تلواڑه میں مرغابی کا شکار

Submitted by kurdupk on Sat, 09/20/2008 - 11:54

چلو چلو نکلو مرغابی کے شکار پر چلیں، رات کو جب چاروں سوۓ تو خواب میں جا ملے اور فیصلہ کیا که الصبح تین بجے اٹھیں گے اور ناشتہ کرکے چار بجے تک روانہ ہونگے۔ گویا کہ چاروں باپ بیٹا وقت پر اٹھے ، بندوقیں تیار کیں، گاڑی میں رکھیں، ڈکاؤس اٹھائیں، ڈنڈے بھی اٹھاۓ اور سب سے اہم ترین چیز اپنے آپ کو چھپانے کے لیے بنائ گئی لک بھی اٹھائی اور گاڑی کی ڈکی میں رکھی اور ناشتہ کرکے صبح ہی صبح چار بجے گھر سے روانہ ہوگۓ۔ سب سے پہلے یہ چاروں مغلپورہ [لاہور] کے پٹرول پمپ پر پہنچے، گاڑی میں پٹرول ڈلوایا اور شالیمار لنک روڈ پر روانہ ہوگۓ، راستے میں کسی دکان سے انکے والد صاحب نے سگریٹ کی ڈبی خریدی اور آگے کی جانب چل دیۓ۔

آگے چلے تو شالیمار باغ پہنچے وہاں سے دائیں جانب جی ٹی روڈ پر مڑ گۓ، وہیں سے بالکل ناک کی سیدھ میں چلے آۓ، جہاں ایک شہید فوجی کی یاد گار ہے، جسے یاد گار کے طور پر بھی پہچانا جاتا ہے۔ وہیں سے بائیں ہاتھ کی جانب مڑ گۓ، نہایت ہی ٹوٹی پھوٹی گاؤں کی سڑک تھی وہیں سے سیدھے چلتے گۓ پہلے چوک سے بائیں اور پھر دوبارہ پہلے چوک سے پھر دائیں مڑے، یہ راستہ سیدھا چلتا چلا گیا اور پھر کافی دور جا کر ایک اور چوک آیا جسے آپ گنجا چوک کہتے ہیں، وہیں سے اس چوک کو بھی کراس کرکے بالکل سیدھے چلے گۓ۔ تقریباً بارہ تیرہ کلومیٹر چل کر سب سے آخری ایک موڑ جو بائیں جانب مڑتا ہے وہاں مڑ گۓ، کچھ دور جا کر یہ لوگ ایک امرودوں کے باغ پر پہنچے وہاں گاڑی کھڑی کی اور اپنا اپنا سامان نکالا اور چاروں باپ بیٹا دریا راوی کی جانب پیدل چل دیۓ۔ اس علاقے کا نام تلواڑہ ہے۔ یہ لوگ امرودوں کے باغ سے دائیں جانب تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چلے، صبح کے تقریباً 5 بجے ہونگے، کہ یہ چاروں دریا راوی کے کنارے جاپہنچے اور بیٹھنے کی اچھی سی جگہ تلاش کی۔ بیٹھ کر ڈکاؤس تھیلے میں سے نکالیں اور ایک بھائ نے دریا میں ڈالنی شروع کردیں۔ ایک بھائ نے پانی میں جا کر دیکھا کہ پانی کتنا گہرا ہے، انکے والد صاحب نے اپنی سگریٹ کی ڈبی سے سگریٹ نکالی اور اسے لائٹر سے جلا کر پینی شروع کردی۔ ایک اور بھائ نے بیگ میں سے کارتوس کی بیلٹ نکالی اور اسے چھوٹے بھائ کے حوالے کردی۔ بڑے بھائ نے دوسرے کے ساتھ مل کر اتنی دیر میں لک تیار کی اور اسمیں سارا سامان ڈالا اور مرغابیوں کے انتظار میں بیٹھ گۓ۔

تیسرے بھائ کے ہاتھ میں بندوق تھی اور گلے میں وہسل ڈالی تھی۔ روشنی ہونے کو تھی کہ نیل سروں کی ڈار آئ اسمین کل پانچ نیل سر تھے وه ابھی انکی ڈکائیس پر آکر اترے ہی تھے کہ چھوٹے بھائ نے چار نمبر کا فائر کھول دیا اور اس میں دو نیل سر ڈھیر هوگۓ باقی نیل سر اڑے تو اس پر دوسرا فائر کیا لیکن یہ فائر خالی گیا۔ انکے والد بھاگ کر گۓ اور دونوں نیل سر اٹھا لاۓ اور انهیں حلال کرکے تھیلے میں ڈال دیۓ۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......