تعزیت از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Sun, 06/07/2009 - 12:10

تعزیت تعظیم سے ہوتی ہے، تعسُر (دشوار ہونا) ضرور ہوتا ہے، یہ معاملہء تعقید(پوشیدہ بات کہنا) بڑا ہی تحریم ہوتا ہے، یہ معاملہ ہر بات کہنے والے کے ضمیر (دِل) سے ہوتا ہے۔ جسکا ایک اثر بھی ہوتا ہے جو تاثر کی تاثیر سے ہوتا ہے۔
تعزیت ایک عمل ہے، نیک عمل۔ کسی کےدُکھ میں اُسکا ساتھ نبھانا، اُسکو تنہائی کا احساس نہ ہونےدینا۔ جب ہمارے کسی دوست، متبنٰی رشتوں یا عزیز کی وفات ہو جائے یا ہمارے عزیز کے عزیز کی تو ہم تعزیت کرنا ایک رسم سمجھتے ہیں، جبکہ یہ رسم نہیں، یہ ایک انسانی رشتوں کے مابین فرض، میرے نزدیک یہ نماز جنازہ کی طرح اہم ہے۔ نماز جنازہ مرحوم کی مغفرت کے لئے ہوتا ہے۔ تعزیت سوگواران کے لئے ہوتی ہے۔ کیونکہ وقتی طور پر اُنکی آدھی مرگ (موت ) واقع ہو چکی ہوتی ہے۔ تعلق رکھنے والے لواحقین کو زندگی کی جانب لاتے ہیں۔ اُن کو مایوس اور پریشان حال رہنے کی بجائے حوصلہ وصبر کی تلقین اس انداز سے کرتے ہیں کہ ”موت برحق ہے۔“
ہمیں یہ سمجھانا چاہیے اُولا د کی موت پر والدین کو راضی کرنا چاہیے۔ “جسکی امانت تھی، اُسکو ہم نےدیانت سے لوٹا دیا“۔ والدین کی وفات پر ہمیں سمجھانا چاہیے ”میرے عزیز (بھائی، بہن، بیٹا) موت برحق ہے۔ آج حق برحق ہوگیا“۔ اکثر میں یہ سوچتا ہوں ہمارے یہ چند جملے کسی کےغم کا کیا مُداوا کریں گے۔ جس کے آگے مشکلات، ذمہ داریوں اور پریشانیوں کے پہاڑ موجود ہوں۔ اکثر یہ بھی سوچتا ہوں کوئی پہلےسے دُکھی ہے اُسکے ساتھ ہم مسلسل تعزیت کرتے ہیں اور ہم اُس کےساتھ تعزیت تو پوری عقیدت اور ہمدردی سےکرتے ہیں۔ مگر کہیں یہ ہماری تعزیت اُسکی سماعت پر بوجھ نہ بن رہی ہوں۔ کیونکہ اُسکے نزدیک کسی کا صدمہ پہلے ہی قابل برداشت نہ تھا اور پھر اُس نےکسی طرح صدمہ کو برداشت کر لیا تو یہ جملے اکثر کچھ افراد کے زخموں کو تازہ کر دیتے ہیں۔
یہ بھی دُرست ہے کہ تعزیت کا عمل ہمیں موت کی حقیقت کو تسلیم کرواتا ہے، یہ بھی دُرست، ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمارے ساتھی، ہمارے رفقاء مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ ہیں۔
والدین کی موت ہم پر بڑا گہرا صدمہ چھوڑتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ماں ایک سایہ ہوتی ہے۔ انسان چاہے عمر کے جس حصہ میں موجود ہو، جب اماں جان صاحبہ قضاءالہی سے رخصت فرماتی ہیں تو انسان پر سے بے شمار دُعاوں کا سایہ بھی رُخصت ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے ماں کی رحلت کے بعد انسان پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ وہی جان سکتا ہے۔ جس کی امّی جان دُنیا سے پردہ کر گئی ہو۔
