹرویو کے حوالے سے بعض الزامات عائد کئے تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے کی تردید ہوتی رہی ۔ بعض مبصرین اس موقع پر جب مسلم لیگ ( ن) اور پی پی پی کا اتحاد خطرات سے دوچار ہے سلمان تاثیر کو جمہوریت کی ”ریل کو ڈی ریل“ کرنے کیلئے”رن پٹھانی“ کا حادثہ قرار دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ موصوف کی تقرری کے بعد اب شاید مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے مابین دوبارہ اتحاد اور مسلم لیگ ( ن) کی حکومت میں شمولیت صرف ایک خواب ہے کیونکہ مسلم لیگ ( ن) موصوف کی تقرری کو حکمراں اتحاد باالخصوص پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف سازش کا حصہ قرار دے رہی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ اس ضمن میں مسلم لیگ ( ن) کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس وجہ سے کہ مسلم لیگ ( ن) کی قیادت نے سلمان تاثیر کی حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کیا اور جواباً پی پی پی پنجاب کے جنرل سیکریٹری چودھری غلام عباس نے جولب و لہجہ اختیار کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب معاملات کنٹرول سے باہر ہورہے ہیں ۔حلف برداری کی تقریب میں مسلم لیگ (ق) کی شرکت اور اس سے ایک روز قبل ق لیگ کی قیادت کی صدر مشرف سے ملاقات ایک واضح پیغام ہے ۔ اور لگتا ہے کہ” اے آرڈی، اوراے پی ڈی ایم“کے بعد اب پاکستان ڈیموکریٹک الائینس(پی ڈی اے) کا جنازہ بھی نکلنے کو ہے۔کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر نہ صرف باتاثیر ہیں بلکہ جوڑ توڑ کے ماہر بھی ہیں ان کی بطور گورنر پنجاب تقرری دراصل مسلم لیگ ( ن) کو یہ پیغام دینا ہے کہ تم مرکز میں ہم سے الگ ہوکو پنجاب میں آرام سے حکومت کرنے کا تصور دل سے نکال لو، کیونکہ اب گورنر خالد مقبول نہیں کہ مشرف کے نام پر عوامی ہمدردی حاصل کی جاسکے۔ مبصرین کے مطابق سلمان تاثیر پی پی پی سے زیادہ صدر مشرف کے حامی ہیں اور وہ زرداری کی بجائے صدر مشرف کے زیادہ قریب ہیں ، ویسے بھی گورنر صدر کا نمایندہ ہوتا ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ پی پی پی کے مرکزی راہنماءاور سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے اس کو صدر مشرف کی جانب سے ”فاروڈ کمانڈر“کی تقرری قرار دیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کی تعیناتی سے صدر مشرف اپنی حکمت عملی میں کلی طور پر کامیاب ہوئے کیونکہ جہاں اس اقدام سے دونوں جماعتوں کے مابین خلیج بڑھ گئی ہے وہیں صدر مشرف کواپنے 3 نومبر کے اقدام کو آئینی شکل دینے کیلئے راہ ہموار ہوئی ہے ۔ بعید نہیں کہ مسلم لیگ(ق) کا پی پی پی سے جلد اتحاد ہو۔ اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ارکان کی نا اہلی کے حوالے سے آئینی شق صدر ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح معطل کریں پھر پنجاب اور سینٹ میں لوٹوں کا جمعہ بازار لگ جائے۔
اس سارے کھیل میں نادیدہ قوتیں ملوث ہیں مگر آصف زرداری غالباً نہ چاہتے ہوئے بھی کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہورہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری کی سب سے بڑی کمزوری امریکی دباﺅ ہے کیونکہ اب امریکا پاکستان میں اپنی جڑیں ہرجگہ مضبوط کرچکا ہے سرکاری اداروں میں کمپیوٹر سے انٹرنیٹ تک، الیکشن کمیشن ، نادرا،پولیس، ائیرپورٹ کا نظام اور اب بجلی کے حوالے سے بھی وہ اپنے مذموم عزائم کے لئے کوشاں ہے تا کہ پوری قوم کو بغیر کسی جنگ کے غیر محسوس انداز میں غلام بنایا جائے ۔ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر پنجاب بینک میں 13 ارب روپے کے کرپشن کے کیس میں گرفتار مبینہ ملزم تک کو رہا کرنے پر توجہ دے رہے ہیں اور جب جہاں چاہتے ہیں پہنچ جاتی ہیں۔ کراچی ہو یا اسلام آباد ، دبئی ہو یا لندن ہر جگہ ہمارے معاملات میں امریکی عمل دخل حد سے بڑھ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کی تعیناتی میں بھی امریکی اہلکاروں کا کردار ہے کیونکہ ان کو روشن خیالوں سے محبت ہے ۔
