بے شک انسان خسارے میں ھے

Submitted by Atif Aliem on Sun, 05/18/2008 - 21:06

انسان بیچارہ بھلے زمین پر دھمک دھمک کر چلے لیکن اس سے تو انکار نہیں کہ ہم دو دھندلکوں کے درمیان زندہ ہیں۔ایک دھندلکا ہم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور دوسرے کی جانب بے اختیار اور بے ارادہ گامزن ہیں۔اس پار کی یادیں ہمارے پہلے سانس کی حدت سے ہوا ہوجاتی ہیں اور اس پار کیا معاملہ درپیش ہوگا ہم نہیں جانتے۔ ہمارا شعور ہمارے حواس کا محتاج ہے صرف اس کا ادراک کرسکتا ہے جو موجود ہے۔جسے ہم دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں، چکھ سکتے ہیں، محسوس کرسکتے ہیں اور لمس کے وسیلے سے جس کے ہونے کا اقرار کرسکتے ہیں۔جو ہمارے حواس کی گرفت سے باہر ہے وہ ہمارے تئیں لا موجود ہو تو ہو لیکن کون جانے کہ ہمارے دیکھے بھالے منظروں سے پرے ،نیلی جھیل پر چھائی دھند کے اس پار کیا ہے اور کس قدر ہے؟۔

سو یوں ہے کہ گل کے ثبات کا پیمانہ کلی کا تبسم ٹھہرا ہے۔ گل کا مقدر کہ اس نے جب تک اپنے وجود کا ادراک کیا وہ لاموجود کی گود میں پھسل گیا۔انسان کے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان کیا ہے فقط ایک ساعت موہوم اور یہ ساعت کائناتی وقت کی ایک ادنیٰ اکائی جو کسی شمار قطار میں نہیں۔ جب حیات و ممات کا یہ معاملہ ہو تو عجز کے سوا انسان کے پاس چارہ ہی کیا ہے لیکن وہ جو نادان ہیں، بد نصیب ہیں کہ وہ کبھی عجز کی لطافت سے آشنا نہیں ہوسکتے۔ہم میں سے وہ جو اپنے قدموں سے زمین کا سینہ کوٹتے ہیں اور اپنی زبان سے کوڑے کا کام لیتے ہیں ایک بار سر اٹھا کر آسمان کو دیکھ لیں تو شاید انہیں اپنی بے وقعتی کا اندازہ ہوسکے۔اک ذرا دیکھئے ،بیکراں کائنات میں آوارہ خرام لاکھوں کروڑوں کہکشائیں۔ان میں ایک درمیانے درجے کی کہکشاں میں موجودایک معمولی سے ستارے کے گرد چکراتی زمین جس کی حقیقت بقول آئین سٹائین ساحل کی ریت پر موجود ذروں میں سے ایک ذرے سے زیادہ نہیں۔ اور انسان؟اس ذرے پر موجود ساڑھے چھ ارب انسانوں میں سے ایک معمولی اور بے حقیقت وجود۔وہ انسان اگر ایک بار آسمان کی وسعتوں میں جھانک لے تو اپنے چند فٹ چند انچ وجود میں بھرے غرور پر خود حیران رہ جائے۔لیکن وہ غور نہیں کرتا کہ وہ خسارے میں ہے۔اور بے شک یہ خسارہ اس کا اپنا انتخاب ہے،اس کی نامختتم جہالت اور ضد کا ناگزیر نتیجہ۔

بے شک انسان خسارے میں ہے کہ وہ دو ٹکے کے اقتداراور دو کوڑی کی طاقت کے نشے میں کھو جاتا ہے۔وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے پاس موجود جو کچھ ہے اس کی آزمائش ہے ۔وہ بھول جاتا ہے کہ وہ فنا کی منزل سے دو قدم کی دوری پر ہے۔وہ خسارے میں ہے کیونکہ وہ بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہے۔اس کے تئیں اس کی زندگی کے روز و شب، اس کی سماجی رفعتیں، اس کا شان و شکوہ اور اس کا دبدبہ دائمی ہے۔وہ جب تک چاہے کمزوروں کو دباتا جائے۔جب تک چاہے کچلے ہوؤں کو کچلتا جائے اور جب تک چاہے سازشوں کے جال بچھا کر خلق خدا کو اذیت اور پریشانی کی حالت میں مبتلا رکھے۔وہ اپنے جلو میں نخوت کو لے کر چلتا ہے اور موت کو اپنے ہمرکاب رکھتا ہے۔وہ خسارے میں ہے کہ وہ خدا کی مخلوق کو حقیر جانتا ہے اور خدا کی منشاء کو اپنے ارادوں کے تابع دیکھنے کا خواہش مند رہتا ہے۔وہ دیکھتا ہے تو اپنے سے پہلوں کو دیکھتا ہے۔انہیں، جو اپنے خدا ہونے کے یقین میں مبتلا تھے۔جن کا غرور انہیں خود کو ظل الٰہی تصور کرنے پر مجبور کرتا تھا اورجن کے قصر اقتدار مفتوحین کے سروں کے میناروں پر استوار ہوا کرتے تھے۔وہ گمان کرتا ہے کہ وہ بھی شاہوں کا شاہ ہے اور فنا کی آندھیاں اس کے شکوہ سے ڈر کر کسی اور کوچے سے ہوکر نکل جائیں گی۔سو ارشاد ہے کہ ’’قسم ہے زمانے کی ۔بے شک انسان خسارے میں ہے۔‘‘