ابّا جان کا انتقال ہمارے لئے ایک عظیم سانحہ ہوتا ہے۔ ہر باپ انسان کے لئے راہبری و راہنمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ امی جی محبت کا پیکر اور ابو جی شفقت کا نمونہ ہوتے ہیں۔ جب کسی کے والد محترم کی وفات ہو جائے تو اُس درد، کیفیت اور غم کو ایک بیٹی/بیٹے سے بڑھ کر کوئی محسوس نہیں کر سکتا۔ برسوں تک اُسکے اباجان اُسکو خیال، تصور اور خواب میں محسوس اور نظر آتے ہیں۔
یہ وُہ حقیقت ہے جو عمر بھر ہمیں محبت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ ایسا احساس ہے کہ ہم عمر بھر یہ کہتے رہیں گی۔ اُولاد کے لئے اُنکے والدین سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا۔
تعزیت کا اصل مقصد کسی کو دُکھی کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ اِس نازک موقع پر احساس دِلانا کہ وُہ اکیلا نہیں رہا، اُسکےساتھ اُسکےرفقاء ہیں۔ اُسکو زندگی کی جانب لانا۔ تعزیت کا اصل مقصد میرے نزدیک صرف افسوس کرنا نہیں بلکہ اُس کو دکھی اور تکلیف دہ احساس سے باہر لانا ہے۔ اُسکی ذہنی توجہ بانٹنا ہے انسان جب اکیلا رہ جاتا ہے تو اُسکو صدمہ کے حاوی ہو جانے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ رات کو نیند نہیں آتی، صرف بستر پر ہی کروٹیں بدلتے بدلتے کئی ماہ وسال کی راتیں بسر ہوجاتی ہیں۔ رنج اندر سےکھا رہا ہوتا ہے۔ گھر والوں کےغم کا احساس کرتے ہوئے تکلیف اندر ہی اندر دبائےرکھتے ہیں۔ اِس دور میں اُس خاندان اور شخص کو ایک مخلص سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وُہ سہارا ایک سچا ہمدرد ہی ہوسکتا ہے۔ جسکا اصل مقصد اُنکو بے چینی، تکلیف اور افسردگی کی کیفیات سے باہر لانا ہوتا ہے۔ جو قدرے مشکل ہوتا ہے۔
ہمیں اپنا کندھا مہیا کرنا چاہیے تاکہ رنجور (سوگواران) جی بھر کر رو لیں، جی بھر کر اپنا دُکھ کہہ دیں، ہر وُہ بات جو اُنکے دل میں ہو اُس کو سن لیں۔ نہ صرف اُنکی بات انہماک سےسنیں بلکہ اُنکی ڈھارس بھی بندھائیں۔ اُن کو اپنے پن کا احساس دِلانا ہوتا ہے۔ اُن کو یہ سمجھانا ہوتا ہے اُنکو دوسروں کیلیئے بھی جینا ہے۔ اپنےگھر والوں کے حوصلے کےلئے بھی استقامت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر بڑا ہمت ہار جائےگا تو تمام چھوٹے ہمت ہار دیں گے۔ اگر چھوٹے ہمت ہار جائیں گے تو بڑا حالات کی آزمائشوں کا مقابلہ شائد اُن کاحوصلہ ہار جانےکی وجہ سے نہ کر پائے گا۔