ہماری حکومت باجوڑ میں امریکی میزائل حملے کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کی مذمت تک کرنے کو تیار نہیں ہے اگر یہی حملہ بھارت ،اسرائیل یا کوئی اور ملک کرچکا ہوتا تو ہم اس کو اعلان جنگ تصور کرتے۔ اب تو عوام کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ اب ہمیں ذلت کی زندگی یا عزت کی موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سامنے جرا¿ت مندانہ انداز میں کھڑا ہونا پڑیگا اس حوالے سے نواز شریف کی حالیہ پالیسی اور اقدام کو عوام کی اکثریت قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ایک سروے کے مطابق 80 فیصد افراد نے نواز شریف اور مسلم لیگ ( ن) کے حالیہ فیصلوں ، اقدام اور امریکا مخالف پالیسی کو سراہا اور پی پی پی کے اقدام کو مسترد کیا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت امریکا پاکستان میں اپنے لئے سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف کو تصور کرتا ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ اس رکاوٹ کو ہٹا دیا جائے چائے۔ اس لئے مسلم لیگ ( ن) کی قیادت کے علاوہ پوری قوم کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کا تعلق ہے یہ بھی وقتی خوشی محسوس ہورہی ہے کیونکہ ابھی اپیل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مراحل باقی ہیں اور تاحال ان کو رٹوں میں ”پی سی او“ والے ججز ہی تعینات ہیں۔ کیا اگر نواز شریف کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں تو وہ ان کو رٹوں میں جاتے ہیں۔ خیال یہی کیا جاتا ہے کہ کم از کم نواز شریف کو ایوان تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائیگا۔ بجٹ کے بعد ججوں کی بحالی کے پی پی پی کے اعلانات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے اور فوراً بعد ملک میں کیا کیا تبدیلیاں آتی ہیں یا پھر جمہوری حکومت اپنے 100 دن بھی پورے نہیں کرسکے گی۔
جمہوریت کی ڈوبتی ناﺅ !!
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
پاکستان میں 18 فروری 2008ءکے انتخابات کے نتیجے میں بحال ہونے والی جمہوریت صرف 2 ماہ بعد ہی شدید خطرات اور سازشوں کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ جمہوریت کی ”ناﺅ“ایک مرتبہ پھر ڈوبنے کو ہے، اس کشتی پر پہلا حملہ 5 مئی 2008ءکو صرف ایک ٹیلی فون کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 38 نشستوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کراکر کیا گیا مگر شدید ردعمل اور حقیقت کے کھل آنے پر یہ حملہ ناکام ثابت ہوا۔ دوسرا حملہ وعدوں اور معاہدوں کے مطابق ججوں کو 12 مئی تک بحال نہ ہونے دیکر کیا گیا تاہم اس بار کے حملے کے نتیجے میں جمہوری کشتی کمزور ہوئی اور تباہی کے آثار دکھائی دیئے مگر نواز شریف اور آصف علی زرداری کے پر اعتماد ،پر جوش اورخوش کن بیانات کے بعد یہ محسوس ہوا کہ شاید جمہوری سفر خطروں سے دوچار نہیں ہوگا۔ 12 مئی 2008ءکو مسلم لیگ ( ن) نے اگرچہ عوامی خواہش اور عوام سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق اقتدار کو ٹھوکر ماری اور وزارتوں سے استعفے دیئے مگر نواز شریف نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم حکومت سے علیحدگی کے باوجود حکومت کے خلاف کسی سازش کا حضہ نہیں بنیں گے دوسری جانب مسلم لیگ ( ن) باالخصوص حکومت پنجاب کے حوالے سے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا جس کو اس ملک کے عوام نے بڑی سیاسی قوتوں میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی قرار دیا، اگرچہ اس میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے حصے میں نیک نامی اور پی پی پی اور آصف علی زرداری کے حصے میں بدنامی آئی ،تاہم عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس کو بھی کسی دباﺅ یا مجبوری کا نتیجہ تصور کیا مگر 14 مئی 2008ءکو پی پی پی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کے اجلاس میں سابق نگراں وفاقی وزیر سلمان تاثیر کو پنجاب کا گورنر بنانے کے مبینہ فیصلے نے جمہوریت کی کشتی میں بیچ سمندر میں سوراخ کردیا جس کے باعث اب جمہوریت کی” ناﺅ “ڈوبتی نظر آرہی ہے جس کی واضح مثال مسلم لیگ ( ن) کا شدید احتجاج اور پی پی پی کا بھر پور دفاع ہے۔