ایک انسان وہ ہے جو خسارے کا مارا ہوا ہے اور جسے اپنے جیسوں کی طرح اپنے تکبر اور اپنے ارادوں سمیت ایک روز لا انتہا تاریکیوں میں کھو جانا ہے اور ایک انسان وہ ہے جو اپنی مرضی اور اپنے ارادوں کو خدائی منصوبوں کے تابع رکھتا ہے۔یہ انسان جس کے بارے میں نوید ہے کہ وہ خسارے سے بچ نکلا ہے کون ہے؟۔یہ وہ ہے جو جعل سازی کو رد کرتا ہے ، سچائی پر ایمان لاتا ہے اور نیک اعمال کو اپنا شعار بناتا ہے۔یقیناخلق خدا کے زخموں پر مرہم رکھنا ہی نیک اعمال میں سے افضل ترین عمل ہے۔سو وہ خاک دھول چاٹنے پر مجبور کردئیے جانے والوں کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے اور سر اٹھا کر چلنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ نیک اعمال درجہ بدرجہ اور پرت در پرت ہیں۔خدمت خلق نیک اعمال کی پہلی پرت ہے اور یقینا نہایت قابل قدر ہے۔سر گنگا رام ہو یا عبدالستار ایدھی،مدر ٹریسا ہو یا کوئی گمنام خادم خلق ، یہ سبھی اسی پرت سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک پرت اس سے اوپر ہے ، یہ ان پر مشتمل ہے جوعلم اور فن میں اپنی صلاحیتیں صرف کرتے ہیں اور لوگوںکو اپنے کسب کمال سے فیض یاب کرتے ہیں۔اگر وہ سیاست میں ہوں تو ان کی سیاست کا واحد محور خلق خداکی بھلائی ٹھہرتی ہے۔اس پرت میں موجود تمام لوگ منفی رویوں سے جنگ کرتے ہیں اور مثبت رویوں کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کی پہچان یہی ہے کہ یہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں محو عمل ہوں ، بھلائی سوچتے اور بھلائی پھیلاتے ہیں۔نیک اعمال کرنے والوں کی ایک پرت اور ہے جو سب سے ارفع ہے۔اس پرت میں موجود لوگ بہت کمیاب ہوتے ہیں اور ان کے ہونے سے ہی زندگی کے دامن میں پھیلاؤ آتا ہے۔اس گروہ کا کام انکشاف کرنا ہے۔ خدا کی یہ قابل قدر مخلوق انسانوں پر نئی حقیقتوں کے در وا کرتی ہے اور انہیں اپنے Immediate سے اوپر اٹھنے میں ان کی مدد کرتی ہے۔
آئیے! بحیثیت ایک فرد کے ہم بھی سوچیں کہ ہم کس گروہ میں ہیں۔ہم کیا کررہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔اگر ہم مثبت یا منفی کسی بھی گروہ میں نہیں ہیں تب بھی یقینا ہم خسارے میں ہیں کہ بے فائدہ جئے جانا بھی خسارے کا سودا ہے۔

آخر میں ایک ذاتی بات: گذشتہ دنوں مجھے اور میرے خاندان کو ایک صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔میرے بڑے بھائی محمد آصف جو ایک علم دوست اور علم پرور شخصیت تھے لیکن گمنامی میں عافیت محسوس کرتے تھے۔ماہ رواں کی تیرہ تاریخ کو دل کے دورے سے جانبر نہ ہوسکے اور چند ہی ثانیوں میں ہم سے جدا ہوکر ابدیت کے دھندلکوں میں کھو گئے۔دکھوں کی ان گھڑیوں میں میرے بہت سے احباب اور کرم فرماؤں نے میری دل جوئی کی جس کیلئے میں ان کا ہمیشہ احسان مند رہوں گا۔میں بوجوہ بہت سے کرم فرماؤں کا ذاتی طور پر شکریہ ادا نہ کرسکا۔یہ قرض مجھ پر واجب تھا سو ان سطور میں میں تمام احباب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ رب العزت انہیں آئندہ بھی دوسروں کے دکھ بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔

BESHAK INSAAN KHASARAY MAIN HAY is an Urdu article by Atif Aliem

عاطف علیم
روزنامہ ایکسپریس
[email protected]

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.