وقت گزرتا ہےتوغم خوار پریشان رہنےلگتا ہی۔اُس کا حل یہی ہےکہ متاثرین کو دِن بھر اکیلےپن کا احساس نہ ہونےدیا جائی۔ اُنکےذہن کو مصروف رکھا جائے تو شدید ترین غم بھی خاصی حد تک کم ہوکر برداشت ہوجاتا ہے۔ ذرا سوچئیے مرد حضرات معاش کی تلاش میں ہوتے ہیں وُہ دن بھر مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اُن کو دِن بھر کی مصروفیات میں کسی کی موت کا دُکھ زیادہ متاثر نہیں کرتا جتنا گھر میں رہنے والی خاتون اثرانداز ہوتی ہے۔ بچے اس وجہ سے بھی غم برداشت کر جاتے ہیں کہ وُہ دِن بھر سکول کی مصروفیات میں busy رہتے ہیں تو گھریلو خواتین کو بھی کسی طرح مصروف رکھنا چاہیے۔ اُنکے دُکھ کوسننا چاہیے۔ یہی اصل حق ہے تعزیت کا۔
صرف ہم نیند کے مرحلہ میں کسی کے دُکھ کا مُداوا نہیں کرسکتے مگر اُسکو کم کرنے میں معاون ضرور ہو سکتے ہیں۔ صرف دوسرے کی اِن نازک حالات پر اپنائیت کا احساس دِلا کر۔ رشتوں کا یہی تو فرض ہے کہ دُکھ میں ساتھی ہوں۔
تعزیت یہی ہے کہ کسی عزیز یا قریبی شخص کےساتھ پیش آنے والے حادثہ پر ہمدردی کا عملی اظہار کرنا۔ عمومًا یہ عمل ایک فرد یا خاندانوں کی حد تک موجود ہوتا ہے۔ جس میں قریبی رفقاء ہمارے معاون رہتے ہیں۔ ہماری ڈھارس بندھاتے ہیں۔ ہمارا بےلوث سہارا بنتے ہیں۔
کبھی کبھی اجتماعی حادثہ رونما ہوتا ہے۔ تب ہماری چیخ و پکار، آہ و زاری خاموشی اور سکتہ میں بدل سی جاتی ہے۔ اللہ ہمیں بچ جانے پر صبر عطاء کرتا ہے۔اجتماعی حادثہ رونما ہونے کے بعد انسان خاموشی ہی اختیار کرتا ہے۔ اتنا بڑا دُکھ ہوتا ہے کہ وُہ قوموں کی تاریخ میں المناک ہی رہتا ہے اور بےشمار دُکھ بھری داستانیں رکھتا ہے۔ اجتماعی حادثات میں ہم اپنا دُکھ بھول کر دوسرے کا دُکھ بھلانے لگ جاتے ہیں۔ ہم اُن ماتم دار کو جانتے بھی نہیں مگر اپنوں کی طرح اُن کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ معاملہ اللہ کی طرف سے اُن تمام (متاثر ہونے والے اور امداد کرنے والے) افراد کو دوسروں کا احساس کرنے کی training دینا بھی ہوتا ہے۔ اجتماعی حادثہ میں کسی قوم کا یکجا ہوجانا ایک نیک شگون ہوتا ہے۔مراد احساس کرنا اور احساس ہو جانا بھی ہے، بطور ایک قوم، ایک فرد، ایک انسان کی حیثیت سے۔ سیلاب، زلزلہ ملک کےخاص خطہ تک ہوسکتا ہے۔ جس میں قوم ہمیں اپنائیت کا احساس دِلاتی ہے۔ جس میں دوست ممالک بھی پیش پیش ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک تعزیت ہوتی ہے۔
جب قومی سانحہ پیش آتا ہے۔ تو پھر کوئی تعزیت کرنے والا نہیں ہوتا۔ دوست ممالک کی سیاسی وابستگیاں صرف مذمت ہی کر سکتی ہیں۔ عملی قدم قومی و ملی یکجہتی سے ہوتا ہے۔ قوم یک جان ہو تو دوست ممالک عملی امداد پیش کرتے ہیں اور جب سانحہ رونما ہوجائے پھر وُہ دُکھ ہر ملی شخص کےاندر زہر کی طرح پھیلتا رہتا ہے۔ ملال (دُکھ) بڑھتا ہی رہتا ہے۔ آنکھوں میں ایک دُکھ، بہت کچھ کہنے والی نظریں سُرخی مائل دھاریوں کے ساتھ بیتی کہانی تو سنا رہی ہوتی ہیں۔ مگر ہونٹ خاموش ہوتے ہوئے بھی چہرہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے۔ قیامت جو گزرنی تھی۔ وُہ گزر گئی۔ دُنیا سب جان چکی ہے، کیا اپنی داستان سناؤں جو مجھ پر بیتی! میرےہم عصر رہے ہی نہ ۔ جو رہ گئے وُہ برائے نام ہی رہ گئے۔ میرےدُکھ سے بڑھ کر بھی کئی دُکھ اور ہیں۔