سلمان تاثیر کا شمار صدر مشرف کے ہمدردوں اور پی پی کے جیالوں کے علاوہ انتہائی روشن خیالوں میں ہوتا ہے، مذہبی طبقے کے حوالے سے ان کے خیالات صدر مشرف سے کئی گنا آگے بتائے جاتے ہیں اس کا کچھ اظہار وہ اپنے میڈیا کے اداروں میں بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کا شمار نواز شریف کے مخالفین میں بھی ہوتا ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ وطن واپسی کے بعد ان کی ملکیت کے ایک نشریاتی ادارے نے نواز شریف کے انٹرویو کے حوالے سے بعض الزامات عائد کئے تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے کی تردید ہوتی رہی ۔ بعض مبصرین اس موقع پر جب مسلم لیگ ( ن) اور پی پی پی کا اتحاد خطرات سے دوچار ہے سلمان تاثیر کو جمہوریت کی ”ریل کو ڈی ریل“ کرنے کیلئے”رن پٹھانی“ کا حادثہ قرار دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ موصوف کی تقرری کے بعد اب شاید مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے مابین دوبارہ اتحاد اور مسلم لیگ ( ن) کی حکومت میں شمولیت صرف ایک خواب ہے کیونکہ مسلم لیگ ( ن) موصوف کی تقرری کو حکمراں اتحاد باالخصوص پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف سازش کا حصہ قرار دے رہی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ اس ضمن میں مسلم لیگ ( ن) کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس وجہ سے کہ مسلم لیگ ( ن) کی قیادت نے سلمان تاثیر کی حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کیا اور جواباً پی پی پی پنجاب کے جنرل سیکریٹری چودھری غلام عباس نے جولب و لہجہ اختیار کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب معاملات کنٹرول سے باہر ہورہے ہیں ۔حلف برداری کی تقریب میں مسلم لیگ (ق) کی شرکت اور اس سے ایک روز قبل ق لیگ کی قیادت کی صدر مشرف سے ملاقات ایک واضح پیغام ہے ۔ اور لگتا ہے کہ” اے آرڈی، اوراے پی ڈی ایم“کے بعد اب پاکستان ڈیموکریٹک الائینس(پی ڈی اے) کا جنازہ بھی نکلنے کو ہے۔کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر نہ صرف باتاثیر ہیں بلکہ جوڑ توڑ کے ماہر بھی ہیں ان کی بطور گورنر پنجاب تقرری دراصل مسلم لیگ ( ن) کو یہ پیغام دینا ہے کہ تم مرکز میں ہم سے الگ ہوکو پنجاب میں آرام سے حکومت کرنے کا تصور دل سے نکال لو، کیونکہ اب گورنر خالد مقبول نہیں کہ مشرف کے نام پر عوامی ہمدردی حاصل کی جاسکے۔ مبصرین کے مطابق سلمان تاثیر پی پی پی سے زیادہ صدر مشرف کے حامی ہیں اور وہ زرداری کی بجائے صدر مشرف کے زیادہ قریب ہیں ، ویسے بھی گورنر صدر کا نمایندہ ہوتا ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ پی پی پی کے مرکزی راہنماءاور سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے اس کو صدر مشرف کی جانب سے ”فاروڈ کمانڈر“کی تقرری قرار دیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کی تعیناتی سے صدر مشرف اپنی حکمت عملی میں کلی طور پر کامیاب ہوئے کیونکہ جہاں اس اقدام سے دونوں جماعتوں کے مابین خلیج بڑھ گئی ہے وہیں صدر مشرف کواپنے 3 نومبر کے اقدام کو آئینی شکل دینے کیلئے راہ ہموار ہوئی ہے ۔ بعید نہیں کہ مسلم لیگ(ق) کا پی پی پی سے جلد اتحاد ہو۔ اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ارکان کی نا اہلی کے حوالے سے آئینی شق صدر ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح معطل کریں پھر پنجاب اور سینٹ میں لوٹوں کا جمعہ بازار لگ جائے۔
