ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟

Submitted by arifmahi on Thu, 03/13/2008 - 19:47

ایک فوجی صدر کے ہاتھوں برطرف ہونے والے ججوں کی بحالی کا معاملہ پاکستانی سیاست کی بساط پر دلچسپ صورت اختیار کرگیا ہے۔ آنے والی مخلوط حکومت نے تو بھوربن میں اعلان مری کے ذریعے اپنی چال ظاہر کر دی ہے، لیکن ایوان صدر اس کے توڑ کے لیے کیا ارادے رکھتا ہے یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں۔
اس معاملے پر اب تک تین مختلف آراء زیر بحث ہیں۔

خود جسٹس افتخار محمد چوہدری اور وکلاء تحریک کے رہنما کہتے ہیں کہ آئندہ مخلوط حکومت کو صرف اتنا کرنا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے ایک انتظامی حکم نامہ جاری کردے۔

جبکہ مخلوط حکومت بنانے والی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت سازی کے بعد تیس دن کے اندر اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کر کے برطرف ججوں کو بحال کر دیں گے۔

تاہم ایوان صدر اور اس کے ہمنواؤں کا اصرار یہ ہے کہ نہ انتظامی حکم نامہ اور نہ قرارداد۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھی ججوں کا عدالتوں میں واپس آنا آئینی طور پر ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ پچھلے سال تین نومبر اور اس کے بعد پرویز مشرف نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ آئین کا حصہ بن چکے ہیں۔

حقیقیت ہے کیا؟ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک ایسی بےہودہ دلیل ہے جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے، اور یہ تو ایسا ہے کہ آپ کہیں کہ میرے پاس بندوق ہے اس لیے میں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ آئین کا حصہ بن گیا ہے۔ ورنہ قانونی طور پر تو یہ آئین کا حصہ نہیں بن سکتا جب تک کہ پارلیمینٹ دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری نہ دے۔‘

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ فوجی حکمرانوں نے آئین میں جو بھی تبدیلیاں کیں وہ اس وقت تک آئین کا حصہ نہیں بن سکیں جب تک پارلیمینٹ نے اسکی منظوری نہیں دی۔

بےہودہ دلیل
’یہ ایک ایسی بےہودہ دلیل ہے جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے، اور یہ تو ایسا ہے کہ آپ کہیں کہ میرے پاس بندوق ہے اس لیے میں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ آئین کا حصہ بن گیا ہے۔ ورنہ قانونی طور پر تو یہ آئین کا حصہ نہیں بن سکتا جب تک کہ پارلیمینٹ دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری نہ دے۔‘

سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی

’جب آر سی او کے تحت جنرل ضیاء الحق نے آئین کے اندر 55 ترامیم کیں تو پھر انہوں نے اس کو 85ء میں منتخب ہونے والی اسمبلی میں پیش کیا جن میں سے دس بارہ ترامیم کو اسمبلی نے خارج کر کے باقی کو آٹھویں ترمیم کی صورت میں منظور کر کے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔‘

انہوں نے کہا، ’اسی طرح مشرف نے بھی ایل ایف او کے ذریعے آئین میں بائیس یا چوبیس کے قریب ترامیم کی تھیں لیکن ان کا تحفظ حاصل کرنے کے لیے انہوں نے سترہویں ترمیم کے ذریعے اسے اسمبلی سے منظور کرایا اور اس طرح وہ ترامیم آرٹیکل 270 اے اے کی صورت میں آئین کا حصہ بنیں۔‘

سعید الزمان صدیقی کا کہنا ہے کہ جب تک پارلیمینٹ تین نومبر اور اس کے بعد کیے گئے اقدامات کی دو تہائی اکثریت سے منظوری نہیں دیتی، دو نومبر 2007ء کی عدلیہ کی آئینی حیثیت برقرار رہے گی اور اس بنا پر اگر وزیر اعظم چاہے تو انتظامی حکم نامہ جاری کر کے بھی برطرف ججوں کو بحال کرسکتا ہے یا پھر قرار داد کے ذریعے بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔

’قومی اسمبلی کا کوئی بھی رکن ایک قراردار پیش کر کے سپیکر سے اس بات پر رولنگ حاصل کر سکتا ہے کہ اس ملک میں کونسا آئین نافذ ہے اور اگر اس کا جواب سپیکر اس طرح دیں کہ اس وقت جو آئین ملک میں نافذ ہے وہ وہی ہے جو دو نومبر 2007ء کو نافذ تھا تو اس کے تحت سب چیزیں دو نومبر کی پوزیشن پر بحال ہوجائیں گی۔‘

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی طاقت سے محروم موجودہ صدر پرویز مشرف اس وقت سیاسی اور اخلاقی طور پر کمزور ترین سطح پر ہیں
سپریم کورٹ کے ایک اور سابق جج جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود اس کا ایک اور حل بھی پیش کرتے ہیں جس سے سانپ بھی مرجائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ، ’صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب پارلیمینٹ کا اجلاس ہو تو سب سے پہلے اٹھارویں ترمیم کے نام پر ایک بل پیش کیا جائے کہ جناب یہ تین نومبر سے لے کر جو اقدامات ہوئے ہیں آپ اس کی توثیق کرتے ہیں یا نہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کی توثیق نہیں ہوگی، کیونکہ اکثریت دوسری سوچ رکھنے والوں کی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب یہ بل مسترد ہو جائے گا تو اس کی بنیاد پر ایک آرڈر جاری ہو سکتا ہے اور چونکہ اس حکم نامے کو پارلیمینٹ کی حمایت حاصل ہوگی تو یہ تمام جج صاحبان بحال ہوجائیں گے۔‘

لیکن سعید الزماں صدیقی کہتے ہیں کہ ایسے کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو دو بار برطرف کرنے والے پرویز مشرف بھی آئین کا سہارا لے سکتے ہیں۔

’جو خراب صورتحال نکل سکتی ہے وہ یہ ہے کہ صدر کے پاس آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومت بننے کے بعد حکومت اور اسمبلی کو تحلیل کر دیں لیکن اس اقدام کی توثیق کے لیے بھی صدر آئینی طور پر سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجنے کا پابند ہے کہ آیا میرا یہ اقدام آئینی طور پر درست ہے یا نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آئین کے تحت سپریم کورٹ تیس دن کے اندر اس بات کا فیصلہ کرنے کی پابند ہے کہ صدر کا یہ اقدام درست ہے یا نہیں اور فرض کر لیں کہ اگر سپریم کورٹ یہ کہتی ہے کہ صدر کا اقدام درست ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نوے دن کے اندر دوبارہ الیکشن کرانا پڑیں گے۔‘

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی طاقت سے محروم موجودہ صدر پرویز مشرف یوں تو اس وقت سیاسی اور اخلاقی طور پر کمزور ترین سطح پر ہیں اور اگر ججز بحال ہوتے ہیں تو ان کے پاس دو ہی واضح راستے ہوں گے یا تو صدارتی عہدے سے استعفی دے دیں یا پھر جاتے جاتے اسمبلی کو تحلیل کر دیں، یعنی ’ہم تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔‘

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......