بے نظیربھٹو کی موت اور ہمارا رد عمل

musarratullah's picture

بے نظیربھٹو کی موت اور ہمارا رد عمل
دختر مشرق بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئیں آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ بے نظیر بھٹو کی موت ایک حادثہ تھا یا انہیں جان بوجھ کر مارا گیا وہ خودکش حملے کا نشانہ بنی یا گولی یا لیور سے ان کی موت واقع ہوئی - یہ بات اہم نہیں کہ وہ جاں بحق یا شہید ہوگئی بلکہ یہ بات اہم ہے کہ ان کے ساتھ تیس افراد اور بھی جاں بحق ہوگئے بے نظیر واقعی بے نظیر تھی مرنے کے بعد بھی اربوں روپے اپنے خاندان کیلئے چھوڑ گئیں وہ ایسی ماں اور بیوی تھی کہ اس نے مرتے ہوئے اربوں کے اثاثے اپنے بچوں او ر خاوند کیلئے چھوڑے اور ان کے گھر والوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی نہ ہی ان کے گھر والے آٹے اور گھی کیلئے خوار ہونگے نہ ہی انہیں بجلی اور گیس کے بلوں کی فکر ہوگی ہاں یہ فکر اور پریشانی تو ان تیس افراد کے گھرانوں کو ہوگی جو اس حادثے میں ان کے ساتھ جاں بحق ہوگئے ان میں ایسے افراد بھی ہونگے جو اپنے گھر والوں کیلئے کمائی کا واحد ذریعہ ہونگے ان کے والدین ان کی بہنیں اور بچے اپنے بچوں بھائیوں اور والدین کا ساری عمر انتظار کرینگے انہیں نہ صرف اپنے پیاروں کے لاش اٹھانے کا دکھ ہوگا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں آنے والے کل کی فکر ہوگی کہ کل کیا ہوگا مگر بے نظیر بھٹو کی موت کا ان کے خاندان کو صرف ایک دکھ ہوگا کہ وہ جاں بحق ہوگئی انہیں دوسرے دکھوں کی فکر نہیں ہوگی-

حضرت محمد صلی اللہ علی والہ وسلم جب وفات پا گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی موت کا سن کر تلوار نکال لی تھی کہ اگر کسی نے محمد کی موت کا کہا تو میں اس کی سر کاٹ دونگا جس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں دلاسہ دیا اور بعد میں صحابہ کرام کو جمع کرکے فرمایا کہ لوگو جان لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں اگر کوئی ان کی عبادت کرتا تھا تو وہ یہ سن لے کہ وہ وفات پا گئے ہیں اور وہ اللہ کے رسول اور نبی برحق تھے اور اللہ ہی اس دنیا کا مالک ہے جو ہمیشہ سے ہے اور رہیگا جس کے بعد صحابہ کرام آرام سے منتشر ہوگئے- موت ایک اٹل حقیقت ہے یہ ہر کسی کو آنی ہے کوئی بھی اس عمل سے مبرا نہیں کوئی خواہ کتنا ہی طاقتور بااثر کیوں نہ ہو وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کے ساتھ پیش ہوگا-

بے نظیر بھٹو کی موت حکومت کی غفلت سے ہوئی یا ان کی اپنی غفلت نے انہیں مارا انہیں القائدہ نے مارا یا حکومتی پالیسیوں کی نذر ہوگئی یہ الگ بات ہے مگر ان کی موت بھی ہر ایک بااثر اور طاقتور کیلئے ایک پیغام کی حیثیت رکھتی ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ کر دکھاتا ہے خواہ اس کی مخالفت میں ساری دنیا ہی کیوں نہ ہو -

کہتے ہیں کہ مرے ہوئے کو برا نہیںکہتے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے دور میں مہنگائی بڑھی غریب آٹے کیلئے خوار ہوئے ان کے شوہر نامدار کو بیوی کی کرسی پر بیٹھنے کی وجہ سے مسٹر ٹین پرسنٹ کا اعزاز ملاان کے بارے میں اب تو کچھ نہیں کہہ سکتے ہاں ان کیلئے دعا کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالی ان کے حال پر رحم کرے اور ان کے خاندان کے باقی ماندہ افراد کو اللہ تعالی ہدایت نصیب کرے -

رہی ان کی موت کے بعد پیدا شدہ صورتحال تو اس معاملے میں ہمارے عوام کو جذباتی بن کر نہیں بلکہ حقیقت پسند بن کر سوچنا چاہیے کہ وہ گھیرائو جلائو کرکے کس کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں اپنے ساتھ او ر اپنے جیسے غریب عوام کیساتھ - کیا انہیں خدا کے فیصلے پر اعتراض ہے اللہ نے ہی بے نظیر بھٹو کی موت اس طر ح لکھی تھی سو وہ پوری ہوگی ہاں جس نے ظلم کیا وہ اللہ تعالی کے حضور اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا اور وہ وقت دور نہیں-

کارکنوں کو جذباتی سوچ کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے کہ غریب لوگوں کا روزگار چھین کر اور گھیرائو جلائو کرکے وہ اس ملک کے غریب عوام کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں سندھ پنجاب اور سرحد میں کئے گئے مظاہروں اور احتجاج کے دوران اربوں روپے کا نقصان کیا گیا نجی املاک کو آگ لگائی گئی یہ کس کا نقصان ہے-

اگر کوئی مسلمان ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خیر و شر کا مالک اللہ ہے ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ خیر و شر کے فیصلے اوپر سے ہوتے ہیں لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر سے آنیوالے فیصلے خیر و برکت کے ہوتے ہیں لیکن ہمارے اعمال کی وجہ سے وہ خیر و برکت کے فیصلے شر میں بدل جاتے ہیں اگر کسی کو بے نظیر کی موت کا دکھ ہے تو تو اسے اللہ کے فیصلے کو قبول کرنا ہوگا اور اگر نہیں تو پھر اسے اللہ کے پاس جا کر احتجاج کرنا چاہئیے ناکہ اللہ کے بندوں کی زندگی اجیرن بنائی جائے-
ہاں اگر کسی کو ان کی موت میں حکومت کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے تو وہ انہیں اسلام آباد کا رخ کرنا چاہئے نہ کہ بینکوں میں لوٹ مار اور دکانوں کی گھیرائو جلائو کا سلسلہ شروع کیا جائے - بے نظیر بھٹو کے ساتھ تیس دیگر افراد بھی جاں بحق ہوگئے کیا وہ انسان نہیں تھے ان کیلئے کسی نے آواز اٹھائی ہے اگر نہیں تو یہ سوچنے کی بات ہے کہ وہ بے قصور کس جرم میں مارے گئے -
اگر معاملہ قتل کا ہے تو یہ سارے بھی مفت میں مارے گئے اور اگر بے نظیر کی حیثیت لیڈر ہونے کی وجہ سے بڑھ گئی تو یہ بات ہر کوئی جان لے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا لیڈر کوئی نہیں جو اللہ کا محبوب بھی تھا اور پھر بھی انہیں موت نے آلیا اس طرح ان کے چار دوستوں میں تین دوستوں کو شہید کیا گیا ان سے بڑا لیڈر کوئی تھا یا آئیگا - اگر نہیں تو پھر ہم سب کو ٹھنڈے دل سے اپنے کئے کرائے پر غور کرنا ہوگا کہ ہماری حقیقت کیا ہے -

Benazir Death and Our Reaction by Musarrat ullah Jan

Share this
No votes yet