اس سارے کھیل میں نادیدہ قوتیں ملوث ہیں مگر آصف زرداری غالباً نہ چاہتے ہوئے بھی کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہورہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری کی سب سے بڑی کمزوری امریکی دباﺅ ہے کیونکہ اب امریکا پاکستان میں اپنی جڑیں ہرجگہ مضبوط کرچکا ہے سرکاری اداروں میں کمپیوٹر سے انٹرنیٹ تک، الیکشن کمیشن ، نادرا،پولیس، ائیرپورٹ کا نظام اور اب بجلی کے حوالے سے بھی وہ اپنے مذموم عزائم کے لئے کوشاں ہے تا کہ پوری قوم کو بغیر کسی جنگ کے غیر محسوس انداز میں غلام بنایا جائے ۔ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر پنجاب بینک میں 13 ارب روپے کے کرپشن کے کیس میں گرفتار مبینہ ملزم تک کو رہا کرنے پر توجہ دے رہے ہیں اور جب جہاں چاہتے ہیں پہنچ جاتی ہیں۔ کراچی ہو یا اسلام آباد ، دبئی ہو یا لندن ہر جگہ ہمارے معاملات میں امریکی عمل دخل حد سے بڑھ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کی تعیناتی میں بھی امریکی اہلکاروں کا کردار ہے کیونکہ ان کو روشن خیالوں سے محبت ہے ۔
ہماری حکومت باجوڑ میں امریکی میزائل حملے کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کی مذمت تک کرنے کو تیار نہیں ہے اگر یہی حملہ بھارت ،اسرائیل یا کوئی اور ملک کرچکا ہوتا تو ہم اس کو اعلان جنگ تصور کرتے۔ اب تو عوام کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ اب ہمیں ذلت کی زندگی یا عزت کی موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سامنے جرا¿ت مندانہ انداز میں کھڑا ہونا پڑیگا اس حوالے سے نواز شریف کی حالیہ پالیسی اور اقدام کو عوام کی اکثریت قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ایک سروے کے مطابق 80 فیصد افراد نے نواز شریف اور مسلم لیگ ( ن) کے حالیہ فیصلوں ، اقدام اور امریکا مخالف پالیسی کو سراہا اور پی پی پی کے اقدام کو مسترد کیا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت امریکا پاکستان میں اپنے لئے سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف کو تصور کرتا ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ اس رکاوٹ کو ہٹا دیا جائے چائے۔ اس لئے مسلم لیگ ( ن) کی قیادت کے علاوہ پوری قوم کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کا تعلق ہے یہ بھی وقتی خوشی محسوس ہورہی ہے کیونکہ ابھی اپیل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مراحل باقی ہیں اور تاحال ان کو رٹوں میں ”پی سی او“ والے ججز ہی تعینات ہیں۔ کیا اگر نواز شریف کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں تو وہ ان کو رٹوں میں جاتے ہیں۔ خیال یہی کیا جاتا ہے کہ کم از کم نواز شریف کو ایوان تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائیگا۔ بجٹ کے بعد ججوں کی بحالی کے پی پی پی کے اعلانات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے اور فوراً بعد ملک میں کیا کیا تبدیلیاں آتی ہیں یا پھر جمہوری حکومت اپنے 100 دن بھی پورے نہیں کرسکے گی۔
عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
پاکستان میں 18 فروری 2008ءکے انتخابات کے نتیجے میں بحال ہونے والی جمہوریت صرف 2 ماہ بعد ہی شدید خطرات اور سازشوں کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ جمہوریت کی ”ناﺅ“ایک مرتبہ پھر ڈوبنے کو ہے، اس کشتی پر پہلا حملہ 5 مئی 2008ءکو صرف ایک ٹیلی فون کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 38 نشستوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کراکر کیا گیا مگر شدید ردعمل اور حقیقت کے کھل آنے پر یہ حملہ ناکام ثابت ہوا۔ دوسرا حملہ وعدوں اور معاہدوں کے مطابق ججوں کو 12 مئی تک بحال نہ ہونے دیکر کیا گیا تاہم اس بار کے حملے کے نتیجے میں جمہوری کشتی کمزور ہوئی اور تباہی کے آثار دکھائی دیئے مگر نواز شریف اور آصف علی زرداری کے پر اعتماد ،پر جوش اورخوش کن بیانات کے بعد یہ محسوس ہوا کہ شاید جمہوری سفر خطروں سے دوچار نہیں ہوگا۔ 