یہ تمام سلسلہ اللہ کی جانب سے ایک قدرتی معاملہ تھا۔ مگر آج کیcommercial دور نے اِسکو بھی commercialize کر ڈالا۔ ہم نے احساس کو روپوں میں تولنا شروع کر دیا ہے تو چند (معمولی سے) متاثرین دولت کے پجاری ہوگئے۔ آج کچھ رحمدل افراد کسی بے سہارا شخص کو ترس کھا کر روپیہ دے دیتے ہیں۔ تو چند متاثرین ( ظاہری سوگوار) روپیہ لے لینا حق جانتے ہیں۔ یونہی ہمارا کوئی غریب بھتیجا مر جائے تو ہم بھائی کو روپیہ دے کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا تعزیت کا عمل مکمل ہوگیا، جنازہ پڑھ لیا تو مذہبی فریضہ مکمل ہوگیا ہے۔ بات یہ ہے کہ چچا کی حیثیت سے ہمارا حق اور فرض کہاں گیا۔ تعزیت اصل میں اگلے کے دُکھ کو کم کرنےکی کوشش اور اُسکو احساس دِلانا کہ اِ س مشکل گھڑی میں آپ اُسکےساتھ ہیں۔
اگر کسی شخص کا کاروباری مخالف فوت ہو جائے اور وُہ اپنا جانشین کم سنی میں چھوڑ جائے تو مخالف کا جاکر اُس کم سن بچے سے مواسات (غم خواری) کرنا اور کہنا بیٹا آپکے اباجان اور میری مخالفت کاروباری طور پر تھی۔ مگر اب آپکو کسی مدد کی میری جانب سےضرورت ہوئی تو مجھے ایک بڑے کی حیثیت سے یاد کر لینا جہاں تک ہوسکا آپکی میں جائز مدد کروں گا۔ کیونکہ تم میرے بیٹوں کی عمر کے ہو، میری کاروباری رقابت تمہارے باپ تک تھی اور تم کو دیکھ کر مجھے اپنے بیٹے یاد آ جاتے ہیں۔ اور پھر اُس بچے کو کاروباری طور پرعملی support کرنا، مخالفت نہ کر کے۔ یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک نیک قدم ہوا۔ جس میں اُس بچے کے باپ کی وفات کے بعد ایک ہمدرد جذبہ رکھنا ہے۔

اے اللہ ہمیں دوسروں کا احساس کرنے کے قابل بنا، ہمیں دوسروں کو ہمت بندھانے کی ہمت عطاء فرما۔ (آمین)
( فرخ نور)
فرق مابین حادثہ و سانحہ: حادثہ بیرونی طور پر اختیار سے باہر پیش آتا ہے، سانحہ اختیار ہوتے ہوئے بھی اندرونی وجوہات و خلفشار کے باعث رونما ہوتا ہے۔ حادثہ روکا نہیں جا سکتا وُہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ایک آزمائش ہوتی ہے جبکہ سانحہ پیش ہی انسان کی اپنی وجہ سے ہوتا ہے جو غلطی سے ہی ہوتا ہے۔ حادثہ برداشت بخشتا ہے مگر سانحہ پر صبر نہیں آیا کرتا۔ حادثہ میں اپنے بھی ساتھ دیتے ہیں اور غیر بھی امداد کرتے ہیں یہی تعزیت ہے۔ مگر سانحہ میں اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور سانحہ کرنے والے تنہا رہ جاتے ہیں، ہمدردی اور یکجہتی کے لئے کوئی نہیں آتا تو تعزیت کا معاملہ ہی دور ہے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......