12 مئی 2008ءکو مسلم لیگ ( ن) نے اگرچہ عوامی خواہش اور عوام سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق اقتدار کو ٹھوکر ماری اور وزارتوں سے استعفے دیئے مگر نواز شریف نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم حکومت سے علیحدگی کے باوجود حکومت کے خلاف کسی سازش کا حضہ نہیں بنیں گے دوسری جانب مسلم لیگ ( ن) باالخصوص حکومت پنجاب کے حوالے سے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا جس کو اس ملک کے عوام نے بڑی سیاسی قوتوں میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی قرار دیا، اگرچہ اس میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے حصے میں نیک نامی اور پی پی پی اور آصف علی زرداری کے حصے میں بدنامی آئی ،تاہم عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس کو بھی کسی دباﺅ یا مجبوری کا نتیجہ تصور کیا مگر 14 مئی 2008ءکو پی پی پی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کے اجلاس میں سابق نگراں وفاقی وزیر سلمان تاثیر کو پنجاب کا گورنر بنانے کے مبینہ فیصلے نے جمہوریت کی کشتی میں بیچ سمندر میں سوراخ کردیا جس کے باعث اب جمہوریت کی” ناﺅ “ڈوبتی نظر آرہی ہے جس کی واضح مثال مسلم لیگ ( ن) کا شدید احتجاج اور پی پی پی کا بھر پور دفاع ہے۔
سلمان تاثیر کا شمار صدر مشرف کے ہمدردوں اور پی پی کے جیالوں کے علاوہ انتہائی روشن خیالوں میں ہوتا ہے، مذہبی طبقے کے حوالے سے ان کے خیالات صدر مشرف سے کئی گنا آگے بتائے جاتے ہیں اس کا کچھ اظہار وہ اپنے میڈیا کے اداروں میں بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کا شمار نواز شریف کے مخالفین میں بھی ہوتا ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ وطن واپسی کے بعد ان کی ملکیت کے ایک نشریاتی ادارے نے نواز شریف کے انٹرویو کے حوالے سے بعض الزامات عائد کئے تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے کی تردید ہوتی رہی ۔ بعض مبصرین اس موقع پر جب مسلم لیگ ( ن) اور پی پی پی کا اتحاد خطرات سے دوچار ہے سلمان تاثیر کو جمہوریت کی ”ریل کو ڈی ریل“ کرنے کیلئے”رن پٹھانی“ کا حادثہ قرار دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ موصوف کی تقرری کے بعد اب شاید مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے مابین دوبارہ اتحاد اور مسلم لیگ ( ن) کی حکومت میں شمولیت صرف ایک خواب ہے کیونکہ مسلم لیگ ( ن) موصوف کی تقرری کو حکمراں اتحاد باالخصوص پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف سازش کا حصہ قرار دے رہی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ اس ضمن میں مسلم لیگ ( ن) کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس وجہ سے کہ مسلم لیگ ( ن) کی قیادت نے سلمان تاثیر کی حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کیا اور جواباً پی پی پی پنجاب کے جنرل سیکریٹری چودھری غلام عباس نے جولب و لہجہ اختیار کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب معاملات کنٹرول سے باہر ہورہے ہیں ۔حلف برداری کی تقریب میں مسلم لیگ (ق) کی شرکت اور اس سے ایک روز قبل ق لیگ کی قیادت کی صدر مشرف سے ملاقات ایک واضح پیغام ہے ۔ اور لگتا ہے کہ” اے آرڈی، اوراے پی ڈی ایم“کے بعد اب پاکستان ڈیموکریٹک الائینس(پی ڈی اے) کا جنازہ بھی نکلنے کو ہے۔کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر نہ صرف باتاثیر ہیں بلکہ جوڑ توڑ کے ماہر بھی ہیں ان کی بطور گورنر پنجاب تقرری دراصل مسلم لیگ ( ن) کو یہ پیغام دینا ہے کہ تم مرکز میں ہم سے الگ ہوکو پنجاب میں آرام سے حکومت کرنے کا تصور دل سے نکال لو، کیونکہ اب گورنر خالد مقبول نہیں کہ مشرف کے نام پر عوامی ہمدردی حاصل کی جاسکے۔ مبصرین کے مطابق سلمان تاثیر پی پی پی سے زیادہ صدر مشرف کے حامی ہیں اور وہ زرداری کی بجائے صدر مشرف کے زیادہ قریب ہیں ، ویسے بھی گورنر صدر کا نمایندہ ہوتا ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ پی پی پی کے مرکزی راہنماءاور سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے اس کو صدر مشرف کی جانب سے ”فاروڈ کمانڈر“کی تقرری قرار دیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کی تعیناتی سے صدر مشرف اپنی حکمت عملی میں کلی طور پر کامیاب ہوئے کیونکہ جہاں اس اقدام سے دونوں جماعتوں کے مابین خلیج بڑھ گئی ہے وہیں صدر مشرف کواپنے 3 نومبر کے اقدام کو آئینی شکل دینے کیلئے راہ ہموار ہوئی ہے ۔ بعید نہیں کہ مسلم لیگ(ق) کا پی پی پی سے جلد اتحاد ہو۔ اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ارکان کی نا اہلی کے حوالے سے آئینی شق صدر ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح معطل کریں پھر پنجاب اور سینٹ میں لوٹوں کا جمعہ بازار لگ جائے۔
اس سارے کھیل میں نادیدہ قوتیں ملوث ہیں مگر آصف زرداری غالباً نہ چاہتے ہوئے بھی کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہورہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری کی سب سے بڑی کمزوری امریکی دباﺅ ہے کیونکہ اب امریکا پاکستان میں اپنی جڑیں ہرجگہ مضبوط کرچکا ہے سرکاری اداروں میں کمپیوٹر سے انٹرنیٹ تک، الیکشن کمیشن ، نادرا،پولیس، ائیرپورٹ کا نظام اور اب بجلی کے حوالے سے بھی وہ اپنے مذموم عزائم کے لئے کوشاں ہے تا کہ پوری قوم کو بغیر کسی جنگ کے غیر محسوس انداز میں غلام بنایا جائے ۔ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر پنجاب بینک میں 13 ارب روپے کے کرپشن کے کیس میں گرفتار مبینہ ملزم تک کو رہا کرنے پر توجہ دے رہے ہیں اور جب جہاں چاہتے ہیں پہنچ جاتی ہیں۔ کراچی ہو یا اسلام آباد ، دبئی ہو یا لندن ہر جگہ ہمارے معاملات میں امریکی عمل دخل حد سے بڑھ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان تاثیر کی تعیناتی میں بھی امریکی اہلکاروں کا کردار ہے کیونکہ ان کو روشن خیالوں سے محبت ہے ۔
ہماری حکومت باجوڑ میں امریکی میزائل حملے کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کی مذمت تک کرنے کو تیار نہیں ہے اگر یہی حملہ بھارت ،اسرائیل یا کوئی اور ملک کرچکا ہوتا تو ہم اس کو اعلان جنگ تصور کرتے۔ اب تو عوام کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ اب ہمیں ذلت کی زندگی یا عزت کی موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سامنے جرا¿ت مندانہ انداز میں کھڑا ہونا پڑیگا اس حوالے سے نواز شریف کی حالیہ پالیسی اور اقدام کو عوام کی اکثریت قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ایک سروے کے مطابق 80 فیصد افراد نے نواز شریف اور مسلم لیگ ( ن) کے حالیہ فیصلوں ، اقدام اور امریکا مخالف پالیسی کو سراہا اور پی پی پی کے اقدام کو مسترد کیا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت امریکا پاکستان میں اپنے لئے سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف کو تصور کرتا ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ اس رکاوٹ کو ہٹا دیا جائے چائے۔ اس لئے مسلم لیگ ( ن) کی قیادت کے علاوہ پوری قوم کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کا تعلق ہے یہ بھی وقتی خوشی محسوس ہورہی ہے کیونکہ ابھی اپیل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مراحل باقی ہیں اور تاحال ان کو رٹوں میں ”پی سی او“ والے ججز ہی تعینات ہیں۔ کیا اگر نواز شریف کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں تو وہ ان کو رٹوں میں جاتے ہیں۔ خیال یہی کیا جاتا ہے کہ کم از کم نواز شریف کو ایوان تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائیگا۔ بجٹ کے بعد ججوں کی بحالی کے پی پی پی کے اعلانات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے اور فوراً بعد ملک میں کیا کیا تبدیلیاں آتی ہیں یا پھر جمہوری حکومت اپنے 100 دن بھی پورے نہیں کرسکے گی۔

Share this
No votes yet